میں خود بھی تو ہوں اپنے آپ کے پیچھے پڑا ہوا
میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں ہے
ہم تو ہمیشہ سے درد کے خریدار رہے
خوشیوں کے سودے ہمیں راس نہیں آتے
ایسا نہ ہو کہ رنج رہے پھر تمام عمر
جی بھر کے دیکھ لے کہ دوبارہ نہیں ہوں مَیں
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
چیخیں بھی یہاں غور سے سنتا نہیں کوئی
کن لوگوں میں تم شعر سُنانے نکل آئے " ✍
ہے عجب حالتِ دل میرا
الفاظ گونگے ہیں پر دل میں شور برپا ہے🥀 ✍
وحشت میں ایک ہجر زدہ،کم سخن عاشق!
کچھ کر نہ سکا، رو رو کے انتقال کر گیا
❤✍️
تم میری اذیت کی وہ حد ہو
جسے میں سوچ کے رو پڑتا ہوں
بڑی شدت سے انتظار میں ہوں
میری میت پر ملنے کا وعدہ ہے ان کا
میری جگہ کوئی اور ہو تو چیخ اٹھے
میں اپنے آ پ سے اتنے سوال کرتا ہوں۔
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
اب وہ احساس نہیں کے کچھ لکھ پاؤں میں
کہ اتنی بیدردی سے توڑی ہے کسی نے امیدیں میری
اعلان کچھ یوں ہوگا میرا مسجد میں
حضرات مرا ہوا شخص آج انتقال کر گیا
"دل کھول کر آج روۓ ہم لے ڈوبی آج ہمیں تھکاوٹ صبر کی🔥🥀"
میں تیری بددعا سے مر جاؤں
یہ میری آخری خواہش ہے
بات کرتا ہے مختصر لیکن
روح کے تار چھیڑ دیتا ہےـــ
اپنی حالت کا بھی احساس نہیں ھے مجھ کو
اوروں سے سنا ھے کہ پریشان ھوں میں
دِل کی باتیں نہ کہہ سکا تُجھ سے
تیرا شاعر غضب کا بُزدل تھا
سنا ہے میری موت کے لیے روزے رکھتے ہیں وہ
کہہ دو ان سے کہ آج وہ عید منا لے