جی بھر کے بات کر لو مجھ سے
میں بہت جلد چپ کی چادر اوڑھنے والا ہوں
مجھے جی بھر کے دیکھ لو لوگوں
میں پھر دفن ہو جانے والا ہوں
InshaAllah HS
ہر ایک پوچھتا ہے سبب رونے کا میرے
الٰہی ساری دنیا کو میں کیسے رازداں کرلوں
اچھا تو میں اب چلتا ہوں سفرِ آزاد پر
کوئی میرا پوچھے کہہ دینا إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
InshaAllah HS
کسی روز یہ ہجر اپنی انتہا کو پنچے گا
کسی شب ہم لہو میں لت پت ملیں گے
InshaAllah HS
کتنی خاموش تھی وہ ہجر کی رات
دل کی دھڑکن سے کان پھٹتے تھے
جب مان ٹوٹ جائے تو انسان خاموش ہو جاتا ہے
پھر نہ تو کوئی گلہ کرنے کو دل کرتا ہے نہ کوئی شکوہ کرنے کو دل کرتا ہے
میں خود بھی تو ہوں اپنے آپ کے پیچھے پڑا ہوا
میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں ہے
ہم نے نکلتے دیکھے ہیں جنازے ارمانوں کے
ہم نے کھلے عام دفنایا ہے اپنی خواہشوں کو
چلا گیا تو کبھی لوٹ کے نہیں آوں گا
اس قدر نہ ستاو بہت اداس ہوں آج کل
جگر ہوجائے گا چھلنی یہ آنکھیں خون روئیں گی
بے فیض لوگوں سے نبھا کے کچھ نہیں ملتا
دل کھول کہ آج ہم خوب روئے
لے ڈوبی آج ہمیں تھکاوٹ صبر کی
روز ہوتی ہے میری میری سانسوں سے جھڑپ
روز اک سانس کو پھانسی چڑھا دیتا ہوں
پت جھڑ کی آواز پہ محسن دھیان تو دو۔
ویرانی کا ماتم_____شاید اپنا ھو 🖤✍️
*تجھے کومعلوم نہیں میرے غم کی حقیقت ورنہ*
*تو بھی میرے ساتھ بھرے شہر میں ماتم کرتا*
نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر کس طرح کٹتی ہیں راتیں اس کی