کہیں وفا ہی نہیں تھی ہر اِک سو الی تھا
میرے مزاج کے لو گو ں سے شہر خالی تھا۔
تیری غفلتوں کو خبر کہاں
میری اُداسیاں ہیں عروج پرہیں۔
تمہا را کچھ سامان باقی ہے میرے پاس
بے وفائی، بے رخی،سرد لہجہ،اور تلخ یا دیں۔
آ گ تھے ابتدائے عشق میں ہم
ہو گئے خا ک انتہا یہ ہے۔
کتنی اذیت ہے اس پیا ر میں
کہ مجھے تم سے ملے بنا ہی مر جا نا ہے۔
چیخ اُ ٹھتا ہے میرے اندر بھی کچھ
جب میں کہتا ہوں کہ کو ئی با ت نہیں۔
گونگا پن کا نقص ہے مجھ میں.. مری چپ کو سمجھ.....
تو خاموشی پہنے گا تو.. فاصلہ رہ جائے گا✍
کون کہتا ہے نفرتوں میں درد ہے احمد
کچھ محبتیں بھی بڑی اذیت ناک ہوتی ہیں
اعلانِ مرگ ہوا تو لو گوں نے کہا
اچھا ہوا مر گیاسا قیؔ اکثر اداس رہتاتھا۔
جو زُبان سے بیان نہیں ہو تے
انہی لفظوں سے اشک بنتے ہیں۔
آج بارش بھی تیرے درد کی طرح ۔
ہلکی ہلکی پر ہوتی جا رہی ہے۔
اب وہ یاد بھی آئے تو چپ رہتے ہیں
کہ آنکھوں کو خبر ہوئی تو برس جائیں گی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain