جنگلوں میں بارشیں ہیں دور تک جسم میں پھر وحشتیں ہیں دور تک زرد پتے شام پھر بکھرا گئی سانس لیتی ہجرتیں ہیں دور تک کتنی باتیں ان کہی سی رہ گئیں نطق جاں میں حیرتیں ہیں دور تک
دل بھی آباد ھے شہرِ خاموشاں کی طرح ہر طرف لوگ ہیں مگر عالمِ تنہائی ھے۔ ✍
ہے عجب حالتِ دل میرا الفاظ گونگے ہیں پر دل میں شور برپا ہے🥀 ✍
نہیں ہے سنگ کوئی ہمسفر تو کیا ہوا خاموشیاں ، ویرانیاں ، رسوائیاں تو ہیں
نا جانے کس ہنر کو شاعری کہتے ہو تم ہم تو وہ لکھتے ہیں جو تم سے کہہ نہیں پاتے
اے دل ناداں تو نے اگر میری بات مانی ہوتی آج ہر لب پر نہ یوں میری کہانی ہوتی
مسکرانا برا نہیں لیکن مسکرائیں تو زخم دکھتے ہیں۔ ✍
ہم نے سوچا تها کہ سب دکھ درد تمهیں بتائیں گے پرتم نے تو اتنا بهی نہیں پوچها کہ خاموش کیوں ہو
اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے
آج چھیڑو نہ نبھا کی باتیں آج ہم دکھ سے بھرے بیٹھے ہیں
چیخیں بھی یہاں غور سے سنتا نہیں کوئی کن لوگوں میں تم شعر سُنانے نکل آئے " ✍
کیا کہیں کیا بہار گزری ہے عید بھی سوگوار گزری ہے ✍
اے دل زار کوئی خواب بدل پهر وہی آنکھ وہی راہ وہی ویرانی
مــیں تہوار کے بعد کا دن ہوں تھَکا تھَکا سا ، بُجھا بُجھا سا
قہقہہ لب پہ جو آتا ہے تمھیں کیا معلوم کتنے صدموں کا لہو پی کے جواں ہوتا ہے
Hslove : دکھ تو یہ ہے کہ اِک بھی گواہی نہ مل سکی
حالانکہ اِک ہجوم میں مارا گیا مجھے - 49 months ago