غیروں میں ہیں جو شاد ، انہیں عید مبارک
جن کو نہیں ہم یاد ، انہیں عید مبارک
معصوم سے ارمانوں کی معصوم سی دُنیا
جو کر گئے برباد انہیں عید مبارک
مجھ کو تیری نہ تجھ کو میری خبر جا ئے گی
عید اب کے بھی دبے پا ؤ ں گزر جائے گی۔
تلخیاں چبھنے لگیں جب زیست کے پیمانے میں
درد کے ماروں نے گھول کے پیا عید کا چاند
مجھے کسی کو منا نے کا فن نہیں آ تا
میں اپنے آ پ سے لڑ کر اُداس بیٹھا ہوں۔