بدلہ جو رنگ آپ نے حیرت ہوئی مجھے
گرگٹ کو مات دے گئی فطرت جناب کی
تفصیلیں چھوڑو بس اتنا سُنو!
تم بچھڑ گئے ۔۔۔ہم بکھرگئے۔
مجھے پتہ تھا کہ لوگ بِدل جاتے ہیں
میں نے کبھی تمہیں لوگوں میں گِنا ہی نہیں تھا۔
نیند آئے گی تو ایک محشر برپا ہو گا
لوگ روئیں گے بہت مجھ کو جگانے کے لئے
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا
جانےکیا لفظ تھے جو ہم سے تحریر نہ ہو پائے
اس نے مجھے چھوڑ دیا تو کیا ہوا فرازؔ
میں نے بھی تو چھوڑا تھا سارا زمانہ اس کے لیے۔
تم میرا وہ دکھ ہو جسے میں نےاپنی موت کی آخری ہچکی تک بہت صبر سے سہنا ہے🖤🥀
ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﺸﻤﮑﺶِ ﺫﺍﺕ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ
ﮨﮯ ﺁﮔﮩﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ، ﻏﻢِ ﺁﮔﮩﯽ ﺑﮩﺖ
اور تو کچھ نہیں کیا میں نے
اپنی حا لت خراب کرلی ہے۔
مانا کہ مرنے والوں کو بھلا دیتی ہے دنیا
مجھ کو زندہ بھول کر تم نے تو راویت ہی بدل ڈالی
زخم ہیں محو گفتگو مجھ سے
میرا درد چپ چاپ سن رہا ہے مجھے