یہ دکھ نہیں اندھیروں سے صلح کی ہم نے,
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں۔
ہاں آج درد کی وہ شدت ہے
جس میں کہتے ہیں موت بہتر ہے
ایسے زخموں کا کیا کرے کوئی
جس کو مرہم سے آ گ لگ جاے
ہم نے ایسے اجاڑ دی جیسے
زندگی باپ کی کمائی ہو
زندہ رہا تو کرتا رہوں گا تم سے عشق
ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں مجھے مار دیجئے
نیند آئے گی تو ایک محشر برپا ہو گا
لوگ روئیں گے بہت مجھ کو جگانے کے لئے
Inshallah
روز ہوتی ہے میری میری سانسوں سے جھڑپ
روز اک سانس کو پھانسی چڑھا دیتا ہوں
ترس جاؤگے ہمارے لبوں سے سننے کو ایک ایک لفظ
پیار کی بات تو کیا اب ہم شکایت بھی نہیں کرینگے
ہم بہت گہری اداسی کے سوا
جس سے بھی ملتے ہیں کم ملتے ہیں
Hslove
: , معلوم سب کو ہے زندگی بے حال ہے
لوگ پھر بھی پوچھتے ہیں کہ کیا حال ہے! -
اکیلے رات بھر تڑپتا رہا مریض شام غم غالب
نہ تم آئے ، نہ نیند آئی، نہ چین آیا ، نہ موت آئی
کیوں نہ سزا ملتی ہمیں محبت میں
آخر ہم نے بھی تو بہت دل دکھائے تھے
اک شخص پابند کر گیا مجھے لمحوں کی قید میں
آنکھوں میں اپنی یاد کے پہرے بیٹھا گیا