ہر چیز پر صبر نہیں آتا۔۔۔ہر نقصان صبر کرنے والا نہیں ہوتا۔۔۔
✍️
وہی اپنی طرز وفا رہی ، وہی انکی مشق جفا رہی
وہ ظلم کرتے ہیں اس طرح جیسے میرا کوئی خدا نہیں
نہ عشق با ادب رہا ، نہ حسن با حیا رہا
حوس کی دھوم دھام ہے نگر نگر ، گلی گلی
دل تھا اکیلا اورغم تھے ہزار
افسوس اکیلے کو مل کے ہزاروں نے لوٹا
اور تو کچھ نہیں کیامیں نے
بس اپنی حالت تباہ کرلی ہے۔
رکھا تھا میں نے تیرے سامنے ہر پہلو کو مگر
تُم نے الفاظ گفتگو کو سدا متضاد ہی سمجھا۔
کبھی کبھی اپنوں سے ایسا درد ملتا ہے
کہ آ نسو تو پاس ہو تے ہیں مگر رویا نہیں جاتا۔
ہم بہت گہری اداسی کے سوا
جس سے بھی ملتے ہیں کم ملتے ہیں
کب تک ترستے رہیں گے تجھے پانے کی حسرت میں؟
دے کوئی ایسا زخم کہ میری سانس ٹوٹ جائے اور تیری جان چھوٹ جائے
وہ شاعر ہوتے ہیں جو شاعری کرتے ہیں
ہم تو بدنام سے لوگ ہیں صرف درد لکھتے ہیں
وہ لوگ خاموشی کو پسند کرتے ہیں
جنہوں نے شور سے چوٹیں کھائی ہوں
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
ہم تو آغاز محبت میں ہی لٹ گٸے
صاحب
لوگ کہتے ہیں انجام برا ہوتا ہے
مت ڈھونڈا کر میرے ہر لفظ کی تفسیر
میں تو پاگل ہوں مجھے بولنے کی عادت ہے
وہ چلا گیا مجھے چھوڑ کر میں بدل نہ پایا عادتیں
اسے سوچنا اسے چاہنا میرا آج بھی معمول ہے
ہم کو آ تا ہی نہیں زخمو ں کی نما ئش کرنا
ْْخو د ہی روتے ہیں ،تڑپتے ہیں اور سو جا تے ہیں۔
یوں ناکام رہیں گے کب تک جی میں ہے کہ اک کام کریں
رسوا ہو کر مر جاویں اس کو بھی بدنام کریں
جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain