تو کرتا ہو گا اپنے الفاظوں سے متاثر
میری خاموشی سے بڑا کوئی استاد نہیں
غم بھی دئیے تو یوں کہ نہ واپس لئے کبھی
ان کے ہماری ذات پہ احسان ہی رہے
اب سنورتے رہو بلا سے میری
دل نے سر کار خو د کشی کرلی۔
عجیب بے بسی کا موسم ہے دل کے آنگن میں
ترس گئے ہیں تیرے ساتھ گفتگو کے لئے
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
سمجھ جاؤ گے اداسی کا مطلب
جا کر کسی قبر کی بے بسی تم دیکھنا
توڑ گیا وہ ہم سے ہر تعلق فقط اتنا کہہ کر احمد
کہ اجڑے ہوئے لوگوں میں ہم بسا نہیں کرتے
دو پل کی تھی یہ دِ لو ں کی دا ستاں
اور پھر چل دیے تم کہا ں ہم کہاں۔
کون خریدے گا ہیروں کے دام تیرے آنسو
وہ جو درد کا تاجر تھا شہر چھوڑ گیا
مجھ سے کہتی ہے تیرے ساتھ رہونگی فرازؔ
بہت پیار کرتی ہے مجھ سے اداسی میری۔
اب کوئی سلسلہ نہیں باقی
دوستوں میں وفا نہیں باقی
زندگی تجھ سے اور لڑنے کا
مجھ میں اب حوصلہ نہیں باقی
اشک آنکھوں میں آ گئے ہیں سیاؔ
ضبط دل پر ذرا نہیں باقی
لوگ شامل تھے اور بھی لیکن
دل تیری کوششوں سے ٹوٹا ہے