غربت کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو کھانے لگے ہیں۔ کل رات میں نے اپنے پڑوسی کو اپنی بیوی سے کہتے سنا، "میری چندہ، میں تمہیں کھانا چاہتا ہوں، زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔"
تم وہ عورت ہو جس کے لیے شاعر شعر کہتے ہیں ، سیاست دان جُھوٹ بولتے ہیں ، تاجر بلیک مارکیٹ کرتے ہیں ، اور مولوی اور پنڈت ماتھا رَگڑ رَگڑ کر خُدا کو یاد کرتے ہیں۔ تمہارے لیے انسان نے کیڑوں سے ریشم مانگا ، بُھوری مٹی سے کانچ پیدا کیا۔ دھَرتی کی چھاتی میں گھس کر سونا نکالا ، اور سمندر میں ڈُوب کر موتی تلاش کیے۔ تمہارے لیے انسان نے گھر بنایا ، گھر کے گرد باغ لگایا ، باغ میں پُھول کِھلاٸے ، اور پُھولوں کو توڑ کر تمہارے بالوں میں ٹانک دیا۔ تم جو ہر انسان کی آرزو کی خُوشبُو ہو۔ ہر خُوشبو کا صِلہ ہو۔ تم آج کیوں رو رہی ہو ✌🏻
مجھے محسوس ہوا کہ جس قدر دشوار راستوں سے گزرتے ہوئے تم میری طرف آئی مجھے اک خوف لاحق ہے جس میں تمام رات تڑپتا رہا کہ میری طرف بڑھتے ہوئے تمہارے نازک پاوں کی تلیوں پہ چھالے بن گئے ہوں گے پاس آو کہ مجھے تمہارے پاوں کی تلیوں پہ بوسہ دینا ہے تمہارا درد زائل کرنا ہے...! ࿐〄➪🍒⃝🦋