گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
قفس اداس ہے یارو، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے
کبھی تو صبح ترے کنجِ لب سے ہو آغاز
کبھی تو شب سرِ کاکل سے مشکبار چلے
بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گےغمگسار چلے
جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شبِ ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیض احمد فیض
ابھی مٹی نہ کھنکی تھی, ابھی پانی نہ برسا تھا...
مگر بزم عناصر میں,
تیرے ہونے کا چرچا تھا...
خالد احمد...
اب تک اِسی خیال میں الجھا ہوا ہوں میں
اپنے بدل گئے ہیں کہ بدلا ہوا ہوں میں
دیوار و در کو دیکھ کے ، ، لگتا ہے دلبرا !!
تیری گلی سے پہلے بھی گزرا ہوا ہوں میں
بکھرے ہوئے سے بال ہیں ، دامن ہے تار تار
پوری طرح سے ہجر میں سنورا ہوا ہوں میں
شاید کہ ایک روز وہ ،، آ کر سمیٹ لے
مدت سے کوئے یار میں بکھرا ہوا ہوں میں
بادہ کشی کے بعد تو آیا ہوں ہوش میں
دنیا سمجھ رہی ہے کہ بہکا ہوا ہوں میں
یا رب !! یہ زندگانی میں کیسا جمود ہے
ٹھہرا ہوا ہے وقت یا ٹھہرا ہوا ہوں میں
آیا ہوں اپنے شہر تو لگتا ہے یوں ذکی
جیسے کہ ایک دشت میں بھٹکا ہوا ہوں میں
ذوالفقار ذکی
زندگانی کی جستجو ہو تم
ایک شاعر کی آرزو ہو تم
چاند کہتے ہیں جس لوگ سجن
شکل و صورت میں ہُوبہُو ہو تم
زاتی تخلیق
کیا چمک دیتی ہے چہروں کو ترے شہر کی گرد
تیرے گلگشت کے صدقے، ترے ملتان کی خیر
احمد عطاء اللہ
تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے
آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
آئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
شکوہ (علامہ محمد اقبال)
ایک بات کہوں.... ؟
ان بیٹیوں کو پلیز زیادہ ہنسنے سے زیادہ بولنے سے فضول گفتگو سے پاگل پن سے نہ روکا کریں.. ان کو مسکرانے دیا کریں... اگر سارا گھر سر پر اٹھا لیں تو بھی کچھ نا کہا کریں.. بھائیوں کے ساتھ مذاق کرتی ہیں تو کرنے دیا کریں
مقدر کے کھیل بڑے انوکھے ہواکرتے ہیں جب تقدیر کا تھپڑ وجود پر پڑتا ہے نا تو یہی لڑکیاں, یہی بیٹیاں, یہی بہنیں, یہی شہزادیاں, یہی پریاں مسکرانا تو دور کی بات ہے بولنا تک بھول جاتی ہیں اور یہ وقت سب سے بڑا ظالم ہے جو ان کے وجود سے خوشیوں کو نچوڑ کر لے جاتا ہے پھر فقط ان کے پاس پچھتاوے اور آنسو بچتے ہیں..
یہ نصیب سے ہار جاتی ہیں........
میری یہی عادت تم کو #ہمیشہ یاد رہے گی ❤❤
#محترم ❤
نا کوئی #مطلب نا کوئی #گلہ ،جب بھی ملا #مسکرا کر ملا۔ ❤❤
💎غزل 💎
جن کو تقدیر کبھی لعل و گہر دیتی ھے
زندگی میں انہیں محتاج بھی کردیتی ھے
گرچہ پرواز بھی ھے دین خدا کی لیکن
کتنے عرصے کے لیے چیونٹی کو پر دیتی ھے
اٹھنے والا ھے مہکتے ہوئے پھولوں سے دھنواں
دھوپ شبنم کو شراروں کا اثر دیتی ھے
یہ جو زنجیر کی آواز سنی ھے تم نے
ایک دیوانے کے آنے کی خبر دیتی
کتنی بے درد ھے دنیا کی محبت وحشی
قبر کی گود مرے جسم سے بھر دیتی ھے
وحشی چکھلوی
جس کو دیکھا، تُجھ پہ مرنے کے لئے تیار ہے
میں ہی کیا، اے شمع رُو! عالم ہے پروانہ تِرا
پہلے بیدم کی طرح کوئی گَریباں چاک ہو
شوق سے پھرجلوہ دیکھے بے حِجابانہ تِرا
بیدم شاہ وارثی رحمہ اللہ
بَزم کی بَزم چُور ہے ساؔقی بات کوئی ضُرور ہے ساؔقی...
تیری آنکھوں کو کر دیا سَجدہ میرا پِہلا قُصور ہے ساؔقی...
عبد الحمید عدؔم
غیر آباد محلے کے باشندوں کی طرح
ہم تو رہتے ہیں مرے، شہر میں زندوں کی طرح
پیڑ کو روز نیا روگ لگا دیتے ہیں
آتے جاتے ہیں یہ موسم بھی پرندوں کی طرح
وجاہت باقی
چلا ایسا تیر جو جگر کے پار ہو جاۓ
اسی بہانےرفع مرے دل کا غبار ہو جاۓ
آج خود سے ہم کلام ہونا چاہتا ہوں
آج دل چاہتا ہےخود سےتکرار ہو جاۓ
آدھا کیا مجھے مکمل اس کا ہونا ہے
وہ ہاتھ تھامنے کیلیے تو تیار ہو جاۓ
گلے تو لگا لوں پر اک خوف ہے مجھے
کہیں اس کا دامن نہ داغ دار ہو جاۓ
مرحلہٕ اقرار کے بعد یہ خوف ہے لاحق
ہمارےبیچ کھڑی نہ کوٸی دیوار ہو جاۓ
وسیم آنکھوں کےوار سے بچ بھی گٸےتو
کچھ بعید نہیں اس کا ابرو تلوار ہو جاۓ
شاعر وسیم ارشد
کئی گھروں کو نگلنے کے بعد آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدد بھی شہر کے جلنے کے بعد آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ جانے کیسی مہک آ رہی ہے بستی سے۔۔۔۔۔
وہی جو دودھ ابلنے کے بعد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ندی پہاڑوں سے میدان میں تو آتی ہے ۔۔۔۔۔۔
مگر یہ برف پگھلنے کےبعد آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نیند جو تری پلکوں پر خواب بنتی ہے۔۔۔
یہاں تو دھوپ نکلنے کے بعد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جھگیاں تو غریبوں کی خانقاہیں ہیں ۔۔۔۔
قلندری یہاں پلنے کے بعد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلاب ایسے ہی تھوڑی گلاب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات کانٹوں پہ چلنے کے بعد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
شکایتیں تو ہمیں موسم۔ بہار سے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
خزاں تو پھولنے پھلنے کے بعد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
* * * منور رانا
مہربانوں کے بدلتے ہوئے لہجے! توبہ!
ایسا لگتا ہے میں ہر بات غلط کرتا ہوں
یعقوبؔ آسی
میں روز اسکو سمجھاتا ہوں عشق فانی ہے
وہ پھر سےخواب محبت کے بونے لگتی ہے
ایسی لڑکی سے کون بحث کا خطرہ مول لے
جو لاجواب ہو جائے تو رونے لگتی ہے
ن م
Moto
ہر جگہ اپنا ہی خسارہ کِیے رکھا
یہ کم ہے جو تجھے گوارا کِیے رکھا
میں بانہیں پھیلاۓ منتظر رہا تمہارا
لیکن تم نے مجھ سے کنارا کِیے رکھا
خود داری بہت عزیز تھی مجھ کو
اِس لیے میں نے ترک ہر سہارا کِیے رکھا
بال برابر شک نہ کِیا تمہارے خلوص پہ
فریب کھاکر بھی یقیں تمہاراکِیے رکھا
در بدر ڈھونڈتا رہا میں ترے نشاں
تری تلاش نے مجھے آوارہ کِیے رکھا
کوٸی اور ہوتا تو کب کا چھوڑ چکا ہوتا
یہ وسیم ہی تھا جس نے گزارا کِیے رکھا
شاعر وسیم ارشد
دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہو
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں
ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں
وہ بھی اپنے نہ ہوئے دل بھی گیا ہاتھوں سے
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا دل کا
پیر نصیرالدین نصیر جیلانی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain