صورتیں کتنی ہی حسین کیوں نہ ہوں
نصیبوں کی محتاج ہوا کرتی ہیں 🙃
اِجتّنابّ کِیجّۓ گَا بِیبَاکّ بُہت ھَے
عِشّق حقیقتّ میں خَطّرنَاک بُہت ھَے..🖤🔥
🍂خاک ان سے محبت کی جائے
جن کو چائے سے خوف آتا ہے🍂
🍁
چلو محسن محبت کی نئی بنیاد رکھتے ہیں
خُود پابند رہتے ہیں اُسے آزاد رکھتے ہیں !
اک وہ کہ رہا جن کو ترا دور میسر
اک ہم کہ تیرے لمحہ ء دیدار کو ترسے
نصیر الدین نصیر
,اچھی چائے☕اور مضبوط😎
رشتے بنانے میں وقت لگتا ہے 🌻🌼🏵️
میں ہنستے ہنستے بتا رہا تھا خدا کو کل شب
کہ لوگ مجھ جیسے بے ضرر سے ڈرے ہوئے ہیں
پھر ایک دن ہم نے زندگی کا سراغ پایا
پھر ایک دن ہم نے کہہ دیا ہم مرے ہوئے ہیں
ندیم بھابھہ
ترا یہ زعم تجھے مہنگا نہ پڑ جائے
کہ تیرے ہوتے کوئی اور نہیں آ سکتا
اسد منٹو
میں ہوں بھی تو لگتا ہے جیسے میں نہیں ہوں
تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو
احمد سلمان
سات کے سات بھرے رنگ تری آنکھوں میں
ورنہ تصویر تو دو تین سے بن سکتی تھی
تم نے مانگی ہی نہیں ساتھ دعائیں میرے
بات بگڑی ہوئی ،آمین سے بن سکتی تھی
کومل جوئیہ
خزاں کی رُت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ہوا کی زد پہ دیا جلانا، جلا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے
سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے
خیال اپنا، مزاج اپنا، پسند اپنی، کمال کیا ہے؟
جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا، کمال یہ ہے
کسی کی راہ سے خدا کی خاطر، اٹھا کے کانٹے، ہٹا کے پتھر
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا، کمال یہ ہے
وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے، شکست کھائے
لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ہزارطاقت ہو، سو دلیلیں ہوں پھر بھی لہجے میں عاجزی سے
ادب کی لذت، دعا کی خوشبو بسا کے رکھنا، کمال یہ ہے
ن۔م
یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میں
کسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی میں
جو کھو جاتا ہے مل کر زندگی میں
غزل ہے نام اس کا شاعری میں
نکل آتے ہیں آنسو ہنستے ہنستے
یہ کس غم کی کسک ہے ہر خوشی میں
کہیں چہرہ کہیں آنکھیں کہیں لب
ہمیشہ ایک ملتا ہے کئی میں
چمکتی ہے اندھیروں میں خموشی
ستارے ٹوٹتے ہیں رات ہی میں
سلگتی ریت میں پانی کہاں تھا
کوئی بادل چھپا تھا تشنگی میں
بہت مشکل ہے بنجارہ مجازی
سلیقہ چاہیے آوارگی میں
ندا فاضلی
اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا
ایک بے چہرہ سی امید ہے چہرہ چہرہ
جس طرف دیکھیے آنے کو ہے آنے والا
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
دور کے چاند کو ڈھونڈو نہ کسی انچل میں
یہ اجالا نہیں آنگن میں سمانے والا
اک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا
کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا
ندا فاضلی
مجھ کو دیکھا تو مجھے ایسی لیپٹ کر روئ 😥😥
جیسے ایک ماں کو کوئ گمشدہ بچہ نہ ملے
بددعا ہے کے وہاں آئے جہاں بیٹھے تھے
اور افکار وہاں اپکوں بیٹھا نہ ملے
مرشد افکار علوی
💔ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺮ ، ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻼ ،،💔
💔ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ، ﻣﯿﺮﯼ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮈﮬﻮﻧﮉتے ڈھونڈتے...💔