کوئی دوچار دن ہم مسکرانا چھوڑ دیں گے اسے دل سے لگا کر فاتحانہ چھوڑ دیں گے محبت عمر بھر تم سے کریں گے اور تم کو بزرگوں کے کہے پر عاجزانہ چھوڑ دیں گے معید مرزا
آواز کس نے دی مجھے شدّت کی پیاس میں دریا انڈیل لایا ہوں سارا گلاس میں میں جانتا ہوں آئے گا اک روز لوٹ کر اپنی گھٹن سے تنگ یا جینے کی آس میں اُس کو بتا نہیں سکا دل کی اُداسیاں تصویر ایک بھیج دی کالے لباس میں شادی تو ایک جسم پہ قبضے کی ہے سند جب تک محبّتیں نہ ہوں اس کی اساس میں ہر پل جوان رہتی ہیں اُس کی محبّتیں لگتی ہے تیس کی مجھے ہو کر پچاس میں بچھڑے تھے جس جگہ وہاں برسوں کھڑا رہا بدلاؤ آ سکا نہ مرے دیوداس میں
سردیاں شروع ہو رہی ہیں 🤭 گروپ کے مین گیٹ پر اگر کسی نے اُبلے ہوئے انڈے، 🥚 سُوپ کی رہڑی، 🍜 یا مونگ پھلی 🥜 کی رہڑی لگانی ہے تو آج ہی اپنی CV ایڈمن کو جمع کروائیں 🤭 😁😁😁😁😁😁
جو عیاں تھا اُسے مستور کہا جانے لگا دل کی دھڑکن کو بہت دور کہا جانے لگا شوق نے تیرے رکھا سب سے گریزاں ایسا رفتہ رفتہ مجھے مغرور کہا جانے لگا یہ زمانہ ہے یہاں سب ہے چلن پر موقوف ابنِ منصور کو منصور کہا جانے لگا زرد جو چیز ہوئی لوگ اسے زر سمجھے سنگ چمکا تو اسے طور کہا جانے لگا پھوٹ نکلے گی اسی حرفِ منور سے سحر جو میانِ شبِ دیجور - کہا جانے لگا ایک تحریر پہ پہلے تو ہوئے ہاتھ قلم پھر اسے زیست کا دستور کہا جانے لگا خورشید رضوی
"ساحر لدھیانوی" 8مارچ1921-25اکتوبر1980 میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گا تیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گا سوز بھردو مرے سپنے میں غم الفت کا میں کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا درد کہتا ہے یہ گھبرا کے شب فرقت میں آہ بن کر ترے پہلو سے نکل جاؤں گا مجھ کو سمجھاؤ نہ ساحرؔ میں اک دن خود ہی ٹھوکریں کھا کے محبت میں سنبھل جاؤں گا ۔۔
رو رہے ہو؟ اے مرے حال پہ ہنسنے والے اب تو سمجھے ہو نا یہ درد کہاں ہوتا ہے؟ ۔ اب تو "ہنسنے" پہ بھی اشعار نہیں کہتا میں ایسا کرنے سے بھی وحشت کا زیاں ہوتا ہے ۔ آپ کے سر کی قسم میں نہیں پیتا سگرٹ دل سلگتا ہے تو کمرے میں دھواں ہوتا ہے ۔ امیر سخن
نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکایک نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے قیامت ہیں ظالم کی نیچی نگاہیں خدا جانے کیا ھو جو نظریں اُٹھالے کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کے کہہ دیں خدا کے لیے اب تو سر کو اُٹھا لے ٍتمہیں بندہ پرور ہمیں جانتے ہیں بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے بس اتنی سی دوری یہ میں ہوں یہ منزل کہاں آکے پھوٹے ہیں پاوں کے چھالے قمر میں ھوں مختار تنظیمِ شب کا ہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے استاد قمر جلالوی