Damadam.pk
Jigar.G's posts | Damadam

Jigar.G's posts:

Jigar.G
 

تجھ سے ملنے کے سو بہانے تھے
ہائے ____ وہ بھی کیا زمانے تھے
ارباب ذوق

Jigar.G
 

ہزاروں خواب مرتے ہیں تو اک مصرعہ نکلتا ہے
ذرا سوچیں غزل کتنے جنازوں کی کمائی ہے
ن م

Jigar.G
 

تہزیب حافی
میرے گاؤں میں مجھے دیکھنے آیا ہو گا.
سیر کرنے تو کاغان بھی جا سکتا تھا.
بات سن کر جو گیا ہے تو یہی پیار ہے نا.
ورنہ وہ بات کے دوران بھی جا سکتا تھا.

Jigar.G
 

تم جاتے ہوئے مجھ کو بتا کر نہیں جانا
دل بچہ ہے، روئے گا، بہت شور کرے گا !
مالا راجپوت

Social media post
J  : Post by Jigar G - 
Jigar.G
 

لفظ خود نعت کے امکان میں آ جاتے ہیں
جب بھی سرکار مرے دھیان میں آ جاتے ہیں
ذکر ان کا ہو تو ہر سانس مہک جاتی ہے
پھول احساس کے گلدان میں آ جاتے ہیں
ہم تعارف کے بھی محتاج نہیں دنیا میں
انکی نسبت ہی سے پہچان میں آ جاتے ہیں
آنکھ جب چومتی ہے لفظ تو میرے آقا
مسکراتے ہوئے قرآن میں آ جاتے ہیں
خواب میں بھی جو مدینے سے پلٹتا ہوں میں
چند آنسو مرے سامان میں آ جاتے ہیں
بات ناموس رسالت کی اگر آ جائے
ہم کفن باندھ کے میدان میں آ جاتے ہیں
آپ کی پیروی کرنے سے کھلا ہے مجھ پر
ضابطے جینے کے انسان میں آ جاتے ہیں
تمام اہلِ اسلام کو ماہِ ربیع الاوّل مبارک

Jigar.G
 

ہم اور کچھ بھی نہیں چاہتے سوائے تیرے
کمی بھی کوئی نہیں ہے تیری کمی کے سوا
عرفان ستار

Jigar.G
 

فقط شکم کے لیے جب دعا کو بیچ دیا
لگا فقیر نے مجھ پر خدا کو بیچ دیا
بدن کو بیچ کے خود کی دوائی لایا تھا
کفن کے واسطے واپس دوا کو بیچ دیا
قمر آسی

Jigar.G
 

انت
مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیں
یہ لیجئے آپ کا گھر آ گیا ہے ہاتھ چھوڑیں
جاوید صبا

Jigar.G
 

کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف
کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے
گلزار

Jigar.G
 

میں نے رکھا تھا جس حفاظت سے
خط بھی کپڑوں میں دھل گیا ہو گا
جتنا معیار گر چکا ہے ترا
تو تو سونے میں تل گیا ہوگا
اظہر فراغ

Jaisy jigar ke janeman
J  : Jaisy jigar ke janeman - 
Jigar.G
 

ویسے بھی ہم پہ جچتا بہت ہے اجل کا رنگ
ویسے بھی شاعروں میں وبا خود کشی کی ہے
ن م

Jigar.G
 

بات چلی تو نیل گگن سے تارے توڑے لوگوں نے
وقت پڑا تو جان چھڑا لی، جان سے پیارے لوگوں نے
ارباب ذوق

Jigar.G
 

ساقـــــی شَــــــراب لا کـــہ طبیعـت اُداس ہــــے
مُطـــــرِب رُبـاب اُٹھــا کـــہ طبیعـت اُداس ہــــے
چُھبتی ہے قَلب و جاں میں سِتاروں کی رَوشنی
اے چانـــــــد ڈُوب جـا کــہ طبیعـت اُداس ہــــے
شایَــد تِــرے لبـوں کـی چَٹک سـے ہو جی بَحال
اے دَوست مُسکــــــرا کــہ طبیعـت اُداس ہــــے
ہـــے حُســـن کا فَسُــوں بھـی عِـلاجِ فَسُــردگی
رُخ ســے نَـــقاب اُٹھـا کــہ طبیعـت اُداس ہــــے
میں نــے کبھی یـہ ضِـد تو نہیں کی پر آج شَب
اے مـَہ جَبیـــں نہ جا کــہ طبیعـت اُداس ہــــے
تَوبہ تَــو کر چُکا ہُوں مَــگر پِھر بھی اے عَــدم
تھــــــوڑا سـا زِہــر لا کــہ طبیعـت اُداس ہــــے
عبد الحمید عدم

Jigar.G
 

خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں
وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
بشیر بدر

کہتی ہے میرے بارے میں "اچھا کمینہ ہے" 
"اچھا" بلند کہہ کے "کمینہ" دباتی ہے 

عبید ثاقب
J  : کہتی ہے میرے بارے میں "اچھا کمینہ ہے" "اچھا" بلند کہہ کے "کمینہ" دباتی ہے  - 
Jigar.G
 

میں ہوش میں تھا تو پھر اس پہ مر گیا کیسے
یہ زہر میرے لہو میں اتر گیا کیسے
کچھ اس کے دل میں لگاوٹ ضرور تھی ورنہ
وہ میرا ہاتھ دبا کر گزر گیا کیسے
ضرور اس کی توجہ کے رہبری ہو گی
نشے میں تھا تو میں اپنے ہی گھر گیا کیسے
جسے بھلائے کئی سال ہو گئے کامل
میں آج اس کی گلی سے گزر گیا کیسے
ن۔م

Jigar.G
 

وقت پڑنے پر مددگار ہیں آنسو میرے
ایک آواز پہ سو صف سے نکل آئیں گے
تم بلاو تو سہی شوقِ ملاقات میں ہم
جس بھی حالت میں ہوئے رٙف سے نکل آئیں گے
کومل جوئیہ

Jigar.G
 

پوچھا جو کیا کریں گے مرا لے کے دل حضور
بولے ادائے ناز سے کھیلیں گے اور کیا
جاذل