پرسش حال بھی اتنی کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں
۔
۔
۔
اس تکلف سے کرم ہو تو ستم ہوتا ہے
لکھا ہوا تھا کسی جلوہ گاہ کے در پے..... تمام اندھوں کو دیدار کی اجازت ہیں,,,,
.
.
.
ہمارے شہر میں ہے منع عشق کا اظہار,,,,
یہ اور بات ہے اشعار کی اجازت ہیں
ہزاروں مشغلے ہیں جو مُجھے مصروف رکھتے ہیں
.
.
مگر محسن وہ ایسا ہے کہ پھر بھی یاد
آتا ہے
تم اچانک جو کسی روز مجھے مڑ کر دیکھو
۔
۔
۔
میں تجھے عمر کا ٹھہرہ ہوا لمحہ لکھوں
آنکھ کُھلتے ہی مرے ہاتھ سےچِھن جاتا ہے
۔
حالتِ نیند میں اِک خواب سے مانگا ہوا شخص
محبت کی سب سےبڑی خامی یہ ہے۔
.
.
.
کے برسوں گُزارجانے کےبعد بھی محبّت ہی رہتی ہے
جو ہونے والا ہے اب اس کی فکر کیا کیجے
جو ہو چکا ہے اسی پر یقیں نہیں آتا ..
دل ویراں ہے ، تیری یاد ہے ، تنہائی ہے
زندگی درد کی بانہوں میں سمٹ آئی ہے مرے
.
محبوب زمانے میں کوئی تجھ سا کہاں
تیرے جانے سے میری جان پہ بن آئی ہے
.
ایسا اجڑا ہے امیدوں کا چمن تیرے بعد
پھول مرجھائے، بہاروں پہ خزاں چھائی ہے
.
چھاگئے چاروں طرف غم کے اندھیرے سائے میری تقدیر میرے حال پہ شرمائی ہے
وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا
٠
اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
٠
٠
٠
٠
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
نئی دنیا مجسم دل کشی معلوم ہوتی ہے
مگر اس حسن میں دل کی کمی معلوم ہوتی ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain