بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں ٠٠٠٠ میں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میں اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال ٠٠٠٠ جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
میں کہوں تو بس وہ سنا کرے.. میری فرصتیں. میرے مشغلے.. سبھی اپنے __ نام کیا کرے.. کوئی بات ہو کسی شام کی.. جو سنانے بیٹھوں اسے کبھی.. وہ سنے تو سن کے ہنسا کرے.. جو میں کہوں چلو اس نگر.. جہاں جگنوؤں کا ہجوم ہو.. وہ پلٹ کے دیکھے میری طرف.. اور مجھکو پاگل کہا کرے.. بس میرے ساتھ چلا کرے.