تمارا نام لکھنے کی اجازت چھین گٸی جب سے کوٸی بھی لفظ لکھتی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے میرے دل پر مگر میں جب بھی ہنستی ہوں یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا جو میرے حصے میں آٸی ہیں وہ ازیتیں بھی شمار کرنا وہ حُرف لوحِ وفا پہ لکھے ان کو بھی دیکھ لینا جو رایگاں ہو گٸی ہیں وہ عبارتیں بھی شمار کرنا یہ سردیوں کا اُداس موسم کے ڈھرکنیں برف ہو گٸی ہیں جب انکی یخ بستگی پرکھنا تمازتیں بھی شمار کرنا