محبت ہم سے کرنی ہو تو پھر وعدہ نہیں کرنا یہ وعدے ہم نے دیکھیں ہیں کے اکثر ٹوٹ جاتے ہیں محبت ہم سے کرنی ہو تو پھر ضد بھی نہیں کرنی ضد بھی ہم نے دیکھی ہے کے ساتھی چھوٹ جاتے ہیں محبت ہم سے کرنی ہو تو پھر کوٸی تحفہ نہیں دینا یہ تحفے ہم نے دیکھے ہیں بہت مجبور کرتےہیں محبت ہم سے کرنی ہو تو پھر شکوہ نہیں کرنا یہ شکوے ہم نے دیکھیں ہیں دلوں کو دور کرتے ہیں محبت ہم سےکرنی ہو تو کبھی رونا نہیں ہے یہ رونا ہم نے دیکھا ہے دلوں کو چیر دیتے ہیں
اُس نے پاس ہی گلاب کے پودوں میں سے ایک کی کانٹوں بری ٹہنی پکڑی اور مُٹھی زور سے بند کر دی پھر مُٹھی کھول کےاپنا لہو لہو ہاتھ دیکھایا اور کہا " ایسے چُبتا ہے اپکا مجھ سے بات نا کرنا "