میری زندگی میری ازیتیں میری ہر خوشی میری حسراتیں کسی دور دیس کی سرد ہوا میری چشم نم میری سسکیاں میرے رت جگے میرے خواب سب کہیں بے خبر کہیں گم شدہ میرے آس پاس یہ شور وہ غُل میری بے خبر سی تنہاٸیاں میرے لب پہ آکے بکھر گٸی میری گفتگو بے ربط سی میرے سانحے میری شمعِ زیست میرے زخم میری تسلیاں کیا کسی نے یوں گُزاری ہیں ماہ و سال کی یہ گردیشیں ؟ کہیں سانس سینے میں رُک گٸی کہیں تھم گٸیں ہیں یہ دھڑکنیں میری آرزوٸیں ہیں قیامتیں کسی ایک ساعت کی منتظر میری تباہی کا وہ وقت ہو میرے بے سبب مسکراہٹیں اب تو اسطرح فنا ہوۓ ہم قندیل آپنی زات میں کے نا محبتوں کا کوٸی احساس ہے نا خوشیوں کی کوٸ حسرتیں
سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جیسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دے تو ہم کیا کیا نہیں کرتے بہت اُجھڑے ہوٸے گھر پر بہت سوچھا نہیں کرتے سفر جسکا مقدر ہو اُسے روکھا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جاۓ ۔ اُسے رسوا نہیں کرتے
نہ لکھ سکے کوٸی بھی ہجر و افسانہ تو اچھا تھا نہ کرتی زندگی یوں ہم کو دیوانہ تو اچھا تھا ہزاریوں خواہشیں رکھ کر دل میں دفن کر دی ہیں نہ ہوتا شوق جینے کا تو مر جانا تو اچھا تھا جوانی راس نہ آٸی تو بچپن کی دعا مانگی کھلونوں سے وہ اپنے دل کو بہلانا ہی اچھا تھا
تیری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیں خلا سے ربط بڑھایا ہوا سے باتیں کیں ہماری خیر مناٶ کے آج خود اُس نے بڑھے خلوص بڑی التجا سے باتیں کیں نا جانے کب سے سناتے تھے اُسے ہم احوال نظر اُٹھاٸی تو پھر ابتدا سے باتیں کیں ہزار شعر کہے یوں تو کہنے والوں نے کسی کسی نے دلِ مبتلا سے باتیں کیں