تُو نے دیکھی ھے وہ پیشانی ، وہ رخسار ، وہ ھونٹ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ھم نے تجھ پہ اُٹھی ھیں وہ کھوئی ھوئی ساحر آنکھیں تجھ کو معلوم ھے کیوں عمر گنوا دی ھم نے
پھر چاند کھلا پھر رات تمی پھر دل نے کہا ایک تیری کمی پھر یاد کے جھونکے بہک گٸے پھر جنت سی لگتی ہے یہ زمیں پھر دل نے کہا ایک تیری کمی پھر گزرے لمحوں کی باتیں پھر جاگی جاگی سی راتیں پھر ٹھہر گٸی پلکوں نمی پھر دل نے کہا ایک تیری کمی AK..
اتنی ٹوٹی ہوں کے چُھونے سے بکھر جاٶں گی اب اگر اور دعا دو گے تو مر جاٶں گی پوچھ کر میرا پتہ وقت رٸیگاں نا کرو میں تو بنجارا ہوں کیا جانے کدھر جاٶں گی زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کی تو جہاں مجھ سے کہے گا میں اُتر جاٶں گی پھول رہ جاٸیں گے گلدان میں یادوں کی نظر میں تو خوشبو ہوں فضاٶں میں بکھر جاٶں گی