چھوٹ ایسی تھی کے لرزے تھے دروبام بدن زخم ایسے تھے کے سب دست رفو کانپ اُٹھے اس محبت کو میرے پیر کی زنجیر نا جان ایسی نفرت میں کروں تجھ سے کے تو کانپ اُٹھے
اب بات دوستی کی نہیں، حوصلے کی ھے لازم نہیں کہ توُ بھی میرا ھم خیال ھو اب کے وہ درد دے کہ میں روؤں تمام عُمر اب کے لگا وہ زخم کہ جینا محال ھو پہلے وہ اضطراب، تجھے کِس طرح بھلائیں اب یہ عذاب کیسے طبیعت بحال ھو پھر توُ نے چھیڑ دیھے، گئی ساعتوں کی بات وہ گفتگو نہ کر کہ تجھے بھی ملال ھو میری ضرورتوں سے زیادہ کرم نہ کر ایسا سلوک کر، کہ مِرے حسبِ حال ھو ٹوُٹا تو ھُوں مگر ابھی بکھرا نہیں فراز میرے بدن پہ جیسے شکستوں کا جال ھو
وہ ایسی دھن کے نہیں پھر کبھی سُنی میں نے وہ منفرد سا ہنسی میں کمال رکھتا تھا اسے ندامتیں میری کہاں گوارا تھی وہ میرے واسطے آسان سوال رکھتا تھا بچھڑ کے اُس سے دنیا کی ٹھوکروں میں ہوں وہ پاس تھا تو مجھے لا زوال رکھتا تھا Ak...
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain