شیخ سعدی کی حکمت شیخ سعدی نے کہا: "صرف ایک عورت نے مجھے زیر کیا، جب اس نے پلیٹ کو ڈھانپ رکھا تھا، میں نے پوچھا، 'پلیٹ میں کیا ہے؟' تو پھر اس نے کہا، 'ہم نے اسے کیوں ڈھانپا؟' اس کے جواب نے مجھے شرمندہ کر دیا۔" آج کی حکمت۔ کسی بھی چھپی ہوئی چیز کو بے نقاب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ کسی انسان کا دوسرا رخ تلاش مت کریں، چاہے آپ کو یقین ہو کہ وہ غلط ہے۔ یہی کافی ہے کہ وہ آپ کی عزت کرے اور اپنے بہترین پہلو سے آپ کو ملائے۔ ہر انسان کے اندر کچھ کمی یا منفی پہلو ہوتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے اپنے اندر بھی۔ لوگوں کے رازوں میں مشغول ہونا تعصب اور ناانصافی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ زندگی سکون میں بہتر گزرتی ہے جب ہم دوسروں کے مثبت پہلوؤں کو دیکھتے ہیں۔
ُاُسے کہنا...!! کہ ہم نے چھوڑ دی ضِد...!! اُن سے مِلنے کی...!! تَقاضے تِشنَگی کے...!! ساحلوں پہ چھوڑ آئے ہیں...!! ہمیں معلوم ہے...!! بے درد موسم کی رضا کیا ہے...!! ہم اپنے خواب سارے...!! پانیوں پہ چھوڑ آئے ہیں...
اے ضبط دیکھ عشق کی ان کو خبر نہ ہو دل میں ہزار درد اٹھے آنکھ تر نہ ہو مدت میں شام وصل ہوئی ہے مجھے نصیب دو چار سال تک تو الٰہی سحر نہ ہو اک پھول ہے گلاب کا آج ان کے ہاتھ میں دھڑکا مجھے یہ ہے کہ کسی کا جگر نہ ہو ڈھونڈے سے بھی نہ معنی باریک جب ملا دھوکا ہوا یہ مجھ کو کہ اس کی کمر نہ ہو الفت کی کیا امید وہ ایسا ہے بے وفا صحبت ہزار سال رہے کچھ اثر نہ ہو طول شب وصال ہو مثل شب فراق نکلے نہ آفتاب الٰہی سحر نہ ہو امیر مینائی
یہ کب کہا کہ آپ ابھی بات کیجئے جب دِل کرے جناب! تبھی بات کیجئے مصروف ہیں ہم آپ ہی کے انتظار میں ہم گوش بر آواز، اجی! بات کیجئے میرا کیا پوچھتے ہیں صنم؟ میری طرف سے یہ لیجئے جناب! ابھی بات کیجئے میرا وہی سوال ہے بس، "وصلِ محبت"۔ جب بن پڑے جواب، تبھی بات کیجئے اشکوں کو چھوڑئیے کہ یہ آنکھوں کا حُسن ہیں جو کر رہے ہیں آپ، وہی بات کیجئے جو بھی ہے فیصلہ ہمیں منہ پر بتائیے مت ٹالیے جناب! صحیح بات کیجئے مقبول ہو گی جب بھی کبھی میری محبت وہ خود کہیں گے آج، بات کیجئے! ابھی بات کیجئے❤️🌙
مسئلہ صِرف مُحبت نہیں ہوتی...!! ضِد بھی نہیں...!! نہ ہی حُسن...!! نہ ذہانت...!! نہ اَنا اور نہ ہی ایک اِنسان...!! لاتعداد بہترین اور خُوبصورت لوگ...!! مُتبادل کے طور پر دستیاب ہوتے ہیں...!! اور طلبگار بھی...!! پِھر مسئلہ ہے کیا...؟؟ کیمسٹری...!! جو اُس اِنسان کے ساتھ محسُوس ہو چُکی ہوتی ہے...!! بَس...!! وہی کَمی بے چین رکھتی ہے..
جب گلستاں میں ، بہاروں کے قدم آتے ھیں یاد بُھولے ھُوئے ، یاروں کے کرم آتے ھیں لوگ جس بزم سے آتے ھیں ، سِتارے لے کر ھم اُسی بزم سے ، بادیدۂ نَم آتے ھیں میں وہ اِک رِندِ خرابات ھُوں ، میخانے میں میرے سجدے کے لیے ، ساغرِ جُم آتے ھیں اب ملاقات میں ، وہ گرمئ جذبات کہاں اب تو رکھنے ، وہ محبت کا بھرم آتے ھیں قُربِ ساقی کی وضاحت ، تو بڑی مشکل ھے ایسے لمحے تھے ، جو تقدیر سے کم آتے ھیں میں بھی جنت سے نکالا ھُوا ، ایک بت ھی تو ھُوں ذوقِ تخلیق !! تجھے کیسے سِتم آتے ھیں چشمِ ساغرؔ ھے ، عبادت کے تصّور میں سَدا دِل کے کعبے میں ، خیالوں کے صنم آتے ھیں ساغر صدیقی
ہوئے نام وَر بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے تری بانکی چتون نے چُن چُن کے مارے نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے نہ گُل ہیں نہ غُنچے نو بُوٹے نہ پتے ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا وہاں ان کو گزرے گُماں کیسے کیسے ہزاروں برس کی ہے بُڑھیا یہ دنیا مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے خزاں لُوٹ ہی لے گئی باغ سارا تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے امیرؔ مینائی