لگی ہے بدعا مجھے ان گلابوں کی
جن کو توڑا تھا ہم نے تمہارے لیے! ❤️🔥🥀





وہ ایک شخص مرا ہم مزاج پہلے تھا
بدل گیا وہی کل میں جو آج پہلے تھا
بشر کی پیاس بشر کے لہو سے بجھتی ہے
جہاں میں کیا یہی خونی رواج پہلے تھا
تمام وقت گزرتا ہے لغویات میں اب
ہمارے سر پہ بہت کام کاج پہلے تھا
یہ ایسا دور کہ انسانیت بلکتی ہے
سکوں سے پر بڑا سادہ سماج پہلے تھا
نہ دیکھی دہر نے اس کی طرح ضیا اب تک
عجیب بجھتا ہوا اک سراج پہلے تھا
غبار و خاک میں وہ سب بدل گئے قدسیؔ
جواہرات کا گھر بھر اناج پہلے تھا

میں تو ہر روز دیکھتا ہوں آئینے میں
تیری جیت کی خاطر ہارا ہوا شخص
اب فقط دیکھتے ہی رہتے ہیں
ورنہ ہم بھی تو بولتے تھے کبھی
جس کو ملے تھے اس کو ضروری نہیں لگے
ہم تھے کہیں کی خاک، کہیں پہ پڑے رہے
جب تم ہی میرے مقابل ہو تو فتح کیسی
جاؤ ہم ساری خوشیاں وار گئے، ہم ہار گئے
میں نے ایک شخص جیت کر ہارا
اب مجھے کھیل کے میدان برے لگتے ہیں
ہے عجب مزاج کا شخص وہ
کبھی ہم نفس کبھی اجنبی

رات دروازے پہ کتنی دستکوں کے نشان تھے
پھروہی پاگل ہَوا تھی ، پھر
جی اب تھک چکا ہوں آپ کو ہی نہیں
خود کو بھی برا لگتا ہوں میں
تیرے بدلے ہوئے لہجے سے کہیں بہتر ہے
ہم جدائی کی اذیت ہی گوارا کر لیں.....
کچھ خدا ایسا کرے تجھ کو محبت ہو جائے
تُو پکارے ہمیں ہم تجھ سے کنارا کر لیں.......
میں نے خالص اور بے پناہ محبتیں
صرف میتوں پر ہی نچھاور ہوتے دیکھی ہیں
ذوقِ جنون کو حد سے گزر جانے دو
وہ سمیٹنے آئے گا ہمیں بکھر جانے دو
ابھی دسترس میں ہوں تو احساس نہیں اس کو
رو رو کے پکارے گا ہمیں مر جانے دو
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain