میں نے لوگوں کے بلند قہقہوں میں انکے ٹوٹتے حوصلوں کو محسوس کیا ہے۔ جھریوں میں پوشیدہ داستانوں کو جانا ہے۔میں نے لوگوں کو اداس آنکھوں سے مسکراتے دیکھا ہے۔ تب احساس ہوا ہم سب حادثوں کا شکار ہیں، سب پر اپنی اپنی ایک قیامت ہوتی ہے جسے کوئی نہیں جانتا💔
اکیلے میں پھوٹ پھوٹ کر رونا،،اور پھر پوری جدوجہد، اور برداشت سے اپنی بکھری ہوئ ذات کو سمیٹ کر، چہرے پر مسکراہٹ کا نقاب اوڑھ کر،،لوگوں کے ہجوم میں خود کو شامل کر لینا،،،اور ظاہر یہ کرنا کہ غموں سے تو کچھ واسطہ ہی نہیں ہمارا۔،،،اور یہی ہوتا اپنی ذات کا قتل اور اس سے بڑی اذیت اور کیا ہو سکتی ہے بھلا۔۔،؟؟🥺