تازہ غزل آپ احباب کی محبتوں کی نظر بات اچھی ہے تو انداز بیاں اچھا نہیں ایسے دل توڑنا اے خواہش ِ جاں اچھا نہیں بارشیں ہو بھی چکیں ابر گرج بھی چکے ہیں اب بھی اک موسم ِ طوفاں کا گماں اچھا نہیں پھل ہو جنت کا یا روٹی کی طلب دنیا میں بندہ بدنام یہاں ہو کہ وہاں اچھا نہیں کیا بتاؤں کہ نہیں فیصلہ کر پایا کبھی اچھا دشمن ہے کہاں اور کہاں اچھا نہیں سلطنت دل کی حوالے تو میں کر دوں مرزا مجھ کو لگتا ہے کہ اچھوں کا جہاں اچھا نہیں
میرے ایک دوست نے کہا کہ میں جب انگلینڈ سے پڑھ کر پاکستان لوٹا۔ اگلے روز ناشتے پر ابا جی نے پوچھا کیا پڑھا ہے تم نے۔ میں نے کہا ابا جی میں نے منطق کا علم حاصل کیا ہے سادہ لوح باپ نے پوچھا اَیدا کی فَیدہ میں نے جوش میں آ کر کہا ابا جی یہ میرے سامنے جو ایک انڈا پڑا ہوا ہے میں اپنے علم کی رُو سے ثابت کر سکتا ہوں کہ یہ ایک نہیں بلکہ دو انڈے ہیں۔ اس کے بعد میں نے دلائل کے انبار لگا دئیے اور پھر بات ختم کرکے ابا جی کو فخریہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ تب ابا جی نے میرے سامنے سے وہ انڈا اُٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لیا اور بولا 'چنگا فیر اے میں کھا لیندا واں دُوجا جیڑا توں ثابت کیتا او تُوں کھا لے🙄😐 نتیجہ:- ابا فیر ابا ہی ہوندا اے۔
ہائے ! آدابِ محبت ، کوئی سمجھائے اُنھیں رُوٹھنا ایسے کہ ؟ پھر ہم سے منایا نہ گیا لوٹ کر آنا تو ممکن ہے ! مگر یاد رہے جو نگاہوں سے گرا ! پھر وہ اُٹھایا نہ گیا
مُجھے اُداس کر گئے ہو خُوش رہو، مَیرے مِزاج پرگئے ہو خُوش رہو مَیرے لئے نہیں رُک سکے تو کیا ہُوا، جَہاں کہیں ٹَھہر گئے ہو خُوش رہو اُداس ہو کِسی کی بیوفائی پر، وَفا کہیں تو کر گئے ہو خُوش رہو تُمہیں تو میرے عشق پہ ناز تھا، اُسی سے اب مُکر گئے ہو خُوش رہو!❤️