آج آؤں گا نہ کل ، نہ ہی کہا پرسوں کو اُس نے لکھا ہے کہ جب پھول لگیں گے سرسوں کو زندگی ایک ملاقات کا دورانیہ بس۔۔۔۔ پھر بھلے آگ لگے عمر کے سب برسوں کو۔۔۔😎
سوچ سمجھ کر ہوتے تھے تب ساتھ نِبھانے کے وعدے 🥀 لیکن جو کر لیتے تھے وہ وعدہ ,وعدہ ہوتا تھا خط میں دل اور تیر بنا کر مِنت کرنی پڑتی تھی یار بہت مُشکل سے ملنے پر آمادہ ہوتا تھا
میرا قصہ بہت مختصر تھا.!!! میرا درد بھی لازوال تھا.!!! میری زندگی وہ شخـص تھا.!!! جسـے ہر فن میـں کمال تھا.!!! میں دکھـوں سـے بھـری کتاب ہوں.!!! مجـھـے سوچ سمجھ کر پڑھ زرا.!!! مجھے سمجھ سکا نہ وہ بھی..!!! جسـے نفسیات پہ کمال تھا..!💥❤️
تازہ غزل۔ گفتگو جب بھی ترے پیار پہ آ جاتی ہے اک قیامت ترے بیمار پہ آ جاتی ہے دوش قسمت کو میں اس واسطے دے دیتا ہوں تیغ ورنہ مرے دلدار پہ آ جاتی ہے بات کرتے ہوئے ڈر جاتا ہوں اکثر کیونکہ بات چھوٹی بھی ہو دستار پہ آ جاتی ہے دینا پڑ جاتا ہے دیوار کو سایہ آخر دھوپ جب بھی کسی دیوار پہ آ جاتی ہے کوئی چارا نہیں چلتا ہے خموشی کے سوا بات جب بھی ترے کردار پہ آ جاتی ہے اپنی بربادی کا بتلائیں سبب کیا یارو داستاں گھوم کہ اک یار پہ آ جاتی ہے اس طرح ختم ہوا اس سے تعلق ساجد جیسے مندی کسی بازار پہ آ جاتی ہے