الگ تھا تیرا اندازسب سے الگ تھا تیرامزاج بھی
توغالب نہ تھا فقط تو سب پہ غالب ہے آج بھی۔
اتنے ظالم نہ بنوکچھ تو مروت سیکھوغالب ؔ
تم پہ مرتے ہیں تو کیا مارہی ڈالوگے ہمیں؟
کوئی ملاہی نہیں جس کوسونپتے محسنؔ
ہم اپنے خواب کی خوشبو، خیال کاموسم۔
Good night everyone
افسوس کوئی پوچھتا نہیں دل کاحال فرازؔ
ہر کوئی کہہ رہا ہے تیرے رنگ کوکیاہوگیا۔
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے گھر سے رستے بنالیے۔
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ تیرے دوستوں میں ہوں ۔
میں فنا ہوگیا وہ بدلا پھر بھی نہیں فرازؔ
میری چاہت سے بھی سچی تھی نفرت اس کی۔
کسی بے وفاکی خاطر یہ جنوں فرازؔ کب تک
جو تمہیں بھلا چکاہے اسے تم بھی بھول جاؤ۔
خالی ہاتھوں کو کبھی غور سے دیکھاہے فرازؔ
کِس طرح لوگ لکیروں سے نکل جاتے ہیں ۔
سجدوں میں گزاردوں اپنی ساری زندگی فرازؔ
اِک باروہ کہہ دے مجھے دُعاؤں سے مانگ لو۔
رات ہوتے ہی اک پنچھی روز مجھے کہتا ہے فرازؔ
دیکھ میرا آشیانہ بھی خالی تیرے دل کی طرح۔
ہم نیند کے زیادہ شوقین تو نہیں فرازؔ
کچھ خواب نہ دیکھیں تو گُزارانہیں ہوتا۔
میرا اُس شہرِ عدا وت میں بسیرا ہے جہاں
لو گ سجدوں میں بھی دُو سروں کا بُرا سو چتے ہیں
روؤں کے ہنسُو ں سمجھ نہ آئے
ہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤ۔
روؤں کے ہنسُو ں سمجھ نہ آئے
ہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤ۔
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلوبات کرکے دیکھتے ہیں۔
ٹپک پڑتے ہیںآنسو جب یاد تمہاری آتی ہے فرازؔ
یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا
کل سے لگاتار محنت کے بعد آج اس نے کہہ دیا
یار تم باتیں تو بہت اچھی کرتے ہو لیکن میں خود لڑکا ہوں
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain