: آنكھوں کو انتظار کا دے کر ہنر چلا گیا________ چاہا تھا اک شخص کو جانے کدھر چلا گیا
: دِل سے خیالِ دوست بھلایا نہ جائے گا______ سینے میں داغ ہے كہ مٹایا نہ جائے گا
کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلہ_____ اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلہ______ ہے شوق سفر ایسا اک عرصہ سے یارو_____ منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلہ
بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے_______ وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا
: ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو_____ دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں_______ وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل______- ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
: دو دن کی زندگی ہے کیا کرو گے الجھ کر_________ رہو تو پھول کی مانند بکھرو تو خوشبو بن کر
: شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم_______ آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہ10
: نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے_______ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی
موجوں كی تپش کیا ہے فقط زوق طلب ہے________ پنہاں جو صدف میں ہیں وہ دولت ہے خدا داد
غبارِ راہ سے کہہ دو سنبھالے نقشِ قدم______ زمانہ ڈھونڈے گا پِھر ان کو رہبری كے لیے
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہَم جو چلے تو جاں سے گزر گئے_______ رہ یار ہَم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
وہ جو چُپ چاپ بچھڑے ہوئوں کا رہا منتظر آج تک______ گھر کی ایک ایک دیوار پہ لکھ گیا ، زندگی تھک گئی
: میرا کارنامہ زندگی میری حسرتوں كے سوا کچھ نہیں______ یہ کیا نہیں ، وہ ہوا نہیں ، یہ ملا نہیں ، وہ رہا نہیں
: ہم نے اکثر تمہاری راہوں میں___ رک کر اپنا ہی انتظار کیا
اِک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے______ اب تک رکا ہواہوں وہیں رات روک کے
شاید تم آ ؤ میں نے اِسی انتظار میں____ اب کے برس کی عید بھی تنہا گزار دی
: جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے______ پھر بھی مصروف انتظار ہے دل
: جسے بارش كے پانی میں بہا کر مسکراتے تھے_____ مجھے کاغذ کی وہ کشتی ذرا پِھر سے بنا دینا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain