تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو
ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا
تم پرندے ہو وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم سے باتوں میں کچھ اس درجہ مگن ہوتا ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو
جانے والے سے سوالات نہیں ہوتے میاں
تم یہاں اپنا بدن چھوڑ کے جا سکتے ہو
جانا چاہو تو کسی وقت بھی خود سے باہر
اپنے اندر کی گھٹن چھوڑ کے جا سکتے ہو
دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا
میں گر پڑوں گا دیکھ! مجھے آسرا نہ دے
.......
ڈرتا ہوں آئنہ ہوں کہیں ٹوٹ ہی نہ جاؤں
اک لو سی ہوں چراغ کی، کوئی بجھا نہ دے
خود کو ہر بزمِ مُسرت میں سمو کر دیکھا
رُوح کا دُکھ نہ گیا ، قلب کی وحشت نہ گئی
آگ سے سیکھ لیا ہے یہ قرینہ ہم نے
بجھ بھی جانا ،تو بڑی دیر سلگتے رہنا
جانے کس عمرمیں جائے گی یہ عادت اپنی
روٹھنا اس سے، تو اوروں سے الجھتے رہنا
مجھے حرف حرف نہ لکھ کر رکھ..
مجھے بس زبانی یاد کر..
تیری داستاں میں نہیں ہوں میں..
مجھے دھڑکنوں میں تلاش کر
راستوں کی مرضی ہے
اجنبی کوئی لا کر
ہمسفر بنا ڈالیں
ساتھ چلنے والوں کی
راکھ بھی اڑا ڈالیں
یا مسافتیں ساری
خاک میں ملاڈالیں
راستوں کی مرضی ہے
ہم تیرے بعد گرے خستہ مکانوں کی طرح
کہیں کھڑکی ،کہیں کنڈی ،کہیں پر یہ پڑا ملبہ۔
محبت بیج ہوتی تو،
محبت ہم اُگا لیتے!
جہاں پر جتنی حاجت ہو،
وہاں اتنی کھلا لیتے!
دلوں کو موم کر لیتے،
ختم حرص و حسد کرتے!
محبت بیج ہوتی تو،
ہوا کے دوش پہ رکھتے!
نمی پا کر فضاؤں سے،
محبت پھوٹ جو پڑتی،
تو ننھی کونپلوں سے،
سکھ کی بیلیں سر اٹھا لیتیں ،
ہرے پتے سکوں کے،
نغمگی کی دھن بجا لیتے۔
دکھوں کا خاتمہ ہوتا،
دلوں کے میل دھل جاتے
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے
اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے
دِل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے
پتھر کی طرح بے حِس و بے جان سا کیوں ہے
تنہائی کی یہ کون سی منزل ہے رفیقو
تا حدِ نظر ، ایک بیابان سا کیوں ہے
ہم نے تو کوئی بات نکالی نہیں غم کی
وہ زُود پشیماں ، پشیمان سا کیوں ہے
کیا کوئی نئی بات نظر آتی ہے ہم میں
آئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے
صاحب جائیے کنارہ کیجیئے
یا پھر گستاخیاں ، گوارہ کیجیئے !!_
لٹ لٹا کے جو آ لگے ھو کندھے سے
کس نے کہا ہم سے عشق دوبارہ کیجیئے ؟
اگر ھم ھار جائیں تو ....تو کیا تم جیت جاو گے ....
تو لو تم جیت جاو پھر ...کہ ھم پھر ھار جاتے ھیں. ۔۔۔۔
آجاناں مجھے اپنی آغوش میں لے لے_
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے۔۔
😔😔😔😔
Really it's itching 😔😔😔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے
تم مجھے خاک بھی سمجھو تو کوئی بات نہیں
یہ بھی جب اڑتی ہے تو آنکھوں میں سما
جاتی ہے
خیال تھا______ دَھنک نما
یا کوئی عَکس تھا مِرے رُوبَرو
.....
مُجھے ہر طرف سے ____ تُو لگا
یا کوئی اور تھا ____ تِرے ہُوبہو
یوں توڑ نہ مدت کی شناسائی ادھر آ
آجا میری روٹھی ہوئی تنہائی ادھر آ
......
سنتی ہوں کہ تجھ کو بھی زمانے سے گلہ ہے
مجھکو بھی یہ دنیا نہیں راس آئی ادھر آ
یہ جو خاموش سے ھو جاتے ھو کچھ کہتے ھوئے۔
میں نے من چاہی کوئی بات سمجھ لینی ہیں۔
خنجر سے کی گئی میرے پہلوں میں گدگدی۔
یعنی رولا رولا کر ہنسایا گیا مجھے۔
تم اپنے حُسن کی توصیف چاہتی ہو؟ سُنو!
تمہاری خاک سے __ تتلی کا پر تراشہ گیا
میں آرہا ہوں تمہاری خاطر انا کی دستار رکھ کے لیکن
غرور کا ہر لباس تم بھی بدن سے اپنے اتار دینا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain