تمہیں معلوم تھوڑی ہے کہ میرا قحط کیا شئے ہے
.....
ابھی تو بس تمہیں میری فراوانی میسر ہے۔۔۔۔
ایک مدت سے تجھے ورد میں رکھا جس نے
وہ محبت میں قلندر بھی تو ہو سکتا ہے
........
تیرے کوچے میں جو آیا ہے غلاموں کی طرح
اپنی بستی کا سکندر بھی تو ہو سکتا ہے
میرےدردِ دل سےہیں بےخبر
میراکربِ جاں نہیں جانتے
میرےآس پاس جو لوگ ہیں
میری تلخیاں نہیں جانتے
میرے ضبطِ دل نے بھلا دیے
مجھے عرضِ درد کے قاٸدے
میری آنکھ اشک سے بےخبر
میرے لب فغاں نہیں جانتے
یہ جو کر رہے ہیں نصیحتیں
انہیں مشوروں کی ہیں عادتیں
دلِ خواب زد انہیں چھوڑ دے
یہ تیری داستاں نہیں جانتے
ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار
.......
ہائے وہ آنکھیں جو ضبطِ غم میں گریاں ہو گئیں
زندگی کی الجھنوں سے فرار چاہیے ،
....
مجھے بچپن کا اک دن ادھار چاہئے۔
دیکھنا چاہو کوئی رانجھا اگر ہیر کے ساتھ
.........
اپنی تصویر بھی رکھو میری تصویر کے ساتھ
چپ چاپ چل رہے تھے سفر حیات پر
.......
تم پر نظر پڑی تو گمراہ سے ہو گئے
ہم دوھری اذیّت کے _________ گرفتار مسافر
پاؤں بھی ہیں شل، شوقِ سفر بھی نہیں جاتا...!!
بری ہے خودکشی لیکن تیرے جانے پہ سالوں تک
...........
تعجب میں پڑے رہنے سے بہتر تھا کہ مر جاتے
تو مصروف ہے انتخاب رنگ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تیری یاد میں سیاہ پوش ھو گیا
دل فقیری پر اتر آئے تو
۔۔۔۔۔۔۔
الجھ پڑتا ھے بادشاھوں سے
زندگی معلِّم ہے، تجھ کو سب سِکھا دے گی،
..........
اِس کو سِیکھ لے پڑھنا ، ہر کتاب رہنے دے۔
جوبھی کرتا ہے وہی حد سے گزر جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس کو آیا ہے محبت میں سلیقہ رکھنا
سنا ہے بھت اداس بیٹھے ہو ۔۔۔۔۔
❤️
کہو تو دل بھیجوں کھیلنے کے لیے۔۔؟
کوئی خواب پھِر سے چَمَک اُٹھا، کوئی زخم پھِر سے ہَرا ہُوا
میں سمجھ رہا تھا وہ بے وَفَا، مِرے حافظے سے جُدا ہُوا
یہاں خوشبوؤں کی رفاقتیں، نہ تُجھے مِلیِں، نہ مُجھے مِلیِں
وہ چَمَن کہ جِس پہ غُرُور تھا، نہ تِرا ہُوا، نہ مِرا ہُوا
اِسے کہیے وجہِ سُرُور کیا، ہو وِراثَتوں پہ غُرُور کیا
جو ڈَگَر مِلِی، وہ لُٹی ہُوئی، جو دیا مِلا، وہ بُجھا ہُوا
وہ جو سُرخ سُرخ نِشان تھے، مِری گُم رَہی کا بیان تھے
تِرے قافلے نے پڑھا نہیں، مِرے آبلوں کا لِکھا ہُوا
وہ جو خواب تھے، مِرے ذِہن میں، نہ میں کہہ سَکا، نہ میں لِکھ سَکا
کہ زباں مِلی، تو کَٹی ہُوئی، کہ قَلَم مِلا، تو بِکا ہُوا
وہی بےربط یارانے ________وہی فنکاریاں اس کی
بڑا بےچین کرتی ہیں_______یہ تعلق داریاں اس کی
محبت کرکے بھی اس نے_______بدلی نہیں عادت!
نہ اچھی رنجشیں اس کی__نہ اچھی یاریاں اسکی
بہت تکلیف دیتی ہیں___ کہ دونوں کو نہیں بھاتی
اسے آسانیاں میری_______مجھے دشواریاں اس کی
کئی دنوں سے فقط___ اک خامشی کا ربط قائم ہے
بہت یاد آرہی ہیں آج _________دل آزاریاں اس کی
کہاں تک ساتھ چل سکتے تھے_____ ہم کہانی میں
اِدھر میری جنوں خیزی_____اُدھر بےزاریاں اس کی
ﻭﮦ ﻧﻔﺮﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻝﮐﺮ ﮐﮯ !!
ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﺎﺟﻮﺍﺏﻣﺎﻧﮕﮯ
ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟﮐﺎﻧﭩﮯ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ !!
ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺗﺎﺯﮦ ﮔﻼﺏ ﻣﺎﻧﮕﮯ
ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﮍﯼﻣﺴﺎﻓﺖ
ﭼﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ
ﺷﮑﺴﺖ ﺧﻮﺭﺩﺍ !!
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﺩ ﺟﺎﻧﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺣﺴﺎﺏ
ﻣﺎﻧﮕﮯ
آستینوں میں چھپالیتی ہے خنجر دنیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں ـــــ چہرے کا تاثر نہ چھپانا آیا
تجھ کو دیکھے ہوئے صدیاں تو نہیں گزری ہیں
........
پھر بھی لگتا ہے کہ دیکھا ہی نہیں صدیوں سے
تمہارے بعد بڑا "فرق" آگیا ہم میں
تمہارے بعد کسی پر خفا نہیں ہوئے ہم
......
تعلقات میں "شرطیں" کبھی نہیں رکھیں
کبھی کسی کیلئے "مسئلہ" نہیں ہوئے ہم
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain