Damadam.pk
Maya_324's posts | Damadam

Maya_324's posts:

Maya_324
 

زیاں کا خوف بھی لازم دماغ میں رکھیں
خطا کے ساتھ اگر آپ کھیل کھیلیں گے
سجل کانپوری

Maya_324
 

ہمیں دینے کو وفاؤں کے درس
مطلبی لوگ بھی آ پہنچے ہیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

مزاح:-)
ذہن میں ابھرا مخلصی کا خیال
دل نے دعوی کِیا سجل تیرا
سجل کانپوری

Maya_324
 

سہل ممتنع
آہ کی جا پہ واہ ہوتی ہے
جب تکلم کی چاہ ہوتی ہے
سجل کانپوری

Maya_324
 

یہ تو معلوم ہے بچھڑنا ہے!
اجنبی ساتھ دے قدم دو قدم
سجل کانپوری

Maya_324
 

بچپن میں پہلا انتخاب تھا یہ شعر
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
خوشبوؤں کی ملکہ ـ پروین شاکر

Maya_324
 

بارش.n5
بادل کے گرجنے کی صدا رقص ہَوا کا
بارش نے بدل ڈالا ہے ماحول فضا کا
سجل کانپوری

Maya_324
 

اب تلک آپ کو تمنا تھی
ہاتھ آیا تو ہاتھ مَلتے ہیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

اجہل لوگوں کا بسیرا ہے دمادم پہ
پتا ان کو میرے ـــــــ نام کے معانی کا بھی نہیں اور بھاشن دینے چلے آتے ہیں
اور جو لوگ خود سے کچھ بھی گمان لگا لیتے ہیں اُن کی ٹانگ کے بجائے اُن کے ماتھے مِیں فائر مارنا چاہیے
نہ رہیں گے غلیظ نہ پھیلے گی غلاظت
اور کچھ نہیں بس نام یاد رہے ⇵
Maya_324 .p6

Maya_324
 

اٹھا کے آ گئے تم لوگ طنز کے کشکول
یہ جاننا بھی ضروری ہے، کون ہے مایا
سجل کانپوری

Maya_324
 

قیمتی شخص ہے ہرگز نہ گنوانا اُس کو
جس کے کردار سے کچھ رنگ حیا ابھرے ہیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

اس نے میدان مارنا تھا سجل
ہاتھ ماتھے پہ آ گئے جس کے
سجل کانپوری

Maya_324
 

سجلؔ کی یہ نادانیاں دیکھیے آپ
اُسے یاد ہوں ہوں پھر بھولنے کو
سجل کانپوری

Maya_324
 

نظم
ـ
گزر گیا ہے دن
اداس رُت کو سلام کہہ کر
ابھی نہ شاموں کی تلخیاں گِن
یہ شب نکالے گی
غموں کی کچھ اور کونپلیں
ـ
سجل کانپوری

Maya_324
 

بنا لیں گے لوگوں کے دل میں خود
سلیقہ وفا کا اگر جانتے ہیں
انھیں کوئی منزل نہ مشکل لگے گا
علی کو جو مشکل کشا مانتے ہیں
ضرورت نہیں ہے گرانے کی معیار
سجل آپ جیسوں کو پہچانتے ہیں
ـ
سجل کانپوری

Maya_324
 

احسان نسلِ آدم و حوا نہیں لیا
اپنا وجود خود ہی سنبھالے ہوئے ہیں ہم
سجل کانپوری

Maya_324
 

الجھ کے رہ گیا الفت کے جال میں ایسا
دلیلیں لاکھ دوں لیکن انھیں قبول نہیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

خزاں ڈھلی تو یہ معلوم ہو گیا مجھ کو
خوشی میں آنکھ سے آنسو نکل ہی آتے ہیں
سجل کانپوری

Maya_324
 

کہیں نہ موت کو دقعت بنے پہنچنے میں
رہِ حیات کے پتھر اٹھا لیے مَیں نے
سجل کانپوری

Maya_324
 

فی البدیہہ
خدا کی ذات اسے خوش رکھے، مگر دکھ ہے
گنوا دیا ہے مجھے اس نے جلد بازی میں
سجل کانپوری