مفت خوری کا دور ختم ہوا
اب "دمادم" تو وڑ گیا پیارے
س ک

صرف زبان ہلنے کی دیر ہوتی ہے
پل دو پل میں آدمی کی ذات اوقات سامنے آ جاتی ہے
ٹھاہ
آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں اور کہنے کو کیا رہ گیا
ـ ـ
حضرت وسیم بریلوی
نس نس میں بس گئی ہو، تمھی ہو مرا جنون
اک پل ترے بغیر میسر نہیں سکون
س ک
جانتا تھا مَیں زلیخا کی محبت کو مگر
تیرے آنے سے محبت کے مَیں معنی سمجھا
سجل کانپوری
ہم کو بتلاؤ نہ قسطوں میں یہ مرنا ورنا
اس کی خوشبو کا سہارا لیے شب کاٹی ہے
سجل کانپوری
🐓
سانس در سانس اک صدا ہے سجل
اس کے پہلو میں قید رہنا ہے
سجل کانپوری
ہم پہ قسمت مہربان نہیں
اس سے کوئی گلہ نہیں بنتا
بھول کرتے ہیں مخلصی کی سجل
جس کا کوئی صلہ نہیں ملتا
سجل کانپوری
جیون کی ٹھوکریں اسے چالاک کر گئی
اک شخص ہم مزاج تھا پر اب نہیں رہا
سجل کانپوری
دیکھ اے زندگی، تجھے ملنے
جو بھی آیا ہے زخم لایا ہے
سجل کانپوری
اَنٰا دونوں کی ایک جیسی ہے
کیا بتائیں کہ کون روٹھا ہے
سجل کانپوری
شب گزرتی ہے یہ سوچتے سوچتے
دن کو پھر درد سے جونجنا ہے مجھے
سجل کانپوری
تیری محفل میں خموشی کا یہ عالم کیوں ہے
لوگ چپ چاپ یہاں بیٹھ کے منہ تکتے ہیں
سجل کانپوری
دور کیجے یہ غلط فیمی آپ
ہم بدلتے نہیں اوروں کی طرح
سجل کانپوری
بھول جانے کی تو صورت ہی نہیں
دل میں تم آباد رہو گے تا حیات
سجل کانپوری
گرہ
کس قدر چاہتے ہیں چاہنے والے مجھ کو
"میں نے سوچا ہے کہ اس بار نہ بولوں پہلے"
سجل کانپوری
ہمارے پاس تو کوئی وجہ نہیں باقی
پر التفات سے تم دل میں آ بھی سکتے ہو
سجل کانپوری
محفل میں کیسا رنج خموشی ہے کس لیے
یکساں ہیں سب کے غم تو سجل کو بتائیے
سجل کانپوری
نعتیہ شعر
ـ
تسلیم جس کو کرتے ہیں سب صادق و امین
اک شخص کائنات میں اتنا عظیم ہے
ـ
سجل کانپوری
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain