تازہ ـ اپنے ہاتھوں بٹتا ہے سب کچھ دیکھو پھر بھی بچتا ہے سب کچھ ـ جیون کا فریب ہے پیارے اور اس میں جچتا ہے سب کچھ ـ ایسے دوست سے پناہ مانگ جس کے لیے پیسہ ہے سب کچھ ـ منزل سے کیا لینا دینا مرے لیے رستہ ہے سب کچھ ـ کہنے والے کہتے ہیں سجل پیار وار دھوکہ ہے سب کچھ سجل کانپوری
سانسیں ہیں جب تلک یہ وعدہ رہا بس ترا انتظار کرنا ہے ـ کہہ رہا ہوں مَیں سامنے آؤ مجھ پہ جس نے بھی وار کرنا ہے ـ اک بہت ہے سجل ہمارے لیے اب دوبارہ نہ پیار کرنا ہے ـ سجل کانپوری