فرق پڑتا ہی نہیں مرہم سے بھی
زخم بڑھتے ہی رہے ہیں دن بدن
ـ
یہ بھی کسی معجزے کے طرح ہے
اب تلک جیتے رہے ہیں تیرے بن
ـ
سجل کانپوری
ٹھیک ایسے ہی ہیں ہم دونوں سجل
جو تعلق پھول کا خوشبو سے ہے
سجل کانپوری
گرہ
دین قدرت کی کہوں یا کہوں احسان سجل
"آخری شخص مری پہلی محبت ہے تو"
سجل کانپوری
گرہ
دل بھی اداس ہے کوئی مرہم نہیں لگا
ڈھلنے لگی ہے رات کوئی گیت گائیے"" ـ""
سجل کانپوری
سکون دل تو میسر نہیں ہوا لیکن
یہی بہت ہے زمانے سے آشنا ہو گئے
سجل کانپوری
مرے دکھ درد سے کیوں واسطہ ہو
جہاں والوں کو اپنی فکر ہے بس
سجل کانپوری
گرہ
گزارنے میں لگے ہیں جو ہاتھ آئی ہے
"تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی"
سجل کانپوری