موت کے جیسے ہی قریب ہوئے
خواہشیں اتنی ہی بڑھی ہیں اور
سجل
کر ایک سمت تھے کانٹے بچھے ہوئے لیکن
سنبھل سنبھل کے گزاری ہے زندگی ہم نے
سجل کانپوری
دل دھڑکتا ہے زور زور سے اب
سانس کے ساتھ نام تیرا ہے
ـ ـ
سجل کانپوری
آورد
ـ
میرا معیار معلوم ہے تم کو
مجھ کو تحفہ بھی دو تو جدا دینا
ـ
سجل کانپوری
قطعہ
ـ ـ
منافق سے پچنا نصیحت مری ہے
یہی فائدہ ہے بھلائی اسی میں
کنارہ ہی بہتر ہے ایسوں سے اب تو
نبھانے کی ہمت نہ ہو جب کسی میں
ـ
سجل کانپوری
بے وفائی کا ذکر میں کس سے کروں
آشنا بن کے دھوکہ دیا ہے ہمیں
سجل کانپوری
وہ تعلق تو تبھی کا ختم ہے
آپ آئے ہیں یہاں اب کس لیے
ـ
سجل کانپوری
فی البدیہہ شعر
ـ
ہر ایک چال سمجھتے ہیں اس جہان کی ہم
ہمیں سے سیکھ کے ہم کو سکھایا مت کرو تم
ـ
سجل کانپوری
شعر ہوتے ہی چلے جاتے ہیں اکثر ایسے
جن میں امید کی کرنوں کا اثر ہوتا ہے
سجل کانپوری
بے سبب تو نہیں آئے ترے پاس ـ
سب کے سب اپنی طلب والے ہیں
ـ
سجل کانپوری
جب کوئی نامِ وفا لیتا ہے
درد آنکھوں میں سمٹ آتا ہے
زندگی یوں بھی گزر جائے گی
درد اوروں کے کوئی پیتا ہے?
مر رہے ہیں سبھی اندر اندر
کون تا عمر یہاں جیتا ہے
سجل کانپوری
بھول جاؤ تمھیں یہ بھی آساں نہیں
اور اب پاس آنے کا رستہ نہیں
کل جہاں بس تمھیں میں سمٹ آتا ہے
اس جہاں میں کوئی تم سا دیکھا نہیں
داد سسی کو دیتی ہے کل کائنات
ظلم اتنے تو محبوب سہتا نہیں
بعد تیرے رہا دل کا خالی، مکان
اب کوئی اور اس دل میں رہتا نہیں
ظلم ڈھاتا ہے جائے ہے دلبر، مگر
بھول جاوں گا، اس کو یہ کہتا نہیں
اب نجومی کرے تو کرے کیا سجل
اس کو پانے کی جب کوئی ریکھا نہیں
ـ
سجل کانپوری
پندرہ لفظوں کی کہانی (کاٹتا) ـ
پان میں موجود چونا بھی اتنا نہیں کاٹتا، جتنا کچھ لوگوں کا رویہ کاٹتا ہے
لیکھک ـ سجل کانپوری
دماغ محوِ عمل تھا نئے سراغ لے کر
پھر اس کے بعد کسی فیصلے پہ پہنچا ہے
ـ
سجل کانپوریم
ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں تمھارے لیے
یہ فیصلہ بھی تمھیں نے سنایا تھا اک بار
ـ
سجل کانپوری
لاکھ آسائشیں بھی ہیں لیکن
تو نہیں تو جہان خالی ہے
ـ
سجل کانپوری
چھوٹے بڑے خیال کا تو مسئلہ نہیں
بس لفظ شاعری کے معطر ضرور ہوں
سجل کانپوری
میرے دشمن سوچتے ہی رہ گئے
دوستوں کی دوستی لے ڈوبی ہے
سجل کانپوری
دو شعر
ـ
دیکھی ہے ہم نے رنگ بدلتی ہوئی حیات
پر اپنے آپ سے ابھی واقف نہیں ہوئے
ـ
اپنی تو سوچ ہے کہ نبھائیں سبھی سے ہم
لیکن ہمارے دوست ہی آگے نہیں ہوئے
ـ
سجل کانپوری
میں اس کو بھول نہ پایا نہ کوشیں کی ہیں
دل و دماغ میں اب تک وہ شخص باقی ہے
سجل کانپوری
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain