وہی آبلے ہیں وہی جلن، کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں جو لگا کے آگ گئے ہو تم، وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں تیری یاد ایسی ہے باوفا، پسِ مرگ بھی نہ ہوئی جدا تیری یاد میں ہم مٹ گئے، تیری یاد دل سے مٹی نہیں کسی اور کی یہ جبیں نہیں یہ میری جبینِ نیاز ہے کہ یہ جس کے در پہ بھی جُھک گئی تو پھر اسکے در سے اٹھی نہیں میری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں میں قفس میں بند ہوں باغباں، مجھے کیا غرض ہے بہار سے نہ چمن ہے میرا نہ آشیاں، تو خزاں بھی آئے تو غم نہیں وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلے مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں نہ فنا میری نہ بقا میری مجھے اے شکیل نہ ڈھونڈیے میں کسی کا حسنِ خیال ہوں میرا کچھ وجود و عدم نہیں
اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے عشق پھر ہم کو دوبارہ بھی تو ہو سکتا ہے آپ اندازہ لگاتے رہیں بس جگنو کا مری مٹھی میں ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ یہ جان لٹا دی جائے اس کی یادوں پہ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے دل کی بستی سے سر شام جو اٹھا ہے دھواں اچھے موسم کا اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے آپ کو ہم سے محبت بھی تو ہو سکتی ہے اور محبت میں خسارہ بھی تو سکتا ہے یہ جو پھیلا ہے فلک تک شب ہجراں کا غبار مری وحشت کا نظارہ بھی تو ہو سکتا ہے
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی Parween shakir