حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہے
باب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہے
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
اک حجاب تہہ اقرار ہے مانع ورنہ
گل کو معلوم ہے کیا دست صبا چاہتا ہے
ریت ہی ریت ہے اس دل میں مسافر میرے
اور یہ صحرا ترا نقش کف پا چاہتا ہے
یہی خاموشی کئی رنگ میں ظاہر ہوگی
اور کچھ روز کہ وہ شوخ کھلا چاہتا ہے
رات کو مان لیا دل نے مقدر لیکن
رات کے ہاتھ پہ اب کوئی دیا چاہتا ہے
تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی
اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے
Parween shakir
واسطہ نہیں رکھنا تو نظر کیوں رکھتے ہو؟🔥
کس حال میں ہوں زندہ، خبر کیوں رکھتے ہو
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا
دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا
جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیر بار ساغر و بادہ نہیں کیا
کار جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا
آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
Present Shakir
◀ Wasi Shah Poetry ♡
یہ الفت کی بارش، ملال کا موسم
ہمارے شہر میں اترا کمال کا موسم
وہ اک دعا میری، جو نامراد لوٹ آئی
زباں سے روٹھ گیا پھر سوال کا موسم
بہت دنوں سے میرے نیم وا دریچوں میں
ٹھہر گیا ہے زوال کا موسم
جو بے یقیں ہو بہاریں اجڑ بھی سکتی ہیں
یہ آ کے دیکھ لو میرے خمار کا موسم
محبتیں بھی سن کی دھوپ چھاؤں جیسی ہیں
کبھی یہ رنج ، کبھی یہ بازار کا موسم
کوئ ملا ہی نہیں جس کو سونپتے میرو
ہم اپنے خواب کی خوشبو، خیال کا موسم۔۔
کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا
زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا
زندگی سے کسی سمجھوتے کے با وصف اب تک
یاد آتا ہے کوئی مارنے مرنے والا
اس کو بھی ہم ترے کوچے میں گزار آئے ہیں
زندگی میں وہ جو لمحہ تھا سنورنے والا
شام ہونے کو ہے اور آنکھ میں اک خواب نہیں
کوئی اس گھر میں نہیں روشنی کرنے والا
دسترس میں ہیں عناصر کے ارادے کس کے
سو بکھر کے ہی رہا کوئی بکھرنے والا
اس کا انداز سخن سب سے جدا تھا شاید
بات لگتی ہوئی لہجہ وہ مکرنے والا
اسی امید پر ہر شام بجھائے ہیں چراغ
ایک تازہ ہے سر بام ابھرنے والا
پروین شاکر
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا
تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا
اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ
میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا
ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض
سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا
لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا
پروین شاکر
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
پروین شاکر
خیریت نہیں پوچهتا مگر خبر رکھتا ہے
میں نے سنا ہے وہ مجھ پر نظر رکھتا ہے
ہونے چاہئیں کچھ ایسے بھی لوگ زندگی میں
کہ جب ان سے کہا جائے... میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔تو جواب آئے...
یہ اداکاری بعد میں کرنا ابھی مسئلہ بتاؤ تاکہ میں کچھ مدد کر سکوں تمھاری...
جب کہا جائے کہ مجھے تو فرق ہی نہیں پڑتا
میں تو بہت بہادر ہوں... تو جواب آۓ۔۔۔ مجھے اچھی طرح علم ہے تمہاری
بہادری کا...
تب ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے....
جب میں کہوں کہ جائیے آپ کو کس نے کہا آنے کو... تو جواب آۓ تم جو بھی کہو سنتا کون ہے مجھے تو آنکھوں کو پڑھنا آتا ہے....
کوئی ہونا چاہیے ۔۔۔جو اداسی میں یاد آ کر اذیت کو مٹا سکے...
کوئی ہونا چاہیے۔۔۔۔ جس کو اپنی خامیاں بتاتے جھجک نا ہو...
کوئی ہونا چاہیے۔۔۔۔جس پر یقین ہو کے لڑکھڑانے پہ تھام لے گا...
کوئی روح کا ساتھی ہونا چاہیے.... کوئی تو ایسا ہونا چاہیے...❤
اگرآپکے پاس ہے تو اسے تھام کر رکھیں
"نور کیا ہوتا ہے؟ تم جانتے ہو؟''
''نور وہ ہوتا ہے, جو اندھیری سرنگ کے دوسرے سرے پہ نظر آتا ہے, گویا کسی پہاڑ سے گرتا پگھلے سونے کا چشمہ ہو۔''
''اور کیسے ملتا ہے نور؟''
''جو الله کی جتنی مانتا ہے, اسے اتنا ہی نور ملتا ہے۔ کسی کا نور پہاڑ جتنا ہوتا ہے, کسی کا درخت جتنا, کسی کا شعلے جتنا اور کسی کا پاؤں کے انگوٹھے جتنا۔
انگوٹھے جتنا نور جو جلتا بجھتا , بجھتا جلتا ہے۔ یہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو کچھ دن بہت دل لگا کر نیک عمل کرتے ہیں اور پھر کچھ دن سب چھوڑ چھاڑ کر ڈپریشن میں گھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔''
''اور انسان کیا کرے کہ اسے آسمانوں اور زمین جتنا نور مل جائے؟''
''وہ الله کو نہ کہنا چھوڑ دے ۔اسے اتنا نور ملے گا کہ اس کی ساری دنیا روشن ہو جائے گی۔ اور دل کو مارے بغیر نور نہیں ملا کرتا۔''
(جنت کے پتے از قلم نمرہ احمد)
لے فیر یار حوالے رب دے میلے چار دناں دے
اوس دِن عید مبارک ہو سی جس دِن فیر مِلاں گے
، ہر خرابی کی جڑ یہی ایک پہلی نظر ہو تو ہے نئے زمانے کے نئے لوگ لاکھ انکار کریں لاکھ مذاق اڑائیں مگر سچ یہی ہے کہ محبت اور نظر کا چولی دامن کا ساتھ ہے پھر چاہے یہ نظر کبھی بھی اور کسی بھی طور ہماری زندگیوں میں وارد ہو جائے
ہاشم ندیم کے ناول
پری زاد سے اقتباس
دنیا کتنی ترقی کر گئی ہے چاند ستاروں پر کمند ڈالنے کی ضرورت نہیں رہی کیوں کہ وہاں انسان کے قدم پہنچ چُکے ہیں_ صدیوں کے فاصلے لمحوں میں طے ہونے لگے ہیں ہر کسی کو ہر لمحہ ہر رابطہ میسر ہے مشین ہماری زندگی پر حاوی ہو چُکی ہے محبت کی روایتی داستانوں کو لوگ گزرے زمانوں کا قصہ کہتے ہیں ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی ماہیوال، شیریں فرہاد الف لیلٰی کی کہانیاں لگتی ہیں محبت ڈیجیٹل ہونے لگی ہے انسان عروج کی کتنی منزلیں طے کر چُکا ہے ، مگر پہلی نظر !!!!! آج بھی اپنے اندر وہی زمانے بھر کے عجائبات چُھپائے بیٹھی ہے کوئی سائنس دان آج تک اس پہلی نظر کے ڈنک کا علاج نہیں ڈھونڈپایا کوئی تریاق دریافت نہیں ہوا نظر کے اس زہر کا آج تک، ہر خرابی کی جڑ یہی ایک پہلی نظر ہو تو ہے نئے زمانے کے نئے لوگ لاکھ انکار کریں لاکھ مذاق اڑائیں مگر سچ یہی ہے کہ محبت اور نظر کا چول
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain