اور اوپر جا کے یہ بات بھی میں اپنے رب کو بتاؤں گی
کہ تیرے ہوتے ہوئے ہر انسان نے مجھ پہ خدائی کی
ہم جیسےدکھتے ہیں .......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں..........ہمارے اندرتو
کھائیںاں ،اضطراب اور بے چینیاں ہوتیں ہیں ۔
ہم جیسےدکھتے ہیں ......ویسے تھوڑی ہوتے ہیں ..........ہمارے اندرتو
دکھ ،چیخیں اور سوچیں ہوتیں ہیں
یاد تو آتے ہو ہر روز ،،،،، مگر تجھے آواز نہیں دیں گے
لکھیں گے تیرے لیئے ہر شعر مگر تیرا نام نہیں لیں گے
یوں تو بہت رشتے ہوتے ہیں دنیاں میں
پر بھائی بہنوں کی جان ہوتے ہیں
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا
اک تیرا ہی پیار سچا ہے ماں
' لوگوں کی تو شرطیں ہی بہت ہیں
زخم دیتے ہو، کہتے سیتے رہو
جان لے کر،کہو گے کہ جیتے رہو
اگر ذلیل ہونے کا شوق ہے تو اک طرفہ محبت کرلیں
اور اگر مزید ذلیل ہونے کا شوق ہے تو اظہار بھی کر ڈالیں
ہم جیسے لوگ ہی ذہنی مریض ہوتے ہیں
جو مانتے ہیں بڑا آسرا محبت کو
مجھے تو اپنی رفاقت بھی زہر لگتی ہے
میں اپنا ساتھ بھی اک روز چھوڑ جاؤں گی
پتہ نہیں وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جن کا نروس بریک ڈاؤن ہو جاتا ہے جن کی دماغ کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں ہمارے ساتھ تو یہ بھی نہیں ہوتا اذیت کی آخری حد پر بھی زندہ رہتے ہیں ہم جیسے لوگ
جو مر چکے ہیں تمہیں ان کی خبر ہے لیکن
جو مر رہے ہیی تمہیں ان کا کوئی ملال نہیں
میں تھک چکی سب رشتوں سے
مجھے بے وفا کا خطاب دے دیا جائے
ضرورت ہے مجھے نئے نفرت کرنے والوں کی
پرانے والے تو اب چاہنے لگے ہیں مجھے
مجھے نفرت پسند ہے
لیکن دکھاوے کا پیار نہیں
ہماری آنکھوں میں خواب
بچپن سے مر رہے ہیں
تیــــــری محبت سے لــــــے کر تیــــــرے الوداع کہنــــــے تک،،
ہم نے صــــــرف تجهــــــے چاہا؛ تجهہ سے کچهہ نہــــــیں چاہا
ملیحہ #
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain