زندگی سکھا رہی ہے آہستہ آہستہ
لوگ نیند کی گولیاں کیوں لیتے ہیں
یہ صحرا زندگی کا ھے یہاں سائے نہیں ملتے،
بلا کی دھوپ ھے یادوں کی چھتری تان کر جائیں
سچی محبّت میں پہلا کدم
ایک دوسرے پر بھروسے کا ہوتا ہے
بھروسہ وہ دیوار ہے جسے ایک بار توڑ دیا جائے
توہ پھر دوبارہ نہیں بن سکتی
ضروری نہیں کے ہر رشتہ لڑائی سے ختم ہو، کچھ رشتے کسی کی خوشی کے لئے بھی چھوڑنے پڑتے ہے
اگر آپ کامیاب ہو گئے تو آپ جھوٹے دوست اور سچے دشمن جیت جائیں گے۔بہرحال کامیاب رہیں۔
خوشی کا راز آزادی ہے اور آزادی کا راز ہمت ہے۔
آپ اپنی زندگی سے بھلے خوش نہ ہوں پر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ جیسی زندگی جینے کے لیے ترستے ہیں
کبھی ماں باپ یاد آئیں تو بہن، بھائی مل کر بیٹھا کرو کسی کے چہرے پر ماں مسکراتی نظر آئیگی کسی کے لہجے میں باپ
ہنستے رہو گے تو دُنیا ساتھ رہے گی ورنہ، آنسووں کو تو آنکھ بھی جگہ نہیں دیتی
دل میں خوشی ہو تو چھلک جاتی ہے، مسکراہٹیں وجہ کی محتاج نہیں ہوتی
کیا ملے گا دِل میں نفرت رکھ کے، تھوڑی سی زندگی ہے ہنس کے گزاردے
رکاوٹوں کو توڑ کے خوف پیچھے چھوڑ کے
جو آگ سے گزر سکوں تو کیا ہے جو نہ کر سکوں
وقت نے ستایا دل نے رولایا لیکن میں پریشان نہیں ہوں
حالاتوں سے ڈر جاؤ میں وہ انسان نہیں ہوں
ڈوبنا پڑتا ہے اٌبھرنے سے پہلے
غروب ہونے کا مطلب زوال نہیں ہوتا
جن میں تنہا چلنے کے حوصلے ہوتے ہیں
ایک دِن اُن ہی کے پیچھے قافلے ہوتے ہیں
لہروں سے ڈر کر نوکا پار نہیں ہوتی
کوشش کرنے والوں کی ہار نہیں ہوتی
زندگی میں اُنہی کے امتحاں بھی سخت ہوتے ہیں
مقدر جن کے اونچے اور اعلی بخت ہوتے ہیں
مٹا دے اپنی ہستی کو ، اگر کُچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مِل کر گُلِ گُلزار ہوتا ہے
کھول آنکھ ، زمیں دیکھ،فلک دیکھ، فِضا دیکھ
مشرق سے نِکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain