دادا سائیں کے گھورنے پر مقدم حویلی کے اندر گھس گیا کیونکہ فیصلے کے بعد حویلی کی ساری عورتیں اندر کی طرف جا رہی تھی
اور مقدم سائیں کا فیصلہ یہ تھا کہ ان نو مہینوں کے دوران حوریہ کسی اور کے پاس نہیں بیٹھے گی بلکہ 24گھنٹے مقدم کی نظروں کے سامنے رہے گی تا کہ اس کا بچہ مقدم جیسا پیدا ہو ۔
❤ ۔
یہ کتنی پیاری ہے ۔۔۔دھڑکن اپنے ہاتھوں میں گول مٹول سی بچی اٹھائے ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی
ارے میری بچی ہے پیاری کیسے نہیں ہوگی جیند نے اس کے ہاتھوں میں اپنی چند گھنٹے کی بچی کو دیکھتے ہوئے کہا
لیکن جنید بھائی آپ تو اتنے پیارے نہیں ہیں یہ تو میری تائشہ دیدہ پر گئی ہے دھڑکن نے فوراً ہی اس سے پیارے ہونے کا سیٹفیکٹ لے کر تائشہ کو تھما دیا
جس پر تائشہ نے مسکراتے ہوئے نظر اٹھا کر دھڑکن کی گود میں اپنی معصوم بچی دیکھی
مقدم سائیں آپ وہیں چلے جائیے گا لیکن تھوڑا سا غور کریں اور یہ ہمارے گاؤں کا فیصلہ ہے دادا سائیں نے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
دادا سائیں آپ فیصلہ کریں میں سن رہا ہوں مقدم نے مسکراتے ہوئے کہا جب کہ دھیان اب بھی دروازے پر کھڑی حوریہ کی طرف تھا
دادا سائیں نےیہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ صرف اس گدی پر آپنے دونوں پوتوں کو بٹھائیں گے ایک لمحے میں ہی اپنا فیصلہ بدل کر اپنا اجرک اتارتے ہوئے کردم کے کندھوں پر پھیلایا
آج سے اس گاؤں کے سرپنچ آپ ہیں کردم سائیں اور یہ گاؤں صرف ایک گاؤں ہی نہیں بلکہ آپ کا گھر ہے داداسائیں نے مسکرا کر اسے اپنے سینے سے لگایا
مبارک ہوکردم سائیں ۔مقدم نے اسے گلے لگایا
داداسائیں میں زرا حوریہ کو دیکھ کے آتا ہوں میرے خیال میں اس نے میڈیسن نہیں لی ۔
کردم اور مقدم نے اس گاوں کی ذمہ داریوں کو خوب سنبھالا ہے اسی لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم اس گاؤں کا اگلا سرپنچ چنیں گے دادا سائیں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا
دادا سائیں نے ایک نظر کردم کو دیکھا جو انہیں کی بات کی طرف متوجہ تھا لیکن مقدم کو دیکھتے ہوئے ان کا دل چاہا کہ ایک زور دار تھپڑ اس کے سر پر لگا دیں کیونکہ اس کا دھیان ان کی بات پر تھا ہی نہیں بلکہ وہ تو حویلی کے دروازے کے قریب حوریہ کو دیکھے جا رہا تھا
اس کا وقت مکمل ہو چکا تھا اب کبھی بھی ان کی زندگی میں ایک ننھا مہمان شامل ہو سکتا تھا اسی لئے مقدم کا سارا دھیان آج کل صرف اور صرف اپنی حوریہ پر تھا اس کو کیا کھانا ہے کیا پینا ہے کب اٹھنا ہے کیا کرنا ہے سب کا فیصلہ مقدم کرتا تھا ۔
اور حوریہ اس کی محبت میں ہر دن کے ساتھ کھلتی چلی جا رہی تھی
بس کریں اماں سائیں یہ کہہ رہی ہیں آپ نہیں ہوں میں آپ سے ناراض آپ کیوں مجھ سے معافی مانگ رہی ہیں آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا میرے لیے یہی بہت ہے تائشہ نے تڑپ کر ان کے گھٹنوں پر اپنے ہاتھ رکھے ۔
اور پھر بلک بلک کر روتی انہیں گھٹنوں پر اپنا سر رکھ گئی۔
اماں سائیں نے روتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
اگر آپ دونوں کا یہ ایموشنل سین ختم ہوگیا ہو تو پلیز چائے پر غور کریں بڑی محنت سے بنائی ہے میں نے جنید ابھی ٹرے میں چائے رکھ کر لایا تھا انہیں اس طرح ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے ہوئے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ۔
جبکہ اس کی بات پر وہ دونوں مسکرائیں اور تائشہ نے اس کے ہاتھ سےٹرے تھام کر ایک کپ اماں سائیں کو پیش کیا ۔
❤
دادا سائیں کی ایک سائیڈ پر مقدم اور دوسری سائیڈ پر کردم کھڑا تھا ۔
شاید تم کبھی مجھے معاف نہ کر سکو
لیکن پھر بھی اس امید سے تمہارے در پہ آئی ہوں کہ تم مجھے معاف کر دو گی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی ۔
تم سچ کہتی تھی تائشہ برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے دیکھو اس برائی کا انجام میں کس طرح سے تنہا رہ گئی کوئی بھی تو نہیں ہے میرے ساتھ اس دولت کو حاصل کرنے کے لئے میں نے کیا کچھ نہ کیا یہاں تک کہ اپنی ہی بیٹی پر دن رات ستم ڈھاتی رہی لیکن میرے ہاتھ کیا آیا کچھ بھی نہیں بلکہ میں تو اپنے ہی بچوں سے محروم ہو کر رہ گئی حیدر کہتا ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گی تو وہ بھی مجھے معاف کر دے گا ۔
لیکن اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تھا یہ تو میں حویلی واپس نہیں جاؤں گی کیوں کہ جس عزت اور احترام سے وہ لوگ مجھے پکارتے ہیں میں اس کے قابل نہیں ہوں اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں یہی کسی کنوے میں کود کر اپنی جان ۔۔۔۔۔۔
لیکن اس کے باوجود بھی وہ اتنا نہ گرسکا کہ اسے معاف نہ کیا جائے حویلی کے سب مکینوں نے اسے دل سے معاف کر دیا تھا
اور اب حیدر کچھ ہی دنوں میں نور کا علاج کروانے اسے لے کر لندن جا رہا تھا ۔کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ نور بہت جلدی ٹھیک ہو سکتی ہے ۔اور اب سچ تو یہ تھا کہ ہمدردی میں جوڑا گیا یہ رشتہ حیدر کے دل کی دھڑکن بن چکا تھا اور اب وہ ہر ممکن طریقے سے اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا ۔
رضوانہ حیدر کے گھر سے نکل کر تائشہ کے پاس آئی تھی ان کی ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھ کر جنید نے انہیں گھر کے اندر بلایا لیکن تائشہ منہ موڑ گئی
آپ دونوں باتیں کریں میں یہی باہر ہوں جنید ان دونوں کو کھلا چھوڑ کر خود کمرے سے باہر نکل گیا
اپنی ماں کو دیکھوگی بھی نہیں تائشہ میں جانتی ہوں میں نے زندگی میں بہت غلطیاں کی ہیں اور میری غلطی اتنی بڑی ہے
شاہ سائیں نے یہ بھی کہا کہ ان کے جیسی عورت کو اپنی بیٹی کہتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے فیضان جیسے انسان کے ہاتھ میں رضوانہ کا ہاتھ دے کر شاہ سائیں نے اس پر بھی ظلم کیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی فیضان نے اس رشتے کو خوب نبھایا شاید یہ اس کے اچھی تربیت اور حوصلہ تھا جو رضوانہ کے ساتھ بنا کر رکھ سکے اور اس کے ساتھ نباہ کر سکے سچ تو یہ تھا کہ رضوانہ ان کے قابل ہی نہ تھی
شاہ سائیں کے الفاظ نے رضوانہ کو اندر اور باہر سے توڑ کر رکھ دیا تائشہ اب حویلی آتی تھی دادا سائیں نے خود اس کے لیے اس کے حویلی کے دروازے کھول دیے تھے لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ رضوانہ کو دیکھتی تک نہ تھی۔
اور یہی بات رضوانہ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی ان کی دونوں اولادیں ان سے نفرت کرتی تھی حیدر نے جو کچھ بھی کیا وہ اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے کیا
میں تم سے معافی مانگنے آئیں ہوں رضوانہ نے اس کا راستہ روکنا چاہا
آپ پہلے تائشہ سے معافی مانگیں ایک سگی ماں ہو کر آپ نے کیسے اس پر دن رات ظلم۔ کیا آپ کے ہاتھ نہیں کانپے کلیجہ نہیں کانپا اپنی اولاد کو زخم دیتے ہوئے ۔
جائیں معافی مانگییں تائشہ سے اگر اس نے معاف کر دیا تو میں بھی آپ کو معاف کر دوں گا
اس بار حیدر نے بنا مڑے اپنا راستہ بنایا اور رضوانہ اس کے غائب ہونے تک اس کی پشت دیکھتی رہیں ۔
سویرا کی موت کے بعد سب کچھ بدل چکا تھا
سویرا کی موت کے کچھ دن کے بعد جب رضوانہ نے تائشہ سے ملنے کی کوشش کی دادا سائیں نے انہیں بہت باتیں سنائیں
جن میں انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ ان کے گھٹیا ارادوں سے ہمیشہ سے واقف تھے اورتائشہ کو ان سے دور کسی محفوظ جگہ پر بھیجنا چاہتے تھے
اور اب وہ بہت خوش ہیں کہ تائشہ ان کی پہنچ سے دور ہے
جبکہ اس کے انداز نے دھڑکن کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا
❤
آپ پھر یہاں آ گئیں میں کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ میں آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا آپ کو ایک بار میری بات سمجھ میں نہیں آتی کیا انہیں اپنے گھر کے داخلی دروازے پر دیکھ کر حیدر کو ایک بار پھر سے غصہ آیا
حیدر میں تو صرف تمہیں دیکھنے آئی تھی بیٹا تمہاری طبیعت کیسی ہے رضوانہ شرم سے نظریں جھکا کر بولیں
خدا کا شکر ہے بالکل ٹھیک ہوں میں اور اگر آپ نہیں ۔بھی پوچھیں گیں تب بھی ٹھیک ہی رہوں گا میں ۔
بچپن میں بیمار ہوا کرتا تھا یا چوٹ لگا کرتی تھی تب کبھی پوچھنے نہیں آئیں جب مجھے آپ کی ضرورت ہے اماں سائیں تب نہیں تو اب کیوں اب میں اپنے آپ کو خود سنبھال سکتا ہوں ۔
اسی لیے بہتر ہوگا کہ روز یہاں نہ آیا کریں آپ کو ذلیل کرنا مجھے بھی اچھا نہیں لگتا وہ اندر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا
آپ مجھ سے خفا نہیں ہیں وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے میری جان وہ مسکرا کر بولا
یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ میں نے آپ کی ذات پر انگلی اٹھائی آپ کے کردار کو گندا کرنے کی کوشش کی وہ بالکل سیریس انداز میں پوچھ رہی تھی
نہیں دھڑکن اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے مجھے اس طرح سے کسی کی مدد کرنے سے پہلے تم سے ڈسکس کرنا چاہیے تھا جس طرح سے باقی سارے مسئلے تم سے شیئر کرتا ہوں ۔
میں نے تمہیں اس بارے میں نہیں بتایا غلطی میری تھی اگر میں چاہتا تو اسے نور ملی ہینڈل کر سکتا تھا مجھے تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا ۔اور اچھا ہی ہوا نہ اس سب سے مجھے پتہ چل گیا کہ فیوچر میں ایسی کوئی غلطی کرنے کی کنڈیشن میں نہیں ہوں ۔
ورنہ میری پٹاکا سائیں مجھے بم سے اڑا دے گی کردم نے شرارت سے کہتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔
بہت دن تک احمد شاہ سے ناراض رہی وہ کیسے اپنی ہی بیٹی کی موت پر واپس نہیں آ سکتے تھے کیا ان کو بزنس اپنی بیٹیوں سے زیادہ عزیز تھا ۔
فون پر ہوئی لڑائی کے بعد کردم کو مجبوراً اسے احمد چاچو سائیں کی بیماری کے بارے میں بتانا پڑا
جو جاننے کے بعد دھڑکن کو ایک اور صدمہ لگادھڑکن نجانے کتنے دن بیمار رہی اور کردم ہر ممکن طریقے سے اس کا خیال رکھتا رہا
آج سویرا کو گزر ایک مہینہ ہو چکا تھا ۔
سکول بننے کے بعد فصلوں کا کم کام بھی بہت اچھا چل رہا تھا جس کے بعد گاؤں والوں نے کردم سے معافی مانگ کر اسے واپس حویلی بیچ دیا کیونکہ کردم کی ضرورت صرف گاوں والوں کو ہی نہیں بلکہ حویلی والوں کوبھی تھی
❤
وہ کمرے میں داخل ہوا تو دھڑکن کیٹی کو گود میں بٹھائے آئینے کو گھور رہی تھی
دھڑکن تم نے کھانا کھایا وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کے قریب آ بیٹھا
حویلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا خاندان کی سب سے بڑی بیٹی اچانک دنیا سے رخصت ہو گئی
کردم کو جب پتہ چلا کہ دھڑکن واپس گھر جا چکی ہے تو وہ واپس گھر آیا اور اسے واپس حویلی لایا
بہت چاہنے کے باوجود بھی شاہ سائیں دھڑکن کو یہ نہیں بتا پائے تھے کہ اس کی بہن کیا کرنے جا رہی تھی انہوں نے یہ بات احمد شاہ بتائی تھی تو انہوں نے یہی کہا کہ دھڑکن کو بس اتنا ہی بتایا جائے کہ سویرا اس دنیا میں نہیں رہی اس کی موت کی وجہ سیڑھیوں سے گرنا ہے وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس کی بہن ساری زندگی اس سے نفرت کرے
دھڑکن کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور اس میں کردم نے اس کا بھرپور ساتھ دیا
وہ جانتا تھا یہ وقت اس کے لیے کتنا مشکل ہے چاہے سویرا کی نظروں میں دھڑکن کی کوئی اوقات ہو نہ ہو لیکن وہ دھڑکن کی بہن تھی اور دھڑکن اسے بےتحاشا چاہتی تھی
ملک نے آنکھوں میں آنسو لیے حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبایا
حوریہ جو کب سے صبر کئے بیٹھی تھی اس شخص کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
آپ کو کچھ نہیں ہوگا بابا سائیں کوئی ڈاکٹر کو بلاؤ ان کو ہسپتال لے کر چلو ان کی طبیعت خراب ہے میرے بابا کو بچاؤ کوئی حوریہ چلاتے ہوئے کبھی مقدم تو کبھی کردم کو پکار رہی تھی ۔
جبکہ ملک کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل بند ہو چکا تھا حوریہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی شاید آخری خواہش پوری ہوجانے کی مسکراہٹ ۔
اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر سے بلک بلک کر رونے لگی ۔مقدم نے اسے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔اور اس سے دلاسا دینے لگا جیند بنا سوچے سمجھے کردم کے سینے سے لگ گیا ۔یہ وقت تو اس کے لئے بھی بہت بُرا تھا اور جنید اس بات اچھے سے سمجھ سکتا تھا ۔
❤
مرنے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔اپنے کئے ہوئے گناہ۔۔۔۔۔۔ کی بھرپائی ۔۔۔۔۔۔۔تو نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔۔لیکن تم لوگوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔ معافی تو مانگ سکتا ہوں بس۔ ۔۔۔۔۔ایک چھوٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔سی خواہش۔۔۔۔۔ ہے جب پچھلے ۔۔۔۔۔۔۔۔19 سال سے اپنے ۔۔۔۔۔۔دل میں رکھے ۔۔۔۔۔شاہ سائیں۔ ۔۔۔۔ کی حویلی۔۔۔۔ در پر ناک رگڑتا رہا۔ ۔۔۔ہوں کہ میری بیٹی مجھے۔۔۔۔۔۔ بابا کہہ کر پکارے ۔
ایک بار حوریہ۔ ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں میرے گناہ اتنے بڑے ہیں کہ مجھے۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کی راحت ۔۔۔۔۔۔۔کبھی نصیب نہ ہو لیکن میری۔۔۔۔۔۔ خواہش ہے خواہش ۔۔۔۔۔۔سمجھ کے پوری کر دو تم مت ۔۔۔۔۔سوچو کہ۔۔۔۔۔۔ میں تمہارا باپ ۔۔۔نہیں۔۔۔ہوں مجھ جیسا گھٹیا ۔۔۔۔۔۔شخص تمہارا باپ۔۔۔۔۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا بس ایک۔۔۔۔۔۔ مرتے ہوئے انسان۔۔۔۔۔۔۔ کی آخری خواہش ۔۔۔۔۔پوری کر دو ۔۔۔۔۔۔مجھے ایک۔۔۔۔۔ بار بابا کہہ ۔۔۔۔کر پکارو
نہیں ۔۔۔۔۔انسپکٹر ۔۔میرے پاس ۔۔ ۔۔۔۔زیادہ وقت ۔۔۔۔نہیں ہے اور نہ ۔۔۔۔ہی اب جینے کی خواہش۔۔۔۔۔۔ ہے
ملک حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے بولا
اس کے خون سے لت پت لاش دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی حوریہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے
حوریہ بیٹا میں۔۔۔۔۔۔ تمہارا ۔۔۔گنہگار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے بہت گناہ کیے۔۔۔۔ ہیں بہت۔۔۔۔ برا سلوک کیا ۔۔۔۔ہے تمہارے ۔۔۔۔۔خاندان کے۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ساتھ کردم ۔۔۔مقدم ۔۔۔۔اوو۔ ۔۔اور۔ ۔۔۔حیدر کو یتیم کر دیا۔ ۔ ۔۔۔۔۔ اور بدلے میں مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ملا مجھ سے میری ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹی ہی دور ہوگی
ساری زندگی۔۔۔۔۔ اس کے منہ سے ۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔۔سننے کو ترستا رہا ۔۔۔۔اس کا معصوم سا چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھنے کو تڑپتا رہا جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میری زندگی یہی تک تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور انہیں وہاں سے چلنے کا اشارہ کیا۔
اس سے پہلے کہ وہ کار خانے سے باہر نکلتے اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی حوریہ نے مڑ کر دیکھا تو سویرا اسی جگہ کھڑی تھی ہاتھوں میں ریوالور پکڑے ہوئے تھی اس بار اس کا نشانہ مقدم تھا
جو میرا نہیں ہو سکتا اسے میں تمہارا بھی نہیں ہونے دوں گی اس نے کہتے ہوئے مقدم پر ایک کے بعد ایک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔
لیکن اس سے پہلے کہ گولیاں مقدم کو لگتی ملک نے وہی گولیاں اپنے سینے پر کھا لیں ۔
اور اس کے ساتھ ہی انسپیکٹر کی گولی نے سویرا کا سینہ چیر دیا ۔
کیونکہ انسپیکٹر کے چلانے کے باوجود بھی سویرا نے فائرنگ بند نہیں کی تھی ۔اس کی وجہ سے انسپیکٹر کو مجبور ہوکراس پر گولی چلانی پڑی۔
ایمبولینس کو کال کرو پولیس انسپکٹر نے ملک کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
پولیس آفیسر نے ہتھکڑی حیدر کے سامنے لہراتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کہ وہ حیدر کو ہتھکڑی پہناتے حوریہ بول اٹھی
انسپیکٹر حیدر بھائی نے مجھے اغوا نہیں کیا اور ملک صاحب پر بھی حملہ انہوں نے نہیں کروایا تھا
یہ سب کچھ سویرا کا کیا دھرا ہے اور یہ زمین پڑی سویرا کو دیکھتے ہوئے بولی
ان پر گولی کس نے چلائی ہے پولیس آفیسر سویرا کے قریب جا کر پوچھنے لگا ۔
یہ میری بیٹی کو مارنے والی تھی اگر میں اسے نہیں مارتا تو میری بیٹی کو جان سے مار دے دیتی یہ ایک پاگل عورت ہے میں نے اپنی بیٹی کو بچانے کے لئے اس پر حملہ کردیا ملک انسپکٹر کو دیکھتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے ملک صاحب یہ قتل آپ نے سلف ڈیفنس میں کیا ہے لیکن گناہ تو گناہ ہے اور گناہ کی سزا ضرور ملتی ہے ہمیں آپ کو گرفتار کرنا ہوگا ۔انسپکٹر پروفیشنل انداز میں کہتا ہوا اسے ہھتکری پہنانے لگا
ایک دردناک چیخ کے ساتھ کارخانے میں سناٹا چھا گیا سویرا دور زمین پر جا گری
گولی اس کی کمر پر لگی تھی وہ الٹی زمین پر پڑی تھی لیکن کھلی آنکھوں سے حوریہ کو مقدم کے سینے سے لگا دیکھ رہی تھی
زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ سویرہ نے کسی شخص کو چاہا ہو اور وہ اس کا نہ ہوا ہو سکول میں کالج میں یونیورسٹی میں کلب میں پارٹیز میں آؤٹنگ ایریاز میں آج تک اس نے جس شخص کو اپنے لئے پسند کیا تھا وہ خود ہی اس کے حسن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہوا اس کے قریب آ گیا ۔لیکن مقدم نہیں اسے خود پر ترس آ رہا تھا حوریہ کو مقدم کے سینے سے لگا دیکھ کر ۔آہستہ آہستہ سویرا کی آنکھیں بند ہونے لگی ۔
اس کے ساتھ ہی کارخانے میں پولیس داخل ہوئی
ملک پر چار بار جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش میں اور مسز مقدم کو اغوا کرنے کی کوشش میں پولیس آپ کو گرفتار کرتی ہے ۔
بے وقوف آدمی تم پر یقین کر کے میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔سویرا غصے سے کہتی ایک بار پھر سے ریوالور اٹھنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی جنید نے پیرسے کک مارتے ہوئے ریوالور کو دور پھینکا
سائیں میں نے پولیس کو انفارم کردیا ہے وہ کبھی بھی یہاں پہنچتی ہوگی جیند نے آگے بڑھ کر زمین سے ریوالور اٹھایا۔
جبکہ مقدم سیدھا حوریہ کی طرف بھاگا تھا
اور حوریہ کو اپنے سینے سے لگائے اس کے ہاتھ پیر ٹٹوالنے لگا
میں ٹھیک ہوں مقدم سائیں وہ اسے دیکھتے ہوئے یقین دلاتے انداز میں بولی ۔
جب مقدم نے اسے خود میں بھیج لیا ۔
جبکہ ان دونوں کا ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر سویرا کی آنکھوں میں مرچیں بھرنے لگے ۔
اس نے جنید کو دھکا دیتے ہوئے پستول اس سے چھیننے کی کوشش کی ۔
اور تب ہی ملک نے حیدر کی پستول اٹھائی اور بناسوچے سمجھے سویرا پرگولی چلا دی ۔
ہم دونوں پکڑے جائیں گے اس سے پہلے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لے لو مار دواس کو ان کی باتیں سنتے ہوئے سویرا چلائی تھی
مار دیں مجھے حیدر بھائی لیکن ایک بات اچھی طرح سے سوچ لیں ۔روز قیامت اپنے باباسائیں سے نظریں کیسے ملائیں گے آپ۔۔۔۔ چلیں میں آپ کی نظروں میں گناہ گار ہی سہی لیکن میرا بچہ جو ابھی تک اس دنیا میں ہی نہیں آیا اس کے قتل کا بوجھ کیسے اٹھائیں گے آپ ۔حوریہ اسے دیکھ کر احساس دلاتے ہوئے بولی اور اس کی باتیں سن کر حیدر کے ہاتھ ایک بار پھر سے کانپ اٹھے
میں نہیں مار سکتا اسے یہ ماں بننے والی ہے میں اتنا بڑا گناہ نہیں کر سکتا حیدر نے اپنے ہاتھ سے پستول دور پھینک دیا
جب کہ حیدر کو اس طرح سے دیکھ کر حوریہ کو اس پر ترس سا آنے لگا تھا یہ بھی اس کے باپ کا ڈسا تھا ۔
حیدر نے ایک نظرحوریہ کو دیکھا اور پھر پلیر سے بندھے ہوئے اس کے ہاتھ کھولنے لگا ۔
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain