Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

دادا سائیں کے گھورنے پر مقدم حویلی کے اندر گھس گیا کیونکہ فیصلے کے بعد حویلی کی ساری عورتیں اندر کی طرف جا رہی تھی
اور مقدم سائیں کا فیصلہ یہ تھا کہ ان نو مہینوں کے دوران حوریہ کسی اور کے پاس نہیں بیٹھے گی بلکہ 24گھنٹے مقدم کی نظروں کے سامنے رہے گی تا کہ اس کا بچہ مقدم جیسا پیدا ہو ۔
❤ ۔
یہ کتنی پیاری ہے ۔۔۔دھڑکن اپنے ہاتھوں میں گول مٹول سی بچی اٹھائے ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی
ارے میری بچی ہے پیاری کیسے نہیں ہوگی جیند نے اس کے ہاتھوں میں اپنی چند گھنٹے کی بچی کو دیکھتے ہوئے کہا
لیکن جنید بھائی آپ تو اتنے پیارے نہیں ہیں یہ تو میری تائشہ دیدہ پر گئی ہے دھڑکن نے فوراً ہی اس سے پیارے ہونے کا سیٹفیکٹ لے کر تائشہ کو تھما دیا
جس پر تائشہ نے مسکراتے ہوئے نظر اٹھا کر دھڑکن کی گود میں اپنی معصوم بچی دیکھی

Mirh@_Ch
 

مقدم سائیں آپ وہیں چلے جائیے گا لیکن تھوڑا سا غور کریں اور یہ ہمارے گاؤں کا فیصلہ ہے دادا سائیں نے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
دادا سائیں آپ فیصلہ کریں میں سن رہا ہوں مقدم نے مسکراتے ہوئے کہا جب کہ دھیان اب بھی دروازے پر کھڑی حوریہ کی طرف تھا
دادا سائیں نےیہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ صرف اس گدی پر آپنے دونوں پوتوں کو بٹھائیں گے ایک لمحے میں ہی اپنا فیصلہ بدل کر اپنا اجرک اتارتے ہوئے کردم کے کندھوں پر پھیلایا
آج سے اس گاؤں کے سرپنچ آپ ہیں کردم سائیں اور یہ گاؤں صرف ایک گاؤں ہی نہیں بلکہ آپ کا گھر ہے داداسائیں نے مسکرا کر اسے اپنے سینے سے لگایا
مبارک ہوکردم سائیں ۔مقدم نے اسے گلے لگایا
داداسائیں میں زرا حوریہ کو دیکھ کے آتا ہوں میرے خیال میں اس نے میڈیسن نہیں لی ۔

Mirh@_Ch
 

کردم اور مقدم نے اس گاوں کی ذمہ داریوں کو خوب سنبھالا ہے اسی لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم اس گاؤں کا اگلا سرپنچ چنیں گے دادا سائیں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا
دادا سائیں نے ایک نظر کردم کو دیکھا جو انہیں کی بات کی طرف متوجہ تھا لیکن مقدم کو دیکھتے ہوئے ان کا دل چاہا کہ ایک زور دار تھپڑ اس کے سر پر لگا دیں کیونکہ اس کا دھیان ان کی بات پر تھا ہی نہیں بلکہ وہ تو حویلی کے دروازے کے قریب حوریہ کو دیکھے جا رہا تھا
اس کا وقت مکمل ہو چکا تھا اب کبھی بھی ان کی زندگی میں ایک ننھا مہمان شامل ہو سکتا تھا اسی لئے مقدم کا سارا دھیان آج کل صرف اور صرف اپنی حوریہ پر تھا اس کو کیا کھانا ہے کیا پینا ہے کب اٹھنا ہے کیا کرنا ہے سب کا فیصلہ مقدم کرتا تھا ۔
اور حوریہ اس کی محبت میں ہر دن کے ساتھ کھلتی چلی جا رہی تھی

Mirh@_Ch
 

بس کریں اماں سائیں یہ کہہ رہی ہیں آپ نہیں ہوں میں آپ سے ناراض آپ کیوں مجھ سے معافی مانگ رہی ہیں آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا میرے لیے یہی بہت ہے تائشہ نے تڑپ کر ان کے گھٹنوں پر اپنے ہاتھ رکھے ۔
اور پھر بلک بلک کر روتی انہیں گھٹنوں پر اپنا سر رکھ گئی۔
اماں سائیں نے روتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
اگر آپ دونوں کا یہ ایموشنل سین ختم ہوگیا ہو تو پلیز چائے پر غور کریں بڑی محنت سے بنائی ہے میں نے جنید ابھی ٹرے میں چائے رکھ کر لایا تھا انہیں اس طرح ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے ہوئے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا ۔
جبکہ اس کی بات پر وہ دونوں مسکرائیں اور تائشہ نے اس کے ہاتھ سےٹرے تھام کر ایک کپ اماں سائیں کو پیش کیا ۔

دادا سائیں کی ایک سائیڈ پر مقدم اور دوسری سائیڈ پر کردم کھڑا تھا ۔

Mirh@_Ch
 

شاید تم کبھی مجھے معاف نہ کر سکو
لیکن پھر بھی اس امید سے تمہارے در پہ آئی ہوں کہ تم مجھے معاف کر دو گی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی ۔
تم سچ کہتی تھی تائشہ برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے دیکھو اس برائی کا انجام میں کس طرح سے تنہا رہ گئی کوئی بھی تو نہیں ہے میرے ساتھ اس دولت کو حاصل کرنے کے لئے میں نے کیا کچھ نہ کیا یہاں تک کہ اپنی ہی بیٹی پر دن رات ستم ڈھاتی رہی لیکن میرے ہاتھ کیا آیا کچھ بھی نہیں بلکہ میں تو اپنے ہی بچوں سے محروم ہو کر رہ گئی حیدر کہتا ہے کہ تم مجھے معاف کر دو گی تو وہ بھی مجھے معاف کر دے گا ۔
لیکن اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تھا یہ تو میں حویلی واپس نہیں جاؤں گی کیوں کہ جس عزت اور احترام سے وہ لوگ مجھے پکارتے ہیں میں اس کے قابل نہیں ہوں اگر تم نے مجھے معاف نہیں کیا تو میں یہی کسی کنوے میں کود کر اپنی جان ۔۔۔۔۔۔

Mirh@_Ch
 

لیکن اس کے باوجود بھی وہ اتنا نہ گرسکا کہ اسے معاف نہ کیا جائے حویلی کے سب مکینوں نے اسے دل سے معاف کر دیا تھا
اور اب حیدر کچھ ہی دنوں میں نور کا علاج کروانے اسے لے کر لندن جا رہا تھا ۔کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ نور بہت جلدی ٹھیک ہو سکتی ہے ۔اور اب سچ تو یہ تھا کہ ہمدردی میں جوڑا گیا یہ رشتہ حیدر کے دل کی دھڑکن بن چکا تھا اور اب وہ ہر ممکن طریقے سے اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا ۔
رضوانہ حیدر کے گھر سے نکل کر تائشہ کے پاس آئی تھی ان کی ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھ کر جنید نے انہیں گھر کے اندر بلایا لیکن تائشہ منہ موڑ گئی
آپ دونوں باتیں کریں میں یہی باہر ہوں جنید ان دونوں کو کھلا چھوڑ کر خود کمرے سے باہر نکل گیا
اپنی ماں کو دیکھوگی بھی نہیں تائشہ میں جانتی ہوں میں نے زندگی میں بہت غلطیاں کی ہیں اور میری غلطی اتنی بڑی ہے

Mirh@_Ch
 

شاہ سائیں نے یہ بھی کہا کہ ان کے جیسی عورت کو اپنی بیٹی کہتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے فیضان جیسے انسان کے ہاتھ میں رضوانہ کا ہاتھ دے کر شاہ سائیں نے اس پر بھی ظلم کیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی فیضان نے اس رشتے کو خوب نبھایا شاید یہ اس کے اچھی تربیت اور حوصلہ تھا جو رضوانہ کے ساتھ بنا کر رکھ سکے اور اس کے ساتھ نباہ کر سکے سچ تو یہ تھا کہ رضوانہ ان کے قابل ہی نہ تھی
شاہ سائیں کے الفاظ نے رضوانہ کو اندر اور باہر سے توڑ کر رکھ دیا تائشہ اب حویلی آتی تھی دادا سائیں نے خود اس کے لیے اس کے حویلی کے دروازے کھول دیے تھے لیکن اس سب کے باوجود بھی وہ رضوانہ کو دیکھتی تک نہ تھی۔
اور یہی بات رضوانہ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی ان کی دونوں اولادیں ان سے نفرت کرتی تھی حیدر نے جو کچھ بھی کیا وہ اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے کے لئے کیا

Mirh@_Ch
 

میں تم سے معافی مانگنے آئیں ہوں رضوانہ نے اس کا راستہ روکنا چاہا
آپ پہلے تائشہ سے معافی مانگیں ایک سگی ماں ہو کر آپ نے کیسے اس پر دن رات ظلم۔ کیا آپ کے ہاتھ نہیں کانپے کلیجہ نہیں کانپا اپنی اولاد کو زخم دیتے ہوئے ۔
جائیں معافی مانگییں تائشہ سے اگر اس نے معاف کر دیا تو میں بھی آپ کو معاف کر دوں گا
اس بار حیدر نے بنا مڑے اپنا راستہ بنایا اور رضوانہ اس کے غائب ہونے تک اس کی پشت دیکھتی رہیں ۔
سویرا کی موت کے بعد سب کچھ بدل چکا تھا
سویرا کی موت کے کچھ دن کے بعد جب رضوانہ نے تائشہ سے ملنے کی کوشش کی دادا سائیں نے انہیں بہت باتیں سنائیں
جن میں انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ ان کے گھٹیا ارادوں سے ہمیشہ سے واقف تھے اورتائشہ کو ان سے دور کسی محفوظ جگہ پر بھیجنا چاہتے تھے
اور اب وہ بہت خوش ہیں کہ تائشہ ان کی پہنچ سے دور ہے

Mirh@_Ch
 

جبکہ اس کے انداز نے دھڑکن کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا

آپ پھر یہاں آ گئیں میں کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ میں آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا آپ کو ایک بار میری بات سمجھ میں نہیں آتی کیا انہیں اپنے گھر کے داخلی دروازے پر دیکھ کر حیدر کو ایک بار پھر سے غصہ آیا
حیدر میں تو صرف تمہیں دیکھنے آئی تھی بیٹا تمہاری طبیعت کیسی ہے رضوانہ شرم سے نظریں جھکا کر بولیں
خدا کا شکر ہے بالکل ٹھیک ہوں میں اور اگر آپ نہیں ۔بھی پوچھیں گیں تب بھی ٹھیک ہی رہوں گا میں ۔
بچپن میں بیمار ہوا کرتا تھا یا چوٹ لگا کرتی تھی تب کبھی پوچھنے نہیں آئیں جب مجھے آپ کی ضرورت ہے اماں سائیں تب نہیں تو اب کیوں اب میں اپنے آپ کو خود سنبھال سکتا ہوں ۔
اسی لیے بہتر ہوگا کہ روز یہاں نہ آیا کریں آپ کو ذلیل کرنا مجھے بھی اچھا نہیں لگتا وہ اندر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا

Mirh@_Ch
 

آپ مجھ سے خفا نہیں ہیں وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے میری جان وہ مسکرا کر بولا
یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ میں نے آپ کی ذات پر انگلی اٹھائی آپ کے کردار کو گندا کرنے کی کوشش کی وہ بالکل سیریس انداز میں پوچھ رہی تھی
نہیں دھڑکن اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے مجھے اس طرح سے کسی کی مدد کرنے سے پہلے تم سے ڈسکس کرنا چاہیے تھا جس طرح سے باقی سارے مسئلے تم سے شیئر کرتا ہوں ۔
میں نے تمہیں اس بارے میں نہیں بتایا غلطی میری تھی اگر میں چاہتا تو اسے نور ملی ہینڈل کر سکتا تھا مجھے تم پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا ۔اور اچھا ہی ہوا نہ اس سب سے مجھے پتہ چل گیا کہ فیوچر میں ایسی کوئی غلطی کرنے کی کنڈیشن میں نہیں ہوں ۔
ورنہ میری پٹاکا سائیں مجھے بم سے اڑا دے گی کردم نے شرارت سے کہتے ہوئے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے۔

Mirh@_Ch
 

بہت دن تک احمد شاہ سے ناراض رہی وہ کیسے اپنی ہی بیٹی کی موت پر واپس نہیں آ سکتے تھے کیا ان کو بزنس اپنی بیٹیوں سے زیادہ عزیز تھا ۔
فون پر ہوئی لڑائی کے بعد کردم کو مجبوراً اسے احمد چاچو سائیں کی بیماری کے بارے میں بتانا پڑا
جو جاننے کے بعد دھڑکن کو ایک اور صدمہ لگادھڑکن نجانے کتنے دن بیمار رہی اور کردم ہر ممکن طریقے سے اس کا خیال رکھتا رہا
آج سویرا کو گزر ایک مہینہ ہو چکا تھا ۔
سکول بننے کے بعد فصلوں کا کم کام بھی بہت اچھا چل رہا تھا جس کے بعد گاؤں والوں نے کردم سے معافی مانگ کر اسے واپس حویلی بیچ دیا کیونکہ کردم کی ضرورت صرف گاوں والوں کو ہی نہیں بلکہ حویلی والوں کوبھی تھی

وہ کمرے میں داخل ہوا تو دھڑکن کیٹی کو گود میں بٹھائے آئینے کو گھور رہی تھی
دھڑکن تم نے کھانا کھایا وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کے قریب آ بیٹھا

Mirh@_Ch
 

حویلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا خاندان کی سب سے بڑی بیٹی اچانک دنیا سے رخصت ہو گئی
کردم کو جب پتہ چلا کہ دھڑکن واپس گھر جا چکی ہے تو وہ واپس گھر آیا اور اسے واپس حویلی لایا
بہت چاہنے کے باوجود بھی شاہ سائیں دھڑکن کو یہ نہیں بتا پائے تھے کہ اس کی بہن کیا کرنے جا رہی تھی انہوں نے یہ بات احمد شاہ بتائی تھی تو انہوں نے یہی کہا کہ دھڑکن کو بس اتنا ہی بتایا جائے کہ سویرا اس دنیا میں نہیں رہی اس کی موت کی وجہ سیڑھیوں سے گرنا ہے وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس کی بہن ساری زندگی اس سے نفرت کرے
دھڑکن کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور اس میں کردم نے اس کا بھرپور ساتھ دیا
وہ جانتا تھا یہ وقت اس کے لیے کتنا مشکل ہے چاہے سویرا کی نظروں میں دھڑکن کی کوئی اوقات ہو نہ ہو لیکن وہ دھڑکن کی بہن تھی اور دھڑکن اسے بےتحاشا چاہتی تھی

Mirh@_Ch
 

ملک نے آنکھوں میں آنسو لیے حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبایا
حوریہ جو کب سے صبر کئے بیٹھی تھی اس شخص کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
آپ کو کچھ نہیں ہوگا بابا سائیں کوئی ڈاکٹر کو بلاؤ ان کو ہسپتال لے کر چلو ان کی طبیعت خراب ہے میرے بابا کو بچاؤ کوئی حوریہ چلاتے ہوئے کبھی مقدم تو کبھی کردم کو پکار رہی تھی ۔
جبکہ ملک کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل بند ہو چکا تھا حوریہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی شاید آخری خواہش پوری ہوجانے کی مسکراہٹ ۔
اور اس کے ساتھ ہی ایک بار پھر سے بلک بلک کر رونے لگی ۔مقدم نے اسے تھام کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔اور اس سے دلاسا دینے لگا جیند بنا سوچے سمجھے کردم کے سینے سے لگ گیا ۔یہ وقت تو اس کے لئے بھی بہت بُرا تھا اور جنید اس بات اچھے سے سمجھ سکتا تھا ۔

Mirh@_Ch
 

مرنے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔اپنے کئے ہوئے گناہ۔۔۔۔۔۔ کی بھرپائی ۔۔۔۔۔۔۔تو نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔۔لیکن تم لوگوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔ معافی تو مانگ سکتا ہوں بس۔ ۔۔۔۔۔ایک چھوٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔سی خواہش۔۔۔۔۔ ہے جب پچھلے ۔۔۔۔۔۔۔۔19 سال سے اپنے ۔۔۔۔۔۔دل میں رکھے ۔۔۔۔۔شاہ سائیں۔ ۔۔۔۔ کی حویلی۔۔۔۔ در پر ناک رگڑتا رہا۔ ۔۔۔ہوں کہ میری بیٹی مجھے۔۔۔۔۔۔ بابا کہہ کر پکارے ۔
ایک بار حوریہ۔ ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں میرے گناہ اتنے بڑے ہیں کہ مجھے۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح کی راحت ۔۔۔۔۔۔۔کبھی نصیب نہ ہو لیکن میری۔۔۔۔۔۔ خواہش ہے خواہش ۔۔۔۔۔۔سمجھ کے پوری کر دو تم مت ۔۔۔۔۔سوچو کہ۔۔۔۔۔۔ میں تمہارا باپ ۔۔۔نہیں۔۔۔ہوں مجھ جیسا گھٹیا ۔۔۔۔۔۔شخص تمہارا باپ۔۔۔۔۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا بس ایک۔۔۔۔۔۔ مرتے ہوئے انسان۔۔۔۔۔۔۔ کی آخری خواہش ۔۔۔۔۔پوری کر دو ۔۔۔۔۔۔مجھے ایک۔۔۔۔۔ بار بابا کہہ ۔۔۔۔کر پکارو

Mirh@_Ch
 

نہیں ۔۔۔۔۔انسپکٹر ۔۔میرے پاس ۔۔ ۔۔۔۔زیادہ وقت ۔۔۔۔نہیں ہے اور نہ ۔۔۔۔ہی اب جینے کی خواہش۔۔۔۔۔۔ ہے
ملک حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے بولا
اس کے خون سے لت پت لاش دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی حوریہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے
حوریہ بیٹا میں۔۔۔۔۔۔ تمہارا ۔۔۔گنہگار ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے بہت گناہ کیے۔۔۔۔ ہیں بہت۔۔۔۔ برا سلوک کیا ۔۔۔۔ہے تمہارے ۔۔۔۔۔خاندان کے۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ساتھ کردم ۔۔۔مقدم ۔۔۔۔اوو۔ ۔۔اور۔ ۔۔۔حیدر کو یتیم کر دیا۔ ۔ ۔۔۔۔۔ اور بدلے میں مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ملا مجھ سے میری ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹی ہی دور ہوگی
ساری زندگی۔۔۔۔۔ اس کے منہ سے ۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔۔سننے کو ترستا رہا ۔۔۔۔اس کا معصوم سا چہرہ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھنے کو تڑپتا رہا جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میری زندگی یہی تک تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Mirh@_Ch
 

اور انہیں وہاں سے چلنے کا اشارہ کیا۔
اس سے پہلے کہ وہ کار خانے سے باہر نکلتے اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی حوریہ نے مڑ کر دیکھا تو سویرا اسی جگہ کھڑی تھی ہاتھوں میں ریوالور پکڑے ہوئے تھی اس بار اس کا نشانہ مقدم تھا
جو میرا نہیں ہو سکتا اسے میں تمہارا بھی نہیں ہونے دوں گی اس نے کہتے ہوئے مقدم پر ایک کے بعد ایک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔
لیکن اس سے پہلے کہ گولیاں مقدم کو لگتی ملک نے وہی گولیاں اپنے سینے پر کھا لیں ۔
اور اس کے ساتھ ہی انسپیکٹر کی گولی نے سویرا کا سینہ چیر دیا ۔
کیونکہ انسپیکٹر کے چلانے کے باوجود بھی سویرا نے فائرنگ بند نہیں کی تھی ۔اس کی وجہ سے انسپیکٹر کو مجبور ہوکراس پر گولی چلانی پڑی۔
ایمبولینس کو کال کرو پولیس انسپکٹر نے ملک کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا

Mirh@_Ch
 

پولیس آفیسر نے ہتھکڑی حیدر کے سامنے لہراتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کہ وہ حیدر کو ہتھکڑی پہناتے حوریہ بول اٹھی
انسپیکٹر حیدر بھائی نے مجھے اغوا نہیں کیا اور ملک صاحب پر بھی حملہ انہوں نے نہیں کروایا تھا
یہ سب کچھ سویرا کا کیا دھرا ہے اور یہ زمین پڑی سویرا کو دیکھتے ہوئے بولی
ان پر گولی کس نے چلائی ہے پولیس آفیسر سویرا کے قریب جا کر پوچھنے لگا ۔
یہ میری بیٹی کو مارنے والی تھی اگر میں اسے نہیں مارتا تو میری بیٹی کو جان سے مار دے دیتی یہ ایک پاگل عورت ہے میں نے اپنی بیٹی کو بچانے کے لئے اس پر حملہ کردیا ملک انسپکٹر کو دیکھتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے ملک صاحب یہ قتل آپ نے سلف ڈیفنس میں کیا ہے لیکن گناہ تو گناہ ہے اور گناہ کی سزا ضرور ملتی ہے ہمیں آپ کو گرفتار کرنا ہوگا ۔انسپکٹر پروفیشنل انداز میں کہتا ہوا اسے ہھتکری پہنانے لگا

Mirh@_Ch
 

ایک دردناک چیخ کے ساتھ کارخانے میں سناٹا چھا گیا سویرا دور زمین پر جا گری
گولی اس کی کمر پر لگی تھی وہ الٹی زمین پر پڑی تھی لیکن کھلی آنکھوں سے حوریہ کو مقدم کے سینے سے لگا دیکھ رہی تھی
زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ سویرہ نے کسی شخص کو چاہا ہو اور وہ اس کا نہ ہوا ہو سکول میں کالج میں یونیورسٹی میں کلب میں پارٹیز میں آؤٹنگ ایریاز میں آج تک اس نے جس شخص کو اپنے لئے پسند کیا تھا وہ خود ہی اس کے حسن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہوا اس کے قریب آ گیا ۔لیکن مقدم نہیں اسے خود پر ترس آ رہا تھا حوریہ کو مقدم کے سینے سے لگا دیکھ کر ۔آہستہ آہستہ سویرا کی آنکھیں بند ہونے لگی ۔
اس کے ساتھ ہی کارخانے میں پولیس داخل ہوئی
ملک پر چار بار جان لیوا حملہ کرنے کی کوشش میں اور مسز مقدم کو اغوا کرنے کی کوشش میں پولیس آپ کو گرفتار کرتی ہے ۔

Mirh@_Ch
 

بے وقوف آدمی تم پر یقین کر کے میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔سویرا غصے سے کہتی ایک بار پھر سے ریوالور اٹھنے لگی لیکن اس سے پہلے ہی جنید نے پیرسے کک مارتے ہوئے ریوالور کو دور پھینکا
سائیں میں نے پولیس کو انفارم کردیا ہے وہ کبھی بھی یہاں پہنچتی ہوگی جیند نے آگے بڑھ کر زمین سے ریوالور اٹھایا۔
جبکہ مقدم سیدھا حوریہ کی طرف بھاگا تھا
اور حوریہ کو اپنے سینے سے لگائے اس کے ہاتھ پیر ٹٹوالنے لگا
میں ٹھیک ہوں مقدم سائیں وہ اسے دیکھتے ہوئے یقین دلاتے انداز میں بولی ۔
جب مقدم نے اسے خود میں بھیج لیا ۔
جبکہ ان دونوں کا ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر سویرا کی آنکھوں میں مرچیں بھرنے لگے ۔
اس نے جنید کو دھکا دیتے ہوئے پستول اس سے چھیننے کی کوشش کی ۔
اور تب ہی ملک نے حیدر کی پستول اٹھائی اور بناسوچے سمجھے سویرا پرگولی چلا دی ۔

Mirh@_Ch
 

ہم دونوں پکڑے جائیں گے اس سے پہلے اپنے باپ کی موت کا بدلہ لے لو مار دواس کو ان کی باتیں سنتے ہوئے سویرا چلائی تھی
مار دیں مجھے حیدر بھائی لیکن ایک بات اچھی طرح سے سوچ لیں ۔روز قیامت اپنے باباسائیں سے نظریں کیسے ملائیں گے آپ۔۔۔۔ چلیں میں آپ کی نظروں میں گناہ گار ہی سہی لیکن میرا بچہ جو ابھی تک اس دنیا میں ہی نہیں آیا اس کے قتل کا بوجھ کیسے اٹھائیں گے آپ ۔حوریہ اسے دیکھ کر احساس دلاتے ہوئے بولی اور اس کی باتیں سن کر حیدر کے ہاتھ ایک بار پھر سے کانپ اٹھے
میں نہیں مار سکتا اسے یہ ماں بننے والی ہے میں اتنا بڑا گناہ نہیں کر سکتا حیدر نے اپنے ہاتھ سے پستول دور پھینک دیا
جب کہ حیدر کو اس طرح سے دیکھ کر حوریہ کو اس پر ترس سا آنے لگا تھا یہ بھی اس کے باپ کا ڈسا تھا ۔
حیدر نے ایک نظرحوریہ کو دیکھا اور پھر پلیر سے بندھے ہوئے اس کے ہاتھ کھولنے لگا ۔