حیدر اپنے بازو پہ ہاتھ رکھ کے خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا اس کے باتیں سن کر اسے دیکھنے لگا
بند کرو اپنی بکواس تم نے ہی اس کے دماغ میں یہ سب ڈالا ہے جان نکال دوں گا میں تمہاری مقدم غصے سویرا کی طرف بڑھا
مار دیجیے گا مقدم سائیں لیکن اس حوریہ کی لاش دیکھے بغیر نہیں مروں گی میں ۔اس لڑکی نے مجھ سے میری محبت چھین لی ہے میں اسے معاف نہیں کروں گی حیدر یا تو تم اسے مار دو یا میں اس کی جان لے لوں گی وہ غصے سے چلاتے ہوئے بولی
تم ہاتھ تو لگاؤ میری حوریہ کو میں جان نکال دوں گا مقدم غصے سے اس کی طرف بڑھا جب کردم نے اسے تھام لیا
مقدم پولیس آرہی ہوگی وہ خود ہی اپنے انجام تک پہنچ جائے گی اس سے پہلے ہمیں اسے روکنا ہوگا وہ حیدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جو حوریہ کو کبھی بھی نقصان پہنچا سکتا تھا
تھوڑی دیر میں یہاں پولیس آ جائے گی
بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_86
#last_Episode
😊
گولی کی آواز کے ساتھ ہی ملک نے ڈر کر اپنا دل تھام لیا ۔
اس سے پہلے کہ گولی حوریہ کو لگتی حیدر کے سامنے آجانے سے اس کا بازو چیڑ گئی
بے وقوف آدمی یہ کیا کیا تم نے سویرا نے چلاتے ہوئے ایک اور گولی اس کی طرف چلانی چاہی لیکن اس سے پہلے ہی مقدم زمین پر پڑا ہوا لکڑی کا ٹکڑا اٹھا کر اس کے ہاتھ پے مار چکا تھا ۔
پستول سویرہ کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گری اس نے غصے سے گھور کر مقدم کو دیکھا
حیدر شوٹ ہئر ۔۔۔ ۔ ۔
میں کہتی ہوں گولی مار دواسے یہی تمہارے باپ کی قاتل ہے تمہارے باپ کے قتل کی وجہ ہے ۔
اگر وہ مر جائے گی تو تمہارا بدلہ پورا ہو جائے گا وہ چلاتے ہوئے حیدر سے بولی
کیوں حیدر بھائی ٹھیک کہہ رہی ہوں نہ میں حوریہ کی مسکراہٹ اب بھی قائم تھی۔
ّّجب حیدر نے گھور کر غصے سے اسے دیکھا اور اپنے ریوالور پر ہاتھ رکھتے ہوئے ٹریگردبایا
گولی کی آواز کے ساتھ کارخانےمیں سناٹا چھا گیا
خبردار جو تم نے میری حوریہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دوں گا مقدم چلاتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا
مقدم شاہ تمہارا غصہ جائز ہے تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم مجھے زندہ زمین میں گاڑدینا لیکن پہلے اپنی بیوی کی لاش کو زمین میں دفنانا ۔
آج میرے باپ کا بدلہ پورا ہوگا آج مجھے سکون ملے گا ملک کے سامنے اسی کی بیٹی کو ختم کرکے
حیدر نے کہتے ہوئے بندوق ایک بار پھر سے حوریہ کے سر پر رکھی ۔
تم ایسا نہیں کروگے حیدر بہت پچھتاؤ گے تم مقدم غصے سے بولا
مقدم سائیں آپ پریشان نہ ہوں یہ مجھے کچھ نہیں کر سکتے ان میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ یہ مجھ پر گولی چلا سکے ۔
چلانا بند کرو کردم شاہ تمہاری بہن یہاں ہے اور کچھ ہی دیر میں اس کی روح پرواز کر جائے کہ حیدر نے بندوق کی نوک حوریہ کے سر پر رکھتے ہوئے کہا
جبکہ اس کی بات سن کر حوریہ بے خوفی سے دیکھنے لگی اس کی آنکھیں اسے چیلنج کر رہی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں کہ اگر ہمت ہے تو مارو مجھے
اور اس چیلنج سے گھبراتے ہوئے حیدرشاہ اس کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہا تھا
نہیں حیدر خدا کے لئے میری بیٹی کو چھوڑ دو اس نے کیا بگاڑا ہے تمہارا خدا کے لئے اسے بخش دو تمہارا گناہ گار میں ہوں میری بچی کو چھوڑ دو وہ بے گناہ ہے کردم کے پیچھے ہی ملک بھاگتا ہوا آیا اور اس کے ساتھ مقدم
آ گئے ملک تمہیں تو دکھانے کے لیے اسےلایا تھا یہاں اپنی بیٹی کی لاش اٹھانے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔
وہ چلاتے ہوئے بولا
اور میری موت دیکھ کر میرے باپ کو اس کے گناہوں کی سزا مل جائے
حوریہ ۔۔۔ حور ۔۔۔۔حوریہ کہاں ہو تم
کردم کی آواز نے ان دونوں کو باہر کی طرف متوجہ کیا
وہ جس خاموشی سے گھر چھوڑ کر گئی تھی اسی خاموشی سے گھر واپس آ چکی تھی
اور اب اپنے نازک ہاتھوں سے کردم کی فیورٹ ڈش بنا رہی تھی تاکہ اسے منا سکے
کردم سائیں میں نے آپ کے خلاف اتنا کچھ بولا آپ نے مجھے ایک تھپڑ لگایا لیکن آپ کو چاہیے تھا کہ آپ مجھے بہت سارے تھپڑ لگا کر مجھے عقل سکھاتے کتنی بری ڈیش ڈیش ہوں میں آپ پر یقین نہیں کیا میں محبت کے لائق ہی نہیں ہوں وہ مسلسل ہاتھ چلاتے ہوئے بربڑا رہی تھی
بس آپ ایک بار گھر آجائیں میں آج آپ کو منا لوں گی میں آپ سے معافی مانگوں گی اور مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے معاف کر دیں گے ۔
وہ اداسی سے پر یقین انداز میں کہتی کردم کی پسند کا کھانا بنانے میں مصروف ہو گئی
جہاں انتہائی خعف زدہ بچا بیٹھا تھا کوئی بالکل خاموش چھوٹا سا بچہ اپنے باپ کو کھونے کے بعد اپنی ماں سے دور ہوئے بیٹھا ہے
اس سے محبت کرنے والے تو بہت ہیں لیکن جس کی محبت وہ چاہتا ہے وہ اس سے دور منوں مٹی تلے سو چکا ہے
کیا ہوا ہمت نہیں کر پا رہے نہ مارنے کی حوریہ اسے دیکھتے ہوئے ذرا سا مسکرا ئی
آپ کی سینے میں آپ کے بابا کا دل دھڑ کتا ہے حیدر بھائی اور وہ نرم سا دل کبھی کسی کی جان نہیں لے سکتا ۔ آپ اتنے برے ہیں نہیں جتنا بننے کی کوشش کر رہے ہیں
میں بہت برا ہوں اور تم یہاں سے زندہ بچ کر نہیں جاؤ گی وہ اسے یقین دلانے والے انداز میں بولا اور اس کے انداز نے حوریہ کو پھر سے مسکرانے پر مجبور کر دیا
میں آپ کی ہمت دیکھنا چاہتی ہوں حیدر بھائی مار دیں مجھے میں بھی چاہتی ہوں کے آپ کے باپ کا بدلہ پورا ہو جائے
آپ مجھے کس طرح سے ماریں گے کہ میرے باپ کو اتنی ہی تکلیف ہو جتنا درد آپ کے اندر بھرا ہے
آپ کی ان سب باتوں سے مجھے بس ایک بات کی تکلیف سب سے زیادہ ہورہی ہے جب آپ کہتے ہیں ملک کی بیٹی ساری زندگی میں نے یہی لفظ اپنے اردگردسنے کسی نے مجھے آہانہ کی بیٹی کہہ کر نہیں پکارا آپ کی اماں سائیں مجھے منہوس اور میری ساس مجھے اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی کہتی ہیں
خیرآپ کو یہ باتیں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے وہ میری زندگی ہے میری تلخ حقیقت ہے آپ وہ کریں جو کرنے آئے ہیں جس سے آپ کا بد لا پورا ہو جائے گا آپ کے دل کو سکون مل جائے گا ماردیں مجھے یقین کریں اس سے اور کچھ ہو نہ ہو میرا باپ پاگل ہو جائے گا ۔
یہ وہ پہلا شخص تھا جو حوریہ کو مارنا چاہتا تھا لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں تھی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھی جا رہی تھی
زندہ میں اس سے مرا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں اسی لئے تمہیں یہاں بلا کر میں نے اسے یہاں بلا لیا
تاکہ میں تمہاری آنکھوں کے سامنے خنجر اس کے سینے میں اتاروں جو کچھ بھی ہوا ہے لیکن میں تمہیں بھی مارنا چاہتا ہوں میں تمہارے باپ کو وہ تکلیف دینا چاہتا ہوں جو تکلیف میں برسوں سے سہ رہا ہوں ۔لیکن میں اتنا بڑا گناہ کیسے کروں بتاؤ مجھے میں تمہیں کیسے ختم کروں وہ اس کے قریب بیٹھا پوچھ رہا تھا
میں کیا بتاؤں آپ کو اس بارے میں بھائی میں تو خود اپنوں کی بے روخی کا شکار ہوں
باپ کی شفقت ماں کی محبت کیا ہے میں نے تو کبھی دیکھی ہی نہیں
شاید اس معاملے میں میرا دکھ بھی آپ جتنا ہی ہو ارے آپ سے پیار کرنے والے آپ کی دادا دادی بہن تو تھی میرے پاس تو یہ لوگ بھی نہیں تھے
ساری زندگی ایک قاتل کی بیٹی کہلا کر میں نے کیسے گزاری ہے اس تجربے سے میں آپ کو بتا نہیں سکتی ۔
خدا کا شکر ہے کے وقت رہتے میں نے تمہیں سب کچھ بتا کر اپنا فرض پورا کر دیا اب تمہاری مرضی تم یقین کرو یا نہ کرو
آج اگر یہاں نہ آتی تو کبھی اپنے آپ کو معاف نہیں کر پاتی چلتی ہوں مجھے اور ان کو شہر کے لئے نکلنا ہے اس نے مجتبیٰ کو چلنے کا اشارہ کیا جبکہ دھڑکن کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کو روک کر اس کا شکریہ ادا کرے
یا پھر اس سے پوچھے کہ اب وہ کردم کو کیسے منائے گی
❤
بہت ساری ہمت جمع کرکے آیا تھا میں اور یہی سوچا تھا کہ مار دوں گا تمہیں لیکن میں تمہارا قاتل بننا چاہتا ہوں مقدم شاہ کے بچے کا نہیں ہاں میں نہیں گر سکتا تمہارے باپ جتنا میں چاہ کر بھی تمہارے باپ جتنا ظالم نہیں بن سکتا
میں نے یہی سوچا تھا کہ میں تمہیں ختم کر دوں گا لیکن پھر میں نے سوچا کہ تمہیں ختم کرنے کا کیا فائدہ
اس سے کیا ہوگا تمہارا باپ تو زندہ رہے گا
انہیں روز ہی تنگ کرنے لگی ۔میں اکثر ان کے ڈیرے پر جاکر ان سے ملنے لگی یہاں تک کہ ایک دن مجبور ہوکر وہ میرے گھر والوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہوگئے
اور پھر کل شام کو ہی انہوں نے میرا نکاح مجتبیٰ سے کروانے کے لیے تیار ہو گئے یہ بات سن کر میں اتنی جزباتی ہوگئی کہ ان کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا
اور انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر مجھے بہنوں والا مان دیا لیکن مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ تم اس بات کو کس انداز میں لو گی یہ تو میں جانتی ہوں کہ تمہیں اپنی چیزیں بانٹنا پسند نہیں لیکن میں کردم سائیں کو تم سے چھیننے کی کوشش نہیں کر رہی تھی وہ تو میرے بھائی جیسے ہے انہوں نے مجھے میری زندگی کی ہر خوشی دی جس کے لیے میں ان کی بہت شکر گزار ہوں ۔
یہ سب کچھ اگر مجھے آج جنید بھائی نہیں بتاتے تو کل میں ان کے ساتھ ہمیشہ کے لئے شہر جانے والی تھی
لیکن اس کے پیچھے آنے والے شخص کو دیکھ کر خاموش ہو گئی
کیسی ہو دھڑکن ایک ہی کلاس میں رہنے کی وجہ سے اب دھڑکن اور وہ نارمل بات کرتے تھے
اس کے سوال پر دھڑکن نے کوئی جواب نہ دیا بس اسے گھورتی رہی
ان سے ملو یہ ہے میرے شوہر مجتبیٰ
یہ حیدر سائیں کے گاؤں سے ہیں میں اور یہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے لیکن ہمارے خاندان والے شادی کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے ہم نے انہیں منانے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی مجبور ہوکر ہم نے کردم سائیں کا سہارا لیا
پہلے تو وہ نہیں مان رہے تھے لیکن پھر ہم انہیں روز ہی تنگ کرنے ان کے ڈیرے پر جا پہنچتے اور منتیں کرتے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ہماری بات نہیں مان رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جو فیصلہ ہمارے والدین کر رہے ہیں وہیں سہی ہے
لیکن میں اپنی محبت میں بہت مجبور ہو چکی تھی
مقدم میں پرانے کارحانے جا رہا ہوں تم جلدی وہاں پہنچاو میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کو کچھ بھی ہو ملک نہ جانے کیا کیا بول رہا تھا جب کہ مقدم فون بند کے گاڑی کی طرف بھاگا
❤
اسے حویلی آئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی ۔لیکن حویلی میں آج کوئی بھی موجود نہ تھا یہاں تک کہ کوئی نوکر بھی نہیں ۔
سب لوگ کہاں چلے گئے تھے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔
وہ کمرے میں آگئی اور تھوڑی دیر آرام کرنے لگی۔ لیکن کردم کی بے وفائی کے دکھ نے اس سے ہر سکون چھین لیا تھا
کل سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا بھوک کی شدت نے اسے کمرے سے نکلنے پر مجبور کیا تو سامنے سے ہی ہاجرہ آتی نظر آئی
جیسے دیکھتے ہی دھڑکن کے ماتھے پر بل پڑ گئے اس کا گھر توڑنے کے بعد اس لڑکی میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ اسی کی حویلی میں قدم رکھتی دھڑکن کا دل کیا کہ وہ اسے جان سے مار دے
اب اپنی مرضی سے واپس آؤ گی میں تو لینے نہیں آؤں گا خود سے کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیزیں زمین پر پھینک چکا تھا ۔جب اس کا فون بجا ملک کا فون آتا دیکھ اس نے فوراً اٹھا لیا
❤
مقدم مسلسل حوریہ کے نمبر پر فون کر رہا تھا لیکن حوریہ نے فون نہیں اٹھایا تھک ہار کر حویلی واپس جانے لگا اس کے نمبر پر ملک کا فون آنے لگا
جو اس نے فورا اٹھا لیا
مقدم مجھے فون آیا تھا مجھے پتا چل گیا ہے کہ وہ شخص کون ہے جو حوریہ کی جان لینا چاہتا ہے اسے اغوا کرکے کہیں لے گیا ہے
خدا کے لئے مقدم میری بیٹی کو بچا لو ۔
نہ جانے وہ کس حال میں ہو گی اس نے مجھے پرانے کارخانے میں بلایا ہے وہ حیدر شاہ ہے فیضان شاہ کا بیٹا فیضان شاہ کا بیٹا مارنا چاہتا ہے میری بیٹی کو اور اسی نے مجھ پر بھی حملہ کروایا تھا
لیکن گھر آ کر اس نے دیکھا کہ دھڑکن یہاں نہ تھی
ساتھ والے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس نے چابی مانگی تو کرن نے بتایا کہ دھڑکن کچھ دیر پہلے حویلی جا چکی ہے پر جاتے ہوئے بہت رو رہی تھی زاہد نے اس سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسے حویلی چھوڑ آئے گا لیکن اس نے زاہد کی بات نہیں مانی ۔
گھر کی چابی لے کر وہ واپس گھر آ گیا اسے پتہ تھا دھڑکن میں بچپنا ہے لیکن وہ اپنے رشتے کو اتنے سنگین موڑ پر کیسے لا سکتی ہے کہ اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر وہ اسے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہے کیا اس کی محبت اس کا یقین اتنا بے مول تھا
اب اس سے اپنا غصہ کنٹرول نہیں ہو رہا تھا آج پہلی بار اسے کسی پر اس حد تک غصہ آیا تھا وہ دھڑکن کو ایک بہت سمجھدار لڑکی سمجھنے لگا تھا اور اس لئے اس سے اس طرح کی بیوقوفی کی سے کوئی امید نہ تھی
ٹھیک ہے دھڑکن تم اپنی مرضی سے گئی
شاید اس سے آپ کو سکون مل جائے گا آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں نہ آپ کو لگتا ہے کہ مجھے مار دینے سے آپ کو بہت سکون محسوس ہو گا جو آپ نے سالوں سے محسوس نہیں کیا تو اپنے آپ کو روکیں مت مار دیں مجھے
کیونکہ بار بار اس شخص کی بیٹی کہلانے سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں ۔حوریہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے چلا کر کہا
❤
کردم جلدی گھر واپس آیا تھا وہ دھڑکن کو منانا چاہتا تھا رات دھڑکن کی باتوں نے اتنا غصہ دلایا کہ وہ اس پر ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہوگیا لیکن اس کے بعد وہ بہت پچھتا رہا تھا وہ لڑکی اس کی جان تھی جس کے بغیر رہنے کے بارے میں اب تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
کردم نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے سب کچھ بتا دے گا اسی لئے وہ اسے منانے جلدی گھر واپس آیا
راستے سے اس نے کیٹی کا فوڈ اور دھڑکن کے لئے بہت ساری چوکلیٹ لی جس سے اسے امید تھی کہ وہ جلدی مان جائے گی
میرے بابا نے ساری زندگی سب کا بلا چاہا وہ کبھی کسی کے بارے میں برا نہیں سوچ سکتے تھے یہ فیکٹری دیکھ رہی ہو تم یہ انہوں نے غریب مزدوروں کے لیے بنوائی تھی ۔لیکن اس کو شروع کرنے سے پہلے ہی تمہارے باپ نے میرے بابا کو مار ڈالا
وہ گاؤں جس کو میرے بابا کامیاب بنانا چاہتے تھے آج اندھیرے میں ڈوب کر رہ گیا تمہارے باپ کی وجہ سے
میرےبابا جو اپنے بچوں کو ہر خوشی دینا چاہتے تھےوہ اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے تھے اس کی بیٹی نے ساری زندگی یتیموں سی زندگی گزاری تمہارے باپ کی وجہ سے میں نے کسی کی محبت نہیں دیکھی ۔تمہارے باپ کی وجہ سے میں نے اپنا بچپن کھو دیا ۔
تمہارے باپ کی وجہ سے ۔۔۔
بس کریں خدا کے لئے بس کریں بار بار شخص کو میرا باپ نہ کہیں آپ مارنا چاہتے ہیں نہ مجھے مار دیں شاید اس سے آپ کا بدلا پورا ہو جائے گا
اپنے سامنے حیدر کو دیکھ کر حوریہ بے یقینی سے دیکھتی رہ گئی
کیا ہوا مسز مقدم شاہ یقین نہیں آرہا تو یقین کر لو میں ہی ہوں جو تمہیں جان سے مارنا چاہتا ہوں
اور میرے سامنے یہ ڈرامے مت کرنا کہ تم ایسا کیوں کرنا چاہتے ہو تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو وغیرہ وغیرہ اور میرے سامنے ایک آنسو بھی مت بہانا
وجہ تو تم جانتی ہی ہو کردم شاہ اور مقدم شاہ باپ کا بدلہ بھول سکتے ہیں لیکن میں نہیں تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں اپنے ماں باپ کے بغیر کیسے رہا ہوں
میری بہن ساری زندگی اپنے نانا کے ٹکڑوں پر پلتی رہی صرف تمہارے باپ کی وجہ سے
اپنے باپ کا سایہ ساری زندگی محسوس نہیں کر سکا صرف تمہارے باپ کی وجہ سے
اس سے پہلے میں کوئی خواہش کرتا میرا باپ میری خواہشیں پوری کرتا تھا ۔
آج وہ سب لوگ ان کے گھر آنے والے تھے لیکن کل شام کو ہی سے پتہ چلا کہ سویرا سیڑھیوں سے گر گئی ہے اور اس وقت شہر کے ہوسپٹل میں ہے ۔
اسی لیے اس نے تائشہ کواس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا یہی وجہ تھی کہ تائشہ آج پھر حیدر کے گھر جانے کے لیے تیار تھی ۔
جبکہ جنید آج گھر پر ہی تھا اور وہ چاہتا تھا کہ تائشہ سارا دن اس کے ساتھ گزارے
جس دن سے شاہ سائیں نے اسے بتایا تھا تائشہ کی نظروں میں انہوں نے کبھی کردم کے لیے محبت نہیں دیکھی اس دن سے اس کے دل میں تھوڑی سی تائشہ کو لے کر جو ہچکچاہٹ تھی وہ بھی ختم ہو گئی
اور اس دن اماں سائیں کے یہاں آنے کے بعد تائشہ نے ساری حقیقت کھول کر اس کے سامنے رکھ دی ۔
اور اس کے بعد سے لے کر اب تک جنید نے کبھی کردم کا ذکر اس کے سامنے نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ آپنے اور اس میں کسی تیسرے کو لانا چاہتا تھا ۔
اور جب سے اسے تائشہ کی پریگنینسی کے بارے میں پتہ چلا تھا اس کی تو مانو دنیا ہی مکمل ہو چکی تھی وہ تائشہ اور اپنے ہونے والے بچے کو لے کر بہت خوش تھا
لیکن اس سے زیادہ خوشی اسے اس بات کی تھی اس شاہ سائیں اس کے گھر آکر تائشہ کو واپس حویلی بلانا چاہتے تھے وہ تائشہ کے لیے اس کا میکا کھول دینا چاہتے تھے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain