Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

حیدر اپنے بازو پہ ہاتھ رکھ کے خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا اس کے باتیں سن کر اسے دیکھنے لگا
بند کرو اپنی بکواس تم نے ہی اس کے دماغ میں یہ سب ڈالا ہے جان نکال دوں گا میں تمہاری مقدم غصے سویرا کی طرف بڑھا
مار دیجیے گا مقدم سائیں لیکن اس حوریہ کی لاش دیکھے بغیر نہیں مروں گی میں ۔اس لڑکی نے مجھ سے میری محبت چھین لی ہے میں اسے معاف نہیں کروں گی حیدر یا تو تم اسے مار دو یا میں اس کی جان لے لوں گی وہ غصے سے چلاتے ہوئے بولی
تم ہاتھ تو لگاؤ میری حوریہ کو میں جان نکال دوں گا مقدم غصے سے اس کی طرف بڑھا جب کردم نے اسے تھام لیا
مقدم پولیس آرہی ہوگی وہ خود ہی اپنے انجام تک پہنچ جائے گی اس سے پہلے ہمیں اسے روکنا ہوگا وہ حیدر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جو حوریہ کو کبھی بھی نقصان پہنچا سکتا تھا
تھوڑی دیر میں یہاں پولیس آ جائے گی

Mirh@_Ch
 

بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_86
#last_Episode
😊
گولی کی آواز کے ساتھ ہی ملک نے ڈر کر اپنا دل تھام لیا ۔
اس سے پہلے کہ گولی حوریہ کو لگتی حیدر کے سامنے آجانے سے اس کا بازو چیڑ گئی
بے وقوف آدمی یہ کیا کیا تم نے سویرا نے چلاتے ہوئے ایک اور گولی اس کی طرف چلانی چاہی لیکن اس سے پہلے ہی مقدم زمین پر پڑا ہوا لکڑی کا ٹکڑا اٹھا کر اس کے ہاتھ پے مار چکا تھا ۔
پستول سویرہ کے ہاتھ سے نکل کر دور جا گری اس نے غصے سے گھور کر مقدم کو دیکھا
حیدر شوٹ ہئر ۔۔۔ ۔ ۔
میں کہتی ہوں گولی مار دواسے یہی تمہارے باپ کی قاتل ہے تمہارے باپ کے قتل کی وجہ ہے ۔
اگر وہ مر جائے گی تو تمہارا بدلہ پورا ہو جائے گا وہ چلاتے ہوئے حیدر سے بولی

Mirh@_Ch
 

کیوں حیدر بھائی ٹھیک کہہ رہی ہوں نہ میں حوریہ کی مسکراہٹ اب بھی قائم تھی۔
ّّجب حیدر نے گھور کر غصے سے اسے دیکھا اور اپنے ریوالور پر ہاتھ رکھتے ہوئے ٹریگردبایا
گولی کی آواز کے ساتھ کارخانےمیں سناٹا چھا گیا

Mirh@_Ch
 

خبردار جو تم نے میری حوریہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی میں تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دوں گا مقدم چلاتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا
مقدم شاہ تمہارا غصہ جائز ہے تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم مجھے زندہ زمین میں گاڑدینا لیکن پہلے اپنی بیوی کی لاش کو زمین میں دفنانا ۔
آج میرے باپ کا بدلہ پورا ہوگا آج مجھے سکون ملے گا ملک کے سامنے اسی کی بیٹی کو ختم کرکے
حیدر نے کہتے ہوئے بندوق ایک بار پھر سے حوریہ کے سر پر رکھی ۔
تم ایسا نہیں کروگے حیدر بہت پچھتاؤ گے تم مقدم غصے سے بولا
مقدم سائیں آپ پریشان نہ ہوں یہ مجھے کچھ نہیں کر سکتے ان میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ یہ مجھ پر گولی چلا سکے ۔

Mirh@_Ch
 

چلانا بند کرو کردم شاہ تمہاری بہن یہاں ہے اور کچھ ہی دیر میں اس کی روح پرواز کر جائے کہ حیدر نے بندوق کی نوک حوریہ کے سر پر رکھتے ہوئے کہا
جبکہ اس کی بات سن کر حوریہ بے خوفی سے دیکھنے لگی اس کی آنکھیں اسے چیلنج کر رہی تھیں جیسے کہہ رہی ہوں کہ اگر ہمت ہے تو مارو مجھے
اور اس چیلنج سے گھبراتے ہوئے حیدرشاہ اس کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہا تھا
نہیں حیدر خدا کے لئے میری بیٹی کو چھوڑ دو اس نے کیا بگاڑا ہے تمہارا خدا کے لئے اسے بخش دو تمہارا گناہ گار میں ہوں میری بچی کو چھوڑ دو وہ بے گناہ ہے کردم کے پیچھے ہی ملک بھاگتا ہوا آیا اور اس کے ساتھ مقدم
آ گئے ملک تمہیں تو دکھانے کے لیے اسےلایا تھا یہاں اپنی بیٹی کی لاش اٹھانے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔
وہ چلاتے ہوئے بولا

Mirh@_Ch
 

اور میری موت دیکھ کر میرے باپ کو اس کے گناہوں کی سزا مل جائے
حوریہ ۔۔۔ حور ۔۔۔۔حوریہ کہاں ہو تم
کردم کی آواز نے ان دونوں کو باہر کی طرف متوجہ کیا
وہ جس خاموشی سے گھر چھوڑ کر گئی تھی اسی خاموشی سے گھر واپس آ چکی تھی
اور اب اپنے نازک ہاتھوں سے کردم کی فیورٹ ڈش بنا رہی تھی تاکہ اسے منا سکے
کردم سائیں میں نے آپ کے خلاف اتنا کچھ بولا آپ نے مجھے ایک تھپڑ لگایا لیکن آپ کو چاہیے تھا کہ آپ مجھے بہت سارے تھپڑ لگا کر مجھے عقل سکھاتے کتنی بری ڈیش ڈیش ہوں میں آپ پر یقین نہیں کیا میں محبت کے لائق ہی نہیں ہوں وہ مسلسل ہاتھ چلاتے ہوئے بربڑا رہی تھی
بس آپ ایک بار گھر آجائیں میں آج آپ کو منا لوں گی میں آپ سے معافی مانگوں گی اور مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے معاف کر دیں گے ۔
وہ اداسی سے پر یقین انداز میں کہتی کردم کی پسند کا کھانا بنانے میں مصروف ہو گئی

Mirh@_Ch
 

جہاں انتہائی خعف زدہ بچا بیٹھا تھا کوئی بالکل خاموش چھوٹا سا بچہ اپنے باپ کو کھونے کے بعد اپنی ماں سے دور ہوئے بیٹھا ہے
اس سے محبت کرنے والے تو بہت ہیں لیکن جس کی محبت وہ چاہتا ہے وہ اس سے دور منوں مٹی تلے سو چکا ہے
کیا ہوا ہمت نہیں کر پا رہے نہ مارنے کی حوریہ اسے دیکھتے ہوئے ذرا سا مسکرا ئی
آپ کی سینے میں آپ کے بابا کا دل دھڑ کتا ہے حیدر بھائی اور وہ نرم سا دل کبھی کسی کی جان نہیں لے سکتا ۔ آپ اتنے برے ہیں نہیں جتنا بننے کی کوشش کر رہے ہیں
میں بہت برا ہوں اور تم یہاں سے زندہ بچ کر نہیں جاؤ گی وہ اسے یقین دلانے والے انداز میں بولا اور اس کے انداز نے حوریہ کو پھر سے مسکرانے پر مجبور کر دیا
میں آپ کی ہمت دیکھنا چاہتی ہوں حیدر بھائی مار دیں مجھے میں بھی چاہتی ہوں کے آپ کے باپ کا بدلہ پورا ہو جائے

Mirh@_Ch
 

آپ مجھے کس طرح سے ماریں گے کہ میرے باپ کو اتنی ہی تکلیف ہو جتنا درد آپ کے اندر بھرا ہے
آپ کی ان سب باتوں سے مجھے بس ایک بات کی تکلیف سب سے زیادہ ہورہی ہے جب آپ کہتے ہیں ملک کی بیٹی ساری زندگی میں نے یہی لفظ اپنے اردگردسنے کسی نے مجھے آہانہ کی بیٹی کہہ کر نہیں پکارا آپ کی اماں سائیں مجھے منہوس اور میری ساس مجھے اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی کہتی ہیں
خیرآپ کو یہ باتیں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے وہ میری زندگی ہے میری تلخ حقیقت ہے آپ وہ کریں جو کرنے آئے ہیں جس سے آپ کا بد لا پورا ہو جائے گا آپ کے دل کو سکون مل جائے گا ماردیں مجھے یقین کریں اس سے اور کچھ ہو نہ ہو میرا باپ پاگل ہو جائے گا ۔
یہ وہ پہلا شخص تھا جو حوریہ کو مارنا چاہتا تھا لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں تھی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھی جا رہی تھی

Mirh@_Ch
 

زندہ میں اس سے مرا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں اسی لئے تمہیں یہاں بلا کر میں نے اسے یہاں بلا لیا
تاکہ میں تمہاری آنکھوں کے سامنے خنجر اس کے سینے میں اتاروں جو کچھ بھی ہوا ہے لیکن میں تمہیں بھی مارنا چاہتا ہوں میں تمہارے باپ کو وہ تکلیف دینا چاہتا ہوں جو تکلیف میں برسوں سے سہ رہا ہوں ۔لیکن میں اتنا بڑا گناہ کیسے کروں بتاؤ مجھے میں تمہیں کیسے ختم کروں وہ اس کے قریب بیٹھا پوچھ رہا تھا
میں کیا بتاؤں آپ کو اس بارے میں بھائی میں تو خود اپنوں کی بے روخی کا شکار ہوں
باپ کی شفقت ماں کی محبت کیا ہے میں نے تو کبھی دیکھی ہی نہیں
شاید اس معاملے میں میرا دکھ بھی آپ جتنا ہی ہو ارے آپ سے پیار کرنے والے آپ کی دادا دادی بہن تو تھی میرے پاس تو یہ لوگ بھی نہیں تھے
ساری زندگی ایک قاتل کی بیٹی کہلا کر میں نے کیسے گزاری ہے اس تجربے سے میں آپ کو بتا نہیں سکتی ۔

Mirh@_Ch
 

خدا کا شکر ہے کے وقت رہتے میں نے تمہیں سب کچھ بتا کر اپنا فرض پورا کر دیا اب تمہاری مرضی تم یقین کرو یا نہ کرو
آج اگر یہاں نہ آتی تو کبھی اپنے آپ کو معاف نہیں کر پاتی چلتی ہوں مجھے اور ان کو شہر کے لئے نکلنا ہے اس نے مجتبیٰ کو چلنے کا اشارہ کیا جبکہ دھڑکن کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کو روک کر اس کا شکریہ ادا کرے
یا پھر اس سے پوچھے کہ اب وہ کردم کو کیسے منائے گی

بہت ساری ہمت جمع کرکے آیا تھا میں اور یہی سوچا تھا کہ مار دوں گا تمہیں لیکن میں تمہارا قاتل بننا چاہتا ہوں مقدم شاہ کے بچے کا نہیں ہاں میں نہیں گر سکتا تمہارے باپ جتنا میں چاہ کر بھی تمہارے باپ جتنا ظالم نہیں بن سکتا
میں نے یہی سوچا تھا کہ میں تمہیں ختم کر دوں گا لیکن پھر میں نے سوچا کہ تمہیں ختم کرنے کا کیا فائدہ
اس سے کیا ہوگا تمہارا باپ تو زندہ رہے گا

Mirh@_Ch
 

انہیں روز ہی تنگ کرنے لگی ۔میں اکثر ان کے ڈیرے پر جاکر ان سے ملنے لگی یہاں تک کہ ایک دن مجبور ہوکر وہ میرے گھر والوں سے بات کرنے کے لیے تیار ہوگئے
اور پھر کل شام کو ہی انہوں نے میرا نکاح مجتبیٰ سے کروانے کے لیے تیار ہو گئے یہ بات سن کر میں اتنی جزباتی ہوگئی کہ ان کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا
اور انہوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر مجھے بہنوں والا مان دیا لیکن مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ تم اس بات کو کس انداز میں لو گی یہ تو میں جانتی ہوں کہ تمہیں اپنی چیزیں بانٹنا پسند نہیں لیکن میں کردم سائیں کو تم سے چھیننے کی کوشش نہیں کر رہی تھی وہ تو میرے بھائی جیسے ہے انہوں نے مجھے میری زندگی کی ہر خوشی دی جس کے لیے میں ان کی بہت شکر گزار ہوں ۔
یہ سب کچھ اگر مجھے آج جنید بھائی نہیں بتاتے تو کل میں ان کے ساتھ ہمیشہ کے لئے شہر جانے والی تھی

Mirh@_Ch
 

لیکن اس کے پیچھے آنے والے شخص کو دیکھ کر خاموش ہو گئی
کیسی ہو دھڑکن ایک ہی کلاس میں رہنے کی وجہ سے اب دھڑکن اور وہ نارمل بات کرتے تھے
اس کے سوال پر دھڑکن نے کوئی جواب نہ دیا بس اسے گھورتی رہی
ان سے ملو یہ ہے میرے شوہر مجتبیٰ
یہ حیدر سائیں کے گاؤں سے ہیں میں اور یہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے لیکن ہمارے خاندان والے شادی کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے ہم نے انہیں منانے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی مجبور ہوکر ہم نے کردم سائیں کا سہارا لیا
پہلے تو وہ نہیں مان رہے تھے لیکن پھر ہم انہیں روز ہی تنگ کرنے ان کے ڈیرے پر جا پہنچتے اور منتیں کرتے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ہماری بات نہیں مان رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جو فیصلہ ہمارے والدین کر رہے ہیں وہیں سہی ہے
لیکن میں اپنی محبت میں بہت مجبور ہو چکی تھی

Mirh@_Ch
 

مقدم میں پرانے کارحانے جا رہا ہوں تم جلدی وہاں پہنچاو میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کو کچھ بھی ہو ملک نہ جانے کیا کیا بول رہا تھا جب کہ مقدم فون بند کے گاڑی کی طرف بھاگا

اسے حویلی آئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی ۔لیکن حویلی میں آج کوئی بھی موجود نہ تھا یہاں تک کہ کوئی نوکر بھی نہیں ۔
سب لوگ کہاں چلے گئے تھے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔
وہ کمرے میں آگئی اور تھوڑی دیر آرام کرنے لگی۔ لیکن کردم کی بے وفائی کے دکھ نے اس سے ہر سکون چھین لیا تھا
کل سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا بھوک کی شدت نے اسے کمرے سے نکلنے پر مجبور کیا تو سامنے سے ہی ہاجرہ آتی نظر آئی
جیسے دیکھتے ہی دھڑکن کے ماتھے پر بل پڑ گئے اس کا گھر توڑنے کے بعد اس لڑکی میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ وہ اسی کی حویلی میں قدم رکھتی دھڑکن کا دل کیا کہ وہ اسے جان سے مار دے

Mirh@_Ch
 

اب اپنی مرضی سے واپس آؤ گی میں تو لینے نہیں آؤں گا خود سے کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیزیں زمین پر پھینک چکا تھا ۔جب اس کا فون بجا ملک کا فون آتا دیکھ اس نے فوراً اٹھا لیا

مقدم مسلسل حوریہ کے نمبر پر فون کر رہا تھا لیکن حوریہ نے فون نہیں اٹھایا تھک ہار کر حویلی واپس جانے لگا اس کے نمبر پر ملک کا فون آنے لگا
جو اس نے فورا اٹھا لیا
مقدم مجھے فون آیا تھا مجھے پتا چل گیا ہے کہ وہ شخص کون ہے جو حوریہ کی جان لینا چاہتا ہے اسے اغوا کرکے کہیں لے گیا ہے
خدا کے لئے مقدم میری بیٹی کو بچا لو ۔
نہ جانے وہ کس حال میں ہو گی اس نے مجھے پرانے کارخانے میں بلایا ہے وہ حیدر شاہ ہے فیضان شاہ کا بیٹا فیضان شاہ کا بیٹا مارنا چاہتا ہے میری بیٹی کو اور اسی نے مجھ پر بھی حملہ کروایا تھا

Mirh@_Ch
 

لیکن گھر آ کر اس نے دیکھا کہ دھڑکن یہاں نہ تھی
ساتھ والے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس نے چابی مانگی تو کرن نے بتایا کہ دھڑکن کچھ دیر پہلے حویلی جا چکی ہے پر جاتے ہوئے بہت رو رہی تھی زاہد نے اس سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسے حویلی چھوڑ آئے گا لیکن اس نے زاہد کی بات نہیں مانی ۔
گھر کی چابی لے کر وہ واپس گھر آ گیا اسے پتہ تھا دھڑکن میں بچپنا ہے لیکن وہ اپنے رشتے کو اتنے سنگین موڑ پر کیسے لا سکتی ہے کہ اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر وہ اسے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہے کیا اس کی محبت اس کا یقین اتنا بے مول تھا
اب اس سے اپنا غصہ کنٹرول نہیں ہو رہا تھا آج پہلی بار اسے کسی پر اس حد تک غصہ آیا تھا وہ دھڑکن کو ایک بہت سمجھدار لڑکی سمجھنے لگا تھا اور اس لئے اس سے اس طرح کی بیوقوفی کی سے کوئی امید نہ تھی
ٹھیک ہے دھڑکن تم اپنی مرضی سے گئی

Mirh@_Ch
 

شاید اس سے آپ کو سکون مل جائے گا آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں نہ آپ کو لگتا ہے کہ مجھے مار دینے سے آپ کو بہت سکون محسوس ہو گا جو آپ نے سالوں سے محسوس نہیں کیا تو اپنے آپ کو روکیں مت مار دیں مجھے
کیونکہ بار بار اس شخص کی بیٹی کہلانے سے بہتر ہے کہ میں مر جاؤں ۔حوریہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے چلا کر کہا

کردم جلدی گھر واپس آیا تھا وہ دھڑکن کو منانا چاہتا تھا رات دھڑکن کی باتوں نے اتنا غصہ دلایا کہ وہ اس پر ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہوگیا لیکن اس کے بعد وہ بہت پچھتا رہا تھا وہ لڑکی اس کی جان تھی جس کے بغیر رہنے کے بارے میں اب تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
کردم نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسے سب کچھ بتا دے گا اسی لئے وہ اسے منانے جلدی گھر واپس آیا
راستے سے اس نے کیٹی کا فوڈ اور دھڑکن کے لئے بہت ساری چوکلیٹ لی جس سے اسے امید تھی کہ وہ جلدی مان جائے گی

Mirh@_Ch
 

میرے بابا نے ساری زندگی سب کا بلا چاہا وہ کبھی کسی کے بارے میں برا نہیں سوچ سکتے تھے یہ فیکٹری دیکھ رہی ہو تم یہ انہوں نے غریب مزدوروں کے لیے بنوائی تھی ۔لیکن اس کو شروع کرنے سے پہلے ہی تمہارے باپ نے میرے بابا کو مار ڈالا
وہ گاؤں جس کو میرے بابا کامیاب بنانا چاہتے تھے آج اندھیرے میں ڈوب کر رہ گیا تمہارے باپ کی وجہ سے
میرےبابا جو اپنے بچوں کو ہر خوشی دینا چاہتے تھےوہ اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے تھے اس کی بیٹی نے ساری زندگی یتیموں سی زندگی گزاری تمہارے باپ کی وجہ سے میں نے کسی کی محبت نہیں دیکھی ۔تمہارے باپ کی وجہ سے میں نے اپنا بچپن کھو دیا ۔
تمہارے باپ کی وجہ سے ۔۔۔
بس کریں خدا کے لئے بس کریں بار بار شخص کو میرا باپ نہ کہیں آپ مارنا چاہتے ہیں نہ مجھے مار دیں شاید اس سے آپ کا بدلا پورا ہو جائے گا

Mirh@_Ch
 

اپنے سامنے حیدر کو دیکھ کر حوریہ بے یقینی سے دیکھتی رہ گئی
کیا ہوا مسز مقدم شاہ یقین نہیں آرہا تو یقین کر لو میں ہی ہوں جو تمہیں جان سے مارنا چاہتا ہوں
اور میرے سامنے یہ ڈرامے مت کرنا کہ تم ایسا کیوں کرنا چاہتے ہو تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو وغیرہ وغیرہ اور میرے سامنے ایک آنسو بھی مت بہانا
وجہ تو تم جانتی ہی ہو کردم شاہ اور مقدم شاہ باپ کا بدلہ بھول سکتے ہیں لیکن میں نہیں تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں اپنے ماں باپ کے بغیر کیسے رہا ہوں
میری بہن ساری زندگی اپنے نانا کے ٹکڑوں پر پلتی رہی صرف تمہارے باپ کی وجہ سے
اپنے باپ کا سایہ ساری زندگی محسوس نہیں کر سکا صرف تمہارے باپ کی وجہ سے
اس سے پہلے میں کوئی خواہش کرتا میرا باپ میری خواہشیں پوری کرتا تھا ۔

Mirh@_Ch
 

آج وہ سب لوگ ان کے گھر آنے والے تھے لیکن کل شام کو ہی سے پتہ چلا کہ سویرا سیڑھیوں سے گر گئی ہے اور اس وقت شہر کے ہوسپٹل میں ہے ۔
اسی لیے اس نے تائشہ کواس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا یہی وجہ تھی کہ تائشہ آج پھر حیدر کے گھر جانے کے لیے تیار تھی ۔
جبکہ جنید آج گھر پر ہی تھا اور وہ چاہتا تھا کہ تائشہ سارا دن اس کے ساتھ گزارے

Mirh@_Ch
 

جس دن سے شاہ سائیں نے اسے بتایا تھا تائشہ کی نظروں میں انہوں نے کبھی کردم کے لیے محبت نہیں دیکھی اس دن سے اس کے دل میں تھوڑی سی تائشہ کو لے کر جو ہچکچاہٹ تھی وہ بھی ختم ہو گئی
اور اس دن اماں سائیں کے یہاں آنے کے بعد تائشہ نے ساری حقیقت کھول کر اس کے سامنے رکھ دی ۔
اور اس کے بعد سے لے کر اب تک جنید نے کبھی کردم کا ذکر اس کے سامنے نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ آپنے اور اس میں کسی تیسرے کو لانا چاہتا تھا ۔
اور جب سے اسے تائشہ کی پریگنینسی کے بارے میں پتہ چلا تھا اس کی تو مانو دنیا ہی مکمل ہو چکی تھی وہ تائشہ اور اپنے ہونے والے بچے کو لے کر بہت خوش تھا
لیکن اس سے زیادہ خوشی اسے اس بات کی تھی اس شاہ سائیں اس کے گھر آکر تائشہ کو واپس حویلی بلانا چاہتے تھے وہ تائشہ کے لیے اس کا میکا کھول دینا چاہتے تھے