Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_85
#2nd_last_Episode
😊
صبح جنید کی آنکھ کھلی تو قریب ہی تائشہ کو تیار ہوتے دیکھا
کہاں جا رہی ہو یوں بجلیاں گرا کے میری حسین سجنی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا
جنید سائیں مجھے تنگ نہ کریں فلحال میں بہت بیزی ہوں وہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر پھر سے تیار ہونے لگی
جنید سائیں بھی کہہ رہی تھی اور آپ بھی مطلب صاف تھا کہ اسے اس سے کوئی مطلب تھا
تائشہ آج تم نہیں جا رہی ہو حیدر سائیں کی حویلی یار عوز جاتی ہو وہاں اتنا تیار ہو کہ اور جب واپس آتی ہو تو کہتی ہو تھکی ہوئی ہوں جیسے ہل چلا کے آئی ہو تھوڑا سا تو اپنے عاشق پر رحم کرو کب تک چلے گا ایسے
یہاں میں تمہارے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب گیا ہوں اور تم ہو جس کے نخرے ہی نہیں ختم ہوتے

Mirh@_Ch
 

وہ اونچی اونچی آواز میں چیخ و پکار کرتی ہوئی رو رہی تھی لیکن وہ بالکل وہاں اکیلی تھی ایک پیلرکے ساتھ اس کے دونوں ہاتھوں کو باندھا گیا تھا وہ کتنی دیر سے یہ وہیں بیٹھی تھی
اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ تو اپنی دوائیاں کھا کر سو چکی تھی لیکن وہ یہاں کیسے آئی کون لایا تھا اسے یہاں ابھی تک وہ اونچی آواز میں چلا رہی تھی کہ کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی اور پھر ایک سایہ برآمد ہوا اور پھر اس سائے کے ساتھ وہ شخص
ہاں وہ شخص اس کا دشمن جو اس کی جان لینا چاہتا تھا

Mirh@_Ch
 

تو مجھے یہاں لانے سے پہلے حوریہ کو بھی لے آتے اب تک تو وہ شاید زندگی اور موت کا سفر بھی طے کر چکی ہوگی ۔
سویراقہقہ لگاتے ہوئے بولی جبکہ سویرا کے انداز نےمقدم کو حوریہ کو فون کرنے پر مجبور کر دیا

کون ہو تم کیوں اٹھا کے لائے ہو مجھے یہاں پر خدا کے لئے مجھے جانے دو یہ کون سی جگہ ہے میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے
حوریہ اونچی اونچی آواز میں چلا رہی تھی وہ پہچانتی تھی اس کار خانے کو یہ کارخانہ اس کے کالج کے راستے میں آتا تھا وہ اکثر کردم سے پوچھتی تھی کہ یہ کارحانہ بند کیوں ہے جس کے جواب پر کردم کہا کرتا تھا
کہ یہ کارحانہ پھوپھا سائیں نے بنوایا تھا اور ان کی موت کے بعد سے بند کر دیا گیا
حوریہ۔نے اندر سے یہ کارخانہ تو کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن اسے یقین تھا یہ وہی جگہ ہے لیکن اسے یہاں پر کون لا سکتا ہے

Mirh@_Ch
 

یور ٹائم از اوور اب مجھے بتاؤ کہ وہ کون ہے ۔۔۔۔؟ شاباش اب جلدی سے مجھے بتاؤ کہ وہ شخص کون ہے جو میری حوریہ اور ملک کو مارنا چاہتا ہے ۔
اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں واپس لندن بھجوا دوں
لیکن اگر تم نے مجھے اس آدمی کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تو تمہیں ساری زندگی کے لیے قید کر کے دنیا سے غائب کر ہوگا ۔میں تمہیں اتنا اکیلا کر دوں گا کہ خود سے بھی بات نہیں کر پاؤ گی ۔
تمہارے پاس آخری موقع ہے بتادو مجھے وہ شخص کون ہے جو حوریہ کو مارنا چاہتا ہے وہ غصے سے اس کے قریب بیٹھا بول رہا تھا جب کہ اس کی ساری بات سننے کے بعد سویرا قہقہ لگا کر ہنسی تھی
ایسے ہی تو نہیں ہوئی محبت آپ سے مقدم شاہ ۔اگر آپ میرے نہ ہو سکے تو ہونے میں آپ کو حوریہ کا بھی نہیں دوں گی۔
اگر آپ مجھے اور میرے اصل کو پہچان چکےہیں

Mirh@_Ch
 

تمہاری یہ آنکھیں تمہارے اندر کی حقیقت کا آئینہ ہے تمھاری آنکھیں تمہارے اندر پلنے والے شیطان کو ظاہر کرتی ہیں یہ آنکھیں بتاتی ہیں کہ تم کس حد تک مکارہو کتنا فریب بھرا ہے تم میں تمہاری آنکھیں تمہارا اندر اور باہر بیان کرتی ہیں اور تمہیں لگا کہ میں تمہاری تعریف کرتا ہوں
نہیں سویرا میں تمہاری تعریف نہیں کرتا تھا ۔میں تمہیں سچ بتاتا تھا کہ آنکھوں کو چھپا کر وار کرو ۔شاید کامیاب ہو جاؤ تمہاری آنکھیں سچ میں سچ بولتی ہیں
تم کیا ہو کیا تھی یہ میں پہلے دن سے جانتا ہوں تمہارے کڈنپیگ والے ڈرامے کے ایک ایک لفظ سے واقف تھا میں
لیکن میں نے کچھ نہیں کہا تم یہ کھیل جس طرح سے چلا رہی تھی میں نے ویسے ہی چلنے دیا
کیوں کہ اس کھیل کے دوران مجھے یہ پتہ چلا تھا کہ تم میری حوریہ کو جان سے مارنا چاہتی ہو اور اس سب میں تمہارے ساتھ کوئی اور بھی شامل ہے

Mirh@_Ch
 

اپنی کوکھ میں پلنے والے بچے کی پرواہ کیے بغیر میرے بچے کا قتل ۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ۔ خبردار سویرا جب تم نے میری حوریہ کے خلاف ایک اور غلط لفظ استعمال کیا مجھے لگ رہا تھا کہ مجھے تمہیں تھوڑا وقت دینا چاہیے تاکہ تم سمجھ جاؤ لیکن تم ۔۔گھٹیا میری حوریہ نہیں گھٹیا تم ہو گری ہوئی میری حوریہ نہیں گری ہوئی تم ہو ۔ارے تم تو اتنی گری ہوئی بے غیرت عورت ہو کہ تم نے نا اپنے باپ کی پرواہ ہے اور نہ ہی اپنے خاندان کی
تمہیں کیا لگتا ہے میری حوریہ تمہارے بچے کو نقصان پہنچانا چاہے گی ۔وہ ایسا خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی ویسے ڈرامہ کمال کا کیا ہے تم نے ریپ کا بچے کا لیکن وہ کیا ہے نہ کہ تم اس ڈرامے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
کیونکہ تمہاری یہ آنکھیں ۔۔۔۔۔۔ اپنی آدھی ادھوری بات پر وہ دلفریب انداز میں مسکرایا

Mirh@_Ch
 

ہسپیٹل کے کمرے میں چلا چلا کر سویرہ تھک چکی تھی جبکہ اماں سائیں اور پھوپھو اسے مسلسل اسے گھورے جا رہیں تھیں
ان کے چہرے سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ سویرا کے ڈرامے سے امپریس نہیں ہورہی لیکن سویرا کی چیخ و پکار ابھی تک ختم نہ ہوئی تھی ۔
جب سے اسے ہوش آیا تھا وہ حوریہ کو مجرم ٹھہرائے جا رہی تھی۔
مقدم کو کمرے میں آتے دیکھ کر وہ اور زیادہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
مقدم سائیں مجھے پتا ہے اور کوئی مجھ پر یقین کریں یا نہ کریں لیکن آپ ضرور کریں گے حوریہ کو اپنی اولاد کی اتنی خوشی تھی کہ اس سے میری خوشیاں برداشت نہ ہوئی۔ اسی لئے اس نے مجھے دھکا دیا تاکہ میری ساری خوشیاں مجھ سے چھین لے ۔
اس نے مجھ سے میرا سب کچھ ہی نہیں لیا ۔کچھ بھی تو نہیں بچا میرے پاس ۔بالکل خالی کر کے رکھ دیا اس نے میرا وجود ۔وہ گھٹیا لڑکی اتنی گرگئی

Mirh@_Ch
 

یہ ذرا سی بات آپ کے لیے ہوگی شاید آپ کے قریب اسی طرح پہلے بھی لڑکیاں آتی رہیں ہوں گی جس کی وجہ سے آپ کو یہ ساری باتیں بری نہیں لگتی لیکن معاف کیجیے گا میں نے اپنی زندگی کے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا تھا
جیسی میں ہوں مجھے ویسا ہی شوہر چاہیے اگر میں صرف آپ کی بن کے رہوں گی تو آپ کو صرف میرا بن کر رہنا ہوگا لیکن اب آپ صرف میرے نہیں ہیں یا شاید آپ کبھی میرے تھے ہی نہیں اور اس بات کا احساس کل اس لڑکی کو آپ کے قریب دیکھ کر مجھے ہو گیا تھا
دھڑکن اس کے قریب سے اٹھتی ہوئی واش روم میں گھس گئی ۔جبکہ کردم اس کی باتوں اور حرکتوں کو بیوقوفی قرار دے رہا تھا ۔

یہ سب کچھ حوریہ کی وجہ سے ہوا ہے اس نے دھوکا دیا ہے مجھے وہ میرا بچہ نہیں چاہتی تھی ۔
اس کی وجہ سے میرا بچہ مجھ سے دور ہو گیا اس نے مجھ سے میری ہر خوشی چھین لی میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی

Mirh@_Ch
 

جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو وہی سچ بھی ہو اب تم غور سے میری بات سنو میں جو کہہ رہا ہوں ۔
کردم نے سمجھانے والے انداز میں کہا
مجھے حویلی جانا ہے کردم سائیں وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی
اس طرح سے غلط فہمی کا شکار ہوکر تو جانے نہیں دوں گا میں اس غلط فہمی کی بنا پر اپنی اور تمہاری زندگی کے یہ خوبصورت دن برباد نہیں کروں گا ۔
اسی لیے بہتر ہوگا کہ میری بات سنو وہ رعب دار لہجے میں بولا ۔
مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سنی اور نہ ہی آپ کی کسی بات پر یقین کرنا ہے ۔مجھے حویلی جانا ہے ۔اپنے گال پر پھسلتے آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کرتی وہ منہ پھیر گئی
دھڑکن اب تم بےکارمیں بات کو مزید بڑھا رہی ہو جبکہ یہ بات اتنی بڑی ہے ہی نہیں تم ذرا سی بات کو خود پر سوار کر رہی ہو ۔

Mirh@_Ch
 

جب کہ چہرے پر کردم کے پورے ہاتھ کا نشان تھا کردم آہستہ سے اس کے قریب آیا اور اس کے چہرے پر اپنی انگلیوں کے نشان پر اپنے لب رکھے
اسے اپنے قریب پاکر دھڑکن کی آنکھ فورا کھل گئی
ایم سوری میری جان جو بھی تھا مجھے تم پہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا لیکن تم نے بھی تو غلط بات کی میں جانتا ہوں ساری رات تم اسی دکھ میں روتی رہی ہو گی کہ میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا اپنی غلطی پر ایک پرسنٹ بھی غور نہیں کیا ہوگا
دیکھو دھڑکن تم نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ وہ لڑکی ڈیرے پر میرے ساتھ اتنے قریب کیا کر رہی تھی
میں نے جو دیکھا اس کے بعد پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی دھڑکن اس کے ہاتھ خود سے جھٹکتی اٹھ کر بیٹھ گئی
بالکل سہی آنکھوں دیکھی ہر بات پر یقین کرنا چاہیے لیکن ضروری نہیں کہ جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو وہی سچ بھی ہو

Mirh@_Ch
 

اگر نور نے سب کے سامنے کہا کہ اس نے جان بوجھ کر سویرا کو دھکا مارا ہے تو یہ نہ ہو کے نانا سائیں اسے پاگل خانے بھیجوا دیں حیدر پریشانی سے اپنی پیشانی مسل رہا تھا
آپ کو درد ہو رہا ہے لائیں میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں ۔اس نے دونوں ہاتھ آگے کرتے ہوئے حیدر کے سر پر ہاتھ رکھیں
اس کی نرم و نازک انگلیوں کو حیدر چاہ کر بھی پیچھے نہ کر سکا
اور خاموشی سے اس کے قریب لیٹ کراس کی انگلیوں کی نرماہٹ محسوس کرنے لگا

کردم کی آنکھ صبح چڑیوں کے چہکنے سے کھولی ۔وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آیا
اس کا ارادہ سیدھا دھڑکن کے کمرے کی طرف جانے کا تھا
وہ دھڑکن کے کمرے میں آیا تو دروازہ بند تھا لیکن لاک نہیں تھا اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا
بیڈ پر دھڑکن گہری نیند سو رہی تھی آنکھوں کی پتلیاں سوجی ہوئی تھی ۔مطلب صاف تھا کے وہ کافی دیر روتی رہی

Mirh@_Ch
 

اگر نور نے سب کے سامنے کہا کہ اس نے جان بوجھ کر سویرا کو دھکا مارا ہے تو یہ نہ ہو کے نانا سائیں اسے پاگل خانے بھیجوا دیں حیدر پریشانی سے اپنی پیشانی مسل رہا تھا
آپ کو درد ہو رہا ہے لائیں میں آپ کا سر دبا دیتی ہوں ۔اس نے دونوں ہاتھ آگے کرتے ہوئے حیدر کے سر پر ہاتھ رکھیں
اس کی نرم و نازک انگلیوں کو حیدر چاہ کر بھی پیچھے نہ کر سکا
اور خاموشی سے اس کے قریب لیٹ کراس کی انگلیوں کی نرماہٹ محسوس کرنے لگا

کردم کی آنکھ صبح چڑیوں کے چہکنے سے کھولی ۔وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آیا
اس کا ارادہ سیدھا دھڑکن کے کمرے کی طرف جانے کا تھا
وہ دھڑکن کے کمرے میں آیا تو دروازہ بند تھا لیکن لاک نہیں تھا اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا
بیڈ پر دھڑکن گہری نیند سو رہی تھی آنکھوں کی پتلیاں سوجی ہوئی تھی ۔مطلب صاف تھا کے وہ کافی دیر روتی رہی

Mirh@_Ch
 

اور یہ نور خود اپنی زبان سے اقرار جرم کر رہی تھی
دیکھو نور تم نے کچھ نہیں کیا جو بھی ہو غلطی سے ہوا اگر تم سے کسی نے پوچھا تو تم یہی کہو گی کہ کہ تم نے دھکا جان بوجھ کر نہیں مارا وہ اسے سمجھا نہیں پا رہا تھا کہ وہ اپنے بچپنے میں سویرہ کا کتنا بڑا نقصان کر چکی ہے
جبکہ نور سینہ ٹھوک کر کہہ رہی تھی کہ یہ میں نے کیا ہے اور اب مقابل کی طرف سے ہونے والے حملے کے لیے بھی تیار تھی۔
جھوٹ بولنا گندی بات ہوتی ہے اور میں سچ بولوں گی میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں نے اپنی دوست کو بچانے کے لئے کیا ہے ۔
اگر وہ حور کو دھکا مار دیتی تو حود کو چوٹ لگتی اچھا ہوا اسی کو چوٹ لگ گئی نور منہ بناکر بولی
حیدراسے سمجھا نہیں پا رہا تھا
مجھے حوریہ سے بات کرنی ہوگی ہوسکتا ہے وہ نور کو سمجھا پائے ۔

Mirh@_Ch
 

کل تک جو ان کے دل میں سویرہ کے لیے تھوڑی سی نرمی جاگی تھی آج وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔سویرا نے ان کے خاندان کی عزت کو دو کوڑی کا کر دیا ۔
اگر احمد کی حالت ٹھیک ہوتی تو اس کا گریبان پکڑ کر ان سے پوچھتے کہ یہ تربیت کی ہے تم نے اپنی بیٹیوں کی کیا اس تربیت کے لیے تم انہیں خون خرابے سے دور لے جاکر اپنی بیٹیوں کو پالا کیا یہ سبق دیا ہے کہ اپنے خاندان کی عزت پر کس طرح سے پانی پھیرا جاتا ہے

میں سچی کہہ رہی ہوں اگر میں اس کو دھکانہ مارتی تو وہ حور کومارتی پھر حور کو چھوٹ آتی ۔لیکن حور میری سہیلی بن گئی ہے اس لیے اس کو درد ہوتا تو مجھے بھی درد ہوتا
اور میں نے اس سویرا کو دھکا مار دیا اب وہ مجھ سے بدلہ لینے آئے گی وہ جب سے گھر آئی تھی حیدر کا سر کھائے جا رہی تھی
حیدر پہلے ہی سویرا کے بارے میں سوچ کر پریشان تھا

Mirh@_Ch
 

ڈاکٹر مقدم کے پاس کھڑی اسے تفصیل بتا رہی تھی
جبکہ ڈاکٹر کے بات نے رضوانہ اور نازیہ کو حیران و پریشان کردیا یہ جھوٹی پریگنسی اتنی آگے تک کیسے چلی گئی یہ سب کچھ جھوٹ تھا سویرا تو جھوٹ بول رہی تھی تو یہ بچہ کس کا تھا
اور 4 ماہ پہلے تو وہ انگلینڈ میں تھی تو کیا وہ سچ میں کسی کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی کیا وہ اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کو بے مول کر چکی تھی
دادا سائیں خاموشی سے ڈاکٹر کی بات سن رہے تھے مقدم نے انہیں سویرا کے جھوٹے ریپ کے ڈرامے کے بارے میں بتایا تھا لیکن اس کی پریگنسی کا جان کر وہ خود ہی سے نظر ملانے کے قابل نہ رہے
احمد سائیں کو اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتائیے گا مقدم سائیں وہ پہلے ہی اپنی بیماری سے لڑ رہا ہے اپنی اولاد کی بے غیرتی سے لڑ نہیں پائے گا داداسائیں بس اتنا ہی کہہ پائیں

Mirh@_Ch
 

بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_84
#3rd_Last_Episode
سویرا کی طبیعت زیادہ بگڑگئی تھی اسے فوراً شہر لے جایا گیا
جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنا بچہ کھو چکی ہے
ڈاکٹر کے بات سن کر جہاں رضوانہ پھپھو سائیں اور نازیہ اماں سائیں حیران ہوئیں وہیں مقدم کے چہرے پر بھی پریشانی تھی
دیکھئے ان کی طبیعت بہت خراب ہے ۔اور اوپر سے وہ بہت کمزور بھی تھی ۔ان چار مہینوں میں انہوں نے بہت بار اس بچے کو گرانے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے ان کی پریگنسی ویسے بھی بہت کریٹیکل تھی ۔
یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ ان کو ایک جھٹکا لگنے سے بھی نقصان ہو سکتا تھا یہاں تو وہ سیڑھیوں سے گری ہیں اسی لیے آئی ایم سوری ہم آپ کا بچہ نہیں بچا پائے جبکہ پیشنٹ کی حالت بھی بہت زیادہ ٹھیک نہیں ہے

Mirh@_Ch
 

بار بار حوریہ کو دیکھنا اس کے آگے پیچھے گھومنا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا
وہ تینوں سڑھیوں سے اترنے لگی جب سویرا حوریہ کی سائیڈ پہ ہوگئی سویرا نے حوریہ کے کندھوں پر زور ڈال کر اسے نیچے کی طرف دکھکیلنا چاہا شاید وہ یہ دکھانے کی کوشش کر رہی تھی کہہ وہ خود گررہی تھی کہ حوریہ بیچ میں آ کر سیڑھیوں سے گر گئی لیکن اس سے پہلے کہ وہ حوریہ کو دکھا دیتی نوری نے حوریہ کو کھینچ کر اپنی طرف کر لیا اور نوری کے پیر سے پھسل کر سویرا خود سیڑھیوں سے نیچے گر گئی ۔
اور اس سے گرتے ہی حویلی میں دردناک چیخیں گونج اٹھی
NeXt 9.bjy

Mirh@_Ch
 

اس کی ماں بھی کب سے نور کو دیکھے جا رہی تھی کہ یہ پاگل لڑکی اس طرح سے نارمل بات کیسے کر رہی تھی وہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی
لیکن ابھی تک کسی بہوکے روپ میں قبول نہیں کر پائی تھی یا شاید کرنا نہیں چاہتی تھی
جب کہ حیدر نے ایک سیکنڈ کے اسے خود سے الگ نہ کیا دادا سائیں حیدر کو دیکھ کر بہت فخر محسوس کر رہے تھے
اس نے جو کام کیا تھا وہ گاؤں میں کوئی نہیں کر سکتا تھا ایک ایسی لڑکی کا سہارا بننا جس کے پاس اس کی اپنی عزت بھی نہیں کوئی چھوٹی بات نہ تھی
اور پھر اسی لڑکی کو عزت کے ساتھ نہ صرف اپنی حویلی میں رکھنا بلکہ پورے گاؤں میں ایک مقام دینا
حیدر شاہ جیسا شخص ہی کر سکتا تھا
ان کے واپس جانے کا وقت ہوا تو نوری نے نوٹ کیا کہ سویرا حوریہ کے آگے پیچھے گھوم رہی ہے لیکن نوری کو اس کی نیت صاف نہیں لگ رہی تھی

Mirh@_Ch
 

اس کے لفظوں نے ہاتھ اٹھانے پر مجبور کردیا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس بات کو فلحال نہیں سمجھے گی لیکن دھڑکن کی بے اعتباری نے کتدم کو بہت مایوس کیا تھا
فی الحال دوسرے کمرے میں جارہی ہوں صبح حویلی واپس چلی جاؤں گی مجھے آپ جیسے دوغلے انسان کے ساتھ نہیں رہنا ۔
دھڑکن اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑواتی باہر جانے لگی
رشتے اعتبار سے بنتے ہیں دھڑکن اور تم مجھ پر کتنا بھروسہ کرتی ہوںخ میں دیکھ چکا ہوں تم حویلی واپس جاو یالندن مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے کمرے سے نکلتے ہی کردم نے دروازہ اندر سے بند کر دیا جبکہ دوسرے کمرے میں آنے کے بعد دھڑکن پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

حویلی میں سب اس سے جوش و خروش سے ملے تھے
اور سب کے ساتھ نورملی بات کر رہی تھی
حوریہ نے یہی اندازہ لگایا تھا شاید نور کم گو ہے لیکن اس سے سے مل کر اسے بہت اچھا لگا تھا

Mirh@_Ch
 

چٹاخ۔ ۔اس سے پہلے کے دھڑکن نہیں بات پوری کرتی کردم کاہاتھ اس کی کام وہ بند کر گیا ۔
میں نے کہا نہ پہلے میری بات سن لو پھر اپنی بکواس کرنا لیکن نہیں خبردار جو آئندہ اپنی زبان سے یہ الفاظ نکلے ۔
کیا سمجھ کے رکھا ہے تم نے مجھے اتنی گھٹیا سوچ دھڑکن میرے بارے میں اتنا یقین نہیں ہے تمھیں مجھ پر اتنا گھٹیا اتنا گرا ہوا لگتا ہوں میں تمہیں کردم بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا
اس کے سخت بھاری ہاتھ سے دھڑکن کےہونٹ پھٹ چکے تھے ۔جس سے اب خون نکلنے لگا تھا
اگر آپ سچے ہوتے تو تو لفظوں سے بتاتے نا کہ اپنی آواز کی اونچائی میں میری آواز کو دبانے کی کوشش کرتے
وہ اس کے سامنے کھڑی ہوئی اپنا تکیہ اٹھا کر باہر نکل گئی
کہاں جا رہی ہو تم وہ اس کا ہاتھ تھام کر غصے سے پوچھنے لگا وہ اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا لیکن دھڑکن کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھی ہ