میں کھانا کھا چکی ہوں آپ کھالیں وہ کہہ کرکروٹ بدل گئی
کردم نے ایک نظر اس کی پیٹھ دیکھی پھر بے اختیار مسکرا دیا
اتنی انسیکیورٹی وہ بڑبڑا اسے یقین تھا دھڑکن کھانا نہیں کھایا ہوا
اٹھ جاو کھا لو اس نے اس کا ہاتھ تھام کر اٹھانے کی کوشش کی تو دھڑکن نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا
میں نے کہا نہ میں کھا چکی ہوں آپ کھا لے سونے دیں مجھے تنگ نہ کریں اس بار وہ چادر اپنے منہ تک لے گئی
دھڑکن یہ کیا بچپنا ہے اٹھو میں پوری بات بتاتا ہوں وہ چادر کھینچ کر بولا
کونسی پوری بات میں خود دیکھ آئی ہوں اپنی آنکھوں سے وہ لڑکی آپ کی سینے سے لگی ہوئی تھی اس سے بڑی اور کوئی بات ہو سکتی ہے اگر ہو سکتی ہے تو مجھے مت بتائیں کیوں کہ میں کسی بات پریقین کروں نہیں گی تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے
سرپنچ بننے کی آرمیں گاؤں کی لڑکیوں کا استعمال ۔۔۔۔۔
جنید نے دھڑکن کو گھر چھوڑنے کے بعد کردن کو فون پر بتایا تھا کہ دھڑکن ڈڑے پر آئی تھی
لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ وہ واپس چلی گئی اسنے واپسی پر جنید سے کوئی بات بھی نہیں کی تھی جس سے وہ اندازہ لگا سکتا لیکن شاید کردم اس بات کا اندازہ لگا چکا تھا
وہ شام کو گھر واپس آیا تو ھڑکن اپنے کمرے میں تھی۔
فی الحال اسے بہت بھوک لگی تھی اسی لئے دھڑکن سے بات کرنے سے پہلے وہ کچن میں آیا
کھانا تیار تھا جیسے ٹرے میں رکھ کر کمرے میں آ گیا
دھڑکن یہ کونسا وقت ہے سونے کا ابھی تو شام کے چھے بجے ہیں اٹھو شاباش کھانا کھا لو پھر بات کرتے ہیں کردم اسے اٹھاتے ہوئے بولا
خیر وہ کیا کھیلتا کھلتی تو وہ تھی کبھی اپنی گڑیا کے کپڑے بناتی تو کبھی اس کی شادی کروا دیتی
وہ تو بس اس معصوم کے ساتھ ہونے والے ظلم کو سوچ کر بے بس ہو جاتا کاش وہ اس بندے کو اپنے ہاتھوں سے مارتا
سنو نور کل میں اور تم میرے نانا سائیں کے گھر جائیں گے وہاں پر تم نے کوئی بے وقوفی والی حرکت نہیں کرنی ۔
یہ بالکل ایک گیم جیسا ہوگا یہ بالکل ایک کھیل ہے اگر تم نے وہاں کوئی بھی فالتو بات کی یا کوئی بھی الٹا سیدھا کام کیا تو ہم ہار جائیں گے اور میں جانتا ہوں میری نور مجھے ہارنے نہیں دے گی
وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولا وہ اپنی ماں پر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ نور جلد ہی بہت ٹھیک ہو جائے گی کہ اس کی بات سن کر نور نے ہاں میں سر ہلایا مطلب کے وہ اس کھیل کے لئے تیار ہے
❤
حیدر نور کو جس طرح سے کہتا وہ اسی طرح سے کرتی ایک پرسنٹ بھی وہ گڑبڑ نہیں کر رہی تھی
سارا دن وہ بالکل سیریز شکل بنا کر سب نوکروں کو ڈانٹتی رہتی
دادا اور دادی کو سلام کرکے ان کے پاس گھنٹوں بیٹھی رہتی اور ان کی باتیں سنتی رہتی
لیکن جب وہ باتیں کرتی تب اس بات کا اندازہ ہوجاتا کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں
اور پھر جب رات کو حیدر کمرے میں آتا وہ اسے ایک ایک بات بتا کر اتنا ہنستی کہ حیدر کو بھی ہنسنے پر مجبور کردیتی
لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ حیدر کی ہر بات پر عمل کرتی ہے جس طرح سے اس کے ماں باپ نے اسے سمجھا کر بھیجا تھا کہ حیدر ہی تمہارا سب کچھ ہے اس کی ہر بات ماننا اور جو وہ کہے وہی کرنا وہ اپنے گھر سے کاٹھ بات کرآئی تھی
حیدر جو کہتا ہوں وہ وہی کرتی اور پھر اس کے کہنے کے مطابق رات کو وہ اس کے ساتھ کافی دیر کھیلتا
لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی سارے خوشی کہیں کھو گئی
کردم کے ساتھ ایک لڑکی بالکل اس کے قریب بیٹھی تھی
اس لڑکی کو پہچاننے میں دھڑکن نے ایک سیکنڈ نہیں لگایا تھا یہ لڑکی اسی کے کلاس کی تھی ہاجرہ لیکن یہ یہاں کیا کر رہی تھی وہ بھی اس کے شوہر کے اتنے قریب ۔
اور پھر دیکھتے دیکھتے ہی وہ کردم کے سینے سے لگ گئی اور دھڑکن کو لگا جیسے اس کے گرد اندھیرا چھا گیا
دھڑکن وہی سے خاموشی سے پلٹ آئی
جنید نے اسے اتنی جلدی واپس آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کچھ بھی نہ بولی ہاتھوں میں پکڑا گراف پیپر اس نے وہی پر پھینک دیا
جنید نے وہ پیپر اٹھایا اور اس کے پیچھے آیا وہ اسے اکیلے نہیں جانے دے سکتا تھا
اور وہ اتنی جلدی میں واپس جا رہی تھی کہ جنید کو ندی کی طرف واپس جانے کا وقت ہی نہ ملا وہ پہلے اسے گھر واپس چھوڑنے جانے والا تھا
❤
میں نے اس نے بہت سارے ڈانٹا تھا اور کہا بھی تھا کہ اب وہ آپ کو کبھی بھی نہ ڈانٹے ۔آپ کو ڈر نے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ آپ کو ڈانتے ہیں تو آپ مجھے بلا جھجک بتائے میں ہوں ان کا علاج کر لوں گی ۔
دھڑکن کی باتوں نے اسے پھر سے مسکرانے پر مجبور کر دیا
نہیں آپ کی ڈانٹ کا کافی اثر ہوا ہے اب وہ مجھے کچھ نہیں کہتے شاید آپ سے بہت ڈر گئے ہیں جنید نے مسکرا کر شرارتی انداز میں بولا
پھر ٹھیک ہے میں نے اندازہ لگایا تھا کہ وہ آپ پر کچھ زیادہ روعب جماتے ہیں اسی لیے ان کی عقل ٹھکانے لگا دی وہ بولے جا رہی تھی جب کہ جنید سے اپنا قہقہ روکنا مشکل ہو گیا
ڈیرے پر پہنچ کر جنید نے دھڑکن کو ندی کی طرف بھیجا جہاں کردم اکثر کردم جاتا تھا اور خود وہی سے پیچھے کی طرف لوٹ آیا
دھڑکن اپنے ہاتھ میں گراف پیپر پکڑے خوشی سے جا رہی تھی
جی بی بی جی میں شام کو پانچ بجے آپ کو لینے آ جاؤں گا پھر میں آپ کو ڈیرے پر کردم سائیں کے پاس لے چلوں گا جنید نے مسکراتے ہوئے کہا کیوں کہ اس کے انداز سے وہ سمجھ چکا تھا کے دھڑکن کو بہت جلدی ہے کردم کو اپنا شاہکار دکھانے کی
اور ویسے بھی وہ بہت خوبصورت پینٹنگ کرتی تھی اس کی تعریف سننا تو اس کا حق بنتا تھا اسی لیے جنید نے آنے کا وعدہ کیا جس پروہ خوشی سےاندر چلی گئی
❤
دھڑکن کھانا بنوا کر فارغ ہوئی تو جنید اس کا انتظار کر رہا تھا وہ اپنے وعدے کے مطابق پورے پانچ بجے وہاں حاضر تھا
اس نے جلدی سے اپنا گراف چاٹ اٹھایا اور باہر آگئی
ویسے جنید لالا اب آپ کردم ساِئیں آپ کو ڈانٹتے تو نہیں اس کے ساتھ چلتے ہوئے اس نے پوچھا
وہ تو مجھے کبھی بھی نہیں جانتے بی بی جی لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں
کیوں کہ میں نے انہیں منع کیا تھا
جسے دیکھ کر جنید کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوئی
کیسا ہے وہ ایکسائیڈ ہو کر پوچھنے لگی
بالکل اصلی جیسا ایسا لگ رہا ہے کہ کردم سائیں کی اصلی تصویر ہے یقین نہیں ہوتا کہ ہاتھوں سے بنایا گیا ہے
یہی تو میرا ٹیلنٹ ہے دھڑکن اتراتے ہوئے بولی
میں آج کعدم سائیں کو سرپرائز دوں گی آپ پلیز میرا ایک کام کریں گے آج کل کردم سائیں بہت لیٹ گھر آتے ہیں
اسی لئے آپ شام تو مجھے لینے آئیں گے ہم ڈیرے پر چلیں گے کردم سائیں نے اکیلے گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے
پھر میں انہیں وہیں جا کر یہ گفٹ دے دوں گی جب کردم سائیں کی برتھ ڈے تھی انہیں گولی لگی ہوئی تھی اسی لئے میں انہیں وش نہیں کر سکی اور نہ ہی گفٹ دے پائی لیکن اب میں انہی یہ گفٹ دینا چاہتی ہوں
آپ لینے آئیں گے نہ مجھے وہ چلتے چلتے گھر پہنچ ائے تھے
اس لیے رات کو بھی بہت دیر سے گھر واپس آتا ہوں اور صبح صبح ہی چلا جاتا ہے
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ وہ واپس گھر کس کے ساتھ جائے گی کہ جنید کو کھڑا دیکھا
ارے جنید لالا آپ مجھے لینے آئے ہیں اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی
جی دھڑکن بی بی کردم سائیں کام میں بزی تھے اس لئے مجھے کہہ دیا لائیں آپ کا بیگ میں اٹھا لیتا ہوں اس نے اس کے بیگ کی طرف اشارہ کیا
ارے آپ کیوں اٹھائیں گے میں خود اٹھاؤں گی کتاب میری ڈگری میری فوچر میرا اور بیگ آپ کو دکھائیں گے یہ تو بہت نا انصافی ہے وہ اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولی
جبکہ اس کی پٹرپٹر چلتی زبان جنید کو مسکرانے پر مجبور کر گئی
میں آپ کو کچھ دکھاؤں اس کے ساتھ چلتے چلتے دھڑکن نے اچانک سے کہا
جی ضرور دکھائیں جنید مسکرایا
اس کی اجازت ملتے ہی دھڑکن اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا گراف پیپر کھولنے لگی
یہاں سے پڑھ کے رکھنا خیال رکھو اپنا ان بکس میں جو لکھا ہے کام وہ سارے کرو جو تمہارے لئے اچھے ہیں
لیکن اپنا بہت سارا خیال رکھو اس بک میں جو لکھا ہے وہ کھاؤ پیو ۔
اور بےبی کے بابا کے لیے کیا لکھا ہے وہ سب کچھ مجھے بتاو تاکہ میں بھی اپنے بےبی کی پوری طرح کیئر کر سکوں
اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہوں بیٹھو یہاں اور پڑھو
ان کتابوں پر غور کرو
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا
جب کہ حوریہ جو پہلے ہی بور ہوئی بیٹھی تھی ان کتابوں کو دیکھنے لگی
کچھ نہ ہونے سے یہ ہونا ہی بہتر تھا
❤
آج کرن کالج نہیں آئی تھی آج وہ اکیلی ہی آئی تھی اسی لئے کردم اسے چھوڑ کر چلا گیا اور اب جنید اسے لینے کے لئے آیا تھا
کردم زمینوں پر بزی تھا اس بار کی فصل کافی اچھی ہو رہی تھی اور کردم آج کل ادھر ہی زیادہ رہتا تھا
بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_83
😊
یہ کیا کر رہی ہوتم حوریہ میں ایک بار سمجھایا تھا نہ کہ تم کسی کم کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی تو یہ کیا کر رہی ہو اسے بیڈ کی چارد ٹھیک کرتے دیکھ کر مقدم بولا
چارد ہی تو ٹھیک کر رہی ہوں مقدم سائیں کیا ہوگیا ہے آپ کو کیا میں بالکل ٹھیک ہوں اب کیا یہ بھی نہ کروں بس بیٹھ جاؤں سارا سارا دن تو میرا اسی طرح سے گزرجاتا ہے کم از کم کسی چیز کو ہاتھ لگانے دیں مجھے میں بہت بور ہو رہی ہوں مجھ سے اس طرح سے بیٹھا نہیں جا رہا
وہ سمجھاتے ہوئے بولی تو مقدم مسکرا دیا
تو میں لایاتو ہونا تمہاری بوریت کا حل اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی کچھ کتابیں اس کے حوالے کی یہ بےبی کیئرکی بکس ہیں کہ لڑکیاں کس طرح سے نو مہینے اپنا خیال رکھتی ہیں
پہلے تائشہ کو بہت برا لگا لیکن پھر جنید نے کہا کہ یہ آفر صرف بچہ آنے تک کی ہے اس کے بعد اپنے سارے کام خود ہی کرے گی
جس پر تائشہ کو یہ صدمہ ہوا کہ اسے پرواہ ہی صرف اپنے بچے کی ہے اس کی تو کسی کو فکر ہی نہیں
اسے اسطرح سے سوتے دیکھ کر وہ اس کے قریب آ کر لیٹا ۔
ویسے گلابی رنگ تم پر بہت سوٹ کرتا ہے وہ اس کے کان میں گنگنایا
اب مجھے نیند آرہی ہے تائشہ نے اعلانیہ کہا
ایسی کی تیسی تمہاری نیند کی پہلےتعریف تو وصول کر لو آخر اتنی محنت کرکے تیار ہوئی ہو
چک تائشہ اپنی شرمیلی ہنسی دبائے اسے مزید نخرے دکھانے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن وہ مزید نخرے اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا
جب میرے شوہر کو فرق ہی نہیں پڑتا کہ اس کی پسند کے کلر کا لباس پہنے اس کے انتظار میں بیٹھی ہوں تائشہ نے اسے اپنے کپڑوں کی طرف متوجہ کرنا چاہا
جبکہ جنید مسکراتے ہوئے ایسے کھانا کھا رہا تھا جیسے پہلی بار کھانا ملا ہو
جنید میں سونے جا رہی ہیں وہ برتن دھو کے رکھ دینا ۔ وہ تھک کر اس کے قریب سے اٹھ کر کمرے میں جا چکی تھی
سارا دن اس سج سجاوٹ کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا
کیوں بیکار میں اس کا انتظار کرتی رہی اسی لئے منہ بنا کر کمرے میں آ گئی
جب پیچھے تقریبا سات آٹھ منٹ کے بعد ہی جنید کمرے میں آ چکا تھا
ہاتھ گیلے تھے مطلب برتن دھوکر آیا تھا یہ بھی اس خوشخبری کے بعد ہی ہوا تھا جب تائشہ نے اسے بتایا کہ اسے برتن دھونے سے سخت نفرت ہے ۔
اس پر جو نیند نےاس پر ترس کھاتے ہوئے کہا کہ رات کے برتن وہ دھو دیا کرے گا
مجال ہے جو کسی کو اپنی بیوی کی پرواہ ہو یہاں پر تو لوگ مسکرائے جا رہے ہیں تائشہ نے پھر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کچن کی طرف چلی گئی جبکہ جنید چینج کرنے جا چکا تھا
واپس آیا تب بھی تائشہ کا منہ پھولا ہوا تھا
سوجا میرے معصوم بچے نامیرے شوہر کو میری پرواہ نہ ہی تیرے باپ کو تیری پرواہ ہے سوجا میری معصوم اولاد یہاں کوئی نہیں ہے جو ہم دونوں کو پیار کرتا ہو وہ کھانا نکالتے ہوئے اوور ایکٹنگ کی انتہا کرتے ہوئے بولی
جبکہ اس کے انداز پر جنید مسکراتے ہوئے کھانا کھانے میں مصروف ہو چکا تھا
اے خدا کیا اس دن کے لیے اتنا خوبصورت بنایا تھا مجھے کہ میرا شوہر سارا سارا دن باہر گھومتا رہے نا میری پروانہ اپنے ہونے والے بچے کی کیوں بنایا مجھے اتنا خوبصورت جب میرے شوہر کو میری قدر ہی نہیں ہے
دھڑکن میرے اتنے بھی برے دن نہیں آئے کہ میں ایک بلی کا باپ کہلاؤں اس کی ماں بہن چاچی تائی دادی نانی سب کچھ تم ہی بنو خدا کے لئے میرے ساتھ اس کا کوئی رشتہ نہ جوڑنا
حد ہے بلی کا باپ بنا کے رکھ دیا لگتا ہے مجھے بھی اس بےبی والی بات پر جلدی ہی غور کرنا ہوگا کردم سوچتے ہوئے سونے کے لئے لیٹ گیا
جبکہ دھڑکن منہ بناتے ہوئے کیٹی کواس کی باسکٹ میں رکھ کر اس کے پاس آئی
❤
کسی کو میری پرواہ نہیں ہے مطلب آدھی رات کو اپنی معصوم پریگننٹ بیوی کو کوئی چھوڑ کے جاتا ہے کیا
جنید کو رات کے گیارہ بجے اندر داخل ہوتے دیکھ کر تائشہ تپ کر بولی
اس کے انداز نے اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا
جس نے فورا ہی اسے زمین پر اتار دیا اسے شروع سے بلیوں سے عجیب سی چڑ تھی اور خاص کر کے جانوروں کو گود میں بٹھانا اسے ہرگز پسند نہ تھا دھڑکن یہ بات جانتے ہوئے بھی ضد کرتے ہوئے اس کی گود میں اکثر کیٹی کو رکھ دیتی
اس کے بات نے جہاں کردم کو مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا وہی وہ فلحال بچے کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا تھا
ہم اس سلسلے میں پلاننگ کریں گے فی الحال تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو اور مجھے گاؤں پر دھیان دینے دو وہ محبت سے اس کا رخسار چوم کر بولا ۔
مطلب کے ہم کیٹی کو ہی پالیں گے اس نے زمین پر بیٹھی کیٹی کو دوبارہ اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا
کیٹی آج سے میں آپ کی ماما ہوں اور یہ آپ کے بابا کردم جب اس کے قریب سے اٹھ کر بیڈ پر لیٹنے لگا تو اس کی بات پر اسے اچھوت لگا
تم کیوں اتنی پریشان ہو میری جان اب تو تمہارے بابا سائیں نے تمہیں فون کر دیا تم سے معافی مانگی اب بس کر دو میرا پٹاکہ سائیں ختم کرو یہ ناراضگی کردم دھڑکن کو سمجھانے والے انداز میں بولا جبکہ دھڑکن اب بھی اداس تھی
دھڑکن تمہارے ٹیسٹ ہونے والے ہیں میری جان تم اپنے پیپرز کی تیاری کرو ۔ان شاء اللہ چاچوسائیں جلدواپس آجائیں گے
کردم سائیں کیا ہوگیا ہے آپ کو میں ان کی وجہ سے پریشان نہیں ہوں وہ کیٹی کو اپنی گود میں رکھتے ہوئے بولی
تو پھر کیوں پریشان ہو اس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر پریشانی سے بولا
حوری دیدہ کے گھر میں خوشی آنے والی ہے سویرا دیدہ کے گھر میں خوشی آنے والی ہے اور تو اور تائشہ دیدہ کے گھر میں بھی خوشی آنے والی ہے اور ہم کیا بلی پالتے رہیں گے
اس نے کیٹی کو اٹھا کر کردم کی گود میں رکھا
وہ بچہ اس کا ہے ۔
اتنا کیوں خود کو تھکا رہی ہو سویرا میں جو کہہ رہی ہوں نا تم بس وہ کرو وہ بچہ بھی راستے سے ہٹ جائے گا اور شاید مقدم بھی حوریہ کو کبھی منہ نہ لگائیے ۔
کل شام کو دادا سائیں نے حیدر اور اس گاؤں کی گنوار کی دعوت رکھی ہے اور وہیں میں حوریہ سے اس کی ہر خوشی چھین لوں گی پر آپ کو میرا ساتھ دینا ہوگا
میں ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہوں سویرا کے انداز نے رضوانہ کو جوش دلایا
اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں تائشہ کو واپس حویلی لے آؤں گی ۔
کل اس بچے کے ساتھ ساتھ تم بھی مروگی حوریہ یہ بات سویرا نے دل میں سوچی تھی یہ بات اس نے اب تک رضوانہ سے شیئر نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ اس معاملے میں کسی دوسرے تیسرے کی مخالفت چاہتی تھی ۔
❤
میں صرف تمہارے ساتھ اگر تم اس اقراء اور ندا کے ساتھ کھیلنے گئے تو میں تم سے کٹی کرلوں گی اس نے دھمکی دیتے انداز میں کہا تو وہ مسکرا دیا
ہاں مجھے منظور ہے نور چلو اب بہت دیر ہو گئی ہے تم سو جاؤ اب ہم کل کھلیں گے وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا
نور نہیں میرا نام نوری ہے نوری منہ بنا کر بولی
تمہارا نام نور العین حیدر شاہ ہےاور تمہارا شوہر تمہیں نور کہہ کر پکارے گا چلو اب اور باتیں نہیں چلو لیٹ جاؤ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا اور اس پر کمبل ٹھیک کرنے لگا
❤
میں تم سے تمہاری ہر خوشی چھن لوں گی حوریہ تمہاری خوشی کی یہ وجہ بھی تم سے دور کر دوں گی
سویرہ کمرے میں تیز تیز ٹہلتی مسلسل بربڑا رہی تھی آج اس کے غصے کی کوئی انتہا نہ تھی مقدم اس کے حسن کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی اولاد کے پیچھے پڑ چکا تھا کتنی سفاکی سے اس کے منہ پر وہ کہہ کر گیا تھا
تمہیں بھی تو میری بات سنی ہوگی نہ اور ماننی بھی پڑےگی
آج کے بعد تو مجھے تم نہیں آپ کہہ کر پکارو گی ۔ اپنے کھیل کو تم اسی کمرے تک محدود رکھو گی اس کمرے میں تمہاری پہچان جو بھی ہو لیکن اس کمرے کے باہر تم حیدر شاہ کی بیوی ہو آئی میری بات سمجھ میں
اس نے سمجھاتے ہوئے پوچھا تو اس نے فورا نفی میں سر ہلایا
مطلب میں کھیلنے نہیں جا سکتی وہ منہ کھول کر پوچھنے لگی
ہم دونوں یہاں کھیلا کریں گے تم جو کہیں کھیل کہوگی ہم وہ کھیلیں گے لیکن اس کمرے کے باہرتمہیں بڑے لوگوں کی طرح رہنا ہوگا جیسے ۔۔۔۔
جیسے بی بی جی رہتی ہیں اس کے دماغ میں فورا ہی حویلی کی عورتوں کا عکس گھوما حیدر اس کی بات سن کر مسکرا دیا
ہاں بالکل ویسے ہی ۔حیدر نے کہا
لیکن میری ایک شرط ہے گوڈے تم صرف میرے گوڈے ہو اور میں صرف تمہاری گڑیا تم صرف میرے ساتھ کھیلو گے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain