Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

ظاہری سی بات ہے تم سے بات کر رہی ہو میری گڑیا کی تو مونچھ ہی نہیں ہے دیکھو اس نے اپنی دونوں گڑیا کو اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
اچھا تو کیا کہہ رہی تھی تمہیں وہ دلچسبی سے پوچھنے لگا
میں پوچھ رہی تھی میں تمہاری مونچھوں کو ہاتھ لگاؤں وہ منہ بناتے ہوئے بولی جیسے اسے اپنی بات دہرانا پسند نہ ہو
آج تک کسی کی ہاتھوں کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ حیدر شاہ کی مونچھ تک جائیں لیکن تم حق رکھتی ہو حیدر آہستہ سے اس کا دایاں ہاتھ تھام کر اپنے چہرے پہ لے آیا
جب کہ نوری نے اپنی گڑیا کو ایک سائیڈ پر رکھ دیا وہ دونوں ہاتھوں سے اس کی مونچھوں کو بل دینے لگی ۔
دیکھو اب تمہاری مونچھیں ایسے ہی اوپر رہنی چاہیے تم میرے گوڈے ہونا جیسا میں چاہتی ہوں ویسے ہی رہنا وہ سمجھانے والے انداز میں بولی
ٹھیک ہے تم جیسا کہو گی میں بالکل ویسا ہی رہوں گا

Mirh@_Ch
 

اور اگر سویرا ایسا ہونے ہی نہ دے تو سویرا نے اپنے شاطر دماغ میں چال بنتے ہوئے سوچا ۔اور اس کی اس چال میں اماں سائیں نہیں لیکن رضوانہ پھوپو شامل تھیں۔

حیدر نے کمرہِ عروسی میں قدم رکھا تووہ اپنے دونوں ہاتھوں میں گڑیا لئے باتوں میں مصروف تھی ۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آ بیٹھا جبکہ وہ اسے دیکھ کر نظر انداز کرتی پھر سے باتوں میں مصروف ہو گئی
وہ کافی دیر اس کے قریب بیٹھا اس کی باتیں سنتا رہا
میں تمہاری مونچھوں کو ہاتھ لگاؤں ۔وہ آہستہ آواز میں منمائی حیدر خاموشی سےاسے گڑیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اسے لگا کہ شاید وہ ابھی بھی اپنی گڑیا سے ہی مخاطب ہے
تم بولتے نہیں ہو اس بار نوری نے باقاعدہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
تم مجھ سے بات کر رہی تھی حیدر کو حیرانگی ہوئی

Mirh@_Ch
 

حوریہ کو ہر کام کے لیے منع کر دیا گیا تھا وہ کچن میں نہیں جا سکتی تھی ہر کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے تھا
نوکروں نے تواسے بالکل کچن میں آنے سے منع کر دیا جب کہ مقدم شاہ نے اسے ہتھیلی کا چھالا بنا رکھا تھا
اب تووہ کی جان ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں چھوڑتا تھا اور سویرہ انہیں دیکھ کر جل بھن جاتی
مقدم اپنے کمرے میں چینج کرنے آیا تو وہ بول اٹھی میں بھی پریگنیٹ ہوں اور اس کی یہ بات سن کر مقدم کا دل چاہا کہ اسے رکھ کر دو لگا دے لیکن پھر بھی اسے سنانے والے انداز میں بولا
حوریہ کی کوکھ میں میرا بچہ پل رہا ہے ۔اور اس بات نے سویرہ کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا
تو حوریہ کی اہمیت اس لئے تھی کیونکہ وہ مقدم شاہ کے بچے کی ماں بننے والی تھی

Mirh@_Ch
 

حیدر نے بس ایک ہی نظر سرخ جوڑے میں مبلوث اس لڑکی کو دیکھا اس معصوم سی لڑکی پر کیا قیامت ٹوٹی تھی وہ اچھے سے سمجھتا تھا ۔
جب نوری کو اس کے پاس بٹھایا گیا تو نوری کے الفاظ یہ تھے کیا تم میرے گوڈے ہو ۔اور اس کے سوال پر حیدر بس اسے دیکھ کر ہی رہ گیا
میں کچھ سمجھا نہیں تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔؟ حیدر نے پوچھا
جیسے میری گڑیا کی شادی ہوتی ہے گوڈے کے ساتھ ویسے ہی آج میری اماں کی گڑیا کی شادی ہے گڑیا میں ہوں تو گوڈے تم ہوئے نہ ۔اس حادثے کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھی ۔
اب وہ دوسروں کی باتوں پر عمل کرتی تھی لیکن حیدر کو یقین تھا کہ وہ اپنی محبت اور توجہ سے اسے جلد ہی نارمل زندگی دے سکے گا ۔
وہ جانتا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں ایک بہت بڑا چیلنج لیا ہے اور اس چیلنج کو پورا کرنے میں اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا

Mirh@_Ch
 

#بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_82
😊
آج حیدر کی شادی تھی گاؤں کے سب ہی لوگ اس کی شادی میں شرکت کر رہے تھے
نکاح تو کل ہی ہو چکا تھا آج رخصتی باقی تھی ۔
تائشہ نے جب شادی پر جانے کی اجازت مانگی تو جیندنےخوشی خوشی جانے دیا اسے بھی حیدر کا فیصلہ بہت پسند آیا تھا کہاں ہوتے ہیں آج کے زمانے میں حیدر جیسے شخص جو اتنی تلخ حقیقت کو بھی سینا ٹھوک کر قبول کرتے ہیں
حیدر نے نوری کی ذمہ داری لے تھی اور اب اسے ساری زندگی خوش رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا اپنی شادی پر اپنی ماں کو نہ دیکھ کر اسے افسوس ہوا تھا ۔
لیکن اتنا بھی نہیں کہ وہ کسی سے شیئر کرتا اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی کو اس طرح سے نظر انداز کیا تھا کہ جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو ۔
نوری کی رخصتی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔

Mirh@_Ch
 

تائشہ روتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گی
تائشہ رونا بند کرو ہرماں تمہاری ماں جیسی نہیں ہوتی اپنی اولاد کو ماں سے کوئی محبت کوئی نہیں کرتا اس بات کو تم ہماری اولاد کو بہت سارا پیار دے کر ثابت کر دینا لیکن رونا بند کرو رونے سے ہمارے بی بی کی صحت پر بھی برا اثر پڑے گا
وہ سمجھاتے ہوئے بولا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا ۔
آج کے بعد میں تمہیں اس عورت کے بارے میں سوچتے اور پریشان ہوتے نہ دیکھوں چلوان پیاری سی سمائل دو مجھے رو رو کر میری بیوی کی معصوم آنکھوں کا کیا حال کر لیا ہے تم نے وہ اس کی آنکھوں کو چومتے ہوئے بولا تو تائشہ بے اختیار مسکرا دی
ہاں ایسے ہی ہمیشہ مسکراتی رہا کرو وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا اسے اپنے سینے سے لگا گیا

Mirh@_Ch
 

بھول جاو جو کچھ بھی ہوا بھول جاؤ تم اسے جتنا زیادہ اپنے سر پر سوار کروگی اتنی پریشانی زیادہ بڑھے گی
مجھے دکھ ہوا تمہاری ماں تمہارے ساتھ اس طرح سے کیسے کر سکتی ہے میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ تم پہ ہاتھ اٹھا سکتی ہیں اور یہاں بچپن سے تم ان کے ظلم کا شکار ہوتی آئی ہویہ سب کچھ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اور تمہارے نام سے سازشیں کرتی رہیں اور تم خاموش رہی اگر تم یہ سب کچھ مجھے پہلے دن بتا دیتی ہماری زندگی اتنی ڈسٹرب کبھی نہیں ہوتی
تو اسے اپنے سینے سے لگائے آہستہ آہستہ سمجھارہا تھا
جنید میں اپنی ماں سے بہت پیارکرتی ہوں مجھے لگا کہ میرے درد سے میری تکلیف سے انہیں تکلیف ہوگی لیکن شاید دولت کا لالچ ہر چیز پر حاوی ہوتا ہے شاید ماں کی ممتا پر بھی
کاش میری ماں مجھے سمجھتی کاش میری تکلیف سے انہیں تکلیف ہوتی

Mirh@_Ch
 

ملازمہ نے تفصیل سے بتایا
کیا ہوگیا ہے میری دونوں اولادوں کو ایک نوکر کے بچے کی ماں بننے جارہی ہے اور دوسرا گاؤں کی دو کوڑی کی لڑکی سے شادی کر رہا ہے جس کے پاس اپنی عزت تک نہیں رضوانہ نے پریشانی سے اپنا سر پکڑ لیا

وہ بچپن سے مجھے ایسےہی مارتی آئی ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس سب کچھ سے ان کی اولاد پر کیا گزرتی ہے
وہ حیدر بھائی کے ساتھ بھی یہی سب کچھ کرتی لیکن وہ پہلے ہی دادا دادی کے پاس چلے گئے
لیکن مجھے کہیں نہ جانے دیا کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتی اماں سائیں کی سازشوں سے محفوظ رہتی
جیند سب کچھ ہو چکا تھا اماں سائیں کے یہ الفاظ کے یہ سب کچھ انہوں نے دولت کے لیے کیا ہے اس بات سے جنید کو تکلیف پہنچائی تھی
کیا دولت کے لئے انسان اپنا سب کچھ چھوڑ دیتا ہے
جیبد نے اسے اپنے سینے سے لگایا جو بہت بری طرح سے رو رہی تھی

Mirh@_Ch
 

میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا حیدر سائیں
احسان کیسا چاچا احسان تو آپ کا ہے مجھ پہ کہ آپ اپنی معصوم سے بیٹی کی ذمہ داری مجھے دے رہے ہیں تو یقین کریں میں یہ ذمہ داری نبھانے کی مکمل کوشش کروں گا وہ حوصلہ دیتے ہوئے بولا

کیا بکواس کر رہی ہو تم میرا حیدر کبھی کیسی لڑکی سے نکاح نہیں کرے گا پھوپھو سائیں بڑک اھی ّّ
نہیں بی بی جی حیدر سائیں نے پورے گاؤں کے سامنے اعلان کیا ہے اور نوری سے نکاح بھی کیا ہے اور کل دھوم دھام سے بارات لے کے آئیں گے اور نوری کو اپنے ساتھ رخصت کروا کے لے جائیں گے میں وہی پنچایت میں موجود تھی
تو باباسائیں نے کچھ نہیں کہا بابا سائیں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی رضوانہ نےپوچھا
نہیں بی بی جی شاہ سائیں تو بہت خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ انہیں بہت فخر ہے اس بات پر کہ ان کا نواسہ نوری کا ہاتھ تھام رہا ہے ّّ

Mirh@_Ch
 

مجھے نہیں پتا آپ کیا فیصلہ کرنے والے ہیں لیکن میں آپ سے نوری کا ہاتھ مانگتا ہوں ۔
نوری کا ساتھ چاہتا ہوں میں اسے عزت کی زندگی دینا چاہتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ابھی اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن خدا کے لئے اس کی زندگی کو کوئی سخت فیصلہ مت کیجئے گا وہ اس وقت مینٹلی ٹھیک نہیں ہیں وہ اپنے حواس کھو چکی ہے ایسے میں اگر آپ کوئی سخت فیصلہ سنائیں گے تو وہ بالکل ٹوٹ جائے گی ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے کچھ تو بولیے کیا آپ اسے پاگل خانے بھیجنا چاہتے ہیں
حیدر ان کے سامنے کھڑے جواب مانگ رہا تھا
جب دادا سائیں نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا ہمیں فخر ہے تم پر حیدر ہمیں فخر ہے یہ کہتے ہوئے کہ تم ہمارے نوا سے ہو ۔
نکاح کا انتظام کرو دادا سائیں نے حکم دیتے ہوئے کہا جب مجاہد نے حیدر کے قدموں میں اپنی چادر رکھ کر رونے لگا

Mirh@_Ch
 

میں تھاموں گا اس کا ہاتھ لیکن کیا گرنٹی ہے جو آج ہوا ہے وہ دوبارہ نہیں ہوگا حیدر کے الفاظ شاہ سائیں نےسر اٹھا کر سامنے سے حیدرشاہ کو آتے دیکھا
میں تھاموں گا آپ کی بیٹی کا ہاتھ چاچا میں کروں گا اس کے ساتھ شادی میں دوں گا اسے عزت کی زندگی وہ انہیں زمین سے اٹھاتے ہوئے اپنے برابر کھڑا کرنے لگا
لیکن یہ سوچیں کہ کب تک ہماری بچیاں اسی طرح سے ظلموں کا شکار ہوتی رہیں گی مجھے نہیں پتہ شاہ سائیں اس کا کیا فیصلہ کرنے والے ہیں اور مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ شاہ سائیں کی نظروں میں گاؤں والوں نے جو کیا وہ صحیح ہے یا غلط لیکن میری نظروں میں بالکل صحیح ہے ایسے انسان کو انسان نہیں بلکہ درندہ کہوں گا جس نے ایک معصوم لڑکی کی آبرو لوٹی میری نظر میں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے بالکل صحیح ہے اور ایسے انسان کو جینے کا حق نہیں

Mirh@_Ch
 

جس سے اس بچی کی زندگی اور مشکل ہو چکی تھی ۔
اس کی حالت پاگلوں جیسی تھی لیکن اسے اس حالت میں پاگل خانے بھی نہیں بھجوایا جا سکتا تھا اخر وہ بھی کسی کی بیٹی تھی جس پر اتنی قیامت گزری تھی اور شاہ سائیں اس پر مزید ظلم نہیں کر سکتے تھے
شاہ سائیں کون تھامیں میری بچی کا ہاتھ میری بچی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی کیا بگاڑا تھا میری معصوم بچی نے کسی کا میری معصوم بچی کے خواب چھین لیے مجاہد سرپیٹتا ہوا وہیں بیٹھا رو رہا تھا جبکہ شاہ سائیں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا
میں کروں گا آپ کی بیٹی سے شادی میں تھاموں گا اس کا ہاتھ لیکن کیا گرنٹی ہے جو آج ہوا ہے وہ دوبارہ نہیں ہوگا حیدر کے الفاظ شاہ سائیں نےسر اٹھا کر سامنے سے حیدرشاہ کو آتے دیکھا
میں تھاموں گا آپ کی بیٹی کا ہاتھ چاچا میں کروں گا اس کے ساتھ شادی

Mirh@_Ch
 

اس کی نظر میں گاؤں والوں نے جو کیا وہ بالکل سہی تھا ایسے انسان کی یہی سزا تھی
ایسے درندوں کو جینے کا کوئی حق نہیں وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بیھجتا دادا سائیں کے کمرے میں چلا گیا ۔

دادا سائیں شرمندگی سے سر جھکائے پنچایت میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے ان کا دل کانپ رہا تھا جو اپنے حواس مکمل کھو چکی تھی ۔
اپنی گڑیا کو ہاتھ میں پکڑے بس اسے گھورے جا رہی تھی
اب بتائیے شاہ سائیں میری بچی کے سر پر کون ہاتھ رکھے گا میری معصوم بچی نےکسی کا کیا بگاڑا تھا اب تو یہ گڑیا سے کھیلتی تھی اور اس پر اتنی بڑی قیامت ٹوٹ پڑی اپنی سہیلی کے گھر کھیلنے گئی تھی ۔
انصاف تو یہ تھا کہ جس نے زیادتی کی ہے اس بچی کی شادی اسی کے ساتھ کر دی جائے لیکن گاؤں والوں نے جذباتی فیصلہ کرتے ہوئے اسی کو پتھر مار کر قتل کر دیا ۔

Mirh@_Ch
 

آپ یہاں سے جا رہی ہیں یا میں دھکے مار کے نکالا لوں انہیں اسی طرح حیرت کی مورتی بنے دیکھ کر جنید چلایا تھا
جب کہ وہ بنا کچھ بولے اتنی بےعزتی پر گھر سے فورا باہر نکل گئیں

کردم کو کسی کا فون آیا تھا ۔جیسے سنتے ہی وہ پریشانی سے کھڑا ہو گیا ۔
کیا ہوا کردم سائیں آپ اتنے پریشان کیوں ہیں سب کے ساتھ بیٹھے کردم کو اچانک اٹھ کر باہر جاتا دیکھ کر مقدم نے فورا سے روکا
کردم گاؤں میں ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور جس نے زیادتی کی ہے گاؤں والوں نے اسے پتھر مار مار کے مار ڈالا ہے اور اس وقت اس کی لاش چورائے پر پڑی ہے میں وہی جا رہا ہوں
کل صبح پنچانت میں فیصلہ ہوگا کردم پریشانی سے کہتا گھر سے نکل گیا ۔
جبکہ ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کا سن کر دو مقدم کادلبھی کانپ اٹھا تھا ۔

Mirh@_Ch
 

ساری زندگی آپ کے ہر حکم کی تکمیل کی کردم سائیںکو نا چاہتے ہوئے بھی ہر ممکن کوشش سے اسے اپنی طرف راغب کرنا چاہا
سچ تو یہ ہے کردم سائیں کبھی میرے دل کے مکین نہ تھے میں جنید سے محبت کرتی ہوں خدا کے لیے مجھے اس کے ساتھ رہنے دے ۔
بے غیرت لڑکی تائشہ روتے یوئے بول رہی تھی جو اماں سائیں کا ہاتھ ہے ایک بار پھر سے اٹھا لیکن فضا میں ہی رک گیا ۔
اپنے قریب کھڑے جنید کو دیکھ کر بوکھلا کر رہ گئیں ان کا ہاتھ جنید کے ہاتھ میں تھا جسے پھینکنے والے انداز میں خود سے دور کیا
اگر آپ میری بیوی کی ماں نہیں ہوتی تو ان تھپڑوں کا بدلا میں آپ سے تھپڑ سے لیتا اس سے پہلے کہ میں اپنا آپا کھو دوں نکل جائے میرے گھر سے ۔اس نے غصے میں کہتے ہوئے قریب کھڑی تائشہ کو دیکھا جو بری طرح سے رو رہی تھی جنید نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے سینے میں بھیج لیا

Mirh@_Ch
 

میں نے تجھے کیا سمجھایا تھا اور تو یہاں کیا کر رہی ہے توجنید کا بچہ پیدا کرے گی میرے خوابوں کو بے مول کرے گی
چٹاخ ۔میں تجھے رانی بنانا چاہتی ہوں تو نوکرانی بننا چاہتی ہے
میں نے تیرے لئے کیا نہیں کیا ساری زندگی اپنا گھر چھوڑ کر اپنے باپ کے در پڑی رہی تاکہ تو اس گاؤں کی مالکن بن سکے اور تو جیند کے بچے کی ما بننے جارہی ہے
چٹاخ۔ کان کھول کر سن لیتا تائشہ جلد سے جلد یہ بچہ گرا دے ورنہ میں تیری جان لے لوں گی۔
خبردار جو تو نے اس نوکر کا بچہ پیدا کیا اماں سائیں غصے سے چلاتے ہوئے بولیں ۔
نہیں اماں سائیں آپ جو کہیں گے میں کروں گی لیکن خدا کے لئے مجھ سے میرا بچہ نہ چھینے آپ نے آج تک جو کہا وہ میں نے کیا لیکن اب میں مزید آپ کی کوئی بات نہیں مان سکتی میں جنید کے ساتھ بہت خوش ہوں آپ نے جو کہا میں نے کیا

Mirh@_Ch
 

دو دو نہیں بلکہ تین تین خوشیاں ہیں سویرا دیدہ بھی تو ماں بننے والی ہیں دھڑکن نے خوشی سے چہک کرتے ہوئے سویرا کو گلے لگایا
جبکہ اس بات پر حویلی کے لوگوں کی خوشیاں ذرا مند پر گئی تھی
ہاں بالکل یہ تو خوش خبری ہے لیکن یہاں کسی کو ہوش ہی نہیں رضوانہ پھوپوسائیں کی بربراہٹ سب نے سنی تھی
لیکن کوئی کچھ بھی نہیں بولا

شام کے سائے گہرے ہوئے تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تائشہ جو کب سے جنید کا انتظار کر رہی تھی فوراً دروازے کی طرف آئی لیکن دروازہ کھول کر سامنے جنید کی جگہ اماں سائیں کو دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے
اماں سائیں نے آتے ہیں ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا
کیا کہا تھا میں نے تجھے جنید کو اس کی اوقات میں رکھنا اور تو اس کا بچہ پیدا کرنے جارہی ہے
چٹاخ۔ ایک اور تھپڑ مارتے ہوئے وہ گھر کے اندر داخل ہو گئیں

Mirh@_Ch
 

اور تم ایک نوکر کے ساتھ تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی اماں سائیں سوچتے ہوئے اپنے کمرے میں چلیں گئیں

دھڑکن جب سے حویلی آئی تھی اداس اداس سی تھی
دھڑکن سائیں ہم بتا تو رہے ہیں اس کا سارا کاروبار ڈوبتا جا رہا تھا اگر وہ واپس نہ جاتا تو بہت مسائل ہو جاتے ہیں اس نے کہا ہے کہ وہ جلدی واپس آ جائے گا اسے اچانک جانا پڑا ۔داداسائیں کب سے اسے سمجھائے جا رہے تھے
ہو تو دادو سائیں ملنے میں کتنا وقت لگتا ہے صرف پانچ منٹ مجھے اپنا چہرہ تو دیکھا کے جاتے دھڑکن اداسی سے بولی
کیا ہو گیا ہے تمہیں گھر میں اتنا خوشیوں کا ماحول ہے اور تم داس ہو کر بیٹھی ہو
خاندان میں دو دو خوشخبریاں ہیں انجوائے کرو اور جہاں تک چاچو سائیں کی بات ہے تو تم انہیں فون کرکے خوب سارا ڈانٹوناراض ہوبات نہ کرو لیکن اس وقت تو خوش ہو جاؤ کردم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

Mirh@_Ch
 

بہت بہت مبارک ہو یہ تو واقعی بہت خوشی کی بات ہے لیکن آپ صرف اپر دادا ہی نہیں بلکہ پر نانا بھی بننے والے ہیں اسی خوشی میں مٹھائی لایا تھا ۔
جنید نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا سائیں نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا
ہماری ساری خواہشیں پوری ہونے جارہی ہیں ہمارا گھر ہرا بھرا ہونے جا رہا ہے یہاں رونق ہی رونق ہو گئی ایک بار پھر سے داداسائیں سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولے
ان شاءاللہ جنید نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ ابھی ابھی باہر آتی رضوانہ کے کان ابھی تک ساں ساں کر رہے تھے ۔
مطلب تائشہ اس ان کے خلاف جا کر نہ صرف جنید کے ساتھ رشتہ بنا چکی تھی بلکہ اس کے بچے کو دنیا میں لانے والی تھی
کبھی نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا تائشہ تم اتنی آسانی سے مجھ سے میرے خواب نہیں چھین سکتی میں تمہیں یہاں کی رانی بنتے دیکھنا چاہتی تھی

Mirh@_Ch
 

لیکن پھر بھی جو بھی تھا دھڑکن کو بُرا تو ضرور لگنا تھا اس کے لیے کردم تیار تھا

آو جنید سائیں ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے جنید کو دروازے سے اندر آتے دیکھ کر داداسائیں نے مسکراتے ہوئے اسے ویلکم کیا
جی آپ بتائیں آپ میرا انتظار کیوں کر رہے تھے پھر آپ کو خوشخبری سناتا ہوں جنید نے مسکراتے ہوئے مٹھائی کا ڈبہ سامنے رکھا
مطلب خوشخبری تم تک بھی پہنچ گئی داداسائیں نے مٹھائی کا ڈبہ دیکھتے ہوئے کہا
نہیں یہ تو میں اپنی خوشی میں لایا ہوں آپ مجھے سنائیں میں منتظر ہوں سننے کے لیے جنید نے مسکراتے ہوئے کہا
تم پھوپھا بننے والے ہو مقدم سائیں باپ بننے والا ہے ہمارے خاندان میں وارث آنے والا ہے دادا سائیں کے انداز سے ان کی خوشی کا اندازہ لگانا بہت آسان تھا
ہم دادا سائیں سے پرداداسائیں بننے والے ہیں دادا نےقہقہ لگاتے ہوئے بتایا