ظاہری سی بات ہے تم سے بات کر رہی ہو میری گڑیا کی تو مونچھ ہی نہیں ہے دیکھو اس نے اپنی دونوں گڑیا کو اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
اچھا تو کیا کہہ رہی تھی تمہیں وہ دلچسبی سے پوچھنے لگا
میں پوچھ رہی تھی میں تمہاری مونچھوں کو ہاتھ لگاؤں وہ منہ بناتے ہوئے بولی جیسے اسے اپنی بات دہرانا پسند نہ ہو
آج تک کسی کی ہاتھوں کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ حیدر شاہ کی مونچھ تک جائیں لیکن تم حق رکھتی ہو حیدر آہستہ سے اس کا دایاں ہاتھ تھام کر اپنے چہرے پہ لے آیا
جب کہ نوری نے اپنی گڑیا کو ایک سائیڈ پر رکھ دیا وہ دونوں ہاتھوں سے اس کی مونچھوں کو بل دینے لگی ۔
دیکھو اب تمہاری مونچھیں ایسے ہی اوپر رہنی چاہیے تم میرے گوڈے ہونا جیسا میں چاہتی ہوں ویسے ہی رہنا وہ سمجھانے والے انداز میں بولی
ٹھیک ہے تم جیسا کہو گی میں بالکل ویسا ہی رہوں گا
اور اگر سویرا ایسا ہونے ہی نہ دے تو سویرا نے اپنے شاطر دماغ میں چال بنتے ہوئے سوچا ۔اور اس کی اس چال میں اماں سائیں نہیں لیکن رضوانہ پھوپو شامل تھیں۔
❤
حیدر نے کمرہِ عروسی میں قدم رکھا تووہ اپنے دونوں ہاتھوں میں گڑیا لئے باتوں میں مصروف تھی ۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آ بیٹھا جبکہ وہ اسے دیکھ کر نظر انداز کرتی پھر سے باتوں میں مصروف ہو گئی
وہ کافی دیر اس کے قریب بیٹھا اس کی باتیں سنتا رہا
میں تمہاری مونچھوں کو ہاتھ لگاؤں ۔وہ آہستہ آواز میں منمائی حیدر خاموشی سےاسے گڑیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اسے لگا کہ شاید وہ ابھی بھی اپنی گڑیا سے ہی مخاطب ہے
تم بولتے نہیں ہو اس بار نوری نے باقاعدہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
تم مجھ سے بات کر رہی تھی حیدر کو حیرانگی ہوئی
حوریہ کو ہر کام کے لیے منع کر دیا گیا تھا وہ کچن میں نہیں جا سکتی تھی ہر کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے تھا
نوکروں نے تواسے بالکل کچن میں آنے سے منع کر دیا جب کہ مقدم شاہ نے اسے ہتھیلی کا چھالا بنا رکھا تھا
اب تووہ کی جان ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہیں چھوڑتا تھا اور سویرہ انہیں دیکھ کر جل بھن جاتی
مقدم اپنے کمرے میں چینج کرنے آیا تو وہ بول اٹھی میں بھی پریگنیٹ ہوں اور اس کی یہ بات سن کر مقدم کا دل چاہا کہ اسے رکھ کر دو لگا دے لیکن پھر بھی اسے سنانے والے انداز میں بولا
حوریہ کی کوکھ میں میرا بچہ پل رہا ہے ۔اور اس بات نے سویرہ کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا
تو حوریہ کی اہمیت اس لئے تھی کیونکہ وہ مقدم شاہ کے بچے کی ماں بننے والی تھی
حیدر نے بس ایک ہی نظر سرخ جوڑے میں مبلوث اس لڑکی کو دیکھا اس معصوم سی لڑکی پر کیا قیامت ٹوٹی تھی وہ اچھے سے سمجھتا تھا ۔
جب نوری کو اس کے پاس بٹھایا گیا تو نوری کے الفاظ یہ تھے کیا تم میرے گوڈے ہو ۔اور اس کے سوال پر حیدر بس اسے دیکھ کر ہی رہ گیا
میں کچھ سمجھا نہیں تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔؟ حیدر نے پوچھا
جیسے میری گڑیا کی شادی ہوتی ہے گوڈے کے ساتھ ویسے ہی آج میری اماں کی گڑیا کی شادی ہے گڑیا میں ہوں تو گوڈے تم ہوئے نہ ۔اس حادثے کے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھی ۔
اب وہ دوسروں کی باتوں پر عمل کرتی تھی لیکن حیدر کو یقین تھا کہ وہ اپنی محبت اور توجہ سے اسے جلد ہی نارمل زندگی دے سکے گا ۔
وہ جانتا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں ایک بہت بڑا چیلنج لیا ہے اور اس چیلنج کو پورا کرنے میں اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا
❤
#بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_82
😊
آج حیدر کی شادی تھی گاؤں کے سب ہی لوگ اس کی شادی میں شرکت کر رہے تھے
نکاح تو کل ہی ہو چکا تھا آج رخصتی باقی تھی ۔
تائشہ نے جب شادی پر جانے کی اجازت مانگی تو جیندنےخوشی خوشی جانے دیا اسے بھی حیدر کا فیصلہ بہت پسند آیا تھا کہاں ہوتے ہیں آج کے زمانے میں حیدر جیسے شخص جو اتنی تلخ حقیقت کو بھی سینا ٹھوک کر قبول کرتے ہیں
حیدر نے نوری کی ذمہ داری لے تھی اور اب اسے ساری زندگی خوش رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا اپنی شادی پر اپنی ماں کو نہ دیکھ کر اسے افسوس ہوا تھا ۔
لیکن اتنا بھی نہیں کہ وہ کسی سے شیئر کرتا اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی کو اس طرح سے نظر انداز کیا تھا کہ جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑا ہو ۔
نوری کی رخصتی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔
تائشہ روتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گی
تائشہ رونا بند کرو ہرماں تمہاری ماں جیسی نہیں ہوتی اپنی اولاد کو ماں سے کوئی محبت کوئی نہیں کرتا اس بات کو تم ہماری اولاد کو بہت سارا پیار دے کر ثابت کر دینا لیکن رونا بند کرو رونے سے ہمارے بی بی کی صحت پر بھی برا اثر پڑے گا
وہ سمجھاتے ہوئے بولا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا ۔
آج کے بعد میں تمہیں اس عورت کے بارے میں سوچتے اور پریشان ہوتے نہ دیکھوں چلوان پیاری سی سمائل دو مجھے رو رو کر میری بیوی کی معصوم آنکھوں کا کیا حال کر لیا ہے تم نے وہ اس کی آنکھوں کو چومتے ہوئے بولا تو تائشہ بے اختیار مسکرا دی
ہاں ایسے ہی ہمیشہ مسکراتی رہا کرو وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا اسے اپنے سینے سے لگا گیا
❤
بھول جاو جو کچھ بھی ہوا بھول جاؤ تم اسے جتنا زیادہ اپنے سر پر سوار کروگی اتنی پریشانی زیادہ بڑھے گی
مجھے دکھ ہوا تمہاری ماں تمہارے ساتھ اس طرح سے کیسے کر سکتی ہے میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ تم پہ ہاتھ اٹھا سکتی ہیں اور یہاں بچپن سے تم ان کے ظلم کا شکار ہوتی آئی ہویہ سب کچھ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اور تمہارے نام سے سازشیں کرتی رہیں اور تم خاموش رہی اگر تم یہ سب کچھ مجھے پہلے دن بتا دیتی ہماری زندگی اتنی ڈسٹرب کبھی نہیں ہوتی
تو اسے اپنے سینے سے لگائے آہستہ آہستہ سمجھارہا تھا
جنید میں اپنی ماں سے بہت پیارکرتی ہوں مجھے لگا کہ میرے درد سے میری تکلیف سے انہیں تکلیف ہوگی لیکن شاید دولت کا لالچ ہر چیز پر حاوی ہوتا ہے شاید ماں کی ممتا پر بھی
کاش میری ماں مجھے سمجھتی کاش میری تکلیف سے انہیں تکلیف ہوتی
ملازمہ نے تفصیل سے بتایا
کیا ہوگیا ہے میری دونوں اولادوں کو ایک نوکر کے بچے کی ماں بننے جارہی ہے اور دوسرا گاؤں کی دو کوڑی کی لڑکی سے شادی کر رہا ہے جس کے پاس اپنی عزت تک نہیں رضوانہ نے پریشانی سے اپنا سر پکڑ لیا
❤
وہ بچپن سے مجھے ایسےہی مارتی آئی ہیں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس سب کچھ سے ان کی اولاد پر کیا گزرتی ہے
وہ حیدر بھائی کے ساتھ بھی یہی سب کچھ کرتی لیکن وہ پہلے ہی دادا دادی کے پاس چلے گئے
لیکن مجھے کہیں نہ جانے دیا کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتی اماں سائیں کی سازشوں سے محفوظ رہتی
جیند سب کچھ ہو چکا تھا اماں سائیں کے یہ الفاظ کے یہ سب کچھ انہوں نے دولت کے لیے کیا ہے اس بات سے جنید کو تکلیف پہنچائی تھی
کیا دولت کے لئے انسان اپنا سب کچھ چھوڑ دیتا ہے
جیبد نے اسے اپنے سینے سے لگایا جو بہت بری طرح سے رو رہی تھی
میں آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا حیدر سائیں
احسان کیسا چاچا احسان تو آپ کا ہے مجھ پہ کہ آپ اپنی معصوم سے بیٹی کی ذمہ داری مجھے دے رہے ہیں تو یقین کریں میں یہ ذمہ داری نبھانے کی مکمل کوشش کروں گا وہ حوصلہ دیتے ہوئے بولا
❤
کیا بکواس کر رہی ہو تم میرا حیدر کبھی کیسی لڑکی سے نکاح نہیں کرے گا پھوپھو سائیں بڑک اھی ّّ
نہیں بی بی جی حیدر سائیں نے پورے گاؤں کے سامنے اعلان کیا ہے اور نوری سے نکاح بھی کیا ہے اور کل دھوم دھام سے بارات لے کے آئیں گے اور نوری کو اپنے ساتھ رخصت کروا کے لے جائیں گے میں وہی پنچایت میں موجود تھی
تو باباسائیں نے کچھ نہیں کہا بابا سائیں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی رضوانہ نےپوچھا
نہیں بی بی جی شاہ سائیں تو بہت خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ انہیں بہت فخر ہے اس بات پر کہ ان کا نواسہ نوری کا ہاتھ تھام رہا ہے ّّ
مجھے نہیں پتا آپ کیا فیصلہ کرنے والے ہیں لیکن میں آپ سے نوری کا ہاتھ مانگتا ہوں ۔
نوری کا ساتھ چاہتا ہوں میں اسے عزت کی زندگی دینا چاہتا ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ابھی اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن خدا کے لئے اس کی زندگی کو کوئی سخت فیصلہ مت کیجئے گا وہ اس وقت مینٹلی ٹھیک نہیں ہیں وہ اپنے حواس کھو چکی ہے ایسے میں اگر آپ کوئی سخت فیصلہ سنائیں گے تو وہ بالکل ٹوٹ جائے گی ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے کچھ تو بولیے کیا آپ اسے پاگل خانے بھیجنا چاہتے ہیں
حیدر ان کے سامنے کھڑے جواب مانگ رہا تھا
جب دادا سائیں نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا ہمیں فخر ہے تم پر حیدر ہمیں فخر ہے یہ کہتے ہوئے کہ تم ہمارے نوا سے ہو ۔
نکاح کا انتظام کرو دادا سائیں نے حکم دیتے ہوئے کہا جب مجاہد نے حیدر کے قدموں میں اپنی چادر رکھ کر رونے لگا
میں تھاموں گا اس کا ہاتھ لیکن کیا گرنٹی ہے جو آج ہوا ہے وہ دوبارہ نہیں ہوگا حیدر کے الفاظ شاہ سائیں نےسر اٹھا کر سامنے سے حیدرشاہ کو آتے دیکھا
میں تھاموں گا آپ کی بیٹی کا ہاتھ چاچا میں کروں گا اس کے ساتھ شادی میں دوں گا اسے عزت کی زندگی وہ انہیں زمین سے اٹھاتے ہوئے اپنے برابر کھڑا کرنے لگا
لیکن یہ سوچیں کہ کب تک ہماری بچیاں اسی طرح سے ظلموں کا شکار ہوتی رہیں گی مجھے نہیں پتہ شاہ سائیں اس کا کیا فیصلہ کرنے والے ہیں اور مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ شاہ سائیں کی نظروں میں گاؤں والوں نے جو کیا وہ صحیح ہے یا غلط لیکن میری نظروں میں بالکل صحیح ہے ایسے انسان کو انسان نہیں بلکہ درندہ کہوں گا جس نے ایک معصوم لڑکی کی آبرو لوٹی میری نظر میں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے بالکل صحیح ہے اور ایسے انسان کو جینے کا حق نہیں
جس سے اس بچی کی زندگی اور مشکل ہو چکی تھی ۔
اس کی حالت پاگلوں جیسی تھی لیکن اسے اس حالت میں پاگل خانے بھی نہیں بھجوایا جا سکتا تھا اخر وہ بھی کسی کی بیٹی تھی جس پر اتنی قیامت گزری تھی اور شاہ سائیں اس پر مزید ظلم نہیں کر سکتے تھے
شاہ سائیں کون تھامیں میری بچی کا ہاتھ میری بچی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی کیا بگاڑا تھا میری معصوم بچی نے کسی کا میری معصوم بچی کے خواب چھین لیے مجاہد سرپیٹتا ہوا وہیں بیٹھا رو رہا تھا جبکہ شاہ سائیں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا
میں کروں گا آپ کی بیٹی سے شادی میں تھاموں گا اس کا ہاتھ لیکن کیا گرنٹی ہے جو آج ہوا ہے وہ دوبارہ نہیں ہوگا حیدر کے الفاظ شاہ سائیں نےسر اٹھا کر سامنے سے حیدرشاہ کو آتے دیکھا
میں تھاموں گا آپ کی بیٹی کا ہاتھ چاچا میں کروں گا اس کے ساتھ شادی
اس کی نظر میں گاؤں والوں نے جو کیا وہ بالکل سہی تھا ایسے انسان کی یہی سزا تھی
ایسے درندوں کو جینے کا کوئی حق نہیں وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بیھجتا دادا سائیں کے کمرے میں چلا گیا ۔
❤
دادا سائیں شرمندگی سے سر جھکائے پنچایت میں بیٹھے ہوئے تھے ۔اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے ان کا دل کانپ رہا تھا جو اپنے حواس مکمل کھو چکی تھی ۔
اپنی گڑیا کو ہاتھ میں پکڑے بس اسے گھورے جا رہی تھی
اب بتائیے شاہ سائیں میری بچی کے سر پر کون ہاتھ رکھے گا میری معصوم بچی نےکسی کا کیا بگاڑا تھا اب تو یہ گڑیا سے کھیلتی تھی اور اس پر اتنی بڑی قیامت ٹوٹ پڑی اپنی سہیلی کے گھر کھیلنے گئی تھی ۔
انصاف تو یہ تھا کہ جس نے زیادتی کی ہے اس بچی کی شادی اسی کے ساتھ کر دی جائے لیکن گاؤں والوں نے جذباتی فیصلہ کرتے ہوئے اسی کو پتھر مار کر قتل کر دیا ۔
آپ یہاں سے جا رہی ہیں یا میں دھکے مار کے نکالا لوں انہیں اسی طرح حیرت کی مورتی بنے دیکھ کر جنید چلایا تھا
جب کہ وہ بنا کچھ بولے اتنی بےعزتی پر گھر سے فورا باہر نکل گئیں
❤
کردم کو کسی کا فون آیا تھا ۔جیسے سنتے ہی وہ پریشانی سے کھڑا ہو گیا ۔
کیا ہوا کردم سائیں آپ اتنے پریشان کیوں ہیں سب کے ساتھ بیٹھے کردم کو اچانک اٹھ کر باہر جاتا دیکھ کر مقدم نے فورا سے روکا
کردم گاؤں میں ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور جس نے زیادتی کی ہے گاؤں والوں نے اسے پتھر مار مار کے مار ڈالا ہے اور اس وقت اس کی لاش چورائے پر پڑی ہے میں وہی جا رہا ہوں
کل صبح پنچانت میں فیصلہ ہوگا کردم پریشانی سے کہتا گھر سے نکل گیا ۔
جبکہ ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کا سن کر دو مقدم کادلبھی کانپ اٹھا تھا ۔
ساری زندگی آپ کے ہر حکم کی تکمیل کی کردم سائیںکو نا چاہتے ہوئے بھی ہر ممکن کوشش سے اسے اپنی طرف راغب کرنا چاہا
سچ تو یہ ہے کردم سائیں کبھی میرے دل کے مکین نہ تھے میں جنید سے محبت کرتی ہوں خدا کے لیے مجھے اس کے ساتھ رہنے دے ۔
بے غیرت لڑکی تائشہ روتے یوئے بول رہی تھی جو اماں سائیں کا ہاتھ ہے ایک بار پھر سے اٹھا لیکن فضا میں ہی رک گیا ۔
اپنے قریب کھڑے جنید کو دیکھ کر بوکھلا کر رہ گئیں ان کا ہاتھ جنید کے ہاتھ میں تھا جسے پھینکنے والے انداز میں خود سے دور کیا
اگر آپ میری بیوی کی ماں نہیں ہوتی تو ان تھپڑوں کا بدلا میں آپ سے تھپڑ سے لیتا اس سے پہلے کہ میں اپنا آپا کھو دوں نکل جائے میرے گھر سے ۔اس نے غصے میں کہتے ہوئے قریب کھڑی تائشہ کو دیکھا جو بری طرح سے رو رہی تھی جنید نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے سینے میں بھیج لیا
میں نے تجھے کیا سمجھایا تھا اور تو یہاں کیا کر رہی ہے توجنید کا بچہ پیدا کرے گی میرے خوابوں کو بے مول کرے گی
چٹاخ ۔میں تجھے رانی بنانا چاہتی ہوں تو نوکرانی بننا چاہتی ہے
میں نے تیرے لئے کیا نہیں کیا ساری زندگی اپنا گھر چھوڑ کر اپنے باپ کے در پڑی رہی تاکہ تو اس گاؤں کی مالکن بن سکے اور تو جیند کے بچے کی ما بننے جارہی ہے
چٹاخ۔ کان کھول کر سن لیتا تائشہ جلد سے جلد یہ بچہ گرا دے ورنہ میں تیری جان لے لوں گی۔
خبردار جو تو نے اس نوکر کا بچہ پیدا کیا اماں سائیں غصے سے چلاتے ہوئے بولیں ۔
نہیں اماں سائیں آپ جو کہیں گے میں کروں گی لیکن خدا کے لئے مجھ سے میرا بچہ نہ چھینے آپ نے آج تک جو کہا وہ میں نے کیا لیکن اب میں مزید آپ کی کوئی بات نہیں مان سکتی میں جنید کے ساتھ بہت خوش ہوں آپ نے جو کہا میں نے کیا
دو دو نہیں بلکہ تین تین خوشیاں ہیں سویرا دیدہ بھی تو ماں بننے والی ہیں دھڑکن نے خوشی سے چہک کرتے ہوئے سویرا کو گلے لگایا
جبکہ اس بات پر حویلی کے لوگوں کی خوشیاں ذرا مند پر گئی تھی
ہاں بالکل یہ تو خوش خبری ہے لیکن یہاں کسی کو ہوش ہی نہیں رضوانہ پھوپوسائیں کی بربراہٹ سب نے سنی تھی
لیکن کوئی کچھ بھی نہیں بولا
❤
شام کے سائے گہرے ہوئے تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تائشہ جو کب سے جنید کا انتظار کر رہی تھی فوراً دروازے کی طرف آئی لیکن دروازہ کھول کر سامنے جنید کی جگہ اماں سائیں کو دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے
اماں سائیں نے آتے ہیں ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا
کیا کہا تھا میں نے تجھے جنید کو اس کی اوقات میں رکھنا اور تو اس کا بچہ پیدا کرنے جارہی ہے
چٹاخ۔ ایک اور تھپڑ مارتے ہوئے وہ گھر کے اندر داخل ہو گئیں
اور تم ایک نوکر کے ساتھ تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی اماں سائیں سوچتے ہوئے اپنے کمرے میں چلیں گئیں
❤
دھڑکن جب سے حویلی آئی تھی اداس اداس سی تھی
دھڑکن سائیں ہم بتا تو رہے ہیں اس کا سارا کاروبار ڈوبتا جا رہا تھا اگر وہ واپس نہ جاتا تو بہت مسائل ہو جاتے ہیں اس نے کہا ہے کہ وہ جلدی واپس آ جائے گا اسے اچانک جانا پڑا ۔داداسائیں کب سے اسے سمجھائے جا رہے تھے
ہو تو دادو سائیں ملنے میں کتنا وقت لگتا ہے صرف پانچ منٹ مجھے اپنا چہرہ تو دیکھا کے جاتے دھڑکن اداسی سے بولی
کیا ہو گیا ہے تمہیں گھر میں اتنا خوشیوں کا ماحول ہے اور تم داس ہو کر بیٹھی ہو
خاندان میں دو دو خوشخبریاں ہیں انجوائے کرو اور جہاں تک چاچو سائیں کی بات ہے تو تم انہیں فون کرکے خوب سارا ڈانٹوناراض ہوبات نہ کرو لیکن اس وقت تو خوش ہو جاؤ کردم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
بہت بہت مبارک ہو یہ تو واقعی بہت خوشی کی بات ہے لیکن آپ صرف اپر دادا ہی نہیں بلکہ پر نانا بھی بننے والے ہیں اسی خوشی میں مٹھائی لایا تھا ۔
جنید نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا سائیں نے اٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا
ہماری ساری خواہشیں پوری ہونے جارہی ہیں ہمارا گھر ہرا بھرا ہونے جا رہا ہے یہاں رونق ہی رونق ہو گئی ایک بار پھر سے داداسائیں سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولے
ان شاءاللہ جنید نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ ابھی ابھی باہر آتی رضوانہ کے کان ابھی تک ساں ساں کر رہے تھے ۔
مطلب تائشہ اس ان کے خلاف جا کر نہ صرف جنید کے ساتھ رشتہ بنا چکی تھی بلکہ اس کے بچے کو دنیا میں لانے والی تھی
کبھی نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا تائشہ تم اتنی آسانی سے مجھ سے میرے خواب نہیں چھین سکتی میں تمہیں یہاں کی رانی بنتے دیکھنا چاہتی تھی
لیکن پھر بھی جو بھی تھا دھڑکن کو بُرا تو ضرور لگنا تھا اس کے لیے کردم تیار تھا
❤
آو جنید سائیں ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے جنید کو دروازے سے اندر آتے دیکھ کر داداسائیں نے مسکراتے ہوئے اسے ویلکم کیا
جی آپ بتائیں آپ میرا انتظار کیوں کر رہے تھے پھر آپ کو خوشخبری سناتا ہوں جنید نے مسکراتے ہوئے مٹھائی کا ڈبہ سامنے رکھا
مطلب خوشخبری تم تک بھی پہنچ گئی داداسائیں نے مٹھائی کا ڈبہ دیکھتے ہوئے کہا
نہیں یہ تو میں اپنی خوشی میں لایا ہوں آپ مجھے سنائیں میں منتظر ہوں سننے کے لیے جنید نے مسکراتے ہوئے کہا
تم پھوپھا بننے والے ہو مقدم سائیں باپ بننے والا ہے ہمارے خاندان میں وارث آنے والا ہے دادا سائیں کے انداز سے ان کی خوشی کا اندازہ لگانا بہت آسان تھا
ہم دادا سائیں سے پرداداسائیں بننے والے ہیں دادا نےقہقہ لگاتے ہوئے بتایا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain