ڈاکٹرجب سے بتا کر گئی تھی کہ حوریہ پریگنٹ ہے اماں سائیں کے تو پاؤں زمین پر ہی نہیں رک رہے تھے
اور مقدم ان کی ہر ہدایت کو بہت غور سے سن رہا تھا دادا سائیں کو یہ خبر ملی تو انہوں نے پورے گاؤں میں مٹھائیاں تقسم کی کردم کو یہ خبر فون پر ملی تو وہ دھڑکن کو لے کر حویلی آنے کی تیاریاں کرنے لگا
کل رات دھڑکن کو گھر چھوڑنے کے بعد احمدچاچو سائیں کو چھوڑنے ایئرپورٹ گیا تھا وہ جانتا تھا دھڑکن کو یہ بات تکلیف پہنچائے گی اسی لیے وہ کل شام اسے واپس گھر لے کر نہیں گیا وہ کچھ دنوں بعد اسے بتا دینا چاہتا تھا
اسے یقین کا چاچا سائیں کا علاج ممکن ہے وہ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے اور دھڑکن کو نہ بتانے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا لیکن اب دھڑکن کو حویلی لے کے جا رہا تھا تو یہ یہ بات کھل جانی تھی کہ احمد چاچو سائیں واپس جا چکے ہیں
پرے ہٹو مقدم مجھے بھی میری بہوسے ملنے دو ماشاءاللہ اتنی بڑی خوشخبری سنائی ہے میری بہو نے وہ اس کا ماتھا چومتی سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولی شاید ہی اس سے پہلے نازیہ نے کبھی اسے اتنی محبت سے مخاطب کیا تھا بہانہ جو بھی تھا نازیہ کو وہ کسی بہانے تو اچھی لگی جبکہ حوریہ گھبرائے اپنا دوپٹہ منہ میں ڈالے کھینچ رہی تھی جب مقدم نے اس کا دوپٹہ اس کے منہ سے نکالا ۔
اس کی جھکی نظر اور گھبراہٹ دیکھ کر مقدم کو اس پر بہت پیار آ رہا تھا ۔
بابا سائیں واک پڑ گئے ہیں تھوڑی دیر میں واپس آتے ہوں گے تم چلو کمرے میں آرام کرو ڈاکٹر بھی آتی ہوگی فون کروایا ہے میں نے اماں سائیں اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے کمرے میں لے جانے لگی
❤
مقدم سائیں اس کا بہت خیال رکھنا ہر وقت اس کے ساتھ رہنا ایک تو یہ ہے ہی اتنی کمزور اسے ہر وقت آپ کء ساتھ کی ضرورت ہے ۔
وہ تو سب نوکروں کو پاس بلا کر انہیں بخشش دیے جا رہی تھی آخر اس خاندان کا اصل وارث پیدا ہونے جا رہا تھا
بھابھی یہ سب کچھ آپ کیا کر رہے ہیں سویرا کے بچے کے وقت تو آپ نے یہ سارا کچھ نہیں کیا تھا رضوانہ نے یاد کروانا چاھا
رضوانہ سویرا کی خبر جھوٹ ہے لیکن حوریہ سچ میں ماں بننے جارہی ہے ہائے میرے مقدم کا بچہ یہاں آنے والا ہے ہمارے گھر کے رونقیں بھرنے والی ہیں اس خاندان کا وارث آنے والا ہے میں ذرا اپنی بہو کو دیکھ کے آؤں نازیہ نے اسے پرے ہٹا تے ہوئے کچن کی راہ لی انہیں دیکھ کر تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ حوریہ سے کبھی نفرت کرتی نہ تھیں۔
نازیہ مسکراتے ہوئے کچن میں آئیں جہاں مقدم بنا کچھ کہیں حوریہ کو اپنے سینے سے لگایا ہوئے تھا اور وہ بیچاری شرمائے جا رہی تھی
گھر میں خوشخبری آنے والی ہے ۔ڈاکٹر کو گھر پر بلائیں۔ملازمہ نے خوشی خوشی اکرم قدم کے سر پر دھماکا کیا
ماشااللہ سکینہ یہ تو تم نے بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے اس سے پہلے کہ مقدم کچھ بولتا اماں سائیں بول اٹھیں۔
اور تمہارا تجربہ تو کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا مقدم کے وقت پر بھی تو تمہیں سب سے پہلے یہ خوشخبری سب گھر والوں کو بتائی تھی مقدم میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو بخشش نکالو ۔سکینہ نے سب سے پہلے یہ خوشخبری سنائی ہے انہیں کچھ دو ۔وہ تو کچن کے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا اماں سائیں پر پلٹا اور اپنا ووٹ ان کے ہاتھ میں رکھتا تھا کچن میں جا گھسا ۔
جب کہ سویرہ یہ سب کچھ دیکھ کر پریشان ہو چکی تھی مطلب اگر حوریہ پریگنٹ ہے تو مقدم اس کا ساتھ دے گا ۔
یا اللہ یہ خبر جھوٹی ہو صرف غلط فہمی ہو اور کچھ نہ ہو سویرا پریشانی سے اپنا سر پکڑ کے وہیں بیٹھ گئی
آپ پلیز پراٹھا دیکھیں جلن نہ جائے حوریہ نے ملازمہ کو پراٹھے کی طرف لگاتے ہوئے اپنے آپ کو ہاتھوں سے پنکھا جلانے لگے
آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہوئی لگ رہی ہے حوریہ بے سکینہ زرا دیکھیں ان کو ملازمہ نے عمر رسیدہ ملازمہ سے کہا
آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہے کرتے ہوئے اس کی پیٹ سہلانے لگی کہیں کوئی خوشخبری تو نہیں عمر رسیدہ ملازمہ نے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا کر کہا
جبکہ وہ اس کی بات کا جواب نہ دے سکی۔ اس سے پہلے ہی وہ واش بیسن میں جھک کر ووٹنگ کرنے لگی
مبارک ہو حوریہ بی بی اب تو مجھے پکا یقین ہے خوشخبری ہے میں مقدم سائیں کو خوشخبری سناتے آتی ہے ملازمہ نے باہر کی طرف دوڑ لگائی
جبکہ حوریہ تو اسے روکتی ہی رہ گئی
مقدم سائنس کوریا بی بی کی طبیعت بہت خراب ہے چکر بھی آرہے ہیں اور الٹی بھی ہو رہی ہیں ۔میرا تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ
حوریہ انہیں زبردستی بٹھا کر خود پراٹھا بنانے چلی گئی
ایک مہینہ گھر سے باہر کیا رہ کے آئی ہے اس کے تیور ہی آسمان کو چھونے لگے ہیں رضوانہ اسے جاتے دیکھ کر بولی
جبکہ نازیہ نے ایک نظر سویرا کی طرف دیکھا جو اس کے بیٹے کی خواہش کا احترام نہ کر سکی وہ جھوٹ موٹ کی پریگنیٹ تھی وہ سچ میں پریگنیٹ تھوڑی تھی جو اپنے شوہر کی خواہش پوری نہ کر سکے
❤
ابھی اس نے روٹی ڈال کر گھی ڈالا ہی تھا کہ اس کا دل خراب ہونے لگا ۔طبیعت تو اس کی صبح سے ہی گڑبڑ تھی لیکن اب اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ وہ زیادہ دیر کھڑے بھی نہیں رہ سکتی اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
اور سر بھی بری طرح سے چکرا رہا تھا
کیا ہوا حوریہ بی بی آپ ٹھیک تو ہیں ملازمہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے گرنے سے روکا ۔
ہماری نواسی تمہارے لئے کچھ نہیں بنائی گی یہ ہمارے کہنے پر گھر واپس آئی ہے اور خبردار جو تم نے سے کوئی بھی حکم دیا اگر اتنا ہی دل کر رہا ہے تو کسی نوکر کو بول دو یا خود بنا لو دادا سائیں نے دیکھا نہ تاؤ دیکھا اس پر چڑھ دوڑیں
کوئی بات نہیں ناناسائیں میں بنا دیتی ہوں مقدم نے ایک نظر اپنی محبت کے دشمن داداسائیں کی طرف دیکھا اور حوریہ کی طرف دیکھ کر منہ بنا لیا جس پر اپنی ہنسی چھپاتی حوریہ نے فورا اپنی خدمات پیش کی تھی
کوئی ضرورت نہیں حوریہ بیٹا تمہیں اس کا کوئی بھی کام کرنے کی اپنی بیوی سے کہے جس سے نکاح کرکے آیا ہے دادا سائیں نے حوریہ کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
جب نازیہ اٹھ گئی میں بنا کے لاتی ہوں ناز یہ کہتے ہوئے کچن کی طرف جانے لگیں
آپ کی مامی سنائیں آپ کی طبیعت ویسے بھی ٹھیک نہیں ہے میں بنا لیتی ہوں
اس لیے یاد نہیں رہا مجھے کہ سویرہ اندر ہے شاید میں نی ہی لاک کر دیا ہوگا مقدم نے دل ہی دل میں اپنی ماں کے کارنامے کو داد دی اور اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں سویرا بڑے مزے سے اس کے بیڈ پر سو رہی تھی
اسے یہاں سے نکال کر سب سے پہلے یہ بیڈچینج کروں گا وہ خود سے بربڑاتا فریش ہونے چلا گیا
❤
سویرہ ڈالنگ آج میرا ناشتہ تم بنا دو میرا پراٹھا کھانے کا دل کر رہا ہے مقدم نے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے سویرا کو مخاطب کیا
لیکن مجھے تو پراٹھا بنانا نہیں آتا سویرا نے پریشانی سے کہا ابھی تو وہ مقدم کے لیے کھانا بنانا سیکھ رہی تھی تو ابھی سے اس کے لئے پراٹھاکیسے بناتی
اچھا تم رہنے دو ویسے بھی تمہاری طبیعت کے لیے اچھا نہیں ہے تم پریگننٹ ہونا حوریہ میرے لیے پراٹھا بناؤ اس نے سویرا کو کہتے ہوئے حوریہ کو حکم دیا
بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_81
حوریہ کے اٹھنے سے پہلے ہی مقدم کمرے سے نکل چکا تھا
لیکن اپنے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ کر سوچنے لگا کہ سویرہ کو کس نے انلاک کر دیا
جبکہ اماں سائیں کو اس کی چوٹ کی پریشانی کھائی جا رہی تھی اس لئے اس کے آتے ہی سب سے پہلے انہوں نے اس کے ماتھے کی چوٹ کے بارے میں پھر سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں اماں سائیں ذرا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا وہ انہیں مطمئن کر کے اپنے کمرے میں جانے لگا جب اماں سائیں نے بتایا کہ یہ کمرہ رات کو لاک ہو گیا تھا اور سویرہ اندر تھی اگر وہ نہیں آتی تو ساری رات بیچاری اندر ہی رہتی پتا نہیں کس نے لاک کس نے کیا تھا اماں سائیں نے پریشانی سے پوچھا
وہ دراصل اماں سائیں مجھے کمرے میں اکیلے رہنے کی عادت ہوگئی تھی
لڑکی چاہتی کیا ہو جان لے کر مانو گی کیا اس کے ہاتھ میں ہے پن دیکھ کر وہ تلملا اٹھا
آپ جا کر دکھاِیں مجھے اس چڑیل کے پاس پھر دیکھیے گا میں آپ کا کیا حال کرتی ہوں وہ دھمکی دیتے انداز میں بولی
اس کا نام سویرہ ہے مقدم نے شرارت سے کہا
کیا کہا آپ نے حوریہ نے گھور کر پوچھا
نہیں اس کا نام چڑیل ہی ہے مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی تم کہاں جا رہی ہو یہاں آؤ میرے پاس
مقدم سائیں ایک اور بات ۔
بس باقی سب کچھ بعد میں پوچھ لینا فلحال مجھے خود سے پیار کرنے دو کتنا تڑپا ہوں تمہارے لیے ایک مہینے سے ایک بار نہیں سوچا ہوگا میرے بارے میں تم تو خوش ہوگی کہ جان چھوٹ گئی ہے
یقین کرو کہ تمہاری جان بچانے کے لئے مجھے سچ میں نکاح کرنا پڑتا تو میں کر لیتا
وہ اتنی گری ہوئی ہے کہ اس نے نہ اپنے خاندان کا سوچا نہیں اپنے باپ کا چاچا سائیں کو کینسر ہے اور کل لنڈن واپس جانا چاہتے ہیں سویرا یہ بات ہمارے نکاح والے دن سے جانتی تھی۔
وہ اتنی گری اور گھٹیا لڑکی ہے حوریہ کہ اس نے اپنی باپ کے موت کو استعمال کیا ۔۔ مقدم کے اس طرح سے کہنے پر حوریہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے ۔
رشتے کتنے بے مول ہوتے جا رہے ہیں نہ حوریہ سویرا اتنا گر جائے گی کوئی نہیں جانتا تھا ۔لیکن تم فکر مت کرو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔
میں خود تمہاری حفاظت کروں گا اس دوران اگر میں سویرا کے قریب چلا جاؤں تو برا مت منانا وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا اینڈ میں شرارت سے بولا
یہاں آنے سے پہلے بھی اس کا ایک فرینڈ تھا ویلکم پلکس اور اس کے ساتھ اتنی آگے جا چکی تھی کہ اس کے بچے کی ماں بننے جارہی ہے یہ پریگنینسی کی باتیں جھوٹی نہیں ہیں حوریہ اور یہ بات میں نکاح والے دن سے جانتا ہوں
جب میں اسے ہسپتال لے کر گیا
اس کی حالت اتنی خراب تھی کہ میں نے اسے چیک کروایا تم جانتی ہو ڈاکٹر نے باہر نکل کر مجھ سے کیا کہا کہ مجھے اس کا خیال رکھنا چاہیے وہ پریگننٹ ہے ۔
لیکن میں اس دن بھی کچھ نہیں بولا کیوں کے تم سے زیادہ امپرنٹنٹ میرے لیے کچھ نہیں تھا میں کسی بھی طرح سے سویرا کو اپنے جال میں پھنسا کر اس شخص تک پہنچنا چاہتا ہوں جو تمہاری جان لینا چاہتا ہے
میرے لئے سب سے اہم تم ہو اور تمہارے بعد ہی آتے ہیں باقی سب تمہارے لئے مجھے اپنی جان دینی پڑے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں یہ تو صرف نکاح تھا
حوریہ ابھی تک ایک ایسی رات نہیں گزری کہ میں اس کے ساتھ ایک کمرے میں رہا ہوں ۔ہاں وہ میرے قریب آتی رہی ہے یقین کرو میں نے کبھی اپنی حدود کراس نہیں کی۔
میں جانتا ہوں ہمارا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں ایک نامحرم لڑکی کے ساتھ اتنا قریب رہوں۔ لیکن میں مجبور تھا حوریہ مجھے میری بیوی کی جان بچا نی ہے اور جہاں تک بات ہے سویرا کی اپنی ہی نظروں میں گرنے کی تو تم اس بات کی بالکل فکر مت کرو
سویرا اتنی گری ہوئی ہے کہ تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی
وہ صرف مجھ سے محبت کے دعوے کرتی ہے سچ تو یہ ہے کہ اس نے مجھے کبھی چاہا ہی نہیں اسے بس میری شکل پسند ہے اور صرف میری ہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی بھی خوبصورت مرد اسے پسند ہوگا کل اگر اسے مجھ سے اچھا اور مجھ سے خوبصورت دیکھنے والا کوئی شخص مل گیا تو اس کے پیچھے بھاگنے لگے گی
مقدم نے اپنا سر پیٹتے ہوئے سے بتایا ۔
ارے نہیں میں یہ تھوڑی نہ کہہ رہی ہوں میں تو صرف بتا رہی ہوں ہمارا کام تو آپ کے دوست نے کر دیا اب آپ کو انہیں سمجھا نا چایے کہ یہ غلط کام نہیں کرنا چاہیے حوریہ نے اپنی بات سمجھانے والے انداز میں کہا
ویسے مقدم سائیں آپ نے غلط کیا کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود آپ سویرا کے اتنے قریب رہے نہ صرف قریب رہے بلکہ ایک ہی کمرے میں رہے یہ تو غلط ہے نا وہ آپ کی محرم تھوڑی ہے اور ہمارا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا سویرا تو یہی سوچ رہی ہو گی کہ وہ آپ کی بیوی ہے یہی سوچ کے وہ آپ کے قریب آتی ہوگی ذرا سوچیں کہ جب اسے یہ پتہ چلے گا کہ آپ اس کے لیے نامحرم ہیں تو وہ اپنی ہی نظروں میں گر جائے گی ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے سویرہ سے زیادہ برا اور کوئی نہیں لگتا تھا لیکن اب اسی کی فکر ہونے لگی
مقدم پر سکون سے انداز میں سے سب کچھ بتانے لگا ۔
جب کہ حوریہ ان پیپرز کو دیکھ کر بنا کچھ سوچے سمجھے مقدم سے لپٹ گئی ۔
مطلب آپ کی شادی ہوئی ہی نہیں ہے آپ سے میرے شوہر ہیں وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی
ہاں میری جان مقدم شاہ پر صرف اور صرف تمہارا حق ہے مقدم شاہ صرف اور صرف تمہارا شوہر ہے ۔
میری جان نے اس قصے سے کیا سبق سیکھا مقدم نے اس کا خوبصورت چہرہ دیکھتے ہوئے بولا
یہی کے جھوٹا نکاح نامہ نہیں بنوانا چاہیے آپ کے دوست بہت غلط کام کرتے ہیں اور آپ کو انہیں روکنا چاہیے اس کے شرارت سمجھےبغیر حوریہ آج کا سبق سنانے لگی
حوریہ میری جان اگر وہ یہ کام نہیں کرتا تو اس وقت میں تمہارے ساتھ سویرا کابھی شوہر ہوتا
اسی لیے میں تحمل سے سویرا کی بات سننے کا ارادہ کیا لیکن وہاں جاتے ہی سویرہ نے مجھ سے کہا کہ جب تک میں اسے اپنا نام نہیں دیتاوہ میرے ساتھ نہیں چلے گی اور نہ ہی وہ جگہ چھوڑے گی بلکہ وہی خود کشی کر کے مر جائے گی ۔
پھر میں نے اپنے اس دوست کا سہارا لیا اسے فون کیا اسے نکاح کےپیپرز انتظام کرنے کے لئے کہا ۔
پھر وہیں سے ہم ایک قریبی مسجد میں گئے اور اس نکاح پر سائن کر دیے ۔جب کہ مولوی صاحب کو ہم پہلے ہی بتا چکے تھے کہ یہ نکاح صرف اس لڑکی کو غلط کام سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے ۔
مولوی صاحب نے بنا نکاح کی کاروائی کیے پیپرز سائن کروا کے ہمیں واپس بھجوا دیا ۔اور سویرا کو لگا کہ ہمارا نکاح ہوچکا ہے جبکہ جن کاغذات پر اس نے سائن کیا تھا ان پر صرف اوپر ہی نکاح نامہ لکھا تھا
جبکہ اصل میں یہ نکاح نامہ تھا ہی نہیں نقلی کاغذات تھے
میں ملک کی بات پر کبھی یقین نہیں کرتا حوریہ لیکن میں نے ایک رات خود حویلی سے کسی کو بھاگتے ہوئے دیکھا تھا اس دن میں بہت ڈر گیا تھا تمہیں کھونے کے ڈر سے اور پھر اسے اگلے دن ہی سویرا ہسپتال جانے کے بہانے وہ سارا ڈرامہ کرنے والی تھی
چاچاسائیں پر حملہ ہونے کے بعد سویرا کا کڈنیپ ہونا سب ڈرامہ تھا ۔مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سویرا آخر مجھ سے چاہتی کیا ہے ۔
ہسپتال سے میں سیدھا اسی جگہ پر گیا تھا جب میں وہاں پہنچا تو سویرا لوٹی حالت میں وہاں بیٹھی تھی۔
میں نے اسے چاچوسائیں کی حالت بتائی اور اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہا لیکن میں اس سے ڈائریکٹ سب کچھ نہیں پوچھ سکتا تھا کہ وہ شخص کون ہے جو تمہیں مارنا چاہتا ہے مجھے ڈر تھا کہ یہ نہ ہو کہ میرے پیچھے ہی وہ کہیں تم پر حملہ کر دے
وہ پیپرزکھول کر ایک بار پھر سے اسے دکھانے لگا
تمہیں یاد ہے ہماری شادی پر ایک لڑکا آیا تھا میرا دوست ہے وہ انلیگل کام کرتا ہے میں نے اسے بہت بار سمجھایا کہ یہ کام غلط ہے اسے نہیں کرنا چاہیے لیکن وہ کبھی میری بات مانتا نہیں تھا اور پھر مجھے اس بے غیرت دوست کی ضرورت پڑ گئی
سویرا سے نکاح سے کچھ دن پہلے مجھے ملک کا فون آیا تھاکوئی اس کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے اور وہ صرف ملک کی ہی نہیں بلکہ تمہاری بھی جان لیناچاہتا ہے لیکن میں نے اس کی بات کو اگنور کر دیا پھرکچھ دن بعد میں پتہ چلا کہ ملک پرپھر جان لیوا حملہ ہوا ہے
اس کے کچھ دن بعد مجھے پھر سے ملک کا فون آیا اس نے مجھے بتایا کہ سویرا اس شخص کو جانتی ہے جو ملک اور تمہارا دشمن ہے ۔
میں اسی دن اس سے اگلوانے جانے والا تھا کہ آخر کون ہے جو تمہیں مارنا چاہتا ہے ۔
تمہارا غصہ بالکل جائز ہے میری جان لیکن تم کس نکاح بات کر رہی ہو مقدم انجان بنتے ہوئے بولا
اوتم کہیں اس نکاح کی بات تو نہیں کر رہی مقدم نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا
جی ہاں میں اسی نکاح کی بات کر رہی ہوں حوریہ نے اس کے ہاتھ سے نکاح نامہ لے کر بیڈ پر پھینکا
اس طرح پھینکنے سے پہلے غور سے دیکھ تو لو نکاح نامہ جھوٹا ہے مقدم کہتے ہوئے اس کے بیڈ پر لیٹ گیا
کیا مطلب ہے آپ کا نکاح نامہ جھوٹا ہے حوریہ حیرت سے دیکھنے لگی
اس کا مطلب تو یہی ہے میری جان کے نکاح نامہ جھوٹا ہے کوئی نکاح ہوا ہی نہیں ہے مقدم شاہ اپنی جان کی جگہ دنیا میں کسی کو نہیں دے سکتا
مطلب کے آپ نے نکاح کیا ہی نہیں وہ حیرت سے منہ کھولے ہوئے بولی تومقدم اس کے انداز پر بے ساختہ مسکرا دیا
نہیں میری جان کوئی نکاح ہوا ہی نہیں ہے یہ کاغذات جھوٹے ہیں اصل نکاح نامہ نہیں ہے دیکھو اسے
لیکن فی الحال وہ اسے احساس دلانا چاہتی تھی کہ مقدم نے غلطی کی ہے وہ کیسے کسی اور کو اپنی بیوی کا مقام دے سکتا ہے چاہے جو کچھ بھی ہو وجہ جو بھی ہو یہ کرنے کی کیا تک بنتی تھی فلحال وہ اسے معاف کرنے کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن اب دستک کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی
جس کا مطلب تھا کہ وہ ساری رات کھڑکی کھٹکھٹاتا رہے گا لیکن وہاں سے جائے گا نہیں حوریہ نے مجبور ہوکر کھڑکی کھولی
کانوں میں روئی ٹھونس کے بیٹھی تھی کیا کب سے کھٹکھٹا آ رہا ہوں آواز نہیں آرہی تھی پچھلے ہٹو مجھے اندر آنا ہے وہ کافی جھنجلایا ہوا تھا
وہ ذرا سی پیچھے ہٹی تو وہ کمرے کے اندر آ گیا
حوریہ اب سینے پہ ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہی تھی جیسے پوچھ رہی ہو کہ اب یہاں آنے کا فائدہ
ایسے گھورکیا آرہی ہو میرے دل کا قرار
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain