Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

تمہارا کام بنا اب وہ اس سے پوچھنے لگی
نہیں آپ کی وجہ سے سب کچھ گربڑ ہو گیا رضوانہ پھوپو کو بھی بہت جلدی تھی مجھ پر پگنیٹ کرنے کی فالحال آپ جائیں میں آرام کرنا چاہتی ہوں وہ بدتمیزی سے کہتی لیٹ گئی جبکہ اس کا یہ انداز نازیہ کو بالکل پسند نہ آیا تھا لیکن بنا کچھ کہے اٹھ کر باہر چلیں گئیں

اپنے کمرے کی کھڑکی پر بار بار دستک سن کر حوریہ کھڑکی کھولنے پر مجبور ہوگئی یہ تو وہ جانتی تھی کہ باہر کون ہے لیکن وہ وہاں سے اس شرط پر یہاں آئی تھی کہ مقدم سائیں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور اب رات کے اس وقت مقدم سائیں اس سے ملنے یہاں تک آ گے تھے یہ تو وہ بھی پہلے سے ہی جانتی تھی کہ وہ چاہے جتنا بھی مقدم کو منع کردے اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا
اس کے سر پر بہت شدید چوٹ لگی تھی وہ خود بھی اس سے ملنا چاہتی تھی

Mirh@_Ch
 

نازیہ مقدم کے کمرے میں آئیں تو کمرہ باہر لاک تھا وہ پریشانی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں تو سویرا سامنے ہی بیڈ پر لیٹی ہوئی یہ دروازہ کس نے باہر سے بند کیا تھا وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
پتا نہیں شاید اٹک گیا تھا کھولنے کی کوشش کی لیکن کھلا نہیں
سویرا نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا جبکہ وہ اس وقت ان کے کمرے میں آنے کی وجہ جاننا چاہتی تھی
تم نے پوچھا مقدم کے سر پر کیا ہوا ہے اسے چوٹ کیسے لگی میں نے پوچھا تھا ٹال گیا کہتا ہے کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا مجھے تو کافی گہرا زخم لگتا تھا
مجھے بھی یہی بتایا انہوں نے خیر اتنی بڑی بات نہیں ہے آپ تو بس ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہو جاتی ہیں اتنا گہرا زخم نہیں ہے میں نے دیکھا ہے وہ ٹھیک ہیں اور اس وقت اپنے دوستوں کے پاس گئے ہوئے ہیں سویرانے ٹالتے ہوئے کہا

Mirh@_Ch
 

وہ اس کے پاس بیٹھا بس اس کا حسین چہرہ دیکھے جا رہا تھا جبکہ تائشہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر دوسری طرف پھیر دیتی اور جنید شرارتاً اسی وقت اپنی نظریں دوبارہ اس کے چہرے پر ٹکا دیتا
جنید ہم اپنے بےبی کا کیا نام رکھیں گے
وہ دونوں گھر واپس آ رہے تھے جب تائشہ نے پوچھا اس کے ہر انداز میں اس کی خوشی جھلک رہی تھی
میری حسین سجنی ابھی تو پورے آٹھ مہینے پرے ہیں آرام سے سوچیں گے جنید نے مسکرا کر جواب دیا
نہیں میں نے سوچ لیا ہے صائم نام رکھیں گے آپی سنعیہ کے ناول کے ہیرو کا نام ہے
آپ کو پتہ ہے وہ اتنا ہینڈسم ہے میرا بیٹا بالکل ویسا ہی ہوگا تائشہ نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا جبکہ اس کے بچگانہ انداز میں وہ مسکراتے ہوئے گاڑی کو گاوں کی کچی سڑک پر ڈال چکا تھا

Mirh@_Ch
 

بس یا اور کچھ بھی جاننا دھڑکن جوندی کی لہروں کو دیکھتے ہوئے اس کی باتیں سن رہی تھی کردم کے پوچھنے پر اسے دیکھنے لگی۔
تو آپ کی ماما کہاں ہیں۔دھڑکن نے اگلا سوال پوچھا جس پر کردم مسکرایا ۔
میرے اماں سائیں بابا سائیں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے ۔اماں سائیں ان سے اتنی محبت کرتی تھی کہ ان کے چھوتھے تک بھی سانسیں نہ لے سکی۔
چلو بارش ہونے والی ہے گھر چلتے ہیں کردم اسے جواب دیتے ہوئے اٹھا اور اس کا ہاتھ تھام کر گھر کے راستے چلنے لگا ۔
جبکہ دھڑکن خاموشی سے اپنی کیٹی کو ہاتھ میں لیے کے ساتھ چلتی رہی
۔❤
مبارک ہو یہ ماں بننے والی ہیں لیکن دھیان رہے کہ یہ بہت کمزور ہیں اور آپ کو ان کا بہت خیال رکھنا ہے ۔
ڈاکٹر نے تائشہ کامکمل چیک اپ کرنے کے بعد بتایا جنید کی تو خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ تھی

Mirh@_Ch
 

اس سے کچھ دن بعد ہی آہانہ پھوپو آدھی رات کے وقت ایک چھوٹی سی بچی کو اپنے ہاتھوں میں لیے گھر میں داخل ہوئی اور انہیں آکر یہ بتایا کہ ملک داداسائیں اور ان کے تینوں بیٹوں کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے
اور انہوں نے اپنے پہ بیتی ہوئی ساری داستان سنائی کہ ملک کس طرح سے انہیں دن رات مارتا پیٹتا تھا اور کس طرح سے اس نے ان سے زبردستی نکاح کرلیا اس نےان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ اگر انہوں نے اس رشتے سے انکار کر دیا تو وہ انہیں کسی کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا
اور پھوپو کے کہنے کے مطابق اسی رات حویلی پر حملہ ہوا جس میں چاچا سآئیں بابا سائیں آہانہ پھوپواور پھوپھاسائیں کا قتل ہو گیا اور ملک 19 سال سے اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے تڑپتا رہا پر دادا سائیں نے حوریہ کو سے واپس نہ دیا ۔

Mirh@_Ch
 

اسی لئے وہ کچھ عرصہ گاؤں چھوڑ کر امریکا چلا گیا ۔
اور پھر سات سال بعد واپس آیا جب میں چھ سال کا تھا جب اچانک ایک دن پتہ چلا کہ اہانہ پھوپو کالج سے واپس آتے ہوئے کنڈنپ ہوگئی ہیں ۔
بابا سائیں کا پہلا شک ہی ملک تھا وہ ان کے گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کا نکاح ملک سے ہو چکا ہے
جب ہنگامہ ہوا تو ملک نے کہا کہ اہانہ خود یہاں بھاگ کر آئی ہے اور اہانہ پھوپو نے بھی اس بات کو قبول کر لیا ۔دادا سائیں کو اس دن بہت دکھ ہوا وہ گھر واپس لوٹ کر آئے تو اپنے آپ کو ایک کمرے تک محدود کردیا
پھر انہیں نوکروں سے پتا چلے لگا کے ملک اہانہ پھوپوکو دن رات مارتا ہے طعنے دیتا ہے لیکن دادا سائیں نےکہا کہ یہ سب کچھ اہا نہ کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔
پھر ہمیں تین سال بعد پتا چلا کہ ملک کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے

Mirh@_Ch
 

ان کی کوئی منگنی نہیں ہوئی اور اگر وہ ان کا رشتہ چاہتے ہیں تو ان کے گھر رشتہ لے کے جائے بابا سائیں نے ایک بار پھر سے داداسائیں کو کو منا کر ان کے گھر بھیجا اور پھر نہ امید لوٹ آئے
اسی دوران ایک دن پتہ چلا کہ ملک زبردستی اپنی بہن کی شادی کسی سے کروا رہا ہے اور یہ خبر اماں سائیں نے اپنے ایک نوکر کے ہاتھوں باباسائیں تک پہنچائی تھی۔
اور نکاح سے ٹھیک کچھ دیر پہلے ہی دادا سائیں اور بابا سائیں ان کے گھر پہنچ گئے
اماں سائیں کی رضامندی پوچھنے پر انہوں نے شادی سے انکار کردیا اور اس دن اسی وقت ان کا نکاح بابا سائیں سے کروا دیا اور انہیں اپنے ساتھ حویلی لے آئے اس بات کے بعد ملک کی بہت بےعزتی ہوئی وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ۔
اسے لگتا تھا کہ اسے بد نام کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اس کی اپنی بہن کا ہے

Mirh@_Ch
 

بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_80
اس ندی پر میری اماں سائیں اپنی سہیلیوں کے ساتھ آئیں تھیں اور یہاں سے میرے باباسائیں نے انہیں پہلی بار دیکھا اور پھر دیکھتے ہی رہ گئے
پھر اکثر اس وہ پانی بھرنے کے لیے اپنی سہیلیوں کے ساتھ آتی اور پھر بابا سائیں کو ایک دن ان کے وقت کا اندازہ ہو گیا ہے بابا سائیں ہر روز یہاں اسی وقت ان کا انتظار کرتے تاکہ ایک جھلک ان کی دیکھ سکے
ایک دن اس سب کی خبر دادا سائیں کو ہوگی اور انہوں نے اپنے بیٹے کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے فوراً ان کے گھر میں رشتہ ڈالا لیکن ملک نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ پہلے سے ہی منگنی شدہ ہیں
جبکہ یہ بات جھوٹ تھی اور باباسائیں نے ایک دن اماں سائیں کو راستے میں روک لیا اور ان سے ان کی منگنی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سچ کہا

Mirh@_Ch
 

میں جلدی واپس آ جاؤں تم اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔
مسکرا کر اس کا گال تھپتھپا تا وہ کمرے سے باہر نکل گیا
سویرا کافی دیر بیٹھ کر خود پر لعنت بھیجتی رہی ۔
پھر اٹھ کر باہر جانے لگی جب اسے احساس ہوا کہ دروازہ تو لاک ہے اس نے بہت کوشش کی یہاں تک کافی دیر دروازہ کھٹکھٹاتے رہی لیکن باہر شاید کوئی بھی موجود نہ تھا
یہ دروازہ اٹک کیسے گیا وہ خود سے کہتی ہوئی واپس آکر بیڈ پر لیٹ گئی آج کا دن نہی منہوس ہے ایک تو میں اپنا فون کمرے میں چھوڑ کے آ گئی اور دوسری وہ حوریہ گھر واپس آ گئی یہ تو شکر ہے کہ حوریہ اور مقدم سائیں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں رہے گا ورنہ یہ سب کچھ کتنا مشکل ہو جاتا ۔لیکن اب مقدم سائیں صرف میرے ہیں آج نہیں تو کل سہی
سویرا سوچتے ہوئے آہستہ سے آنکھیں موند کر اپنے آنے والے زندگی کے حسیں خواب دیکھنے لگی

Mirh@_Ch
 

اور جب تک تم نہیں چاہوگی میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ۔۔ تم میرے لیے بہت خاص ہو اور ہمیشہ رہو گی
وہ آہستہ آہستہ بولتا قدم اٹھاتے بالکل اس کے پاس آکر کا
ایسی بات نہیں ہے مقدم سائیں میں اس رشتے کے لئے تیار ہوں اور میں بھی آپ کے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات کرنا چاہتی ہوں
سویرانے سمجھانا چاہا
نہیں سویرا تمہیں میرے لیے اتنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں اس وقت تمہارے لئے یہ سب کچھ بہت مشکل ہے اور میں تب تک تمہارے ساتھ یہ رشتہ قائم نہیں کرسکتا جب تک تم پورے دل سے راضی نہ ہو
اور تمہیں آرام کی ضرورت ہے تم اس طرح سے کھڑی کیوں ہو آؤ یہاں بیٹھو وہ اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی بیڈ پر بیٹھ گیا
تم یہاں آرام کرو باہر میرے کمبخت دوست آئے ہوئے ہیں مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے کے جانا چاہتے ہیں لیکن میں کوشش کروں گا

Mirh@_Ch
 

سویرا کمرے میں واپس آئی تو مقدم بھی اسی وقت واپس آیا ۔
اور اسے مسکرا کر دیکھا
مجھے معاف کردو سویرا میں تمہارے جذبات سمجھے بغیر تمہیں یہ رشتہ نبھانے پر فورس کر رہا تھا ۔
میں نے ایک بار تمہارا احساس نہیں کیا کہ یہ سب کچھ تمہارے لیے کتنا مشکل ہے ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا تمہارے لئے کتنا مشکل ہے میں سمجھ سکتا ہوں شاید میں ضرورت سے زیادہ جلد بازی کر رہا ہوں شاید حوریہ کو بلانے کے لئے میں تمہارا سہارا چاہتا تھا
لیکن اب ایسا نہیں ہوگا شاید میں مطلبی ہو گیا تھا وہ سویرا مجھے معاف کردو کاش میں تمہارا احساس کرتا تو اس طرح تمہاری نظروں میں نہ گرتا
میں نے کیسے سوچ لیا کہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد تم میرے ساتھ ایک نارمل زندگی گزار سکتی ہو لیکن تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے سویرا اس بچے کو میں اپنا نام دوں گا ۔

Mirh@_Ch
 

مقدم کو گھر پر نہ پا کر وہ فورا ان کے کمرے میں آئی کیونکہ مقدم کے سامنے تو اداس ہونے کا ڈرامہ کرنا تھا
سویرا تم نے ہی تو کہا تھا جب بھی حوریہ واپس آئے جن بھی حالات میں واپس آئے میں تمہاری پریگننسی کی جھوٹی خبر پھیلا دوں تاکہ مقدم کو تمہاری طرف متوجہ کرنے میں آسانی رہے
او ہو یہ کیا کر دیا آپ نے یہ کرنے سے پہلے مجھے ایک پر بتا تو دیتیں آج رات ہی تومقدم سائیں میرے پاس آنے والے تھے میں انہیں اپنا بنانے والی تھی اور آپ نے سب کچھ بگاڑ دیا اب ان کے سامنے مجھے پھر سے اداسی کا ناٹک کرنا ہوگا ۔
لیکن کوئی بات نہیں آج رات تو میں انہیں حاصل کر کے رہوں گی ۔
سویرا اپنا ارادہ مضبوط کرتی دوبارہ انہیں گھورتے ہوئے کمرے سے نکل گئی
جبکہ نازیہ وہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر اس لڑکی کے دماغ میں چل رہا ہے

Mirh@_Ch
 

آپ مجھے سب کچھ بتائیں گے کہ تایا سائیں کے ساتھ کیا ہوا اور ملک اہانہ پھوپو سائیں کا دشمن کیسے بنا ۔
اور حوری دیدہ ملک کی بیٹی ہیں تو وہ ہمارے گھر میں کیسے آئیں ۔۔ ۔ اس کا انداز تجسس سے بھرپور تھا
ٹھیک ہے چلو میں تمہیں سب کچھ بتاوں گا کردم نے مسکرا کر کہا
شاید وقت آگیا تھا اپنے درد کو ہلکا کرنے کا اپنا غم کسی کے ساتھ بانٹنے کا دھڑکن نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جو اس نے فورا تھام لیا ۔
اب ان دونوں کا ارادہ ڈیرے پر جانے کا تھا ۔

یہ کیا کر دیا ہے آپ نے میری پریگنینسی کا بتانے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھ لیتی ۔سویرا ان کے کمرے میں آئی اور غصے سے بولی وہ کب سے اپنے کمرے میں مقدم کا انتظار کر رہی تھی
لیکن باہر آنے پر اسے پتہ چلا تھا کہ مقدم کو کوئی ضروری کام تھا جس کی وجہ سے وہ واپس چلا گیا ہے

Mirh@_Ch
 

اس کی حوری دیدہ بالکل ٹھیک تھی اور گھر واپس آ چکی تھی
ہم کل صبح چلیں گے میری جان میں دادا سائیں کو بتا کے آیا ہوں کردم نے اسے بہلاتے ہوئے کہا
میں نہیں بولتی آپ سے آپ کبھی بھی میری بات نہیں مانتے وہ غصے سے پاؤں پٹختی اندر چلی گئی
موسم خراب ہو رہا تھا اور حویلی یہاں سے کافی دور تھی وہ جاتے تو واپسی پر مشکل ہوتی اسی لئے وہ اسے بہلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ اب اس سے ناراض ہو کر بیٹھ گئی تھی
ڈیرے پر چلیں وہ کمرے میں آیا اور اسے بہلانے کی خاطر بولا
ایک شرط پہ چلوں گی آپ مجھے سب کچھ بتاؤ گے دھڑکن نے شرط رکھی ۔اس کی ایک عادت جو کردم کو بہت پسند تھی وہ جتنی جلدی روٹھتی تھی اتنی جلدی مان بھی جاتی تھی کردم کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی
کیا بتاؤں گا دھڑکن ایسا کچھ ہے یا نہیں بتانے لائق کردم اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے بولا

Mirh@_Ch
 

مبارک ہو مقدم سائیں آپ باپ بننے والے ہیں پھوپوسائیں جو کہیں باہر گئی تھی اندر داخل ہو کر مسکراتے ہوئے اس کی طرف آئیں
اور اسے مبارکباد دینے لگی
جبکہ مقدم شاکڈ ساان تینوں عورتوں کو دیکھ رہا تھا سویرا نظر جھکائے اپنی شکل پر اداسی سجائے زمین کو گھور رہی تھی ۔
خیر مبارک آپ کو بھی مبارک یہ تو بہت خوشی کی بات ہے وہ سویرا کی طرف آیا اور مسکرا کر بولا جب کہ سویرا آنسوؤں سے بھری ایک نظر اس پر ڈالتے اندر کمرے کی طرف بھاگ گئی
جب مقدم نے پیلر کے پیچھے دو غصے سے بھرپور نظروں کو خود کو گھورتے پایا ۔چہرے پر اپنے آپ تبسم کھلا تھا

نہیں کردم سائیں ابھی چلیں نہ حوری دیدہ سے ملتے ہیں کردم جب سے آیا تھا دھڑکن اس کی منتیں کیے جارہی تھی
اس کی خوشی کا تو آج کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا آخر اس کی دعائیں رنگ لائیں تھیں

Mirh@_Ch
 

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ صحیح سلامت ہے اور واپس آ گئی ہے اخر ہم نے اسے ڈھونڈ نکالا ۔
اور اب سے یہی پر رہے گی اور کوئی بھی اس سے کوئی سوال نہیں کرے گا
لیکن مقدم سائیں۔۔۔۔۔ سویرا نے کچھ کہنا چاہا جب دادا سائیں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا
ہماری نواسی کا مقدم سائیں سے کوئی تعلق نہیں اور خبردار جو مقدم سائیں اس کے قریب بھی بھٹکے
مرا نہیں جا رہا میں آپ کی نواسی کیلئے اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے یہ تو میں آپ کو بہت پہلے ہی بتا چکا ہوں ۔مقدم نےدروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سویرا کو خوش کردیا
میں اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہوں اور مجھے آپ کی نواسی کی ہرگز بھی کوئی ضرورت نہیں ہے مقدم ان کے سامنے آکر رکا
اور نہ ہی مجھے آپ کی وہ کہہ کر اپنے روم کی طرف جانے لگی کمرے کی طرف قدم بڑھائے ہوئےحوریہ کے کانوں میں آواز آئی

Mirh@_Ch
 

کیاکیا ہے تم نے میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا ہے اچانک رضوانہ دھاڑتی ہوئی بولی
معاف کیجیے گا بی بی جی مہربانی فرما کر اس وقت آپ جائیں میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا ہوں ۔
وہ بھی بنا لحاظ کےبولا اور تائشہ کے وجود کو اپنے باہوں میں بھرتا اٹھ کر باہر نکل گیا
اکبر جب میں بی بی چلی جائیں تو میرے گھر کو تالا لگادینا جنید کہتے ہوئے آگے نکل گیا اس کا ارادہ ڈیرے پر جا کر وہاں سے گاڑی نکالنے کا تھا تاکہ وہ اسے ہسپتال لے کے جا سکے

داداسائیں حوریہ کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لائے تھے سویرہ جو ادھر سے ادھر ٹہل کر مقدم کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر شاکڈ رہ گئی
بابا سائیں یہ یہاں کیا کر رہی ہے یہ توسے چلی گئی تھی نہ گھر چھوڑ کے نازیہ کو حوریہ کو دیکھتے ہی غصہ آگیا
اسے ہم لائے ہیں نازیہ بہو یہ ہمارے گھر کی بہو ہے ہماری بیٹی ہے

Mirh@_Ch
 

مجھے میری بیٹی سے اکیلے میں بات کرنی ہے تم ذرا باہر جاؤ رضوانہ اسے حکم دیتے ہوئے انداز میں بولی تو وہ احتراماً مسکرا کر اٹھا
ٹھیک ہے آپ دونوں باتیں کریں میں آپ کے لئے چائے لے کے آتا ہوں ۔
ضرورت نہیں ہے میں بس اپنی بیٹی سے بات کرنا چاہتی ہوں تم اپنی شکل دفع کرو یہاں سے ۔وہ غصے سے بولیں ان کے انداز پر غصہ تو جنید کو بھی بہت آیا تھا ۔ لیکن ان کا احترام کرنا اس پر فرض تھا کیونکہ وہ اس کے لیے ماں کا مقام رکھتیں تھیں
اندر چلو انہوں نے تائشہ کو اشارہ کیا جب تائشہ نے ڈرتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھائے اور اس کے ساتھ ہی اس کا سر گھوم کر رہ گیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی باہر کی طرف جاتے جنید نے فورا سے تھام لیا
تائشہ کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔؟
اس کا سارا بدن ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بدحواس ہو گئی

Mirh@_Ch
 

سب کو لگتا ہے کہ وہ صرف حوریہ کا نہیں بلکہ ملک کا بھی دشمن ہے ۔
ویسے خوشبو میری پیاری آ رہی ہے کیا بنایا ہے اسے پریشان دیکھ کر جنید اس کا دھیان بٹانے لگا تو وہ مسکرائی
میں نے اچار گوشت بنانا ہےابھی روٹیاں ڈالتی ہوں مل کے کھائیں گے تائشہ مسکرا کر اٹھی جب جنید نے اس کا ہاتھ تھام کے اپنی طرف کھینچا ۔
آج میں نے تمہیں بتایا نہیں تم کتنی پیاری لگ رہی ہو اس کے چہرے سے بال ہٹاتا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے شرارتی انداز میں بولا ۔
جیند کی نظر اس کے آنکھوں سے ہوتے ہوئے چھوٹی سی ناک ٹھہری اور پھر لبوں سے ہوتے ہوئے اپنے دشمن اس قاتلانہ تل پر ۔
اس سے پہلے کہ وہ اس تل کو اپنی ظلم کا نشانہ بناتا کوئی بنا اجازت اندر داخل ہوا ۔
پل میں تائشہ کا سرخ رنگ بدلتے زرد پڑنےلگا ۔

Mirh@_Ch
 

آج اپنے بیٹے کی چاہت انہیں یہاں کھینچ لائی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ گئیں ۔کیونکہ ان کا ارادہ تائشہ کے پاس جانے کا تھا

وہ ابھی گھر واپس آیا تھا اور گھر آتے ہی تائشہ کوحوریہ کے واپس ملنے کی خوشخبری سنائی
کیاوہ کردم سائیں کے پاس تھی کردم سائیں نے یہ بات سب سے کیوں چھپائی جنید نے سب کچھ بتایا تو وہ پوچھنے لگی
کیوں کہ اس کی جان کو خطرہ ہے کوئی اسے جان سے مار دینا چاہتا ہے اور ہمہیں سویرا پہ شک ہے کہ وہ اس شخص کو جانتی ہے جو حوریہ کو مارنا چاہتا ہے اور کردم سائیں وجہ جاننا چاہتے تھے کہ اس شخص کی حوریہ کے ساتھ کیا دشمنی ہے
وہ تو کبھی اکیلے گھر سے باہر بھی نہیں نکلی تو اس شخص کو حوریہ اس سے ایسی کیا دشمینی ہے کہ وہ سے اس کی جان لے لینا چاہتا ہے حوریہ کے غائب ہونے کے دوران دو تین بار ملک پر اٹیک ہوئے ہیں سب کو لگتا ہے