تمہارا کام بنا اب وہ اس سے پوچھنے لگی
نہیں آپ کی وجہ سے سب کچھ گربڑ ہو گیا رضوانہ پھوپو کو بھی بہت جلدی تھی مجھ پر پگنیٹ کرنے کی فالحال آپ جائیں میں آرام کرنا چاہتی ہوں وہ بدتمیزی سے کہتی لیٹ گئی جبکہ اس کا یہ انداز نازیہ کو بالکل پسند نہ آیا تھا لیکن بنا کچھ کہے اٹھ کر باہر چلیں گئیں
❤
اپنے کمرے کی کھڑکی پر بار بار دستک سن کر حوریہ کھڑکی کھولنے پر مجبور ہوگئی یہ تو وہ جانتی تھی کہ باہر کون ہے لیکن وہ وہاں سے اس شرط پر یہاں آئی تھی کہ مقدم سائیں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور اب رات کے اس وقت مقدم سائیں اس سے ملنے یہاں تک آ گے تھے یہ تو وہ بھی پہلے سے ہی جانتی تھی کہ وہ چاہے جتنا بھی مقدم کو منع کردے اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا
اس کے سر پر بہت شدید چوٹ لگی تھی وہ خود بھی اس سے ملنا چاہتی تھی
نازیہ مقدم کے کمرے میں آئیں تو کمرہ باہر لاک تھا وہ پریشانی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں تو سویرا سامنے ہی بیڈ پر لیٹی ہوئی یہ دروازہ کس نے باہر سے بند کیا تھا وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
پتا نہیں شاید اٹک گیا تھا کھولنے کی کوشش کی لیکن کھلا نہیں
سویرا نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا جبکہ وہ اس وقت ان کے کمرے میں آنے کی وجہ جاننا چاہتی تھی
تم نے پوچھا مقدم کے سر پر کیا ہوا ہے اسے چوٹ کیسے لگی میں نے پوچھا تھا ٹال گیا کہتا ہے کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا مجھے تو کافی گہرا زخم لگتا تھا
مجھے بھی یہی بتایا انہوں نے خیر اتنی بڑی بات نہیں ہے آپ تو بس ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہو جاتی ہیں اتنا گہرا زخم نہیں ہے میں نے دیکھا ہے وہ ٹھیک ہیں اور اس وقت اپنے دوستوں کے پاس گئے ہوئے ہیں سویرانے ٹالتے ہوئے کہا
وہ اس کے پاس بیٹھا بس اس کا حسین چہرہ دیکھے جا رہا تھا جبکہ تائشہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر دوسری طرف پھیر دیتی اور جنید شرارتاً اسی وقت اپنی نظریں دوبارہ اس کے چہرے پر ٹکا دیتا
جنید ہم اپنے بےبی کا کیا نام رکھیں گے
وہ دونوں گھر واپس آ رہے تھے جب تائشہ نے پوچھا اس کے ہر انداز میں اس کی خوشی جھلک رہی تھی
میری حسین سجنی ابھی تو پورے آٹھ مہینے پرے ہیں آرام سے سوچیں گے جنید نے مسکرا کر جواب دیا
نہیں میں نے سوچ لیا ہے صائم نام رکھیں گے آپی سنعیہ کے ناول کے ہیرو کا نام ہے
آپ کو پتہ ہے وہ اتنا ہینڈسم ہے میرا بیٹا بالکل ویسا ہی ہوگا تائشہ نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا جبکہ اس کے بچگانہ انداز میں وہ مسکراتے ہوئے گاڑی کو گاوں کی کچی سڑک پر ڈال چکا تھا
❤
بس یا اور کچھ بھی جاننا دھڑکن جوندی کی لہروں کو دیکھتے ہوئے اس کی باتیں سن رہی تھی کردم کے پوچھنے پر اسے دیکھنے لگی۔
تو آپ کی ماما کہاں ہیں۔دھڑکن نے اگلا سوال پوچھا جس پر کردم مسکرایا ۔
میرے اماں سائیں بابا سائیں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے ۔اماں سائیں ان سے اتنی محبت کرتی تھی کہ ان کے چھوتھے تک بھی سانسیں نہ لے سکی۔
چلو بارش ہونے والی ہے گھر چلتے ہیں کردم اسے جواب دیتے ہوئے اٹھا اور اس کا ہاتھ تھام کر گھر کے راستے چلنے لگا ۔
جبکہ دھڑکن خاموشی سے اپنی کیٹی کو ہاتھ میں لیے کے ساتھ چلتی رہی
۔❤
مبارک ہو یہ ماں بننے والی ہیں لیکن دھیان رہے کہ یہ بہت کمزور ہیں اور آپ کو ان کا بہت خیال رکھنا ہے ۔
ڈاکٹر نے تائشہ کامکمل چیک اپ کرنے کے بعد بتایا جنید کی تو خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ تھی
اس سے کچھ دن بعد ہی آہانہ پھوپو آدھی رات کے وقت ایک چھوٹی سی بچی کو اپنے ہاتھوں میں لیے گھر میں داخل ہوئی اور انہیں آکر یہ بتایا کہ ملک داداسائیں اور ان کے تینوں بیٹوں کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے
اور انہوں نے اپنے پہ بیتی ہوئی ساری داستان سنائی کہ ملک کس طرح سے انہیں دن رات مارتا پیٹتا تھا اور کس طرح سے اس نے ان سے زبردستی نکاح کرلیا اس نےان کے سامنے یہ شرط رکھی کہ اگر انہوں نے اس رشتے سے انکار کر دیا تو وہ انہیں کسی کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا
اور پھوپو کے کہنے کے مطابق اسی رات حویلی پر حملہ ہوا جس میں چاچا سآئیں بابا سائیں آہانہ پھوپواور پھوپھاسائیں کا قتل ہو گیا اور ملک 19 سال سے اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے تڑپتا رہا پر دادا سائیں نے حوریہ کو سے واپس نہ دیا ۔
اسی لئے وہ کچھ عرصہ گاؤں چھوڑ کر امریکا چلا گیا ۔
اور پھر سات سال بعد واپس آیا جب میں چھ سال کا تھا جب اچانک ایک دن پتہ چلا کہ اہانہ پھوپو کالج سے واپس آتے ہوئے کنڈنپ ہوگئی ہیں ۔
بابا سائیں کا پہلا شک ہی ملک تھا وہ ان کے گھر پہنچے تو پتہ چلا کہ ان کا نکاح ملک سے ہو چکا ہے
جب ہنگامہ ہوا تو ملک نے کہا کہ اہانہ خود یہاں بھاگ کر آئی ہے اور اہانہ پھوپو نے بھی اس بات کو قبول کر لیا ۔دادا سائیں کو اس دن بہت دکھ ہوا وہ گھر واپس لوٹ کر آئے تو اپنے آپ کو ایک کمرے تک محدود کردیا
پھر انہیں نوکروں سے پتا چلے لگا کے ملک اہانہ پھوپوکو دن رات مارتا ہے طعنے دیتا ہے لیکن دادا سائیں نےکہا کہ یہ سب کچھ اہا نہ کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔
پھر ہمیں تین سال بعد پتا چلا کہ ملک کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے
ان کی کوئی منگنی نہیں ہوئی اور اگر وہ ان کا رشتہ چاہتے ہیں تو ان کے گھر رشتہ لے کے جائے بابا سائیں نے ایک بار پھر سے داداسائیں کو کو منا کر ان کے گھر بھیجا اور پھر نہ امید لوٹ آئے
اسی دوران ایک دن پتہ چلا کہ ملک زبردستی اپنی بہن کی شادی کسی سے کروا رہا ہے اور یہ خبر اماں سائیں نے اپنے ایک نوکر کے ہاتھوں باباسائیں تک پہنچائی تھی۔
اور نکاح سے ٹھیک کچھ دیر پہلے ہی دادا سائیں اور بابا سائیں ان کے گھر پہنچ گئے
اماں سائیں کی رضامندی پوچھنے پر انہوں نے شادی سے انکار کردیا اور اس دن اسی وقت ان کا نکاح بابا سائیں سے کروا دیا اور انہیں اپنے ساتھ حویلی لے آئے اس بات کے بعد ملک کی بہت بےعزتی ہوئی وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا ۔
اسے لگتا تھا کہ اسے بد نام کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اس کی اپنی بہن کا ہے
بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_80
اس ندی پر میری اماں سائیں اپنی سہیلیوں کے ساتھ آئیں تھیں اور یہاں سے میرے باباسائیں نے انہیں پہلی بار دیکھا اور پھر دیکھتے ہی رہ گئے
پھر اکثر اس وہ پانی بھرنے کے لیے اپنی سہیلیوں کے ساتھ آتی اور پھر بابا سائیں کو ایک دن ان کے وقت کا اندازہ ہو گیا ہے بابا سائیں ہر روز یہاں اسی وقت ان کا انتظار کرتے تاکہ ایک جھلک ان کی دیکھ سکے
ایک دن اس سب کی خبر دادا سائیں کو ہوگی اور انہوں نے اپنے بیٹے کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے فوراً ان کے گھر میں رشتہ ڈالا لیکن ملک نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ پہلے سے ہی منگنی شدہ ہیں
جبکہ یہ بات جھوٹ تھی اور باباسائیں نے ایک دن اماں سائیں کو راستے میں روک لیا اور ان سے ان کی منگنی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سچ کہا
میں جلدی واپس آ جاؤں تم اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔
مسکرا کر اس کا گال تھپتھپا تا وہ کمرے سے باہر نکل گیا
سویرا کافی دیر بیٹھ کر خود پر لعنت بھیجتی رہی ۔
پھر اٹھ کر باہر جانے لگی جب اسے احساس ہوا کہ دروازہ تو لاک ہے اس نے بہت کوشش کی یہاں تک کافی دیر دروازہ کھٹکھٹاتے رہی لیکن باہر شاید کوئی بھی موجود نہ تھا
یہ دروازہ اٹک کیسے گیا وہ خود سے کہتی ہوئی واپس آکر بیڈ پر لیٹ گئی آج کا دن نہی منہوس ہے ایک تو میں اپنا فون کمرے میں چھوڑ کے آ گئی اور دوسری وہ حوریہ گھر واپس آ گئی یہ تو شکر ہے کہ حوریہ اور مقدم سائیں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں رہے گا ورنہ یہ سب کچھ کتنا مشکل ہو جاتا ۔لیکن اب مقدم سائیں صرف میرے ہیں آج نہیں تو کل سہی
سویرا سوچتے ہوئے آہستہ سے آنکھیں موند کر اپنے آنے والے زندگی کے حسیں خواب دیکھنے لگی
اور جب تک تم نہیں چاہوگی میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ۔۔ تم میرے لیے بہت خاص ہو اور ہمیشہ رہو گی
وہ آہستہ آہستہ بولتا قدم اٹھاتے بالکل اس کے پاس آکر کا
ایسی بات نہیں ہے مقدم سائیں میں اس رشتے کے لئے تیار ہوں اور میں بھی آپ کے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات کرنا چاہتی ہوں
سویرانے سمجھانا چاہا
نہیں سویرا تمہیں میرے لیے اتنا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں اس وقت تمہارے لئے یہ سب کچھ بہت مشکل ہے اور میں تب تک تمہارے ساتھ یہ رشتہ قائم نہیں کرسکتا جب تک تم پورے دل سے راضی نہ ہو
اور تمہیں آرام کی ضرورت ہے تم اس طرح سے کھڑی کیوں ہو آؤ یہاں بیٹھو وہ اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی بیڈ پر بیٹھ گیا
تم یہاں آرام کرو باہر میرے کمبخت دوست آئے ہوئے ہیں مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے کے جانا چاہتے ہیں لیکن میں کوشش کروں گا
سویرا کمرے میں واپس آئی تو مقدم بھی اسی وقت واپس آیا ۔
اور اسے مسکرا کر دیکھا
مجھے معاف کردو سویرا میں تمہارے جذبات سمجھے بغیر تمہیں یہ رشتہ نبھانے پر فورس کر رہا تھا ۔
میں نے ایک بار تمہارا احساس نہیں کیا کہ یہ سب کچھ تمہارے لیے کتنا مشکل ہے ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا تمہارے لئے کتنا مشکل ہے میں سمجھ سکتا ہوں شاید میں ضرورت سے زیادہ جلد بازی کر رہا ہوں شاید حوریہ کو بلانے کے لئے میں تمہارا سہارا چاہتا تھا
لیکن اب ایسا نہیں ہوگا شاید میں مطلبی ہو گیا تھا وہ سویرا مجھے معاف کردو کاش میں تمہارا احساس کرتا تو اس طرح تمہاری نظروں میں نہ گرتا
میں نے کیسے سوچ لیا کہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد تم میرے ساتھ ایک نارمل زندگی گزار سکتی ہو لیکن تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے سویرا اس بچے کو میں اپنا نام دوں گا ۔
مقدم کو گھر پر نہ پا کر وہ فورا ان کے کمرے میں آئی کیونکہ مقدم کے سامنے تو اداس ہونے کا ڈرامہ کرنا تھا
سویرا تم نے ہی تو کہا تھا جب بھی حوریہ واپس آئے جن بھی حالات میں واپس آئے میں تمہاری پریگننسی کی جھوٹی خبر پھیلا دوں تاکہ مقدم کو تمہاری طرف متوجہ کرنے میں آسانی رہے
او ہو یہ کیا کر دیا آپ نے یہ کرنے سے پہلے مجھے ایک پر بتا تو دیتیں آج رات ہی تومقدم سائیں میرے پاس آنے والے تھے میں انہیں اپنا بنانے والی تھی اور آپ نے سب کچھ بگاڑ دیا اب ان کے سامنے مجھے پھر سے اداسی کا ناٹک کرنا ہوگا ۔
لیکن کوئی بات نہیں آج رات تو میں انہیں حاصل کر کے رہوں گی ۔
سویرا اپنا ارادہ مضبوط کرتی دوبارہ انہیں گھورتے ہوئے کمرے سے نکل گئی
جبکہ نازیہ وہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر اس لڑکی کے دماغ میں چل رہا ہے
❤
آپ مجھے سب کچھ بتائیں گے کہ تایا سائیں کے ساتھ کیا ہوا اور ملک اہانہ پھوپو سائیں کا دشمن کیسے بنا ۔
اور حوری دیدہ ملک کی بیٹی ہیں تو وہ ہمارے گھر میں کیسے آئیں ۔۔ ۔ اس کا انداز تجسس سے بھرپور تھا
ٹھیک ہے چلو میں تمہیں سب کچھ بتاوں گا کردم نے مسکرا کر کہا
شاید وقت آگیا تھا اپنے درد کو ہلکا کرنے کا اپنا غم کسی کے ساتھ بانٹنے کا دھڑکن نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جو اس نے فورا تھام لیا ۔
اب ان دونوں کا ارادہ ڈیرے پر جانے کا تھا ۔
❤
یہ کیا کر دیا ہے آپ نے میری پریگنینسی کا بتانے سے پہلے ایک بار مجھ سے پوچھ لیتی ۔سویرا ان کے کمرے میں آئی اور غصے سے بولی وہ کب سے اپنے کمرے میں مقدم کا انتظار کر رہی تھی
لیکن باہر آنے پر اسے پتہ چلا تھا کہ مقدم کو کوئی ضروری کام تھا جس کی وجہ سے وہ واپس چلا گیا ہے
اس کی حوری دیدہ بالکل ٹھیک تھی اور گھر واپس آ چکی تھی
ہم کل صبح چلیں گے میری جان میں دادا سائیں کو بتا کے آیا ہوں کردم نے اسے بہلاتے ہوئے کہا
میں نہیں بولتی آپ سے آپ کبھی بھی میری بات نہیں مانتے وہ غصے سے پاؤں پٹختی اندر چلی گئی
موسم خراب ہو رہا تھا اور حویلی یہاں سے کافی دور تھی وہ جاتے تو واپسی پر مشکل ہوتی اسی لئے وہ اسے بہلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ اب اس سے ناراض ہو کر بیٹھ گئی تھی
ڈیرے پر چلیں وہ کمرے میں آیا اور اسے بہلانے کی خاطر بولا
ایک شرط پہ چلوں گی آپ مجھے سب کچھ بتاؤ گے دھڑکن نے شرط رکھی ۔اس کی ایک عادت جو کردم کو بہت پسند تھی وہ جتنی جلدی روٹھتی تھی اتنی جلدی مان بھی جاتی تھی کردم کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی تھی
کیا بتاؤں گا دھڑکن ایسا کچھ ہے یا نہیں بتانے لائق کردم اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے بولا
مبارک ہو مقدم سائیں آپ باپ بننے والے ہیں پھوپوسائیں جو کہیں باہر گئی تھی اندر داخل ہو کر مسکراتے ہوئے اس کی طرف آئیں
اور اسے مبارکباد دینے لگی
جبکہ مقدم شاکڈ ساان تینوں عورتوں کو دیکھ رہا تھا سویرا نظر جھکائے اپنی شکل پر اداسی سجائے زمین کو گھور رہی تھی ۔
خیر مبارک آپ کو بھی مبارک یہ تو بہت خوشی کی بات ہے وہ سویرا کی طرف آیا اور مسکرا کر بولا جب کہ سویرا آنسوؤں سے بھری ایک نظر اس پر ڈالتے اندر کمرے کی طرف بھاگ گئی
جب مقدم نے پیلر کے پیچھے دو غصے سے بھرپور نظروں کو خود کو گھورتے پایا ۔چہرے پر اپنے آپ تبسم کھلا تھا
❤
نہیں کردم سائیں ابھی چلیں نہ حوری دیدہ سے ملتے ہیں کردم جب سے آیا تھا دھڑکن اس کی منتیں کیے جارہی تھی
اس کی خوشی کا تو آج کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا آخر اس کی دعائیں رنگ لائیں تھیں
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ صحیح سلامت ہے اور واپس آ گئی ہے اخر ہم نے اسے ڈھونڈ نکالا ۔
اور اب سے یہی پر رہے گی اور کوئی بھی اس سے کوئی سوال نہیں کرے گا
لیکن مقدم سائیں۔۔۔۔۔ سویرا نے کچھ کہنا چاہا جب دادا سائیں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا
ہماری نواسی کا مقدم سائیں سے کوئی تعلق نہیں اور خبردار جو مقدم سائیں اس کے قریب بھی بھٹکے
مرا نہیں جا رہا میں آپ کی نواسی کیلئے اور نہ ہی میرا اس سے کوئی تعلق ہے یہ تو میں آپ کو بہت پہلے ہی بتا چکا ہوں ۔مقدم نےدروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سویرا کو خوش کردیا
میں اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہوں اور مجھے آپ کی نواسی کی ہرگز بھی کوئی ضرورت نہیں ہے مقدم ان کے سامنے آکر رکا
اور نہ ہی مجھے آپ کی وہ کہہ کر اپنے روم کی طرف جانے لگی کمرے کی طرف قدم بڑھائے ہوئےحوریہ کے کانوں میں آواز آئی
کیاکیا ہے تم نے میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا ہے اچانک رضوانہ دھاڑتی ہوئی بولی
معاف کیجیے گا بی بی جی مہربانی فرما کر اس وقت آپ جائیں میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا ہوں ۔
وہ بھی بنا لحاظ کےبولا اور تائشہ کے وجود کو اپنے باہوں میں بھرتا اٹھ کر باہر نکل گیا
اکبر جب میں بی بی چلی جائیں تو میرے گھر کو تالا لگادینا جنید کہتے ہوئے آگے نکل گیا اس کا ارادہ ڈیرے پر جا کر وہاں سے گاڑی نکالنے کا تھا تاکہ وہ اسے ہسپتال لے کے جا سکے
❤
داداسائیں حوریہ کا ہاتھ تھام کر اسے اندر لائے تھے سویرہ جو ادھر سے ادھر ٹہل کر مقدم کا انتظار کر رہی تھی اسے دیکھ کر شاکڈ رہ گئی
بابا سائیں یہ یہاں کیا کر رہی ہے یہ توسے چلی گئی تھی نہ گھر چھوڑ کے نازیہ کو حوریہ کو دیکھتے ہی غصہ آگیا
اسے ہم لائے ہیں نازیہ بہو یہ ہمارے گھر کی بہو ہے ہماری بیٹی ہے
مجھے میری بیٹی سے اکیلے میں بات کرنی ہے تم ذرا باہر جاؤ رضوانہ اسے حکم دیتے ہوئے انداز میں بولی تو وہ احتراماً مسکرا کر اٹھا
ٹھیک ہے آپ دونوں باتیں کریں میں آپ کے لئے چائے لے کے آتا ہوں ۔
ضرورت نہیں ہے میں بس اپنی بیٹی سے بات کرنا چاہتی ہوں تم اپنی شکل دفع کرو یہاں سے ۔وہ غصے سے بولیں ان کے انداز پر غصہ تو جنید کو بھی بہت آیا تھا ۔ لیکن ان کا احترام کرنا اس پر فرض تھا کیونکہ وہ اس کے لیے ماں کا مقام رکھتیں تھیں
اندر چلو انہوں نے تائشہ کو اشارہ کیا جب تائشہ نے ڈرتے ہوئے اندر کی طرف قدم بڑھائے اور اس کے ساتھ ہی اس کا سر گھوم کر رہ گیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی باہر کی طرف جاتے جنید نے فورا سے تھام لیا
تائشہ کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔؟
اس کا سارا بدن ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بدحواس ہو گئی
سب کو لگتا ہے کہ وہ صرف حوریہ کا نہیں بلکہ ملک کا بھی دشمن ہے ۔
ویسے خوشبو میری پیاری آ رہی ہے کیا بنایا ہے اسے پریشان دیکھ کر جنید اس کا دھیان بٹانے لگا تو وہ مسکرائی
میں نے اچار گوشت بنانا ہےابھی روٹیاں ڈالتی ہوں مل کے کھائیں گے تائشہ مسکرا کر اٹھی جب جنید نے اس کا ہاتھ تھام کے اپنی طرف کھینچا ۔
آج میں نے تمہیں بتایا نہیں تم کتنی پیاری لگ رہی ہو اس کے چہرے سے بال ہٹاتا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے شرارتی انداز میں بولا ۔
جیند کی نظر اس کے آنکھوں سے ہوتے ہوئے چھوٹی سی ناک ٹھہری اور پھر لبوں سے ہوتے ہوئے اپنے دشمن اس قاتلانہ تل پر ۔
اس سے پہلے کہ وہ اس تل کو اپنی ظلم کا نشانہ بناتا کوئی بنا اجازت اندر داخل ہوا ۔
پل میں تائشہ کا سرخ رنگ بدلتے زرد پڑنےلگا ۔
آج اپنے بیٹے کی چاہت انہیں یہاں کھینچ لائی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ گئیں ۔کیونکہ ان کا ارادہ تائشہ کے پاس جانے کا تھا
❤
وہ ابھی گھر واپس آیا تھا اور گھر آتے ہی تائشہ کوحوریہ کے واپس ملنے کی خوشخبری سنائی
کیاوہ کردم سائیں کے پاس تھی کردم سائیں نے یہ بات سب سے کیوں چھپائی جنید نے سب کچھ بتایا تو وہ پوچھنے لگی
کیوں کہ اس کی جان کو خطرہ ہے کوئی اسے جان سے مار دینا چاہتا ہے اور ہمہیں سویرا پہ شک ہے کہ وہ اس شخص کو جانتی ہے جو حوریہ کو مارنا چاہتا ہے اور کردم سائیں وجہ جاننا چاہتے تھے کہ اس شخص کی حوریہ کے ساتھ کیا دشمنی ہے
وہ تو کبھی اکیلے گھر سے باہر بھی نہیں نکلی تو اس شخص کو حوریہ اس سے ایسی کیا دشمینی ہے کہ وہ سے اس کی جان لے لینا چاہتا ہے حوریہ کے غائب ہونے کے دوران دو تین بار ملک پر اٹیک ہوئے ہیں سب کو لگتا ہے
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain