ایسا نہیں ہے حیدر میں تو صرف تمہیں اور تائشہ کو ایک بہترین زندگی دینا چاہتی تھی میں نے یہ سب کچھ تم دونوں لئے کیااور میں بہت جلدی تائشہ کو اس جیند سے طلاق دلوا کر واپس حویلی لاؤں گی اور اس کی شادی کردم سے کرواؤں گی ۔رضوانہ نے صفائی پیش کرنے والے انداز میں کہا
خدا کے لئے اماں اسائیں اپنے لالچ کو ہماری بہتری کا نام دے دیں ۔
اور جینے دیں ہمیں تائشہ کے ساتھ اب کچھ غلط مت کیجئے گا وہ جنید کے ساتھ بہت خوش ہے ۔اور پلیز اسے خوش رہنے دیجئے اور جہاں تک میرا سوال ہے تونہیں میرے پاس میرے باپ کی چھوڑی ہوئی بہت دولت ہے مجھے کسی دوسرے کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی ضرورت نہیں
چلیں جائیں یہاں سے میں آپ کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتا کم ازکم اس وقت تو نہیں ۔
وہ کہتے ہوئے وہیں سے اندر چلا گیا اور اپنے آپ کو لاک کر دیا 20 سال سے وہ اس در واپس نہیں آئیں تھیں ۔
بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_79
❤
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں انہیں اپنے گھر دیکھ کر حیدر کو غصہ آ رہا تھا ان کی شکل نہ دیکھنی پڑےصرف اسی لئے تو وہ تائشہ سے ملنے ان کے گھر تک نہیں گیا
ورنہ اس سے پہلے وہ جب بھی پاکستان آیا تھا تائشہ سے ملنے ان کے گھر ضرور جاتا تھا
تم سے ملنے آئی ہوں حیدر تم پاکستان آئے ہوئے ہیں اور اپنی ماں سے نہیں ملے۔
کون سی ماں کس کی ماں وہ جو بیس سال پہلے دولت کے لیے مجھے چھوڑ کر چلی گئی ۔
یا وہ ماں جو دولت کے لیے اپنی بیٹی کو دن رات مارتی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا کیا آخر آپ کا پلان فیل کیسے ہو گیا وہ تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری بہن کو جنید پسند آ گیا اور اس نے شادی کرلی ورنہ تو آپ میری بہن کا بھی استعمال کرتی اس دولت کی لالچ میں
اور ویسے بھی اسے اپنی حوریہ کے پاس جانے سے خود حوریہ بھی نہیں روک سکتی تھی فی الحال اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ وہ بالکل ٹھیک ہے اور گھر چل رہی ہے۔
ویسے بھی حوریہ ان کے خاندان کی وہ پہلی عورت تھی اس نے اپنے شوہر کے ہاتھ اٹھایا تھا ۔
❤
خاموش ہو کر کردم کو دیکھنے لگی
ٹھیک ہے اگر آپ لوگوں کو لگتا ہے کہ حوری گھر میں محفوظ رہے گی تو مجھے وہاں لے جانے میں کوئی اعتراض نہیں ۔
لیکن مجھے اعتراض ہے اگر میں گھر جاوں گی تو مقدم سائیں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہو گا
دماغ خراب ہوکیا ہے ایک لگا کے ساری عقل ٹھکانے لگا دوں گا تعلق نہیں کی بچی ۔مقدم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
مقدم سائیں آپ بھول گئے ہیں کہ آپ میری جگہ کسی اور کو دے چکے ہیں گھر میں اور ایک سوتن کے ساتھ میں ساری زندگی نہیں گزار سکتی اس کے انداز نے حوریہ کو بھی غصہ دلادیا ۔
ٹھیک ہے تم گھر تو چلو باقی سب کچھ ہم بعد میں تہہ کریں گے ۔ فی الحال وہ حوریہ کی شکل دیکھ کر بہت خوش تھا اسی لیے اسے بالکل نہیں چھیڑنا چاہتا تھاآگے اس کے ساتھ رہنا یا نہ رہنا وہ مقدم نے گھر جا کے تہہ کر لینا تھا
ہاں آپ کے ساتھ گھر چلوں تاکہ آپ جا کر اس چڑیل کے ساتھ رہیں اور مجھے کوئی بھی آگے قتل کر جائے ۔اگر اس رات وہاں نہیں آتی کہ وہ آج بھی مجھے مار دیتا ۔
آپ کو اندازہ بھی ہے کہ اس کے پاس کتنا بڑا چاقوتھا آپ تو اپنی شادی شدہ زندگی میں بہت خوش ہیں نہ آپ کو کیا پروا کے میرا کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے کوئی مجھے جان سے مار دینا چاہتا ہے ۔
میں یہاں ٹھیک ہوں مقدم سائیں وہ اب بھی اپنا آپ چھڑوا رہی تھی
میں تمہاری حفاظت کروں گاحوریہ میں تم پر انچ بھی نہیں آنے دوں گا بس آخری بار میرا یقین کر لو میں تمہیں اس نکاح کہ بھی وجہ بتاؤں گا
گھر چلو میں تمہیں سب کچھ بتاوں گا
ہاں بیٹا گھر چلو ہم نے تو تمہارے بغیر وہ گھرکبھی دیکھا نہیں اسی لئے تمہاری کمی اتنی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ ہمہیں تو رات بھر نیند نہیں آتی اس بار دادا سائیں نے التجا کی
بس کرو بے شرمو یہ سب کچھ اپنے کمرے میں کیا کرو وہ مقدم کو شرم دلانے والے انداز میں بولیں حوریہ بیٹا اندر لے کے چلو اسے اور اس کے سر پر کچھ باندھو کتنا خون ضائع ہوگیا ہے اس کا ۔
نہیں ہمیں کہیں نہیں جاناحوریہ میرے ساتھ چلے گی مقدم اسے اپنی باہوں میں لے لئے اپنے بہتے ہوئے ان کی پرواہ کیے بغیر بولا
کہیں نہیں جاؤں گی اور آپ کے ساتھ تو ہرگز نہیں جاؤں گی آپ کو میری بالکل پروا نہیں ہے میں یہاں اپنی دادی کے ساتھ بہت خوش ہو ں وہ اب بھی اپنا آپ چھڑواتی اپنے دوپٹہ اس کے سر پر رکھے ہوئے خون روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
حوریہ میں نے کہا تھا نا میں تمہیں سب کچھ بتاوں گا تو پھر اس طرح سے گھر چھوڑ کے آنے کا کیا فائدہ ہے ۔
تم گھر چلو تم جو کہو گی میں کرونگا مجھے کچھ نہیں جاننا بس تم میرے ساتھ رہو اس کا ہاتھ زبردستی پکڑے اپنے ساتھ لے جانے لگا
سر ایک بار چکرا کے رہ گیا آنکھیں بند ہونے لگیں جب ایک نازک مگر زور دار تھپڑ اس کے گال پہ آ لگا ۔اور اس کے ساتھ ہی مقدم کے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آرکی ۔اور اس نے بنا کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے سینے میں چھپا لیا ۔
❤
چھوڑیں مجھے میں کہتی ہوں مقدم سائیں کوئی تعلق نہیں ہے میرا آپ سے آپ کو چھوڑ کے آئی ہوں میں جا کر رہے ہیں اسی چڑیل کے ساتھ وہ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ مقدم سب کچھ بھول آئے صرف اسے اپنے سینے میں چھپائے تھا ۔
اور دادا سائیں کو اس کے خون کی فکر کھائے جا رہے تھے اور کردم جنید کو گھور رہا تھا جو انہیں یہاں تک لایا تھا
کردم سائیں اگر آپ مجھے پہلے بتا دیتے تو میں ایسی غلطی نہ کرتا وہ نظریں چرا کر بولا جبکہ آجکل کردم کا پہلی بار سے تھپڑ لگانے کو دل کر رہا تھا
مقدم یہ راوڈ یہاں کیوں لائے ہو دادا سائیں کو اس کی سمجھ نہیں آرہی تھی آخر یہ کرنے والاتھا
نانی کی غلط فہمی دور کرنے جا رہا ہوں ۔انہیں لگتا ہے کہ حوریہ اندر نہیں ہے لیکن ابھی دو منٹ میں اسی دروازے سے باہر نکلے گی ۔مقدم نے یقین سے کہتے ہوئے راوڈ اٹھا کر اپنے سر پر دے مارا ۔
مقدم سائیں یہ کیا کر رہے ہیں داداسائیں چلاتے ہوئے اس کی طرف بڑھیں
دور رہیں مجھ سے اگر میری حوریہ یہاں نہیں ہے تو مجھے میری غلط فہمی دور کرنے دیں لیکن وہ یہاں ہے اور میں ابھی آپ سب کی غلط فہمی دور کروں گا ۔
اس نے کہتے ہوئے وہ راوڈ ایک بار پھر سے اپنے سر پر دے مارا ۔خون کی لہروں سے چہرہ مکمل سرخ ہو چکا تھا
۔مقدم یہ کیا بے وقوفی ہے ۔کردم نے اسے روکنا چاہا لیکن اس کے قریب آنے سے پہلے ہی وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا اور ایک بار پھر سے راوڈ اپنے سر پہ دے مارا ۔
جیسے کوئی چوری کرتے ہوئے پکڑی گئیں ہوں
مقدم بدتمیزی مت کرو دادا سائیں نے ٹوکا
تو آپ ان سے کہیں کے سیدھے طریقے سے میری حوریہ کو میرے حوالے کر دیں تاکہ میں یہاں سے چلا جاؤں ۔مقدم نے داداسائیں کو گھورتے ہوئے کہا یقینا ان کی بیچ میں مخالفت اسے پسند نہ آئی تھی
وہ کہہ رہی ہیں کہ حوریہ اندر نہیں ہے چلو یہاں سے اس کی بد تمیزی کو دیکھتے ہوئے دادا سائیں نے فی الحال یہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا
تو کیا کہتی ہیں آپ حوریہ اندر نہیں ہے وہ انہیں دیکھ کر کہنے لگا تو انہوں نے نفی میں سر ہلایا ۔
مقدم ہاں میں سر ہلاتا ہوا گاڑی کی طرف آیا سب نے سکون کا سانس لیا کہ وہ واپس جانے کے لیے تیار ہو چکا ہے لیکن گاڑی میں بیٹھنے کے بجائے وہ گاڑی کی ڈگی کی طرف گیا اور اگلے ہی پل وہ لوہے کا راوڈ نکالتا ہوا اس واپس وہیں پر آکر رکا ۔
میری حوریہ جاگ رہی ہوگی چلیں اس سے مل کر چلتے ہیں یا اسے اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔
مقدم اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹاتے ہوئے ایک بار پھر سے دروازے کی طرف قدم بڑھا
مقدم سائیں حوریہ یہاں اندر نہیں ہے اماں سائیں نے باہر آ کر کہا ۔
یہاں صرف میں اور میری ایک ملازمہ رہتی ہے اور عورتوں کا گھر ہے اس طرح سے آپ اندر نہیں جا سکتے
آپ تو کہہ رہے تھے کردم سائیں کے نانی سورہیں ہیں اور یہ یہ تو جاگ رہیں ہیں اور ماشاءاللہ سے ان کی طبیعت بھی کافی سہی لگ رہی ہے مجھے جب ڈیڑھ ماہ پہلے وہ ان سے ملا تھا تب وہ کافی نڈھال لگ رہی تھی لیکن آج خوبصورت اور صحت مند نظر آ رہیں تھیں
بس نواسے سے ملنے کا اثر ہے پھر ملاقات ہوگی وہ دروازہ بند کرنے لگیں تومقدم نے بیچ میں ہی ہاتھ رکھ دیا ۔
آپ کو اتنی جلدی کیوں ہمیں یہاں سے بھیجنے کی آپ تو ایسے گھبرا رہیں ہیں
میں تو یہاں نانی سے ملنے آیا تھا آپ نے ہی تو کہا تھا دادا سائیں کے ان کی طبیعت بہت خراب ہے اور انہیں میری ضرورت ہے وہ حویلی چھوڑ کر اپنے آبائی گھر میں شفٹ ہو چکی ہیں اسی لیے میں اکثر ان سے ملنے آتا ہوں ۔
اور کون کون رہتا ہے یہاں داداسائیں اس کی بات سے متاثر نہیں ہوئے تھے
اور کوئی نہیں بس میری نانی رہتی ہیں اور ان کے ایک نوکرانی حدیجہ خیر میں نے مل لیا اپنی نانی سے چلیں حویلی چلتے ہیں کردم نے راستے کی طرف اشارہ کیا
کردم سائیں ہم یہاں تک آئیں ہیں تو آپ کی نانی سے مل کر جائیں گے کیوں داداسائیں مقدم اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھا
وہ سو گئیں ہیں مقدم سائیں کردم نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس دروازے سے پرے کرنا چاہا
اچھا مقدم اچھا کو گھسیٹتے ہوئے دلکشی سے مسکرایا
سائیں زاہد کا موٹر سائیکل کھڑا ہے اس کا مطلب ہے کہ کردم سائیں اس وقت یہی موجود ہیں وہ یہاں روز آتے ہیں ۔
کچھ تو خاص ہے یہاں
جنید نے گاڑی سے نکلتے ہوئے اس ان کی سائیڈ کا دروازہ کھولا
کھٹکھٹاودروازہ ہم بھی تو دیکھیں یہاں ایسا کیا خاص ہے اپنے پیچھے مقدم کی آواز سن۔کر دادا سائیں نے بے ساختہ اس کی طرف دیکھا
تم یہاں کیا کر رہے ہو مقدم سائیں اسے اپنے پیچھے دیکھ کر وہ پوچھنے لگے
وہی جو آپ کر رہے ہیں کردم سائیں کا پیچھا چلو دروازہ کھٹکھٹاؤ اس نے کہتے ہوئے جنید کو حکم دیا ۔
داداسائیں کا اشارہ ملتے ہی وہ دروازے کی جانب بڑھا اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھٹکھٹاتا کسی نے دروازہ کھول دیا
دادا سائیں جیند مقدم سائیں آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں ان سب کو یہاں دیکھ کرکردم بوکھلا کر بولا ۔
یہی سوال ہمارا بھی ہے کردم سائیں دادا سائیں نے کہا
اس بوڑھی عورت کو خدا حافظ کرنے کے بعد اس نے دروازے کی طرف ہاتھ ہلایا تھا یقینناً دروازے کے پیچھے بھی کوئی تھا لیکن کون یہ اب جنید نے جاننا تھا
❤
سائیں میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کردم سائیں جہاں گے تھے وہاں دو لوگ تھے
جیند کیا تم اس عورت کو جانتے ہو جو کردم سے مل رہی تھی دادا سائیں نے بے صبری سے پوچھا
نہیں سائیں عورت کو نہیں دیکھ پایا اس نے بہت بڑی چادر کر رکھی تھی اور میں کافی فاصلے پر تھا لیکن اس بات کا مجھے یقین ہے کہ اندر کوئی تو موجود تھا اگر آپ کہیں تو میں ابھی آپ کو اس جگہ پر لے لوں گا جنید نے فوراً کہا
جب کہ کوئی اور تھا جو دروازے پر ان کی ساری گفتگو سن رہا تھا۔
ٹھیک ہے جنید مجھے ابھی اسی وقت اس جگہ پر لے چلو دادا سائیں کے کہنے پر جنید فورا باہر گاڑی کی طرف دوڑا تھا ۔
❤
وہ کہاں جا رہا تھا جنید نہیں جانتا تھا بس اسے یقین تھا کہ وہ حوریہ کے معاملے میں اتنا بے خبر نہیں رہ سکتا وہ جانتا تھا یہ غلط ہے اور ایسا نہیں کرنا چاہیے لیکن پھر بھی کردم کا پیچھا کرنا بہت ضروری تھا
راستے میں ایک بار کردم نے اپنی بائیک روکی اور ہرطرف دیکھا اور کسی کو ناپاکر کر مطمئن سا آگے کی طرف جانے لگا اس کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی جنید نے اپنی بائیک نکالی اور اس کے پیچھے نکل گیا
کچھ ہی دیر میں کردم ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے کھڑا تھا
دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بوڑھی عورت باہر نکلی وہ کردم کو اس طرح سے پیار کر رہی تھی جیسے اس کی سگی ماں ہو
کردم اس سے محبت وصولتا اندر چلاگیا جبکہ جنید وہی بائیک کچھ فاصلے پر روکے اس گھر پر نظر رکھے ہوئے تھا
تھوڑی ہی دیر میں کردم واپس باہر آیا اس عورت سے ملا اور پھر بائیک پر بیٹھا تھا
مقدم نے اتنی معصوم شکل بنا کر کہا جیسے ساری دنیا کی معصومیت اسی پےختم ہوتی ہو
جب کہ اس کی بات پر کردم کا قہقہ اتنا بلند تھا کہ کچن میں کھڑی دھڑکن گھبرا کے رہ گئی
یہ دونوں بھائی جب ساتھ ہوتے ہیں انہیں کیا دورے پڑتے ہیں اوپر بڑبڑاتے ہوئے چائے کپ میں اڈیلنے لگی
❤
وہ خاموشی سے گھر سے نکلا کسی سےکچھ بھی کہے بنا اپنے کام پر چلا گیا سارا دن مزدوروں کے ساتھ سکول کی بلڈنگ پر لگے رہنے کے بعد اس نے گھر کا راستہ لیا
لیکن گھر جانے کے بجائے وہ سامنے والے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے زاہد سے کہنے لگا
زاہد مجھے تمہارا بائیک چاہیے ذرا کردم کے کہنے کی دیر سے زاہد بھاگتے ہوئے چابی لاکر اسے دینے لگا
میں تقریبا ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گا وہ زاہد کو کہتے ہوئے بائیک لے کر کہیں نکل گیا
وہ کہاں جا رہا تھا جنید نہیں جانتا تھا
لیکن کردم سائیں وہ لڑکی میری میری جان نہیں چھوڑتی ۔دل تو کرتا ہے بالوں سے پکڑ کر اس کا سر دیوار دے ماروں کہتی ہے کہ وہ میری حوریہ سے بہتر ہے میری حوریہ کی جوتی کے برابر بھی نہیں ہے نہ اپنی فکر ہے نہ ہمارے خاندان کی گھٹیا لڑکی
مقدم اس نے تمہیں پانے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے اس نے تمہیں حاصل کرنے کے لیے تمہارے دشمنوں سے ہاتھ ملایا اگر تم اسے مل جاؤ گے تو وہ ان دشمنوں کا کیا کرے گی وہ خود تمہیں ان کا نام بتائیے گی بس تم اپنی پلاننگ تیار رکھنا جیسا ہم نے سوچا ہے ویسا ہی ہونا چاہیے اور اس بارے میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے
اب کہاں جا رہے ہو کردم کے بولتے بولتے وہ اٹھ کھڑا ہوا
جا رہا ہوں آوارہ گردیاں کرنے کم از کم گھر تو نہیں جاؤں گا آج رات وہ چڑیل میری عزت لوٹ لےگی
مقدم سمجھنے کی کوشش کرو میں نے اسے جس جگہ پر رکھا ہے وہ وہاں محفوظ ہے تم کیوں نہیں سمجھ رہے اگر وہ اس رات اپنی جان بچا کر وہاں سے نہیں بھاگتی تو وہ آدمی اسے مار دیتا جب تک ہمہیں پتہ نہ چلے کہ آخر کون ہے جو حوریہ کا جانی دشمن بنا ہوا ہے میں حوریہ کو منظر عام پر نہیں لا سکتا
اور یہ بات ہمہیں سویرا کے علاوہ اور کوئی نہیں بتا سکتا کہ وہ کون ہے اور حوریہ کی جان کیوں لینا چاہتا ہے وہ جو کوئی بھی ہے ہمارا نہیں بلکہ ملک کا دشمن ہے ملک سے انتقام کی خاطر وہ حوریہ کو بھی جان سے مار دینا چاہتا ہے
تھوڑا سا صبر کرو مقدم حوریہ جہاں بھی ہے بالکل ٹھیک ہے تم بس سویرہ کو اپنی باتوں میں لگاؤ اسے اپنی محبت کا یقین دلاؤ کم از کم اتنا یقین کہ وہ تمہیں اس انسان کا نام بتا دے جو حوریہ کو مارنا چاہتا ہے
تمہاری چائے کی لوگوں کو قدر ہی نہیں ہے صرف میں قدر کرتا ہوں تمہاری چاہے کی جاؤ میری جان بناو میرے لیے چائے نہیں پینی نہ سہی مقدم سائیں لیکن میری بیوی کی بےعزتی مت کرو وہ انگلی دکھا کر بولا جس پر دھرکن کا موڈ پھر سے خوشحال ہو گیا
جبکہ ان دونوں کو باتیں کرتے ہوئے چھوڑ کر مقدم نے بیٹھک کاراستہ لیا
دیکھو مقدم سائیں تھوڑا سا صبر کرو
مجھ سے نہیں ہوتا مقدم نے اس کی بات کاٹی
مقدم جب تک سویرہ سب کچھ بتا نہیں دیتی تب تک ہم
حوریہ کو سامنے نہیں سکتے وہ بھی تب جب ملک پر حملہ ہوا ہےوہ جو کوئی بھی ہے حوریہ کو ہی نہیں بلکہ ملک کو بھی مارنا چاہتا ہے
اور یہ ملک پر تیسرا حملہ تھا حوریہ کے غائب ہونے کے بعد کردم نے سمجھاتے ہوئے کہا
میں اپنی حوریہ کی حفاظت کر سکتا ہوں کردم لیکن اس کے بغیر نہیں رہ سکتا اب پلیز مجھے بتاؤ کہ تم نے حوریہ کو کہاں رکھا ہے
بس بہت ہو گیا کردم سائیں آپ جو کہہ رہے ہیں میں کر رہا ہوں اور اس کے باوجود بھی آپ مجھے نہیں بتا رہےکہ میری ۔۔. . .
وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ دھڑکن باہر آگئی
مقدم لالہ شکر ہے آپ کو بھی وقت ملاآنے کا اسے اتنے دنوں کے بعد دیکھ کر وہ سارے گلے شکوے بھلا کر اس سے ملنے لگی
کیسی ہو گڑیا اور تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے اس سے ملتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا جبکہ منہ ابھی بھی اس کا بنا ہواتھا
دھڑکن تم چائے بناؤ اپنے لالہ کے لئے تب تک ہم اندر بیٹھتے ہیں ۔
کردم نے دھڑکن سے کہا تو مقدم کے کان کھڑے ہوگئے
استغفراللہ دھڑکن میرے لئے چائے مت بنانا تمہاری چائے پی کر مجھے پندرہ دن نیند نہیں آئے گی
خدا کے لئے میں سونا بھی چاہتا ہوں وہ دھڑکن کو روکتے ہوئے بولا تو دھڑکن کا منہ بن گیا جس پر کردم کوترس آگیا
جنید سائیں میں کیسی لگ رہی ہوں پلیز بتائیں مجھے تائشہ نے اس بار عزت کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے نہ صرف آپ کہہ کر مخاطب کیا بلکہ بہت لاڈ سے جنید سائیں بھی کہا جس پر جنید نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا
شہزادی لگ رہی ہو جو کیسی محل سے بھٹک کر جنگلوں میں نکل آئی ہو ۔۔ اور انہی جنگلوں میں موجود ایک مسافر کو اپنا دیوانہ کر چکی ہو۔اتنا دیوانہ کے اب وہ دیوانہ تمہیں دیکھے بغیر رہ ہی نہیں سکتا میرہ حسین سجنی ۔
وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے مزید اپنے قریب کرتے ہوئے بولا ۔
جب کہ وہ مسکراتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی
❤
ارے مقدم سائیں آپ یہاں اندرآئیں باہر کیوں کھڑے ہیں کردم اسے دیکھ کر خوش دلی سے بولا جب کہ وہ منہ بنائے اندر داخل ہوا
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain