اب میں انہیں خود سے کبھی ناراض نہیں ہونے دوں گی ۔
وہ خود کو آئینے میں دیکھتی خود سے عہد کرتے ہوئے بولی
❤
تائشہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی تیاری دیکھ رہی تھی جب اچانک اس کا سر گھُوما اس سے پہلے کہ وہ گرتی جنید نے اسے پکڑ لیا
کیا ہوا حسین سجنی تم تو گرتی پھررہی ہو کچھ کھایا پیا کرو اگر یہی حالت رہی تو تو بیمار پر جاؤ گی
۔ ارے نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں ۔
اچھا اب تم بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں وہ اسے مطمئن کر کے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی
جبکہ وہ اسے جواب دینے کی بجائے آگے پیچھے دیکھنے لگا ۔
میں تم سے پوچھ رہی ہوں جنید میں کیسی لگ رہی ہوں بتاؤ مجھے اس کے اگنور کرنے پر وہ تمتیلاکررہ گئی
جیند میں کچھ پوچھ رہی ہوں تم بتا رہے ہو یا وہ اسے غصے سے گھورنے لگی جبکہ جنید کا سارا دھیان اپنے موبائل پہ تھا
#بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_78
❤
ماشاءاللہ سویرا بیٹا تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو آج تو میرا بیٹا بچ کر دکھائے تم سے ۔
سویرا اپنے تمام تر جلوے بکھیر رہی تھی آج وہ دل سے صرف اور صرف مقدم کے لیے تیار ہوئی تھی حسین تو وہ پہلے ہی بہت تھی لیکن آج اس کی تیاری نے اسے چار چاند لگا دیے تھے ۔
میرا بھی یہی ارادہ ہےاماں سائیں کے آپ کا بیٹا آج مجھ سے بچ نہ جائے
لیکن آپ ذرا احتیاط کیجئے گا کل کی طرح کمرے میں نہ جائیے گا منہ اٹھا کر خیر شام ہونے والی ہے مقدم سائیں کبھی بھی واپس آتے ہوں گے وہ اماں سائیں کو شرمندہ دیکھ کر بولی
اور اگر آج رات وہ نشے میں بھی ہوئے نہ تو بھی میں ان کو خود سے دور کرنے کی کوشش ہرگز نہیں کروں گی ۔
کل بھی وہ مجھ سے خفا ہوگئے تھے
لیکن تمہاری آنکھیں ۔وہ جاتے جاتے اس کے پاس پلٹ آیا
میں تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں صرف تمہاری آنکھوں کی وجہ سے ۔
اب جاؤ موڈ ٹھیک کرو اور رات کو میرا موڈ ٹھیک کرنا وہ اس کا گال تھپتھپتا بنا کسی سے کچھ کہیں حویلی سے باہر نکل گیا ·
مقدم باہر آیا تو سویرا اسے سامنے سے آتے دکھائی دی اس پر ایک ناگوار سی نظر ڈالتا وہ سیڑھیاں اترنے لگا
مقدم سائیں آپ مجھ سے خفا ہیں وہ تقریبا بھاگ کر اس کے قریب آئی تھی
کیا مجھے نہیں ہونا چاہیے الٹا اس سے سوال کرنے لگا
بلکل ہونا چاہیے میں نے حرکت ہی ایسی کی ہے پلیز مجھے معاف کر دیں میرا وہ ہرگز مطلب نہیں تھا
تمہارا کیا مطلب تھا اور کیا نہیں مجھے بس یہ پتا ہے کہ تم نے مجھے دوھکارا رہا ہے ۔میرے قریب آنے پر تو مجھ سے دور رہتی ہو
کل رات تم اپنی مرضی سے میرے کمرے سے آئی تھی اب میرے کمرے میں واپس مت آنا کیوں کہ جو مقدم کو ایک بار انکار کرتا ہے مقدم شاہ اسے پلٹ کر کبھی نہیں دیکھتا
تب سے ہی دھڑکن نے دیکھنے کا شوق پال رکھا تھا اور کردم نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ وہ ایک دن اسے ڈیٹ پرڈیرے پر لےکے جائے گا اس کے چہکنے پر وہ مسکرایا
ہاں میری جان ہم ڈیرے پر جا رہے ہیں ۔
پہلے مجھے نیچے اتریں میں چل کے جاؤ ں گی باہر گاؤں والے کیا کہیں گے
کہیں گے کردم سائیں اپنی پٹاکا سائیں سے بہت پیار کرتا ہے اس کے پاؤں گندے نہ ہوجائیں اسی لئے اسے اٹھا کے لے کر چل رہا ہے ۔
کردم نے شرارتی انداز میں آنکھ دبائی
بالکل بھی نہیں میں اپنے پیروں پر چلوں گی وہ تیز تیز ہاتھ پیر ہلاتی اگلے ہی پل نیچے تھی
اور کردم نے جب کیٹی کی طرف اشارہ کیا تو وہ اسے بھی اپنی باہوں میں اٹھاتی اس کے آگے آگے چل دی پھراسے احساس ہوا کہ اسے تو ڈیرے کا راستہ ہی نہیں آتا خیر کردم کے پیچھے چلنا اس نے زیادہ بہتر سمجھا ۔
❤
وہ اس کی بکس بند کرتے ہوئے اسے کرسی سے اٹھا کر باہر لے آیا ۔
لیکن کردم سائیں میں نے تو آپ کو اچھے ہزبینڈ کا سرٹیفیکیٹ دیا ہی نہیں تو آپ نے اپنے پاس سے کیسے اندازہ لگا لیا کہ آپ اچھے ہسبنڈ ہیں یانہیں وہ اس کے گردن میں باہیں ڈالتی اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی جبکہ اس کی کیٙٹی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے پیچھے آرہی تھی ۔
یار دھڑکن تم نے اسے کتنی بری عادت ڈال دی ہے ہمارے پیچھے چلنے کی وہ اسے دیکھ کر بولا
ایسا مت کہیں میری کیٹی کو کوئی گندی عادت نہیں ہے وہ بہت سویٹ ہے دھڑکن منہ بسور کر بولی
ویسے ہم کہاں جا رہے ہیں اسے دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگی
ڈیٹ پے کردم نے سرگوشی نما آواز میں کہا تو وہ مسکرائی
مطلب آپ مجھے ڈیرے پر لے کے جا رہے ہیں وہ جب سے یہاں آئے تھے
اور دھڑکن ساتھ بھی نارمل رہا کریں
اب وہ بھی ایک عام اسٹوڈنٹ کی طرح کالج میں رہ رہی تھی اور اب اس کی بہت ساری دوست بھی بن چکی تھی ۔
پر اب عام اسٹوڈنٹس کی طرح اسے بھی بہت ڈانٹ پڑ رہی تھیں خاص کر اردو کے پریڈ میں بس آج کل وہ اردو پڑھنے میں کچھ زیادہ ہی مصروف تھی
لیکن دھڑکن کل تو سنڈے ہے نا سنڈے کو چھٹی ہوتی ہے تم یہ سب کچھ کل کر لینا پھر الحال مجھے وقت دو وہ اس کی کتابیں بند کرتا ہوا اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنی طرف لے آیا
کردم سائیں باقی بکس کل پڑھوں گی آج اردو پڑھنے دیں وہ پھر سے کتاب کھولنے لگی جب کردم نے ایک دفعہ پھر سے اپنی طرف کھینچا
تھوڑا سا ترس کھاؤ دھڑکن سائیں تم اچھی سٹوڈنٹ بننے کے چکر میں اپنے شوہر پر بالکل دھیان نہیں دے رہی ہو اور اگر تم نے ایسا کیا تو میں بالکل اچھا ہسبینڈ نہیں رہوں گا ۔
اس وقت اس کے قریب رکنا سویرا کو مناسب نہ لگا ۔
وہ کافی دیر انتظار کرتی رہی شاید وہ اس کے پیچھے آئے گا ۔لیکن وہ نہ آیا سو گئے ہوں گے سویرا خود سے کہتی بیڈ پر آ بیٹھی
جبکہ مقدم کا اندازہ آج اسے بالکل اچھا نہ لگا تھا ۔لیکن جو بھی تھا اسے اس طرح سے مقدم کو خود سے دور نہیں کرنا چاہیے تھا کہیں وہ اس بات پر اس سے ناراض نہ ہو جائے
❤
یہ کیا ہو رہا ہے وہ تھوڑی دیر پہلے ہی کالج کے واپس آئی تھی اور کام ختم ہونے کی وجہ سے آج کردم بھی جلدی کر واپس آ گیا تھا
پڑھائی کر رہی ہوں ہماری ٹیچرریحانہ بہت سخت ہیں اب تو وہ مجھے اسپیشل بھی نہیں سمجھتی مجھے بھی ڈانٹتی ہیں دھڑکن نے جب اسے آکر یہ بتایا تھا کہ سب لوگ اسے اسپیشل ٹریٹ کرتے ہیں اور اسے اچھا نہیں لگتا تو کردم خود اس کے کالج گیا تھا اور وہاں کی ٹیچر سے بات کی تھی کہ دھڑکن بھی ان کا اسٹوڈنٹ ہے
مقدم سائیں آپ مجھے ہرٹ کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے اس کی باہوں میں وہ تڑپ کر رہ گئی ۔
نشے میں آپ میرے قریب نہیں آئو گے اچھے سے جانتی ہوں میں مرد نشے میں انسان سے حیوان بن جاتا ہے ۔
وہ اسے خود سے دور کرتی کمرے سے باہر جانے لگی جب مقدم نے بیڈ سے اٹھ کر اسے پکڑ کے ایک بار پھر سے اپنی طرف کھینچا
معاف کیجیے گا مقدم سائیں لیکن میں سویرہ ہوں حوریہ نہیں ہوں جس پر آپ کی یہ زور زبردستی اور بے دردی چلے گی وہ اسے دھکا دیتے ہوئے بیڈ سے اٹھے اور اپنا دوپٹہ اٹھاتے کمرے سے باہر نکل گئی
اب آئیں ہیں جب آدھی رات گزر چکی ہے وہ غصے سے بربڑاتے ہوئے باہر نکلی جب مقدم کو دروازے سے اس کے دوست اپنے کندھوں پر ڈالے آ رہے تھے
بھابی سائیں کو کمرے تک پہنچانا ہے آج ضرورت سے زیادہ ہی پی لی ہے
اس کا دوست اسے دیکھ کر مسکرایا اور پھر اسے لے کر وہ کمرے میں گئے
سویرہ ڈارلنگ آئی ریلی مس یو میں نے بہت مسں کیا پورا دن بہت مس کیا بےبی تمہاری آنکھیں اس کے دوست ابھی اسے بیڈ پر لٹا ہی رہے تھے کہ جب بولنا شروع ہوا سویرا ان کے سامنے شرمندہ ہو کر رہ گئی
ہمیں لگتا ہے ہمیں چلنا چاہیے دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا اور وہ باہر جانے لگے تو سویرا اس کے قریب آ کر رکی
تمہاری آنکھیں حقیقت کا آئینہ ہیں وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھینچ کر خود پر گرانے لگا
تم بہت خوبصورت ہو ۔
اسے احمد شاہ کی ضرورت نہیں تھی دادا سائیں کے بہت سمجھانے کے بعد احمد شاہ اپنے علاج کروانے کے لیے لندن جانےپر تیار ہو گئے تھے
لیکن وہ دھڑکن سے ملے بغیر جانا چاہتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کے دھڑکن ان کے چہرے سے ہی ان کی بیماری پکڑ لے گی ۔
وہ اس معاملے میں دادا سائیں بہت ضد کرکے بھی اپنی بات منوا نہیں پائے تھے
❤
سویرا شام سے مقدم کا انتظار کر رہی تھی رات کے دو بج چکے تھے اور مقدم کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں تھا ۔
آج خاض اس کے لئے اس کی پسند کے کلیر کی نائیٹی پہنے اپنا سراپا حسن بکھیرے بیٹھی تھی اور جس کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا وہ تو بے خبر نہ جانے کہاں تھا ۔
انتظار کرتے کرتے وہ نیند سے بے حال ہوگئی پہلے شام کو اس کی پسند کا کھانا بناتے ہوئے ہی کافی تھک چکی تھی۔
ہار کر وہ سونے کے لئے لیٹ گئی تو مقدم کے گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی
دھڑکن اس بارے میں کچھ جانتی نہیں تھی اور سویرا کو اب صرف مقدم کی پڑی تھی دادا سائیں نے خود اس سے کہا تھا کہ وہ دن کے وقت اسپتال میں جایا کرے
جس پر سویرا نے کہا کہ اسے مقدم کے دل میں اپنی جگہ بنانی ہے اسی لئے فی الحال وہ کہیں جانے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔
کردم کے علاوہ مقدم بھی دو تین بار ہسپتال ہو کے آیا تھا دادا سائیں وہاں آئے تو وہ خود پریشان لگے
دادا سائیں نے بہت سمجھایا کہ ہمہیں دھڑکن کو اس بارے میں سب کچھ بتا دینا چاہیے اور لندن میں ان کا علاج ہو سکتا ہے تو انہیں لندن چلے جانا چاہیے
جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ سویرہ کو اپنے ساتھ لے کے جائیں گے اور سویرا جانے سے صاف انکار کر چکی تھی اس نے کہا تھا کہ یہاں اس کا شوہر ہے گھر ہے سسرال ہے وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔ اور ویسے بھی اب مقدم سے اس کا نکاح ہو چکا تھا
بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_77
❤
جیندنے بھی بہت کوشش کی کہ مقدم کی طرح وہ بھی حوریہ کو نظر انداز کر دے لیکن نہیں کرپایا اس نے حوریہ کو صرف اپنی بہن کہا ہی نہیں بلکہ دل سے مانا بھی تھا
حوریہ کسی مصیبت میں ہو سکتی تھی کسی پریشانی میں ہو سکتی تھی اب تو مقدم کے ساتھ ساتھ کردم بھی اپنی روٹین میں واپس جاتا جا رہا تھا جیسے اسےبھی اب اپنی بہن کی پروا نہ ہو لیکن جنید اس طرح سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا تھا اسے کسی بھی طرح حوریہ کا پتہ کروانا تھا
اسی لئے اب کردم اور مقدم دونوں کو نظر انداز کر کے وہ اکیلے حوریہ کو ڈھونڈ رہا تھا
احمد شاہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی اسی لئے انہیں ہسپتال میں شفٹ کر دیا گیا تھا جبکہ یہ بات دھڑکن نہیں جانتی تھی اس وقت انہیں اپنی بیٹیوں کی ضرورت تھی
شاہ سائیں پریشانی سے اپنی کرسی پر بیٹھ کے اہانہ کی تصویر دیکھ رہے تھے جس میں انہیں حوریہ نظر آرہی تھی وہ اپنی بیٹی سے بھی شرمندہ تھے اپنی بیٹی کی آخری نشانی کو بھی نہ سنبھال پائے ۔
❤
جب اس کی قدر ہوئی تو وہ ان سے دور ہو گئی
شروع میں مقدم نے یہ سب کچھ ان کی عزت بچانے کی خاطر کیا تھا لیکن اب وہ یہ سب کچھ اپنے لیے کر رہا تھا آج پہلی بار مقدم نے انہیں اتناہرٹ کیا تھا وہ تو سوچتے تھے کہ وہ مقدم حوریہ کے بغیر سانس بھی نہیں لے پائے گا اور یہاں مقدم ایک اپنی دنیا میں بسانے جا رہا تھا
کتنی محبت تھی اس کی نظروں میں سویرہ کے لئے تو کیا حوریہ کی محبت کہیں کھو گئی
کہاں چلی گئی تھی حوریہ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے تھے لیکن وہ کہیں نہ ملی
ہم جانتے ہیں حوریہ ہم نے تمہیں بہت مایوس کیا ہے شاید تم ہمیں کبھی معاف نہ کرو لیکن ایک بار بس آجاؤ ابھی تو ہم نے تم سے اپنی غلطیوں کی معافی تک نہیں مانگی تھی کہاں چلی گئی ہو
میرے کپڑے جوتے کھانا تم ہر چیز ٹائم پے کرنے کی کوشش کرتی ہوجب کہ یہاں آنے سے پہلے تمیں یہ سب کچھ آتا بھی نہیں تھا کیوں کیا اتنا پیار کافی نہیں ہے مجھ سے محبت ثابت کرنے کے لیے ۔اب کیا تاج محل بنوا ہوگی میری محبت میں وہ سیریز انداز میں کہتا اینڈ پر شرارت سے بولا
جی نہیں تاج محل آپ بنوائیں گے اب سب کچھ میں کروں ایک تو میرا اتنا سارا خون بہہ گیا مجھے لگتا ہے کہ مجھے بلیڈ لگے گا دھڑکن نے ایک بار پھر سے زمین پر گرا ہوا اپنا خون دیکھا جبکہ کردم اس کے انداز پر اسے اس کرسی سے اٹھا کر اپنے بیڈ روم میں لے گیا وہ جب اپنا خون دیکھنے والی تھی ایسا ہی کہنے والی تھی ۔
❤
دادا سائیں آج پورے ایک ماہ کے بعد اہانہ کے کمرے میں آئے تھے سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا سب کچھ بدل چکا تھا انہوں نے ساری زندگی اہانہ کی بیٹی کی قدر نہ کی
وہ کرن ہے نہ آج اس کی بھابھی آئی تھی ہمارے گھر وہ کہہ رہی تھی کہ شوہر کے دل میں جگہ بنانے کے لیے اسے بتاتے رہنا چاہیے کہ آپ سے کتنا پیار کرتے ہو ضروری نہیں کہ لفظوں سے بتاؤ آپ اس کا خیال رکھے اس کے پسند کی چیزیں بنا کے اس کی ہر چیز کا دھیان رکھ کر بھی اسے بتا سکتے ہو کہ آپ کتنا پیار کرتے ہو پیار لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اور میں بھی وہی کر رہی تھی کہ میرا ہاتھ کٹ گیا اور اتنا خون بہہ گیا میرا اس نے ایک نظر زمین کی طرف دیکھا جہاں کچھ بوندیں پڑی تھی
کوئی بات نہیں تم مجھ سے پیار کرتی ہو میں جانتا ہوں اور ایسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم جو میرے لئے کر رہی ہو نا یہ ساری چیزیں تمہاری محبت کو ثابت کرتی ہیں تمہارا سب کچھ چھوڑ کر یہاں میرے پاس آنا میرا اتنا خیال رکھنا
میں نے بنایا ہے آپ نے کہا تھا نہ آپ کو سلاد کھانا اچھا لگتا ہے تو وہ کاٹتے ہوئے ہے یہ مجھ سے کھیرے نہیں کاٹے جاتے
سوں سوں اب بھی جاری تھی ۔
سلاد میں صرف کھیرے نہیں ہوتے اور کٹر سے بھی تو کاٹ سکتی تھی جس طرح سے پیازکرتی ہو
کٹر سے ٹھیک نہیں کٹ رہے تھے اور ویسے بھی تو ہاتھ کی محنت سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کسی سے کتنا پیار کرتے ہیں اور پیازتو میں اس لیے کٹر سے کاٹتی ہوں کہ اس میں ٹائم زیادہ لگتا ہے اور آنسو بہتے ہیں اس لیے کٹر سے کاٹ دیتی ہوں لیکن آپ کے لیے سلاد میں اپنے ہاتھوں سے کاٹنا چاہتی تھی تاکہ آپ کو پتہ چلے گا کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں
وہ سوں سوں کرتی کردم کو مسکرانے پر مجبور کر گئی
اور تمہیں کس نے کہا ہے کہ تم یہ ثابت کرو کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو ۔اب اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا
ایک نظر اپنے کمرے کی طرف دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا وہ آگے بڑھ گیا گھر کے کونے میں کچن تھا اور آج کل دھڑکن یوٹیوب سے اس کے لیے کچھ نہ کچھ بنانا سیکھ رہی تھی
وہ کچن میں داخل ہوا تو سوں سوں کی آواز سنائی دی شاید نہیں یقینا وہ رو رہی تھی
دھڑکن میری جان کیا ہوا اسے سامنے ہی وہ دوسری طرف منہ کیے کرسی پر بیٹھا دیکھ کر وہ فورا اس کے قریب آیا ۔
جب دھڑکن نے اپنے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی اس کے سامنے کی جو چھری لگنے کی وجہ سے اچھی حاصی کٹ چکی تھی
یہ کیسے ہوا دھڑکن دھیان سے نہیں کر سکتی تم وہ اسے ڈانٹتے ہوئے اٹھا اور فرسٹ ایڈ بوکس لے کر آیا
تمہارے ہاتھ کٹ گیا تو کھانا کس طرح سے بنایا وہ اس کا ہاتھ صاف کرتے ہوئے پٹی باندھ کر پوچھنے لگا
کیونکہ کچن میں پھیلی خوشبو اس بات کے گواہ تھی کہ کھانا بن چکا ہے
شام کے سائے گہرے ہوئے تو وہ گھر واپس آ گیا سارے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے تھے ۔سکول کی بلڈنگ کا کام شروع ہوئے آج پندرہ دن ہو چکے تھے ۔
اور وہ بھی مزدوروں کے ساتھ ان کی پوری مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی وجہ سے آج کل وہ گھر واپس آتا تو اس کے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے ہوتے
دھڑکن نے ہمت کرتے ایک بار اس کے کپڑوں کو ہاتھ لگایا اور پھر دھو کر ہی دم لیا
اور اس کے بعد کہا کہ مٹی سے بھرے ہوئے کپڑوں پر داغ صاف نہیں ہوتے جس پر کردم نے کہا کے گاؤں کی ساری عورت اپنے شوہر کے کپڑے صاف کرتیں ہیں اور اس کے بعد دھڑکن نے یہ بات چینج کی طرح قبول کی اب چاہے سارا دن ہی ڈنڈے سے مار کٹائی کرتے ہوئے وہ اس کے کپروں کا حشر بگاڑ دیتی لیکن داغ نکالنے کے مانتی
آج وہ گھر واپس آیا تھا روز کے بانیست گھر میں خاموشی تھی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain