Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

اب میں انہیں خود سے کبھی ناراض نہیں ہونے دوں گی ۔
وہ خود کو آئینے میں دیکھتی خود سے عہد کرتے ہوئے بولی

تائشہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی تیاری دیکھ رہی تھی جب اچانک اس کا سر گھُوما اس سے پہلے کہ وہ گرتی جنید نے اسے پکڑ لیا
کیا ہوا حسین سجنی تم تو گرتی پھررہی ہو کچھ کھایا پیا کرو اگر یہی حالت رہی تو تو بیمار پر جاؤ گی
۔ ارے نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں ۔
اچھا اب تم بتاؤ میں کیسی لگ رہی ہوں وہ اسے مطمئن کر کے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی
جبکہ وہ اسے جواب دینے کی بجائے آگے پیچھے دیکھنے لگا ۔
میں تم سے پوچھ رہی ہوں جنید میں کیسی لگ رہی ہوں بتاؤ مجھے اس کے اگنور کرنے پر وہ تمتیلاکررہ گئی
جیند میں کچھ پوچھ رہی ہوں تم بتا رہے ہو یا وہ اسے غصے سے گھورنے لگی جبکہ جنید کا سارا دھیان اپنے موبائل پہ تھا

Mirh@_Ch
 

#بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_78

ماشاءاللہ سویرا بیٹا تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو آج تو میرا بیٹا بچ کر دکھائے تم سے ۔
سویرا اپنے تمام تر جلوے بکھیر رہی تھی آج وہ دل سے صرف اور صرف مقدم کے لیے تیار ہوئی تھی حسین تو وہ پہلے ہی بہت تھی لیکن آج اس کی تیاری نے اسے چار چاند لگا دیے تھے ۔
میرا بھی یہی ارادہ ہےاماں سائیں کے آپ کا بیٹا آج مجھ سے بچ نہ جائے
لیکن آپ ذرا احتیاط کیجئے گا کل کی طرح کمرے میں نہ جائیے گا منہ اٹھا کر خیر شام ہونے والی ہے مقدم سائیں کبھی بھی واپس آتے ہوں گے وہ اماں سائیں کو شرمندہ دیکھ کر بولی
اور اگر آج رات وہ نشے میں بھی ہوئے نہ تو بھی میں ان کو خود سے دور کرنے کی کوشش ہرگز نہیں کروں گی ۔
کل بھی وہ مجھ سے خفا ہوگئے تھے

Mirh@_Ch
 

لیکن تمہاری آنکھیں ۔وہ جاتے جاتے اس کے پاس پلٹ آیا
میں تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں صرف تمہاری آنکھوں کی وجہ سے ۔
اب جاؤ موڈ ٹھیک کرو اور رات کو میرا موڈ ٹھیک کرنا وہ اس کا گال تھپتھپتا بنا کسی سے کچھ کہیں حویلی سے باہر نکل گیا ·

Mirh@_Ch
 

مقدم باہر آیا تو سویرا اسے سامنے سے آتے دکھائی دی اس پر ایک ناگوار سی نظر ڈالتا وہ سیڑھیاں اترنے لگا
مقدم سائیں آپ مجھ سے خفا ہیں وہ تقریبا بھاگ کر اس کے قریب آئی تھی
کیا مجھے نہیں ہونا چاہیے الٹا اس سے سوال کرنے لگا
بلکل ہونا چاہیے میں نے حرکت ہی ایسی کی ہے پلیز مجھے معاف کر دیں میرا وہ ہرگز مطلب نہیں تھا
تمہارا کیا مطلب تھا اور کیا نہیں مجھے بس یہ پتا ہے کہ تم نے مجھے دوھکارا رہا ہے ۔میرے قریب آنے پر تو مجھ سے دور رہتی ہو
کل رات تم اپنی مرضی سے میرے کمرے سے آئی تھی اب میرے کمرے میں واپس مت آنا کیوں کہ جو مقدم کو ایک بار انکار کرتا ہے مقدم شاہ اسے پلٹ کر کبھی نہیں دیکھتا

Mirh@_Ch
 

تب سے ہی دھڑکن نے دیکھنے کا شوق پال رکھا تھا اور کردم نے اسے یہ کہہ کر ٹال دیا تھا کہ وہ ایک دن اسے ڈیٹ پرڈیرے پر لےکے جائے گا اس کے چہکنے پر وہ مسکرایا
ہاں میری جان ہم ڈیرے پر جا رہے ہیں ۔
پہلے مجھے نیچے اتریں میں چل کے جاؤ ں گی باہر گاؤں والے کیا کہیں گے
کہیں گے کردم سائیں اپنی پٹاکا سائیں سے بہت پیار کرتا ہے اس کے پاؤں گندے نہ ہوجائیں اسی لئے اسے اٹھا کے لے کر چل رہا ہے ۔
کردم نے شرارتی انداز میں آنکھ دبائی
بالکل بھی نہیں میں اپنے پیروں پر چلوں گی وہ تیز تیز ہاتھ پیر ہلاتی اگلے ہی پل نیچے تھی
اور کردم نے جب کیٹی کی طرف اشارہ کیا تو وہ اسے بھی اپنی باہوں میں اٹھاتی اس کے آگے آگے چل دی پھراسے احساس ہوا کہ اسے تو ڈیرے کا راستہ ہی نہیں آتا خیر کردم کے پیچھے چلنا اس نے زیادہ بہتر سمجھا ۔

Mirh@_Ch
 

وہ اس کی بکس بند کرتے ہوئے اسے کرسی سے اٹھا کر باہر لے آیا ۔
لیکن کردم سائیں میں نے تو آپ کو اچھے ہزبینڈ کا سرٹیفیکیٹ دیا ہی نہیں تو آپ نے اپنے پاس سے کیسے اندازہ لگا لیا کہ آپ اچھے ہسبنڈ ہیں یانہیں وہ اس کے گردن میں باہیں ڈالتی اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی جبکہ اس کی کیٙٹی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ان کے پیچھے آرہی تھی ۔
یار دھڑکن تم نے اسے کتنی بری عادت ڈال دی ہے ہمارے پیچھے چلنے کی وہ اسے دیکھ کر بولا
ایسا مت کہیں میری کیٹی کو کوئی گندی عادت نہیں ہے وہ بہت سویٹ ہے دھڑکن منہ بسور کر بولی
ویسے ہم کہاں جا رہے ہیں اسے دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ نیچے اترنے کی کوشش کرنے لگی
ڈیٹ پے کردم نے سرگوشی نما آواز میں کہا تو وہ مسکرائی
مطلب آپ مجھے ڈیرے پر لے کے جا رہے ہیں وہ جب سے یہاں آئے تھے

Mirh@_Ch
 

اور دھڑکن ساتھ بھی نارمل رہا کریں
اب وہ بھی ایک عام اسٹوڈنٹ کی طرح کالج میں رہ رہی تھی اور اب اس کی بہت ساری دوست بھی بن چکی تھی ۔
پر اب عام اسٹوڈنٹس کی طرح اسے بھی بہت ڈانٹ پڑ رہی تھیں خاص کر اردو کے پریڈ میں بس آج کل وہ اردو پڑھنے میں کچھ زیادہ ہی مصروف تھی
لیکن دھڑکن کل تو سنڈے ہے نا سنڈے کو چھٹی ہوتی ہے تم یہ سب کچھ کل کر لینا پھر الحال مجھے وقت دو وہ اس کی کتابیں بند کرتا ہوا اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنی طرف لے آیا
کردم سائیں باقی بکس کل پڑھوں گی آج اردو پڑھنے دیں وہ پھر سے کتاب کھولنے لگی جب کردم نے ایک دفعہ پھر سے اپنی طرف کھینچا
تھوڑا سا ترس کھاؤ دھڑکن سائیں تم اچھی سٹوڈنٹ بننے کے چکر میں اپنے شوہر پر بالکل دھیان نہیں دے رہی ہو اور اگر تم نے ایسا کیا تو میں بالکل اچھا ہسبینڈ نہیں رہوں گا ۔

Mirh@_Ch
 

اس وقت اس کے قریب رکنا سویرا کو مناسب نہ لگا ۔
وہ کافی دیر انتظار کرتی رہی شاید وہ اس کے پیچھے آئے گا ۔لیکن وہ نہ آیا سو گئے ہوں گے سویرا خود سے کہتی بیڈ پر آ بیٹھی
جبکہ مقدم کا اندازہ آج اسے بالکل اچھا نہ لگا تھا ۔لیکن جو بھی تھا اسے اس طرح سے مقدم کو خود سے دور نہیں کرنا چاہیے تھا کہیں وہ اس بات پر اس سے ناراض نہ ہو جائے

یہ کیا ہو رہا ہے وہ تھوڑی دیر پہلے ہی کالج کے واپس آئی تھی اور کام ختم ہونے کی وجہ سے آج کردم بھی جلدی کر واپس آ گیا تھا
پڑھائی کر رہی ہوں ہماری ٹیچرریحانہ بہت سخت ہیں اب تو وہ مجھے اسپیشل بھی نہیں سمجھتی مجھے بھی ڈانٹتی ہیں دھڑکن نے جب اسے آکر یہ بتایا تھا کہ سب لوگ اسے اسپیشل ٹریٹ کرتے ہیں اور اسے اچھا نہیں لگتا تو کردم خود اس کے کالج گیا تھا اور وہاں کی ٹیچر سے بات کی تھی کہ دھڑکن بھی ان کا اسٹوڈنٹ ہے

Mirh@_Ch
 

مقدم سائیں آپ مجھے ہرٹ کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے اس کی باہوں میں وہ تڑپ کر رہ گئی ۔
نشے میں آپ میرے قریب نہیں آئو گے اچھے سے جانتی ہوں میں مرد نشے میں انسان سے حیوان بن جاتا ہے ۔
وہ اسے خود سے دور کرتی کمرے سے باہر جانے لگی جب مقدم نے بیڈ سے اٹھ کر اسے پکڑ کے ایک بار پھر سے اپنی طرف کھینچا
معاف کیجیے گا مقدم سائیں لیکن میں سویرہ ہوں حوریہ نہیں ہوں جس پر آپ کی یہ زور زبردستی اور بے دردی چلے گی وہ اسے دھکا دیتے ہوئے بیڈ سے اٹھے اور اپنا دوپٹہ اٹھاتے کمرے سے باہر نکل گئی

Mirh@_Ch
 

اب آئیں ہیں جب آدھی رات گزر چکی ہے وہ غصے سے بربڑاتے ہوئے باہر نکلی جب مقدم کو دروازے سے اس کے دوست اپنے کندھوں پر ڈالے آ رہے تھے
بھابی سائیں کو کمرے تک پہنچانا ہے آج ضرورت سے زیادہ ہی پی لی ہے
اس کا دوست اسے دیکھ کر مسکرایا اور پھر اسے لے کر وہ کمرے میں گئے
سویرہ ڈارلنگ آئی ریلی مس یو میں نے بہت مسں کیا پورا دن بہت مس کیا بےبی تمہاری آنکھیں اس کے دوست ابھی اسے بیڈ پر لٹا ہی رہے تھے کہ جب بولنا شروع ہوا سویرا ان کے سامنے شرمندہ ہو کر رہ گئی
ہمیں لگتا ہے ہمیں چلنا چاہیے دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کیا اور وہ باہر جانے لگے تو سویرا اس کے قریب آ کر رکی
تمہاری آنکھیں حقیقت کا آئینہ ہیں وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھینچ کر خود پر گرانے لگا
تم بہت خوبصورت ہو ۔

Mirh@_Ch
 

اسے احمد شاہ کی ضرورت نہیں تھی دادا سائیں کے بہت سمجھانے کے بعد احمد شاہ اپنے علاج کروانے کے لیے لندن جانےپر تیار ہو گئے تھے
لیکن وہ دھڑکن سے ملے بغیر جانا چاہتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کے دھڑکن ان کے چہرے سے ہی ان کی بیماری پکڑ لے گی ۔
وہ اس معاملے میں دادا سائیں بہت ضد کرکے بھی اپنی بات منوا نہیں پائے تھے

سویرا شام سے مقدم کا انتظار کر رہی تھی رات کے دو بج چکے تھے اور مقدم کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں تھا ۔
آج خاض اس کے لئے اس کی پسند کے کلیر کی نائیٹی پہنے اپنا سراپا حسن بکھیرے بیٹھی تھی اور جس کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا وہ تو بے خبر نہ جانے کہاں تھا ۔
انتظار کرتے کرتے وہ نیند سے بے حال ہوگئی پہلے شام کو اس کی پسند کا کھانا بناتے ہوئے ہی کافی تھک چکی تھی۔
ہار کر وہ سونے کے لئے لیٹ گئی تو مقدم کے گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی

Mirh@_Ch
 

دھڑکن اس بارے میں کچھ جانتی نہیں تھی اور سویرا کو اب صرف مقدم کی پڑی تھی دادا سائیں نے خود اس سے کہا تھا کہ وہ دن کے وقت اسپتال میں جایا کرے
جس پر سویرا نے کہا کہ اسے مقدم کے دل میں اپنی جگہ بنانی ہے اسی لئے فی الحال وہ کہیں جانے کا ارادہ نہیں رکھتی ۔
کردم کے علاوہ مقدم بھی دو تین بار ہسپتال ہو کے آیا تھا دادا سائیں وہاں آئے تو وہ خود پریشان لگے
دادا سائیں نے بہت سمجھایا کہ ہمہیں دھڑکن کو اس بارے میں سب کچھ بتا دینا چاہیے اور لندن میں ان کا علاج ہو سکتا ہے تو انہیں لندن چلے جانا چاہیے
جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ سویرہ کو اپنے ساتھ لے کے جائیں گے اور سویرا جانے سے صاف انکار کر چکی تھی اس نے کہا تھا کہ یہاں اس کا شوہر ہے گھر ہے سسرال ہے وہ یہ سب کچھ چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔ اور ویسے بھی اب مقدم سے اس کا نکاح ہو چکا تھا

Mirh@_Ch
 

بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_77

جیندنے بھی بہت کوشش کی کہ مقدم کی طرح وہ بھی حوریہ کو نظر انداز کر دے لیکن نہیں کرپایا اس نے حوریہ کو صرف اپنی بہن کہا ہی نہیں بلکہ دل سے مانا بھی تھا
حوریہ کسی مصیبت میں ہو سکتی تھی کسی پریشانی میں ہو سکتی تھی اب تو مقدم کے ساتھ ساتھ کردم بھی اپنی روٹین میں واپس جاتا جا رہا تھا جیسے اسےبھی اب اپنی بہن کی پروا نہ ہو لیکن جنید اس طرح سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا تھا اسے کسی بھی طرح حوریہ کا پتہ کروانا تھا
اسی لئے اب کردم اور مقدم دونوں کو نظر انداز کر کے وہ اکیلے حوریہ کو ڈھونڈ رہا تھا
احمد شاہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی اسی لئے انہیں ہسپتال میں شفٹ کر دیا گیا تھا جبکہ یہ بات دھڑکن نہیں جانتی تھی اس وقت انہیں اپنی بیٹیوں کی ضرورت تھی

Mirh@_Ch
 

شاہ سائیں پریشانی سے اپنی کرسی پر بیٹھ کے اہانہ کی تصویر دیکھ رہے تھے جس میں انہیں حوریہ نظر آرہی تھی وہ اپنی بیٹی سے بھی شرمندہ تھے اپنی بیٹی کی آخری نشانی کو بھی نہ سنبھال پائے ۔

Mirh@_Ch
 

جب اس کی قدر ہوئی تو وہ ان سے دور ہو گئی
شروع میں مقدم نے یہ سب کچھ ان کی عزت بچانے کی خاطر کیا تھا لیکن اب وہ یہ سب کچھ اپنے لیے کر رہا تھا آج پہلی بار مقدم نے انہیں اتناہرٹ کیا تھا وہ تو سوچتے تھے کہ وہ مقدم حوریہ کے بغیر سانس بھی نہیں لے پائے گا اور یہاں مقدم ایک اپنی دنیا میں بسانے جا رہا تھا
کتنی محبت تھی اس کی نظروں میں سویرہ کے لئے تو کیا حوریہ کی محبت کہیں کھو گئی
کہاں چلی گئی تھی حوریہ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے تھے لیکن وہ کہیں نہ ملی
ہم جانتے ہیں حوریہ ہم نے تمہیں بہت مایوس کیا ہے شاید تم ہمیں کبھی معاف نہ کرو لیکن ایک بار بس آجاؤ ابھی تو ہم نے تم سے اپنی غلطیوں کی معافی تک نہیں مانگی تھی کہاں چلی گئی ہو

Mirh@_Ch
 

میرے کپڑے جوتے کھانا تم ہر چیز ٹائم پے کرنے کی کوشش کرتی ہوجب کہ یہاں آنے سے پہلے تمیں یہ سب کچھ آتا بھی نہیں تھا کیوں کیا اتنا پیار کافی نہیں ہے مجھ سے محبت ثابت کرنے کے لیے ۔اب کیا تاج محل بنوا ہوگی میری محبت میں وہ سیریز انداز میں کہتا اینڈ پر شرارت سے بولا
جی نہیں تاج محل آپ بنوائیں گے اب سب کچھ میں کروں ایک تو میرا اتنا سارا خون بہہ گیا مجھے لگتا ہے کہ مجھے بلیڈ لگے گا دھڑکن نے ایک بار پھر سے زمین پر گرا ہوا اپنا خون دیکھا جبکہ کردم اس کے انداز پر اسے اس کرسی سے اٹھا کر اپنے بیڈ روم میں لے گیا وہ جب اپنا خون دیکھنے والی تھی ایسا ہی کہنے والی تھی ۔

دادا سائیں آج پورے ایک ماہ کے بعد اہانہ کے کمرے میں آئے تھے سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا سب کچھ بدل چکا تھا انہوں نے ساری زندگی اہانہ کی بیٹی کی قدر نہ کی

Mirh@_Ch
 

وہ کرن ہے نہ آج اس کی بھابھی آئی تھی ہمارے گھر وہ کہہ رہی تھی کہ شوہر کے دل میں جگہ بنانے کے لیے اسے بتاتے رہنا چاہیے کہ آپ سے کتنا پیار کرتے ہو ضروری نہیں کہ لفظوں سے بتاؤ آپ اس کا خیال رکھے اس کے پسند کی چیزیں بنا کے اس کی ہر چیز کا دھیان رکھ کر بھی اسے بتا سکتے ہو کہ آپ کتنا پیار کرتے ہو پیار لفظوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اور میں بھی وہی کر رہی تھی کہ میرا ہاتھ کٹ گیا اور اتنا خون بہہ گیا میرا اس نے ایک نظر زمین کی طرف دیکھا جہاں کچھ بوندیں پڑی تھی
کوئی بات نہیں تم مجھ سے پیار کرتی ہو میں جانتا ہوں اور ایسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم جو میرے لئے کر رہی ہو نا یہ ساری چیزیں تمہاری محبت کو ثابت کرتی ہیں تمہارا سب کچھ چھوڑ کر یہاں میرے پاس آنا میرا اتنا خیال رکھنا

Mirh@_Ch
 

میں نے بنایا ہے آپ نے کہا تھا نہ آپ کو سلاد کھانا اچھا لگتا ہے تو وہ کاٹتے ہوئے ہے یہ مجھ سے کھیرے نہیں کاٹے جاتے
سوں سوں اب بھی جاری تھی ۔
سلاد میں صرف کھیرے نہیں ہوتے اور کٹر سے بھی تو کاٹ سکتی تھی جس طرح سے پیازکرتی ہو
کٹر سے ٹھیک نہیں کٹ رہے تھے اور ویسے بھی تو ہاتھ کی محنت سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کسی سے کتنا پیار کرتے ہیں اور پیازتو میں اس لیے کٹر سے کاٹتی ہوں کہ اس میں ٹائم زیادہ لگتا ہے اور آنسو بہتے ہیں اس لیے کٹر سے کاٹ دیتی ہوں لیکن آپ کے لیے سلاد میں اپنے ہاتھوں سے کاٹنا چاہتی تھی تاکہ آپ کو پتہ چلے گا کہ میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں
وہ سوں سوں کرتی کردم کو مسکرانے پر مجبور کر گئی
اور تمہیں کس نے کہا ہے کہ تم یہ ثابت کرو کہ تم مجھ سے کتنا پیار کرتی ہو ۔اب اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

Mirh@_Ch
 

ایک نظر اپنے کمرے کی طرف دیکھا تو وہاں کوئی نہ تھا وہ آگے بڑھ گیا گھر کے کونے میں کچن تھا اور آج کل دھڑکن یوٹیوب سے اس کے لیے کچھ نہ کچھ بنانا سیکھ رہی تھی
وہ کچن میں داخل ہوا تو سوں سوں کی آواز سنائی دی شاید نہیں یقینا وہ رو رہی تھی
دھڑکن میری جان کیا ہوا اسے سامنے ہی وہ دوسری طرف منہ کیے کرسی پر بیٹھا دیکھ کر وہ فورا اس کے قریب آیا ۔
جب دھڑکن نے اپنے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی اس کے سامنے کی جو چھری لگنے کی وجہ سے اچھی حاصی کٹ چکی تھی
یہ کیسے ہوا دھڑکن دھیان سے نہیں کر سکتی تم وہ اسے ڈانٹتے ہوئے اٹھا اور فرسٹ ایڈ بوکس لے کر آیا
تمہارے ہاتھ کٹ گیا تو کھانا کس طرح سے بنایا وہ اس کا ہاتھ صاف کرتے ہوئے پٹی باندھ کر پوچھنے لگا
کیونکہ کچن میں پھیلی خوشبو اس بات کے گواہ تھی کہ کھانا بن چکا ہے

Mirh@_Ch
 

شام کے سائے گہرے ہوئے تو وہ گھر واپس آ گیا سارے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے تھے ۔سکول کی بلڈنگ کا کام شروع ہوئے آج پندرہ دن ہو چکے تھے ۔
اور وہ بھی مزدوروں کے ساتھ ان کی پوری مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی وجہ سے آج کل وہ گھر واپس آتا تو اس کے کپڑے مٹی سے بھرے ہوئے ہوتے
دھڑکن نے ہمت کرتے ایک بار اس کے کپڑوں کو ہاتھ لگایا اور پھر دھو کر ہی دم لیا
اور اس کے بعد کہا کہ مٹی سے بھرے ہوئے کپڑوں پر داغ صاف نہیں ہوتے جس پر کردم نے کہا کے گاؤں کی ساری عورت اپنے شوہر کے کپڑے صاف کرتیں ہیں اور اس کے بعد دھڑکن نے یہ بات چینج کی طرح قبول کی اب چاہے سارا دن ہی ڈنڈے سے مار کٹائی کرتے ہوئے وہ اس کے کپروں کا حشر بگاڑ دیتی لیکن داغ نکالنے کے مانتی
آج وہ گھر واپس آیا تھا روز کے بانیست گھر میں خاموشی تھی