کہیں نہ کہیں یہ رشتہ زبردستی کا تھا لیکن تائشہ اسے بالکل ایمانداری سے نبھا رہی تھی جیسے شادی ان دونوں کی مرضی سے ہوئی ہو
جب شروع شروع میں جنید اس کے قریب جاتا تھا تو وہ اکثر اماں سائیں کا نام لیتی لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان کو اس رشتے سے اعتراض کیوں ہے وہ رضوانہ سے اتنا کیوں ڈرتی ہے اس کا یہ ڈر دیکھتے ہوئے ہی جنید نے اس سے کچھ وقت دیا تھا اس رشتے کو سمجھنے کے لئے ۔
اور آج صبح اسے اتنے قریب دیکھ کر وہ پھر سے بہکنے لگا ۔
اس کے نیچلے لب کے ساتھ وہ نقطہ نما تل جنید کو بہت تنگ کر رہا تھا ۔
جس سے تنگ آکر جنید نے تائشہ کو دیا ہوا تھا وقت واپس لینے کا فیصلہ کیا ۔
گھر کے سارے کام کرنے کے باوجود بھی وہ اتنی فریش کیسے رہتی تھی جنید سمجھ نہیں پاتا تھا
شاید یہ سب کچھ اس کےشوق کی وجہ سے تائشہ کو سجنے سنورنے کا شوق تھا
اب دو دن پہلے کچن میں روٹیاں پکاتے ہوئے تائشہ کے نظر اچانک نظر اپنے دائیں جانب بالوں پر پڑی جن کی نیچے سے کٹنگ خراب ہو چکی تھی
تائشہ نے وہی روٹی کا پیڑا چھوڑ اور پہلے آپنے بال ٹھیک کیے اور پھر اپنے موبائل میں 15 16 سیلفی لی پر باقی سب کو ڈلیٹ کر کے صرف دو ہی اسے دکھائی
اور انہیں دکھانے کا مقصد صرف تعریف وصول کرنا تھا ۔
وہ آئے دن فیشن کرتی اور ہر روز ایک الگ لک میں اسے نظر آتی وہ آۓ دن اس پر بجلیاں گر آنے لگی تھی ۔
اور پھر جنید اس کی تعریف میں جب چاند سورج ایک کرنے کو بیٹھاتا تو شرما شرما کے اپنی تعریف پہ شکریہ ادا کرتی۔
جنید اٹھ کر جانے لگا جب اس کی نظر تائشہ کے بریسلیٹ پر پڑی جب سے تائشہ کو پہنایا تھا اس نے ابھی تک نہ اتارا ۔
اور اس کے لئے یہی کافی تھا کہ وہ یہ رشتہ قبول کر چکی ہے ۔کچھ دن پہلے تائشہ نے اپنا فون بند کر دیا تھا جنید نہیں جانتا تھا وجہ اس نے اس کا فون چیک کیا تو اس پر صرف اماں سائیں کی فون کال آئی تھی ملک نے اسے فون کرنا چھوڑ دیا تھا تو کیا ہوا کیا اب وہ اپنی ماں سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی جنید وجہ سمجھ نہیں پایا تھا لیکن وہ تائشہ میں آتے ہر دن ایک نئے بدلاؤ کو دیکھ کر بہت خوش تھا
اسے ایک ماہ میں سے جو بات بہت نوٹ کی تھی وہ یہ تھی کہ تائشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے والی تھی اسے اپنی تعریف پسند تھی اس سے ہمیشہ تیار رہنا پسند تھا ۔
جنید جب گھر واپس آتا تو وہ اسے اپنے سامنے فریش نظر آتی
او کم ان یار اب بیٹھ کے شرمانے مت لگ جانا عجیب سی چڑ ہو گئی ہے مجھے شرم و حیا سے ۔
تم کھلا رہی ہو یا میں ایسے ہی چلا جاؤں وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولا تھا سویرا فوراً ہی اس کے لئے بریڈ پرجم لگانے لگی۔ اور پھر بنا کسی کی پرواہ سے بہت محبت سے اپنے ہاتھوں سے مقدم کو ناشتہ کروایا
❤
جنید کی آنکھ کھلی تو تائشہ اس کے بالکل قریب ہی گہری نیند میں سو رہی تھی حوریہ کو ڈھونڈنے میں اس نے اپنی جان لگائی تھی لیکن وہ کہیں نہ ملی حوریہ کی وجہ سے ان سب کی زندگی ایک جگہ رکی ہوئی تھی اور جس کی زندگی حوریہ تھی وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا اسے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا کہ مقدم شاہ کے دل میں اس کی محبت اتنی جلدی ختم ہو گئی ۔
حوریہ کے بغیر بھی اس کا وقت اچھا گزر نے لگا تھا ۔
اپنی زندگی جینا چھوڑ دوں وہ اونچی آواز میں انہیں سنانے والے انداز میں کہہ رہا تھا
جبکہ دادا سائیں اس کی آواز پر بھی نہ پلٹے آج مقدم نے انہیں ہرٹ کیا تھا ۔
حد ہے مطلب اپنی زندگی جینا چھوڑ دوں میں کیونکہ ان کی نواسی رات اندھیرے میں گھر سے غائب ہوگئی ہے وہ بھی کھانا چھوڑ کے اٹھنے لگا جب سویرا نے اس کا ہاتھ تھام لیا
مقدم سائیں اس طرح سے کھانا چھوڑ کے نہیں جاتے پلیز دیکھیں اگر آپ کچھ نہیں کھائیں گے تو میں بھی سارا دن بھوکی رہوں گئی اور مجھے یقین ہے کہ آپ یہ نہیں چاہیں گے کہ میں سارا دن بھوکی رہوں ۔وہ اسے جان لٹاتے نظروں سے دیکھتی ہوئے بولی تو وہ دلکشی سے مسکراتا دوبارہ بیٹھ گیا
ایک شرط پہ کھاوؤں گا اگر اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گی تو مقدم نے شرارت سے کہا تو وہ نازیہ رضوانہ کو دیکھنے لگی
رضوانہ نے اپنی کرسی گھسیٹتے ہوئے کہا
خبردار رضوانہ ایک لفظ استعمال مت کرنا میری حوریہ کے خلاف ۔میری حوریہ وہ ہیرا ہے جسے پردوں میں چھپا بھی لیا جائے تو بھی اس کی چمک کم نہیں ہوتی ۔
دادا سائیں ایسے ہیرکو گھر پر رہنا چاہیے نہ کہ آدھی رات کو گھر سے غائب ہوجانا چاہیے مقدم کے الفاظ نے انہیں اس کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا
سویرا ڈارلنگ جم دینا میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا اور اگر میں اس کوشش میں کامیاب ہوگیا تو میں اور تم باہرچلیں گے ۔
ویسے بھی ایک مہینے سے ذہن پر کافی دباؤ آگیا ہے میں ریکس ہونا چاہتا ہوں ۔سوچ رہا ہوں کچھ دن کے لیے کہیں باہر چلا جاؤں سویرہ کے ساتھ ۔وہ بھی بول ہی رہا تھا جب دادا سائیں نے غصے سے اپنی کرسی چھوڑی اور اندر چلے گئے ۔
اب کیا چاہتے ہیں آپ ساری زندگی آپ کی نواسی کا انتظار کرتا رہوں
بڑی جلدی اتر گیا عشق کا خمار مقدم سائیں مجھے تو لگتا تھا کہ تم حوریہ سے محبت کرتے ہو لیکن تمہیں دیکھ کر تو مجھے ایسا محسوس نہیں ہو رہا
گھر کی بچی ایک مہینے سے غائب ہے اور تو عیاشیاں کرتے پھر رہے ہو کبھی اپنے عیاش دوستوں کے ساتھ شراب خانے میں ملتے ہو تو کبھی شکار کھیلنے جا رہے ہو
اور اب انہوں نے ایک نظر سویرا کی طرف دیکھا اور نظر پھیر گئے
اور اب سب کچھ بھلا کر سکون سے اپنی زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تو اس میں غلط کیا ہے دادا سائیں آپ کی نواسی گھر چھوڑنے سے پہلے سوچ کر چھوڑتی ۔
بالکل صحیح کہہ رہا ہے ہی مقدم سائیں اب آدھی رات کو گھر چھوڑ کر گئی ہے ہمیں کیا پتا اکیلی گئی ہیں یا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور ویسے بھی رات کو گھر سے نکلنے والی لڑکیوں کو ڈھونڈا نہیں جاتا اور اگر غلطی سے مل جائے تو وہی پر گولی مار دی جاتی ہے
سویرا کی سخت گھوری اور مقدم کا بگھڑا موڑ دیکھ کر اماں سائیں معذرت کرتے واپس باہر جانے لگیں۔
اماں سائیں یہ ایک میاں بیوی کا کمرہ ہے آپ کو اس طرح سے آنا ہی نہیں چاہیے اور کچھ نہ سہی تو دروازہ کھٹکھٹا ہی سکتی تھی آپ سویرا کاموڈ سخت خراب ہو چکا تھا ۔لیکن اپنے انداز کو نوٹ کرتے ہوئے اس نے ایک نظر مقدم کی طرف دیکھا جو سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا
میرا مطلب ہے یہ آپ کے بیٹے کا کمرہ ہے اب جب چاہیں یہاں آ سکتی ہیں لیکن آئندہ احتیاط کیجئے ۔وہ اپنی ناگواری چھپاتی مسکرا کر بولی
جبکہ نازیہ شرمندہ سی ہاں کہہ کر باہر چلی گئیں
❤
وہ سویرا کا ہاتھ تھامیں محبت سے اسے لے کر ٹیبل پر آیا تھا دادا سائیں نے ایک ناگوار نظر ان دونوں پر ڈالی
میں آج اپنے دوستوں کے ساتھ شام میں شکار پر جاؤں گا کوشش کروں گا کہ صرف تمہارے نشے کا خمار ہو لیکن بہت ڈھیٹ دوست ہیں میرے جب تک زبردستی پلانا دیں تب تک جان نہیں چھوڑتے ۔اسی لئے پوچھنا یہ تھاکہ اگر تھوڑی بہت ہو جائے تو تھوڑی گنجائش نکل سکتی ہے کیا وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے بالکل اپنے نزدیک کرتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا
جی نہیں کوئی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ میرے پاس آنے کے لئے آپ کو شراب سے تعلق ختم کرنے ہوں گے ورنہ پھر ۔۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں کہتی اپنی بات ادھوری چھوڑ گئی
ورنہ پھر یہ نشہ میسر نہیں ہوگا وہ اس کی بات مکمل کرتے ہوئے اس پر جھکا جب اماں سائیں دروازہ کھل اندرآ گئیں اگلے ہی لمحے مقدم نے اسے خود سے دور کیا
معاف کرنا بیٹا لگتا ہے میں غلط وقت پہ آگئی میں پھر آتی ہوں
بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_76
❤
سویرا کی آنکھ کھلی تو مقدم آئینے کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا
اسے جاگتا دیکھ کر اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بے ساختہ مسکرایا
اسے اس طرح سے مسکراتے پا کر سویرا آہستہ سے بیڈ چھوڑتی اس کے قریب آئی
آپ کہیں جا رہے وہ اس کے کندھے کی چادر درست کرتے ہوئے بولی ۔
ہاں مجھے ایک بہت ضروری کام تھا میں تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا ۔
میرا ارادہ آپ کے ساتھ لنچ کرنے کا تھا وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی
لنچ نہیں لیکن بریک فاسٹ ساتھ کر ہی سکتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ ساری چیزیں یہاں سے ہٹا دو ۔نہ صرف یہاں سے بلکہ اس کمرے میں حوریہ کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے ۔
عجیب سے چڑ ہو رہی ہے مجھے یہ سب کچھ دیکھ کر
آپ کو دیکھتے ہی مجھے آپ سے محبت ہو گئی
یقین کریں میرے ہر انداز سے میں آپ کو حوریہ سے بہتر لگوں گی۔
لیکن معاف کیجئے آج کی رات میں آپ کی راحت کا سامان نہیں کر سکتی کیوںکہ اس وقت آپ نشے میں ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ جب آپ میرے قریب آئیں تو صرف آپ کو میرے حسین کا نشہ بہکائے اور کوئی نشہ نہیں ۔
وہ ایک ادا سے اس کے اوپر سے اٹھی اور بیڈ پر لیٹ گئی ۔
اس نے مقدم شاہ کو پا لیا۔ وہ سرشاری سے اس کے سینے پے سر رکھنے لگی جب مقدم نے نیند میں کروٹ بدلی مسکراہٹ اس کے لبوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی
اسے صوفے کی طرف جاتا دیکھ کر اس نے اسے اپنے قریب بلایا
سویرا کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا مقدم اسے اپنے پاس بلا رہا تھا وہ خوشی سے بے حال اپنے قدم اس کی طرف اٹھانے لگی
اور اس کے قریب آتے ہی مقدم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا
تمہاری آنکھیں وہ اس کی پلکوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے مدہوش انداز میں بولا
کیا ہوا میری آنکھوں کو مقدم سائیں وہ اس کی سینے پہ ہاتھ رکھتی مزید اس کی طرف جھکی
حقیقت کا آئینہ ہیں سویرا خاموش اور سچی اس کی بات نے سویرہ کو کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور کر دیا
اور اپنے بالوں کو مقدم کے چہرے پر لے آئی
تمہارے بال اس کے بالوں کو اپنے چہرے سے ہٹاتا اپنی مٹھی میں بھرتا ہوا اس کی خوشبو اپنے سینے کو تارنے لگا۔
اور آپ مقدم شاہ آپ سراپاِعشق ہیں میں نے کبھی آپ سے زیادہ حسین مرد نہیں دیکھا
نکال کے پھینک آیا ہوں سے اپنی زندگی سے باہر وہ شراب کی بوتل زمین پر پھینکتے ہوئے اس کے ٹکڑروں کو پیروں کے نیچے روندتے سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
جب نظر پہلی سیڑھی پر کھڑی اماں سائیں پر پڑی ان سے اپنے بیٹے کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی
سویرا سے کہیں کہ اپنے کمرے میں آ جائے آج سے وہیں رہے گی جہاں اس کے سر کا سائیں ہوگا
وہ ایک پل کے قریب دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا
جب کہ اس کی باتیں سن کر اماں سائیں خوشی سے بے حال فورا ہی سویرہ کی کمرے کی طرف آئیں
❤
دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی
یہاں آؤ سویرا وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا
حوریہ دادا سائیں ہارے ہوئے لہجے میں کہا
کون حوریہ کسی کی حوریہ میں کسی حوریہ کوئی نہیں جانتا
ہاں تقریبا ایک مہینہ پہلے تک میری زندگی میں ایک حوریہ تھی بلکہ میری زندگی حوریہ تھی
لیکن اب اور نہیں اب میرا اس حوریہ سے کوئی تعلق نہیں جو لڑکی مجھ پر اعتبار نہیں کر سکتی
اس سے میرا کوئی تعلق نہیں حوریہ اب حویلی واپس آئے یا نہ آئے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اب آپ کی نواسی بن کے اس گھر میں آ سکتی ہے لیکن میری بیوی نہیں آج سے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں
بہت بھٹک لیا اس کی یاد میں در در اب میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں ۔اور پلیز اب یہ جوحوریہ کی گردان بند کریں اس گھر میں مقدم شاہ کی بیوی صرف سویرا ہے اور صرف وہی رہے گی
اور اب آپ لوگ بھی میرے سامنے باتبار اس لڑکی کا نام نہیں لیں گے بھول جانا چاہتا ہوں میں اسے
صاف لفظوں میں کہا تھا کہ جس دن حوریہ مل جائے گی وہ اس کے سامنے اسے طلاق دے گا
تو کچھ تو کرو کہیں تڑپتے تڑپتے میرے بیٹے کو کچھ ہو نہ جائے اور چوتھا دن ہے بخار سے تڑپ رہا ہے جاؤ اس کے پاس سمجھاؤ اسے اس کی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے
ٹھیک ہے اماں سائیں میں کوشش کروں گی ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ اکتا کر بولی
بیٹا اسے منہ لگاتا نہیں تھا اورماں کے آنسو ختم نہیں ہو رہے تھے سویرا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کرے تو کیا کریں
❤
مقدم سائیں کیا حال بنایا ہوا ہے آپ نے وہ شراب کی بوتل ہاتھ میں اٹھائے گھر میں داخل ہوا اس وقت رات کا ایک بجا رہا تھا ۔
مقدم کی یہ حالت دیکھ کر داداسائیں ایک بار پھر سے تڑپ اٹھیں ایک بخار کی شدت اوپر سے یہ حرام سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے روکے
بیٹا تم کیوں کر رہے ہو یہ سب کچھ اپنی حالت دیکھو مل جائے گی
لیکن یہاں تو دور دور تک کوئی نہ تھا
کہیں کسی نے میری باتیں سن تو نہیں لی سویرہ پریشانی سے باہر آ کر دیکھنے لگی لیکن پھر سامنے گلی سے ہی نازیہ کو آتے دیکھا ۔
❤
بس کر دیں بڑی امی سائیں اور کتنا روئیں گی
وہ حوریہ کو بہت یاد کرتا ہے وہ بکھررہا ہے تڑپ رہا ہے اور میں اپنے بیٹے کو اس طرح سے تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی
ایسا کیا تھا اس لڑکی میں کیا حالت ہو گئی ہے میرے معصوم بچے کی اور تم
تمہیں تو ہوش ہی نہیں وہ شوہر ہے تمہارا اسے حوریہ کو بھولنے کی کوشش کرو اسے سمجھنے کی کوشش کرو لیکن تم تو اس کا کمرہ چھوڑ کے یہاں آ چکی ہو
میں چھوڑ کے نہیں آئی اماں سائیں آپ کے بیٹے نے دھکے دے کر نکالا ہے وہاں سے سویرا چڑ کر بولی اسے وہ دن یاد تھا جب حوریہ کو گئے ہوئے دوسرا دن ہوا تھا مقدم شاہ نے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے کمرے سے باہر نکالا تھا
مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا کہ حوریہ کی مقدم سائیں کی وجہ سے چلی گئی ہےیا اسے پتہ چل گیا ہے کہ ہم لوگ اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں
مجھے یہ ساری باتیں نہیں پتہ تم بس وہ کرو میں اس کی لاش دیکھنا چاہتی ہوں میں مقدم کوحاصل کرنے کے لئے کوئی بھی حد پار کر جاؤں گی
اگر تم اسے نہیں مار سکتے تو مجھے بتاؤ میں خود اسے مار دوں گی لیکن اس کا پتا کرو حوریہ کہاں جا سکتی ہے
وہ بے وقوف لڑکی گھر سے اکیلی باہر نہیں جاتی تھی اور آدھی رات کو گھر سے نہیں نکل کر غائب ہو گئی آخر کہاں جا سکتی ہے پتہ کراو
سنو میرے کمرے میں کوئی آرہا ہے فون رکھ رہی ہوں تم جلد سے جلد اس کے بارے میں پتہ کرو اور مجھے بتاؤ میں حوریہ کی لاش دیکھنا چاہتی ہوں اسے سانس لیتے واپس مقدم شاہ کی زندگی میں نہیں دیکھ سکوں گی وہ فون رکھتے ہوئے وہ دروازے سے باہر آکر دیکھنے لگی
انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا تو تمہارے ٹکٹرے ٹکڑے کر دیں گے
اور اب تو وہ حوریہ کی واپسی کی امید بھی چھوڑ تے جا رہے ہیں اب کچھ ہی دن میں انہیں میں اپنی طرف راغب کر لوں گی
اور پھر حوریہ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور تم حوریہ کو مار کر اس کا قصہ ہی ختم کر دینا
کہ تو رہی ہوں کہ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا مجھے بس یہ پتا ہے چاہے جو بھی ہو جائے حوریہ واپس حویلی نہیں آنی چاہی
ہاں تو تم ڈھونڈو اسے مجھ پر نظر رکھی جاتی ہےپل پل کی خبر ہے گھر والوں کو میں گھر سے نکل نہیں نکل سکتی اور میری طبیعت بہت خراب ہے
مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ اس رات حوریہ بچ کیسے گئی
ولیمے والی رات اس کا قتل کرانے کی تیاری کر چکی تھی میں
وہ خاموشی سے ہمارے زندگی سے نکل جاتی اور کبھی واپس نہیں آتی
جنید کل ہی اس کے لئے نئے کپڑے لایا تھا گلابی سوٹ میں وہ کھلتا گلاب ہی لگ رہی تھی کھلی کھلی سی خوش سی
اس نے ایک نظر ان سب چیزوں کی طرف دیکھا وہ شخص جانتا تھا کہ اپنی بہن کو وہ کون سے تحفے دے کر خوش کر سکتا ہے جس سے بہن بھی خوش ہو جائے اور بہنوئی بھی شرمندہ نہ ہو
حیدر میں دکھاوا نہ تھا کبھی کسی پر اپنی دولت کا روعب نہیں جماتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس کی ماں کو اپنے باپ کی دولت چاہیے تھی ۔اور اس دولت کے لیے وہ اپنا بیٹا تک اپنے سسرال چھوڑ آئیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی ماں سے بے انتہا نفرت کرتا تھا
❤
دیکھو میں نے کہانہ کہ وہ واپس نہیں آنی چاہیے اسے کہیں غائب کر دو کسی ایسی جگہ کہ وہ کبھی واپس نہ آئے
بکواس بند کرو تمہاری یہ ساری باتیں سننے کے لیے فون نہیں کیا ہے
اگر حوریہ واپس آئی تو مقدم سائیں مجھے چھوڑدیں گے
ارے نہیں حیدر بھائی ابھی تو آپ نے کچھ کھایا پیا نہیں بلکہ میں کچھ بناتی ہوں وہ چیزیں دیکھنے میں اتنی مصروف ہوگئی کہ حیدر سے کچھ پوچھ بھی نہ پائی ۔۔ ۔ حیدر دنیا کا واحد شخص ہے جس کے سامنے تائشہ خوب نخرے کرتی تھی
گڑیا میں پہلی بار تمہارے گھر آیا ہوں آخری بار نہیں اب تو کوئی پابندی بھی نہیں ہے جب میرا دل چاہے گا میں اپنی گڑیا سے ملنے آؤں گا اب مجھے اس عورت کی شکل دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے وہ جنید کے سامنے بھی اپنی نفرت بیان کرنے کے لیے پیچھے نہ ہٹا ۔
ہاں بالکل آپ جب چاہیں یہاں آ سکتے ہیں آخر آپ کی بہن کا گھر ہے جنید نے خوش دلی سے مسکرا کر کہا
تو ٹھیک ہے پھر ملاقات ہوگی وہ جیند سے بغل گیر ہوتے ہوئے تائشہ کو اپنے سینے سے لگا گیا ۔
جب کہ اس کے جانے کے بعد ایک بار پھر سے وہ اپنی ساری چیزیں دیکھنے میں مصروف ہو گئی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain