Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

کہیں نہ کہیں یہ رشتہ زبردستی کا تھا لیکن تائشہ اسے بالکل ایمانداری سے نبھا رہی تھی جیسے شادی ان دونوں کی مرضی سے ہوئی ہو
جب شروع شروع میں جنید اس کے قریب جاتا تھا تو وہ اکثر اماں سائیں کا نام لیتی لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ان کو اس رشتے سے اعتراض کیوں ہے وہ رضوانہ سے اتنا کیوں ڈرتی ہے اس کا یہ ڈر دیکھتے ہوئے ہی جنید نے اس سے کچھ وقت دیا تھا اس رشتے کو سمجھنے کے لئے ۔
اور آج صبح اسے اتنے قریب دیکھ کر وہ پھر سے بہکنے لگا ۔
اس کے نیچلے لب کے ساتھ وہ نقطہ نما تل جنید کو بہت تنگ کر رہا تھا ۔
جس سے تنگ آکر جنید نے تائشہ کو دیا ہوا تھا وقت واپس لینے کا فیصلہ کیا ۔

Mirh@_Ch
 

گھر کے سارے کام کرنے کے باوجود بھی وہ اتنی فریش کیسے رہتی تھی جنید سمجھ نہیں پاتا تھا
شاید یہ سب کچھ اس کےشوق کی وجہ سے تائشہ کو سجنے سنورنے کا شوق تھا
اب دو دن پہلے کچن میں روٹیاں پکاتے ہوئے تائشہ کے نظر اچانک نظر اپنے دائیں جانب بالوں پر پڑی جن کی نیچے سے کٹنگ خراب ہو چکی تھی
تائشہ نے وہی روٹی کا پیڑا چھوڑ اور پہلے آپنے بال ٹھیک کیے اور پھر اپنے موبائل میں 15 16 سیلفی لی پر باقی سب کو ڈلیٹ کر کے صرف دو ہی اسے دکھائی
اور انہیں دکھانے کا مقصد صرف تعریف وصول کرنا تھا ۔
وہ آئے دن فیشن کرتی اور ہر روز ایک الگ لک میں اسے نظر آتی وہ آۓ دن اس پر بجلیاں گر آنے لگی تھی ۔
اور پھر جنید اس کی تعریف میں جب چاند سورج ایک کرنے کو بیٹھاتا تو شرما شرما کے اپنی تعریف پہ شکریہ ادا کرتی۔

Mirh@_Ch
 

جنید اٹھ کر جانے لگا جب اس کی نظر تائشہ کے بریسلیٹ پر پڑی جب سے تائشہ کو پہنایا تھا اس نے ابھی تک نہ اتارا ۔
اور اس کے لئے یہی کافی تھا کہ وہ یہ رشتہ قبول کر چکی ہے ۔کچھ دن پہلے تائشہ نے اپنا فون بند کر دیا تھا جنید نہیں جانتا تھا وجہ اس نے اس کا فون چیک کیا تو اس پر صرف اماں سائیں کی فون کال آئی تھی ملک نے اسے فون کرنا چھوڑ دیا تھا تو کیا ہوا کیا اب وہ اپنی ماں سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی جنید وجہ سمجھ نہیں پایا تھا لیکن وہ تائشہ میں آتے ہر دن ایک نئے بدلاؤ کو دیکھ کر بہت خوش تھا
اسے ایک ماہ میں سے جو بات بہت نوٹ کی تھی وہ یہ تھی کہ تائشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونے والی تھی اسے اپنی تعریف پسند تھی اس سے ہمیشہ تیار رہنا پسند تھا ۔
جنید جب گھر واپس آتا تو وہ اسے اپنے سامنے فریش نظر آتی

Mirh@_Ch
 

او کم ان یار اب بیٹھ کے شرمانے مت لگ جانا عجیب سی چڑ ہو گئی ہے مجھے شرم و حیا سے ۔
تم کھلا رہی ہو یا میں ایسے ہی چلا جاؤں وہ دھمکی دینے والے انداز میں بولا تھا سویرا فوراً ہی اس کے لئے بریڈ پرجم لگانے لگی۔ اور پھر بنا کسی کی پرواہ سے بہت محبت سے اپنے ہاتھوں سے مقدم کو ناشتہ کروایا

جنید کی آنکھ کھلی تو تائشہ اس کے بالکل قریب ہی گہری نیند میں سو رہی تھی حوریہ کو ڈھونڈنے میں اس نے اپنی جان لگائی تھی لیکن وہ کہیں نہ ملی حوریہ کی وجہ سے ان سب کی زندگی ایک جگہ رکی ہوئی تھی اور جس کی زندگی حوریہ تھی وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا اسے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا کہ مقدم شاہ کے دل میں اس کی محبت اتنی جلدی ختم ہو گئی ۔
حوریہ کے بغیر بھی اس کا وقت اچھا گزر نے لگا تھا ۔

Mirh@_Ch
 

اپنی زندگی جینا چھوڑ دوں وہ اونچی آواز میں انہیں سنانے والے انداز میں کہہ رہا تھا
جبکہ دادا سائیں اس کی آواز پر بھی نہ پلٹے آج مقدم نے انہیں ہرٹ کیا تھا ۔
حد ہے مطلب اپنی زندگی جینا چھوڑ دوں میں کیونکہ ان کی نواسی رات اندھیرے میں گھر سے غائب ہوگئی ہے وہ بھی کھانا چھوڑ کے اٹھنے لگا جب سویرا نے اس کا ہاتھ تھام لیا
مقدم سائیں اس طرح سے کھانا چھوڑ کے نہیں جاتے پلیز دیکھیں اگر آپ کچھ نہیں کھائیں گے تو میں بھی سارا دن بھوکی رہوں گئی اور مجھے یقین ہے کہ آپ یہ نہیں چاہیں گے کہ میں سارا دن بھوکی رہوں ۔وہ اسے جان لٹاتے نظروں سے دیکھتی ہوئے بولی تو وہ دلکشی سے مسکراتا دوبارہ بیٹھ گیا
ایک شرط پہ کھاوؤں گا اگر اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ گی تو مقدم نے شرارت سے کہا تو وہ نازیہ رضوانہ کو دیکھنے لگی

Mirh@_Ch
 

رضوانہ نے اپنی کرسی گھسیٹتے ہوئے کہا
خبردار رضوانہ ایک لفظ استعمال مت کرنا میری حوریہ کے خلاف ۔میری حوریہ وہ ہیرا ہے جسے پردوں میں چھپا بھی لیا جائے تو بھی اس کی چمک کم نہیں ہوتی ۔
دادا سائیں ایسے ہیرکو گھر پر رہنا چاہیے نہ کہ آدھی رات کو گھر سے غائب ہوجانا چاہیے مقدم کے الفاظ نے انہیں اس کی طرف دیکھنے پر مجبور کر دیا
سویرا ڈارلنگ جم دینا میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا اور اگر میں اس کوشش میں کامیاب ہوگیا تو میں اور تم باہرچلیں گے ۔
ویسے بھی ایک مہینے سے ذہن پر کافی دباؤ آگیا ہے میں ریکس ہونا چاہتا ہوں ۔سوچ رہا ہوں کچھ دن کے لیے کہیں باہر چلا جاؤں سویرہ کے ساتھ ۔وہ بھی بول ہی رہا تھا جب دادا سائیں نے غصے سے اپنی کرسی چھوڑی اور اندر چلے گئے ۔
اب کیا چاہتے ہیں آپ ساری زندگی آپ کی نواسی کا انتظار کرتا رہوں

Mirh@_Ch
 

بڑی جلدی اتر گیا عشق کا خمار مقدم سائیں مجھے تو لگتا تھا کہ تم حوریہ سے محبت کرتے ہو لیکن تمہیں دیکھ کر تو مجھے ایسا محسوس نہیں ہو رہا
گھر کی بچی ایک مہینے سے غائب ہے اور تو عیاشیاں کرتے پھر رہے ہو کبھی اپنے عیاش دوستوں کے ساتھ شراب خانے میں ملتے ہو تو کبھی شکار کھیلنے جا رہے ہو
اور اب انہوں نے ایک نظر سویرا کی طرف دیکھا اور نظر پھیر گئے
اور اب سب کچھ بھلا کر سکون سے اپنی زندگی گزارنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں تو اس میں غلط کیا ہے دادا سائیں آپ کی نواسی گھر چھوڑنے سے پہلے سوچ کر چھوڑتی ۔
بالکل صحیح کہہ رہا ہے ہی مقدم سائیں اب آدھی رات کو گھر چھوڑ کر گئی ہے ہمیں کیا پتا اکیلی گئی ہیں یا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور ویسے بھی رات کو گھر سے نکلنے والی لڑکیوں کو ڈھونڈا نہیں جاتا اور اگر غلطی سے مل جائے تو وہی پر گولی مار دی جاتی ہے

Mirh@_Ch
 

سویرا کی سخت گھوری اور مقدم کا بگھڑا موڑ دیکھ کر اماں سائیں معذرت کرتے واپس باہر جانے لگیں۔
اماں سائیں یہ ایک میاں بیوی کا کمرہ ہے آپ کو اس طرح سے آنا ہی نہیں چاہیے اور کچھ نہ سہی تو دروازہ کھٹکھٹا ہی سکتی تھی آپ سویرا کاموڈ سخت خراب ہو چکا تھا ۔لیکن اپنے انداز کو نوٹ کرتے ہوئے اس نے ایک نظر مقدم کی طرف دیکھا جو سخت نظروں سے اسے گھور رہا تھا
میرا مطلب ہے یہ آپ کے بیٹے کا کمرہ ہے اب جب چاہیں یہاں آ سکتی ہیں لیکن آئندہ احتیاط کیجئے ۔وہ اپنی ناگواری چھپاتی مسکرا کر بولی
جبکہ نازیہ شرمندہ سی ہاں کہہ کر باہر چلی گئیں

وہ سویرا کا ہاتھ تھامیں محبت سے اسے لے کر ٹیبل پر آیا تھا دادا سائیں نے ایک ناگوار نظر ان دونوں پر ڈالی

Mirh@_Ch
 

میں آج اپنے دوستوں کے ساتھ شام میں شکار پر جاؤں گا کوشش کروں گا کہ صرف تمہارے نشے کا خمار ہو لیکن بہت ڈھیٹ دوست ہیں میرے جب تک زبردستی پلانا دیں تب تک جان نہیں چھوڑتے ۔اسی لئے پوچھنا یہ تھاکہ اگر تھوڑی بہت ہو جائے تو تھوڑی گنجائش نکل سکتی ہے کیا وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے بالکل اپنے نزدیک کرتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا
جی نہیں کوئی گنجائش نہیں نکل سکتی۔ میرے پاس آنے کے لئے آپ کو شراب سے تعلق ختم کرنے ہوں گے ورنہ پھر ۔۔۔۔۔وہ شرارتی انداز میں کہتی اپنی بات ادھوری چھوڑ گئی
ورنہ پھر یہ نشہ میسر نہیں ہوگا وہ اس کی بات مکمل کرتے ہوئے اس پر جھکا جب اماں سائیں دروازہ کھل اندرآ گئیں اگلے ہی لمحے مقدم نے اسے خود سے دور کیا
معاف کرنا بیٹا لگتا ہے میں غلط وقت پہ آگئی میں پھر آتی ہوں

Mirh@_Ch
 

بھیگی_پلکوں_پر_نام_تمہارا_ہے
#قسط_76

سویرا کی آنکھ کھلی تو مقدم آئینے کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا
اسے جاگتا دیکھ کر اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور بے ساختہ مسکرایا
اسے اس طرح سے مسکراتے پا کر سویرا آہستہ سے بیڈ چھوڑتی اس کے قریب آئی
آپ کہیں جا رہے وہ اس کے کندھے کی چادر درست کرتے ہوئے بولی ۔
ہاں مجھے ایک بہت ضروری کام تھا میں تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا ۔
میرا ارادہ آپ کے ساتھ لنچ کرنے کا تھا وہ روٹھے ہوئے انداز میں بولی
لنچ نہیں لیکن بریک فاسٹ ساتھ کر ہی سکتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ ساری چیزیں یہاں سے ہٹا دو ۔نہ صرف یہاں سے بلکہ اس کمرے میں حوریہ کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے ۔
عجیب سے چڑ ہو رہی ہے مجھے یہ سب کچھ دیکھ کر

Mirh@_Ch
 

آپ کو دیکھتے ہی مجھے آپ سے محبت ہو گئی
یقین کریں میرے ہر انداز سے میں آپ کو حوریہ سے بہتر لگوں گی۔
لیکن معاف کیجئے آج کی رات میں آپ کی راحت کا سامان نہیں کر سکتی کیوںکہ اس وقت آپ نشے میں ہیں اور میں چاہتی ہوں کہ جب آپ میرے قریب آئیں تو صرف آپ کو میرے حسین کا نشہ بہکائے اور کوئی نشہ نہیں ۔
وہ ایک ادا سے اس کے اوپر سے اٹھی اور بیڈ پر لیٹ گئی ۔
اس نے مقدم شاہ کو پا لیا۔ وہ سرشاری سے اس کے سینے پے سر رکھنے لگی جب مقدم نے نیند میں کروٹ بدلی مسکراہٹ اس کے لبوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی

Mirh@_Ch
 

اسے صوفے کی طرف جاتا دیکھ کر اس نے اسے اپنے قریب بلایا
سویرا کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا مقدم اسے اپنے پاس بلا رہا تھا وہ خوشی سے بے حال اپنے قدم اس کی طرف اٹھانے لگی
اور اس کے قریب آتے ہی مقدم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا
تمہاری آنکھیں وہ اس کی پلکوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے مدہوش انداز میں بولا
کیا ہوا میری آنکھوں کو مقدم سائیں وہ اس کی سینے پہ ہاتھ رکھتی مزید اس کی طرف جھکی
حقیقت کا آئینہ ہیں سویرا خاموش اور سچی اس کی بات نے سویرہ کو کھلکھلا کر ہنسنے پر مجبور کر دیا
اور اپنے بالوں کو مقدم کے چہرے پر لے آئی
تمہارے بال اس کے بالوں کو اپنے چہرے سے ہٹاتا اپنی مٹھی میں بھرتا ہوا اس کی خوشبو اپنے سینے کو تارنے لگا۔
اور آپ مقدم شاہ آپ سراپاِعشق ہیں میں نے کبھی آپ سے زیادہ حسین مرد نہیں دیکھا

Mirh@_Ch
 

نکال کے پھینک آیا ہوں سے اپنی زندگی سے باہر وہ شراب کی بوتل زمین پر پھینکتے ہوئے اس کے ٹکڑروں کو پیروں کے نیچے روندتے سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
جب نظر پہلی سیڑھی پر کھڑی اماں سائیں پر پڑی ان سے اپنے بیٹے کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی
سویرا سے کہیں کہ اپنے کمرے میں آ جائے آج سے وہیں رہے گی جہاں اس کے سر کا سائیں ہوگا
وہ ایک پل کے قریب دیکھتا ہوا آگے بڑھ گیا
جب کہ اس کی باتیں سن کر اماں سائیں خوشی سے بے حال فورا ہی سویرہ کی کمرے کی طرف آئیں

دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی
یہاں آؤ سویرا وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا

Mirh@_Ch
 

حوریہ دادا سائیں ہارے ہوئے لہجے میں کہا
کون حوریہ کسی کی حوریہ میں کسی حوریہ کوئی نہیں جانتا
ہاں تقریبا ایک مہینہ پہلے تک میری زندگی میں ایک حوریہ تھی بلکہ میری زندگی حوریہ تھی
لیکن اب اور نہیں اب میرا اس حوریہ سے کوئی تعلق نہیں جو لڑکی مجھ پر اعتبار نہیں کر سکتی
اس سے میرا کوئی تعلق نہیں حوریہ اب حویلی واپس آئے یا نہ آئے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اب آپ کی نواسی بن کے اس گھر میں آ سکتی ہے لیکن میری بیوی نہیں آج سے میرا اس سے کوئی تعلق نہیں
بہت بھٹک لیا اس کی یاد میں در در اب میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں ۔اور پلیز اب یہ جوحوریہ کی گردان بند کریں اس گھر میں مقدم شاہ کی بیوی صرف سویرا ہے اور صرف وہی رہے گی
اور اب آپ لوگ بھی میرے سامنے باتبار اس لڑکی کا نام نہیں لیں گے بھول جانا چاہتا ہوں میں اسے

Mirh@_Ch
 

صاف لفظوں میں کہا تھا کہ جس دن حوریہ مل جائے گی وہ اس کے سامنے اسے طلاق دے گا
تو کچھ تو کرو کہیں تڑپتے تڑپتے میرے بیٹے کو کچھ ہو نہ جائے اور چوتھا دن ہے بخار سے تڑپ رہا ہے جاؤ اس کے پاس سمجھاؤ اسے اس کی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے
ٹھیک ہے اماں سائیں میں کوشش کروں گی ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ اکتا کر بولی
بیٹا اسے منہ لگاتا نہیں تھا اورماں کے آنسو ختم نہیں ہو رہے تھے سویرا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کرے تو کیا کریں

مقدم سائیں کیا حال بنایا ہوا ہے آپ نے وہ شراب کی بوتل ہاتھ میں اٹھائے گھر میں داخل ہوا اس وقت رات کا ایک بجا رہا تھا ۔
مقدم کی یہ حالت دیکھ کر داداسائیں ایک بار پھر سے تڑپ اٹھیں ایک بخار کی شدت اوپر سے یہ حرام سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے روکے
بیٹا تم کیوں کر رہے ہو یہ سب کچھ اپنی حالت دیکھو مل جائے گی

Mirh@_Ch
 

لیکن یہاں تو دور دور تک کوئی نہ تھا
کہیں کسی نے میری باتیں سن تو نہیں لی سویرہ پریشانی سے باہر آ کر دیکھنے لگی لیکن پھر سامنے گلی سے ہی نازیہ کو آتے دیکھا ۔

بس کر دیں بڑی امی سائیں اور کتنا روئیں گی
وہ حوریہ کو بہت یاد کرتا ہے وہ بکھررہا ہے تڑپ رہا ہے اور میں اپنے بیٹے کو اس طرح سے تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی
ایسا کیا تھا اس لڑکی میں کیا حالت ہو گئی ہے میرے معصوم بچے کی اور تم
تمہیں تو ہوش ہی نہیں وہ شوہر ہے تمہارا اسے حوریہ کو بھولنے کی کوشش کرو اسے سمجھنے کی کوشش کرو لیکن تم تو اس کا کمرہ چھوڑ کے یہاں آ چکی ہو
میں چھوڑ کے نہیں آئی اماں سائیں آپ کے بیٹے نے دھکے دے کر نکالا ہے وہاں سے سویرا چڑ کر بولی اسے وہ دن یاد تھا جب حوریہ کو گئے ہوئے دوسرا دن ہوا تھا مقدم شاہ نے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے کمرے سے باہر نکالا تھا

Mirh@_Ch
 

مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا کہ حوریہ کی مقدم سائیں کی وجہ سے چلی گئی ہےیا اسے پتہ چل گیا ہے کہ ہم لوگ اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں
مجھے یہ ساری باتیں نہیں پتہ تم بس وہ کرو میں اس کی لاش دیکھنا چاہتی ہوں میں مقدم کوحاصل کرنے کے لئے کوئی بھی حد پار کر جاؤں گی
اگر تم اسے نہیں مار سکتے تو مجھے بتاؤ میں خود اسے مار دوں گی لیکن اس کا پتا کرو حوریہ کہاں جا سکتی ہے
وہ بے وقوف لڑکی گھر سے اکیلی باہر نہیں جاتی تھی اور آدھی رات کو گھر سے نہیں نکل کر غائب ہو گئی آخر کہاں جا سکتی ہے پتہ کراو
سنو میرے کمرے میں کوئی آرہا ہے فون رکھ رہی ہوں تم جلد سے جلد اس کے بارے میں پتہ کرو اور مجھے بتاؤ میں حوریہ کی لاش دیکھنا چاہتی ہوں اسے سانس لیتے واپس مقدم شاہ کی زندگی میں نہیں دیکھ سکوں گی وہ فون رکھتے ہوئے وہ دروازے سے باہر آکر دیکھنے لگی

Mirh@_Ch
 

انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا تو تمہارے ٹکٹرے ٹکڑے کر دیں گے
اور اب تو وہ حوریہ کی واپسی کی امید بھی چھوڑ تے جا رہے ہیں اب کچھ ہی دن میں انہیں میں اپنی طرف راغب کر لوں گی
اور پھر حوریہ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور تم حوریہ کو مار کر اس کا قصہ ہی ختم کر دینا
کہ تو رہی ہوں کہ مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا مجھے بس یہ پتا ہے چاہے جو بھی ہو جائے حوریہ واپس حویلی نہیں آنی چاہی
ہاں تو تم ڈھونڈو اسے مجھ پر نظر رکھی جاتی ہےپل پل کی خبر ہے گھر والوں کو میں گھر سے نکل نہیں نکل سکتی اور میری طبیعت بہت خراب ہے
مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ اس رات حوریہ بچ کیسے گئی
ولیمے والی رات اس کا قتل کرانے کی تیاری کر چکی تھی میں
وہ خاموشی سے ہمارے زندگی سے نکل جاتی اور کبھی واپس نہیں آتی

Mirh@_Ch
 

جنید کل ہی اس کے لئے نئے کپڑے لایا تھا گلابی سوٹ میں وہ کھلتا گلاب ہی لگ رہی تھی کھلی کھلی سی خوش سی
اس نے ایک نظر ان سب چیزوں کی طرف دیکھا وہ شخص جانتا تھا کہ اپنی بہن کو وہ کون سے تحفے دے کر خوش کر سکتا ہے جس سے بہن بھی خوش ہو جائے اور بہنوئی بھی شرمندہ نہ ہو
حیدر میں دکھاوا نہ تھا کبھی کسی پر اپنی دولت کا روعب نہیں جماتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس کی ماں کو اپنے باپ کی دولت چاہیے تھی ۔اور اس دولت کے لیے وہ اپنا بیٹا تک اپنے سسرال چھوڑ آئیں اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی ماں سے بے انتہا نفرت کرتا تھا

دیکھو میں نے کہانہ کہ وہ واپس نہیں آنی چاہیے اسے کہیں غائب کر دو کسی ایسی جگہ کہ وہ کبھی واپس نہ آئے
بکواس بند کرو تمہاری یہ ساری باتیں سننے کے لیے فون نہیں کیا ہے
اگر حوریہ واپس آئی تو مقدم سائیں مجھے چھوڑدیں گے

Mirh@_Ch
 

ارے نہیں حیدر بھائی ابھی تو آپ نے کچھ کھایا پیا نہیں بلکہ میں کچھ بناتی ہوں وہ چیزیں دیکھنے میں اتنی مصروف ہوگئی کہ حیدر سے کچھ پوچھ بھی نہ پائی ۔۔ ۔ حیدر دنیا کا واحد شخص ہے جس کے سامنے تائشہ خوب نخرے کرتی تھی
گڑیا میں پہلی بار تمہارے گھر آیا ہوں آخری بار نہیں اب تو کوئی پابندی بھی نہیں ہے جب میرا دل چاہے گا میں اپنی گڑیا سے ملنے آؤں گا اب مجھے اس عورت کی شکل دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے وہ جنید کے سامنے بھی اپنی نفرت بیان کرنے کے لیے پیچھے نہ ہٹا ۔
ہاں بالکل آپ جب چاہیں یہاں آ سکتے ہیں آخر آپ کی بہن کا گھر ہے جنید نے خوش دلی سے مسکرا کر کہا
تو ٹھیک ہے پھر ملاقات ہوگی وہ جیند سے بغل گیر ہوتے ہوئے تائشہ کو اپنے سینے سے لگا گیا ۔
جب کہ اس کے جانے کے بعد ایک بار پھر سے وہ اپنی ساری چیزیں دیکھنے میں مصروف ہو گئی