وہ منہ بناتی کروٹ بدلنے لگی مگر شاہ نے ایسا نہ کرنے دیا
کیا ہوا ؟
کچھ ہونا تھا،،
بلکل ،،
شاہ نے معنی خیزی سے کہا تو عائشہ نہ سمجھی سے دیکھنے لگی
اچھا موبائل دیں اپنا،،
وہ کیا کرنا ہے،،
دین نہ،،
شاہ نے موبائل دیا تو عائشہ مزے سے پیکس دیکھنے لگی شاہ اس کی اس معصومیت پر مسکرا گیا شاہ کو آج وہ بہت لا پرواہ لگی
عائش،،
،،
جی،،
یہ پلان کیس کا تھا،،
کون سا،،
یہاں آنے کا،،
شاہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا
دادا جان،،
خا!!! کتنے چھپے رشتم ہو آپ دونوں اور کیسے مجھے ہے ہوش کر کے لائے آپ یہاں میں کوئی بھاگنے والی تھی جو بے ہوش کر دیا تھا،،
شاہ ہنس دیا
سرپرائز تھا جان اسی لیے بے ہوش کیا تھا،،
اُن دونوں کی جوڑی کچھ تھی بھی بہت خوبصورت کوئی کیسے پھر نہ اٹرکت ہوتا رات کو دونوں کھانا کھا رہے تھے جب عائشہ شاہ کو اُداس لگی و کھانا بھی صحیح نہیں کھا رہی تھی تو شاہ نے بغور اسے دیکھا
کیا بات پرشان ہو،،
وہ چونک گئی
مجھے دادو کی یاد آ رہی ہے،،
تو کوئی بات نہیں کال کر لیتے ہیں،،
شاہ نے کال کی اور کافی دیر تک دونوں بات کرتے رہے عائشہ کش ہو گئی تو شاہ بھی مطمئین ہو گیا
شاہ ،،
کہتے ہیں محبت حتم ہو جاتی ہے کسی انسان کی وجہ سے رونے سے دل میں بڑی اس انسان کی محبت حاتم ہو جاتی ہے مگر میں کہتی ہیں محبت مر بھی جاؤں تب بھی حاتم نہیں ہوتی جب ہم کسی انسان سے محبت کرتے ہیں نہ تو چاہے وہ ہمیں رُلائے مارے یہ جو مرضی ہمارے ساتھ کرے محبت حتم نہیں ہو گی وہ ویسی کی ویسی ہی رہے گی کیونکہ محبت کا کام ہے بڑھنا نا کے حاتم ہونا کیونکہ محبت کی ابتدا بڑی دل فریب ہے مگر محبت کی انتہا سے اللہ بچائے عائشہ اور شاہ کی محبت بھی کچھ ایسی ہی تھی
__________
ان دونوں کو مری آئے ہوئے آج تیسرا دن تھا دونوں بہت مزے کر رہے تھے زندگی بہت خوبصورت تھی گھوم پھر کے وہ روز رات کو تھکے ہوئے اتے اور بے ہوش ہو جاتے اج بھی یہی کر رہے تھے دونوں مزے سے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے و لوگو کی نظروں کا محور بنے ہوئے تھے
عائشہ آنکھیں پھاڑے شاہ کو دیکھ رہی تھی شاہ نے جھک کر ماتھے پر پیار کیا تو وہ ہوش میں آئی
شاہ،،
وہ کہتے ساتھ ہی شاہ کے گلے لگ گئی اور رو دی
آپ کے ساتھ اتنا کچھ ہوا اور میں نے خبر تھی،،
کیونکہ یہ آپ کے لیے بہتر تھا میری جان چلو شاباش اب چپ کرو میں پاس ہوں نہ بلکل ٹھیک ٹھاک،،
وہ سو سو کرتی رہی اب اس کے دل میں اک اور سوال ا چکا تھا ۔۔تعبیر کون ہے؟ شاہ کی زندگی میں کب سے ہے؟ شاہ اور اس کا کیا تعلق ہے آپس میں؟؟ و یہ سب سوچتی سوچتی نہ جانے کب شاہ کے سینے پر سر رکھ کر سو گئی شاہ اسے یوں دیکھ مسکرا دیا محبت میں ایک دوسرے کے عیب نہیں دیکھے جاتے محبت تو ایک ایسا جذبہ ہے جس میں نفرت کی گنجائش نہیں ہوتی جہاں محبت ہو وہاں نفرت کبھی آ ہی نہیں سکتی محبت تو خوبصورت پھول کی ماند ہے کبھی کبھی انسان نفرت کرنے کے باوجود نفرت نہیں کر سکتا کہتے ہیں
اس نے کراچی کی حالت کافی حد تک ٹھیک کی ہرچیز کو نئی شکل دی اور مزید چار مہینے وہاں رہا کوئی دفعہ وہ گھر آیا تھا سب سے ملا مگر عائشہ کو خبر تک نہ ہونے دی
وہ اس کے پاس ہوتا تھا کی دفعہ مگر و خیال سمجھ کر اگنور کر دیتی اور کی دفعہ اس سے ڈھیر ساری باتیں کرتی اور وہ خاموشی سے سنتا رہتا اسے روتے ہوئے دیکھتا رہتا
پھر جب واپس آیا تو عائزہ کو کہ کر عائشہ کو بھی واپس بلوایا اس دن جب عائشہ آئی اور سب سے ملی روئی بھی تو شاہ کو لگا شیاد و اسے کبھی معاف نہیں کرے گی کبھی نہیں و بہت شرمندہ ہوا مگر خاموش ہو گیا اس یقین کے ساتھ کے و اسے منا لئے گا،
شاہ نے اس کے پیرو میں گولیاں برسا دی تو وہ اندھا دھند بھاگنے لگا وہ دونوں ہنس دیے
وہ اندھا دھند بھاگتا گیا یہ جانے بغیر کے موت کے قریب جا رہا ہے کراچی کی سڑکوں پہ وہ پاگلوں کی طرح دوڑ رہا تھا
ایان نے اس کے پیرو میں اس قدر گولیوں کی برسات کی کے وہ گر گیا اس کی ٹانگیں جواب دے گئی وہ اب کبھی چل نہیں سکتا تھا اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے ایک ٹرک کے پیچھے باندھ دیا گیا اور کراچی کی ہر سڑک پر گھسیٹا گیا وہ موت کی فریاد کر رہا تھا بازو ٹانگیں ٹوٹ چکے تھے اور وہ صرف چیخیں مار رہا تھا ایان اور شاہ نے اس کے اوپر اس قدر فائرنگ کی کے سوے دماغ کے ہر چیز اس کی تباہ ہو گئی تھی
وہ رات عجیب تھی کراچی میں سے جرائم کو حتم کرنے کی رات کچھ دن بعد ایان وہاں سے آ گیا تھا اور شاہ ایک دفعہ پھر سے خراچی کو آباد کرنے میں لگ گیا
جس طرح توجہی تکلیف ہو رہی ہے نہ اسی طرح میرے ماں باپ کو ہوئی تھی پتہ ہے میں کس کا بیٹا ہوں میں اس کا بیٹا ہوں جس کو آگ میں جلایا تھا تو نے جس کو گولیوں سے چھلنی چھلنی کیا تھا تو نے ہم میں سلیمان اور سیماب کا بیٹا ہوں جن کو تو نے مروا دیا تھا آج ان کا بیٹا توجہی موت کے گھاٹ اتار ے گا ایک عبرت ناک موت،،
ایان نے اس کے منہ پر تماچہ مرتے ہوئے کہا تو وہ اپنے چیلوں کو آوازیں دینے لگا تو سامنے کھڑے دونوں ہنس دیے
نکلو یہاں سے ورنہ تم لوگوں کے ساتھ بہت برا ہو گا،،
برا تو تیرے ساتھ ہونا ہے اس لیے تو نکل یہاں سے،،
ایان نے بالوں سے پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور دروازے کی طرف دھکا دیا تو وہ باہر جا گرا
وہ اسے اسی طرح گھسیٹتے ہوئے سڑک پر لئے آئے اور اسے بھاگنے کو کہا جب و نہیں بھاگا
کچھ نہیں یار سوچا تھوڑا فن کر لو،،
چھو۔۔چھوڑو۔۔۔۔۔،،
ابھی اتنا ہی کہا تھا کے ایان نے پاس پڑی کرسی اس کے سر پر دے ماری
کتنا شور کرتے ہو ،،
دونوں ہنس دیے اور وہ خون میں نہا گیا اور چیخیں مارنے لگا
شاہ نے کیل اس کے ہاتھوں میں گھسا دیا جس پر اس کی چیخیں مزید اونچی ہو گئی
شاہ نے اس کے منہ پر اچھی خاصی تھپڑوں کی بارش کر دی
تو۔۔تم۔۔دونوں۔۔۔زی۔۔زندہ۔۔۔نہ۔۔۔نہیں۔۔۔۔بچوں۔۔۔گے،،
پہلے خود کو تو بچا لے پھر ہماری بات کرنا،،
ایان نے غصے سے اس کے دوسرے ہاتھ پر بھی کیل ٹھوک دیا اس کی چیخیں مزید اونچی اور درد سے کراہنے لگا
منہ کے بل گرتے ہی اس کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئی اور وہ نیند کی وادی سے زمین پر بری طرح گرا
کو۔۔کون۔ہو تم لوگ،،
تیری موت،،
با۔۔بک۔۔بکواس نہ کرو ،،
ایان نے اسے کرسی کے ساتھ باندھ دیا شاہ اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنا نقاب ایک ہاتھ سے اتار دیا رشتم ہاشمی شاہ کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا
تو۔۔تم زندہ کسے ہو،،
کیسے کیوں کو چھوڑو ابھی خود کو بچاؤ کیونکہ اس وقت میں تمہاری موت بن کے آیا ہوں،،
شاہ نے کیل اس کے ہاتھ پر رکھا انداز گیم کھلنے والا تھا
ی۔۔یہ کیا کر رہے ہو ۔۔
اس کے سارے اڈے دونوں نے میل کے دو مہینوں میں تباہ کیے شاہ تو گم نام ہی رہا مگر ایان منظر عام پر تھا
اس رات کو دونوں اور پولیس فورس کی بھاری نفری رستم ہاشمی کے ٹھکانے پر پہنچی اس کے بنگلے کو چالو طرف سے گھیر لیا گیا اور ایان داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا اور شاہ نے سارے سیکورٹی کمرے ہیک کیے اور پچھلے دروازے سے اندر داخل ہو گیا اک ایک کر کے سارے گارڈز کو اور وہاں موجود ہر بندے کو مار دیا گیا شاہ کے منہ پر ماسک تھا کہ کیونکہ وہ گمنام تھا
رستم ہاشمی اپنے کمرے میں ہے فکری سے نیند کے مزے لے رہا تھا جب خاموشی سے شاہ اور ایان اندر داخل ہوئے انداز کمرے میں رہنے والی چھپکلی کی طرح کا تھا اس کے سر پر کھڑے و دونوں مسکرا دیے
اس کے غریباں سے پکڑ کر اسے اٹھا کر نیچے پھینکا گیا تو وہ اس افت کے لیا بلکل تیار نہیں تھا
کچھ دن وہ وہاں رہا تھا ایان تعبیر کو دیکھ کر بہت حیران ہوا تھا اس کی یہ چھوٹی سی بہن اسے بہت پیاری لگتی تھی وہ اور اسد ہمیشہ سے تعبیر کو بہت تنگ کرتے تھے شاہ ہمیشہ ان تینوں کی بکواس سن کے وہاں سے اٹھ جاتا تھا وہ و تینوں اسے مزید چڑاتے تو شاہ غصہ ہو جاتا تعبیر تو وہی رونے بیٹھ جاتی مگر ایان اور اسد تعبیر کے آس پاس بیٹھ کر اسے مزید چڑاتے تھے جس پر وہ وہاں سے چلا جاتا تھا اور تعبیر ہنس دیتی یہ چاروں دوست مکمل تھے خوش قسمت مگر ہر چیز کا اینڈ ہونا ہوتا ہے اور ان کی دوستی کا اینڈ بھی ہو گیا تھا
تعبیر کے گھر سے وہ دونوں پانچ دن بعد آ گے تھے کراچی می اپنے فلیٹ میں جہاں ایک الگ دنیا پستی تھی کمپیوٹر کی دنیا وہاں رستم ہاشمی کی موت کا سامان تیار کیا گیا تھا اس کی عبرت ناک موت کا سامان
وہ حیران ہوا کیا آج تک یہ۔۔۔نہیں ۔۔و اپنی سوچ کو خود ہی جھٹلانے لگا
میری زندگی ،،
جواب مختصر تھا مگر اگلے انسان کی زندگی میں طوفان مچا گیا
ما۔۔۔مطلب،،
میری بیوی ہے ،،
وہ آنکھیں پھاڑے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی تو گویا خوشیاں اسے راس ہی نہیں اسے محبت نہیں مل سکتی تعبیر بعد کسمت ہے و ہنس دی اور آٹھ کر چلی گئی خاموشی سے شاہ کو و پاگل لگی تھی عجیب سی اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ اُس نے تعبیر کے ساتھ ہنس کے بھی بات کی ہو و تو ہمیشہ سے ہی خاموش رہتا تھا
اس دن رات کو ایان وہاں پہنچ گیا تھا وہ بہت خوش ہوا تھا عائشہ کے بارے میں سن کے شاہ کو بہت تکلیف ہوئی مگر امتحان ابھی باقی تھا اس کی موت البھی باقی تھی
________
پھر آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ملا تو میں یہ اپنے گھر لے آئی مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تو یہاں کے کر آئی یہاں آپ محفوظ تھے اُن سب لوگوں کے کئی چکر ہسپتال لگے تھے شاید ان کو شک ہو گیا تھا اس لیے یہ سب کیا پھر اس دن سے آپ یہیں ہیں آپ کی موت کی خبر ہر طرف پھیلا دی گئی تھی کیونکہ اُن لوگوں کو لگا آپ زندہ نہیں ہیں میں بھی خاموش رہی کیونکہ آپ کا چھپا رہنا ہی صحیح تھا ،،
شاہ خاموشی سے اسے سن رہا تھا جیسے اس کی آواز میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا مگر ناکام رہا
شکریہ،،
بس یہی تھا شاہ کا پاس تعبیر نے جھٹکے سے اس کی طرف دیکھا جو سر جھکا گیا تھا وہ خاموش ہو گئی
کیا میں کچھ پوچھ سکتی ہوں!؟،،
شاہ نے سر ہاں میں ہلا دیا
آ۔۔۔عائشہ کون ہے؟؟،،
شاہ نے اس کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر صاف کھونے کا ڈر تھا
تعبیر کیا مجھے موبائل مل سکتا ہے،،
ایک منٹ یہ لیں،،
تھینک یو،،
شاہ نے ایان کو کال کی کافی زیادہ کی مگر نہیں اٹھایا گیا وہ خاموش ہو گیا
میں یہاں کہ سے ہوں،،
آپ یہاں پچھلے تین مہینوں سے ہیں ،،
شاہ کو حیرانگی ہوئی وہ پر سکون تھی
کیا ہوا تھا میرے ساتھ؟؟،،
اس دن جب دھماکا ہوا تھا تو آپ کو فوراً جس ہسپتال لگا گیا تھا وہ میرا ہی تھا آپ کو میرے انڈر ہی دیا گیا تھا آپ کی زماداری میں نے خود لی تھی مگر آپ کو ہسپتال رکھے ایک مہینہ ہوا تھا آپ کے سب زخم ٹھیک ہو چکے تھے مگر آپ کوما میں کا چکے تھے پھر وہاں رستم ہاشمی کے کچھ لوگ آپ کا پتہ کرنے آئے ہسپتال میں کافی توڑ پھوڑ بھی کی تھی انہوں نے آپ کا نام و نشان میں پہلے ہی مٹا چکی تھی سب کچھ انہوں نے چیک کیا مگر آپ نہیں ملی
وہ فکرمند تھی اس کے لہجے میں آج بھی وہی محبت تھی و یہاں کیسے آئی کیا وہ ٹھیک تھی اسے کسی نے کچھ کیا تو نے افف کیوں سوئچ رہا ہوں میں اس کے بارے میں وہ جھنجھلا گیا
زیبی آپ ٹھیک ہو،،
ہممم،،
بہت مختصر جواب تھا وہ خاموش ہو گئی وہ خاموشی سے اٹھ کر جانے لگی تو شاہ بولا
میں یہاں کیسے آیا تعبیر،،
وہ شاہ کی طرف دیکھنے لگی اور دیکھتی ہی ہے ہمیشہ کی طرح شاہ دوسری طرف دیکھنے لگا
تعبیر میں نے کچھ پوچھا ہے،،
ہاں!!! وہ ۔۔وہ میں لے کر آئی تھی آپ کو ،،
وہ اتنا ہی کہ کر چلی گئی شاہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر آنکھیں بند کر لی اگلے دو دن آن کی بات نہیں ہوئی و خاموشی سے کھانا رکھ دیتی اور شاہ کی ہر ضرورت ہمیشہ کی طرح پوری کر دیتی شاہ خاموشی سے اس کی حرکتیں دیکھتا و بلکل نہیں بدلی تھی
Next kal
وہ جیسے ہی چیزیں لیے پلٹا اک زبردست دھماکے کی آواز آئی اور پھر سناٹا موت کے بعد کا سناٹا
یہ رستم ہاشمی کی موت سے ایک مہینہ پہلے کی بات ہے جب شاہ کو تین مہینوں بعد ہوش آیا تھا ہوش کی دنیا میں آتے ہی اس نے پہلا نام جو لیا وہ عائشہ کا تھا
اے۔۔۔آئش۔۔۔۔عائشہ،،
اور دھیرے سے اس نے آنکھیں کھول دی پاس کھڑی ہستی کو دیکھ کر اسے جھٹکا لگا تو گویا یہی قسمت کو منظور تھا ایک دفعہ پھر سے قسمت نے عجیب حالات پیدا کر دیے تھے
زیبی آپ آٹھ گے،،
اور شاہ کو کیا کیا یاد نہ آیا وہ خاموشی سے خالی نظروں سے اس عظیم لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو ایک محبت کی گڑیا تھی جیسے محبت ملنی چاہیے تھی مگر وہ آنکھیں بند کر گیا وہ عائشہ کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا تھا سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا
زیبی آپ کو کچھ چاہیے،،
طویل سفر کے بعد جب وہ کراچی پہنچا تو وہاں تباہی نے اپنا کام شروع کردیا تھا ہر طرف خون اور کسی کی بازو کسی کی ٹانگیں اور کسی کا سر افف اللہ کیا نہیں تھا جو شاہ نے نہیں دیکھا تھا اس کے جانے تک وہاں کے کئی ایریاز تباہی کی نظر ہو چکے تھے پانچ دھماکے ہو چکے تھے اور آگے مزید کا شور بھی سنائی دے رہا تھا شاہ گاڑی سے نکلتا بھاگتا ہوا اپنے آفس کی طرف گیا مگر یہاں تو کچھ بچا ہی نہیں تھا سب کچھ حاتم پڑا تھا جیسے یہاں کچھ تھا ہی نہیں بلڈنگ گرنے والی تھی اتنی دیر میں کہیں اس پاس سے آوازیں انے لگی
یہاں بمب ہے کوئی بچاؤ ،،
اور نہ جانے کیا کیا شاہ کا سر گھوم گیا وہ بھاگنا چاہتا تھا مگر وہ گاڑی میں سے بمب کو دیفیوز کرنے کے لیے چیزیں لئے گیا یہ جانے بغیر کے بمب اس کی گاڑی کے نیچے ہے
میری موت کی طرف قدم بڑھائے کے لیے اسی سوچ میں و کمرے میں داخل ہوا تو عائشہ کو سوتے دیکھ اطمینان ہوا وہ جلدی سے پیکنگ کرنے لگا پیکنگ کر کے جیسے ہی باہر نکلنے لگا پیچھے سے عائشہ کی آواز آئی
شاہ،،
شاہ ڈر گیا تھا وہ جانتا تھا عائشہ کا ہر خواب ہر خوشی ہر ارمان ٹوٹ جائے گا مگر اس وقت بات وطن کی تھی وہ کیسے اپنی اس محبت کو وطن کی محبت پر فوقیت دے دیتا شاہ نے پیچھے دیکھا تو عائشہ کی آنکھیں بند تھی مطلب وہ سوتے ہوئے اسے پکار رہی ہی شاہ کو اس پر ڈھیروں پیار آیا وہ چلتا ہوا اس کے پاس گیا اور بے اختیار اسے ہے حد پیار کرنے ڈالا وہ کیسے عائشہ کو بھول سکتا تھا کیسے اس معصوم سی لڑکی کے خواب نوچ سکتا تھا اس سے پہلے کے شاہ کو اور زیادہ خیالات اتے و خاموشی سے بیگ اٹھائے باہر نکل گیا وہ رات شاہ پر بہت بھاری گئی
ورنہ آج اپنی تباہی کی داستان کچھ دیر تک ٹی وی پر دیکھا لینا ،،
شاہ کے اوپر کسی نے بھاری پتھر پھینک دیا تھا جیسے مگر اسے یقین نہیں تھا ہو ہی نہیں سکتا تھا اگلے انسان کے لہجے میں کوئی لچک نہیں تھی جس سے اسے اُمید ہوتی کے و جھوٹ بول رہا ہے یہ ایسا کچھ بھی شاہ کے اندر باہر سناٹا چھا گیا مگر بے یقینی بہت تھی وہ بولا مگر کال نہ جانے کب کی کٹ چکی تھی اس نے اسی وقت کراچی کال کی اسے لگا سب مذاق تھا جھوٹ تھا مگر یہ اس کی غلط فہمی تھی ایسا کچھ نہیں تھا کال پے سننے والی خبر نے اس پر پہاڑ برابر تھی وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا حال میں کچھ خاص لوگ نہیں تھے عائشہ کو کمرے میں بیٹھا دیا گیا تھا وہ سوچتا گیا کے عائشہ کو کیا کہے گا کیا و اسے جانے دے گی کیا وہ ماں کے گی
submitted by
uploaded by
profile:
Sorry! Ap apne item ya profile ko report nahi kar saktey, na hi apne ap ko block kar saktey hain