Damadam.pk
Mirh@_Ch's posts | Damadam

Mirh@_Ch's posts:

Mirh@_Ch
 

وہ منہ بناتی کروٹ بدلنے لگی مگر شاہ نے ایسا نہ کرنے دیا
کیا ہوا ؟
کچھ ہونا تھا،،
بلکل ،،
شاہ نے معنی خیزی سے کہا تو عائشہ نہ سمجھی سے دیکھنے لگی
اچھا موبائل دیں اپنا،،
وہ کیا کرنا ہے،،
دین نہ،،
شاہ نے موبائل دیا تو عائشہ مزے سے پیکس دیکھنے لگی شاہ اس کی اس معصومیت پر مسکرا گیا شاہ کو آج وہ بہت لا پرواہ لگی
عائش،،

Mirh@_Ch
 

،،
جی،،
یہ پلان کیس کا تھا،،
کون سا،،
یہاں آنے کا،،
شاہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا
دادا جان،،
خا!!! کتنے چھپے رشتم ہو آپ دونوں اور کیسے مجھے ہے ہوش کر کے لائے آپ یہاں میں کوئی بھاگنے والی تھی جو بے ہوش کر دیا تھا،،
شاہ ہنس دیا
سرپرائز تھا جان اسی لیے بے ہوش کیا تھا،،

Mirh@_Ch
 

اُن دونوں کی جوڑی کچھ تھی بھی بہت خوبصورت کوئی کیسے پھر نہ اٹرکت ہوتا رات کو دونوں کھانا کھا رہے تھے جب عائشہ شاہ کو اُداس لگی و کھانا بھی صحیح نہیں کھا رہی تھی تو شاہ نے بغور اسے دیکھا
کیا بات پرشان ہو،،
وہ چونک گئی
مجھے دادو کی یاد آ رہی ہے،،
تو کوئی بات نہیں کال کر لیتے ہیں،،
شاہ نے کال کی اور کافی دیر تک دونوں بات کرتے رہے عائشہ کش ہو گئی تو شاہ بھی مطمئین ہو گیا
شاہ ،،

Mirh@_Ch
 

کہتے ہیں محبت حتم ہو جاتی ہے کسی انسان کی وجہ سے رونے سے دل میں بڑی اس انسان کی محبت حاتم ہو جاتی ہے مگر میں کہتی ہیں محبت مر بھی جاؤں تب بھی حاتم نہیں ہوتی جب ہم کسی انسان سے محبت کرتے ہیں نہ تو چاہے وہ ہمیں رُلائے مارے یہ جو مرضی ہمارے ساتھ کرے محبت حتم نہیں ہو گی وہ ویسی کی ویسی ہی رہے گی کیونکہ محبت کا کام ہے بڑھنا نا کے حاتم ہونا کیونکہ محبت کی ابتدا بڑی دل فریب ہے مگر محبت کی انتہا سے اللہ بچائے عائشہ اور شاہ کی محبت بھی کچھ ایسی ہی تھی
__________
ان دونوں کو مری آئے ہوئے آج تیسرا دن تھا دونوں بہت مزے کر رہے تھے زندگی بہت خوبصورت تھی گھوم پھر کے وہ روز رات کو تھکے ہوئے اتے اور بے ہوش ہو جاتے اج بھی یہی کر رہے تھے دونوں مزے سے ایک دوسرے کے ساتھ چلتے و لوگو کی نظروں کا محور بنے ہوئے تھے

Mirh@_Ch
 

عائشہ آنکھیں پھاڑے شاہ کو دیکھ رہی تھی شاہ نے جھک کر ماتھے پر پیار کیا تو وہ ہوش میں آئی
شاہ،،
وہ کہتے ساتھ ہی شاہ کے گلے لگ گئی اور رو دی
آپ کے ساتھ اتنا کچھ ہوا اور میں نے خبر تھی،،
کیونکہ یہ آپ کے لیے بہتر تھا میری جان چلو شاباش اب چپ کرو میں پاس ہوں نہ بلکل ٹھیک ٹھاک،،
وہ سو سو کرتی رہی اب اس کے دل میں اک اور سوال ا چکا تھا ۔۔تعبیر کون ہے؟ شاہ کی زندگی میں کب سے ہے؟ شاہ اور اس کا کیا تعلق ہے آپس میں؟؟ و یہ سب سوچتی سوچتی نہ جانے کب شاہ کے سینے پر سر رکھ کر سو گئی شاہ اسے یوں دیکھ مسکرا دیا محبت میں ایک دوسرے کے عیب نہیں دیکھے جاتے محبت تو ایک ایسا جذبہ ہے جس میں نفرت کی گنجائش نہیں ہوتی جہاں محبت ہو وہاں نفرت کبھی آ ہی نہیں سکتی محبت تو خوبصورت پھول کی ماند ہے کبھی کبھی انسان نفرت کرنے کے باوجود نفرت نہیں کر سکتا کہتے ہیں

Mirh@_Ch
 

اس نے کراچی کی حالت کافی حد تک ٹھیک کی ہرچیز کو نئی شکل دی اور مزید چار مہینے وہاں رہا کوئی دفعہ وہ گھر آیا تھا سب سے ملا مگر عائشہ کو خبر تک نہ ہونے دی
وہ اس کے پاس ہوتا تھا کی دفعہ مگر و خیال سمجھ کر اگنور کر دیتی اور کی دفعہ اس سے ڈھیر ساری باتیں کرتی اور وہ خاموشی سے سنتا رہتا اسے روتے ہوئے دیکھتا رہتا
پھر جب واپس آیا تو عائزہ کو کہ کر عائشہ کو بھی واپس بلوایا اس دن جب عائشہ آئی اور سب سے ملی روئی بھی تو شاہ کو لگا شیاد و اسے کبھی معاف نہیں کرے گی کبھی نہیں و بہت شرمندہ ہوا مگر خاموش ہو گیا اس یقین کے ساتھ کے و اسے منا لئے گا،

Mirh@_Ch
 

شاہ نے اس کے پیرو میں گولیاں برسا دی تو وہ اندھا دھند بھاگنے لگا وہ دونوں ہنس دیے
وہ اندھا دھند بھاگتا گیا یہ جانے بغیر کے موت کے قریب جا رہا ہے کراچی کی سڑکوں پہ وہ پاگلوں کی طرح دوڑ رہا تھا
ایان نے اس کے پیرو میں اس قدر گولیوں کی برسات کی کے وہ گر گیا اس کی ٹانگیں جواب دے گئی وہ اب کبھی چل نہیں سکتا تھا اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے ایک ٹرک کے پیچھے باندھ دیا گیا اور کراچی کی ہر سڑک پر گھسیٹا گیا وہ موت کی فریاد کر رہا تھا بازو ٹانگیں ٹوٹ چکے تھے اور وہ صرف چیخیں مار رہا تھا ایان اور شاہ نے اس کے اوپر اس قدر فائرنگ کی کے سوے دماغ کے ہر چیز اس کی تباہ ہو گئی تھی
وہ رات عجیب تھی کراچی میں سے جرائم کو حتم کرنے کی رات کچھ دن بعد ایان وہاں سے آ گیا تھا اور شاہ ایک دفعہ پھر سے خراچی کو آباد کرنے میں لگ گیا

Mirh@_Ch
 

جس طرح توجہی تکلیف ہو رہی ہے نہ اسی طرح میرے ماں باپ کو ہوئی تھی پتہ ہے میں کس کا بیٹا ہوں میں اس کا بیٹا ہوں جس کو آگ میں جلایا تھا تو نے جس کو گولیوں سے چھلنی چھلنی کیا تھا تو نے ہم میں سلیمان اور سیماب کا بیٹا ہوں جن کو تو نے مروا دیا تھا آج ان کا بیٹا توجہی موت کے گھاٹ اتار ے گا ایک عبرت ناک موت،،
ایان نے اس کے منہ پر تماچہ مرتے ہوئے کہا تو وہ اپنے چیلوں کو آوازیں دینے لگا تو سامنے کھڑے دونوں ہنس دیے
نکلو یہاں سے ورنہ تم لوگوں کے ساتھ بہت برا ہو گا،،
برا تو تیرے ساتھ ہونا ہے اس لیے تو نکل یہاں سے،،
ایان نے بالوں سے پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور دروازے کی طرف دھکا دیا تو وہ باہر جا گرا
وہ اسے اسی طرح گھسیٹتے ہوئے سڑک پر لئے آئے اور اسے بھاگنے کو کہا جب و نہیں بھاگا

Mirh@_Ch
 

کچھ نہیں یار سوچا تھوڑا فن کر لو،،
چھو۔۔چھوڑو۔۔۔۔۔،،
ابھی اتنا ہی کہا تھا کے ایان نے پاس پڑی کرسی اس کے سر پر دے ماری
کتنا شور کرتے ہو ،،
دونوں ہنس دیے اور وہ خون میں نہا گیا اور چیخیں مارنے لگا
شاہ نے کیل اس کے ہاتھوں میں گھسا دیا جس پر اس کی چیخیں مزید اونچی ہو گئی
شاہ نے اس کے منہ پر اچھی خاصی تھپڑوں کی بارش کر دی
تو۔۔تم۔۔دونوں۔۔۔زی۔۔زندہ۔۔۔نہ۔۔۔نہیں۔۔۔۔بچوں۔۔۔گے،،
پہلے خود کو تو بچا لے پھر ہماری بات کرنا،،
ایان نے غصے سے اس کے دوسرے ہاتھ پر بھی کیل ٹھوک دیا اس کی چیخیں مزید اونچی اور درد سے کراہنے لگا

Mirh@_Ch
 

منہ کے بل گرتے ہی اس کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئی اور وہ نیند کی وادی سے زمین پر بری طرح گرا
کو۔۔کون۔ہو تم لوگ،،
تیری موت،،
با۔۔بک۔۔بکواس نہ کرو ،،
ایان نے اسے کرسی کے ساتھ باندھ دیا شاہ اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنا نقاب ایک ہاتھ سے اتار دیا رشتم ہاشمی شاہ کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گیا
تو۔۔تم زندہ کسے ہو،،
کیسے کیوں کو چھوڑو ابھی خود کو بچاؤ کیونکہ اس وقت میں تمہاری موت بن کے آیا ہوں،،
شاہ نے کیل اس کے ہاتھ پر رکھا انداز گیم کھلنے والا تھا
ی۔۔یہ کیا کر رہے ہو ۔۔

Mirh@_Ch
 

اس کے سارے اڈے دونوں نے میل کے دو مہینوں میں تباہ کیے شاہ تو گم نام ہی رہا مگر ایان منظر عام پر تھا
اس رات کو دونوں اور پولیس فورس کی بھاری نفری رستم ہاشمی کے ٹھکانے پر پہنچی اس کے بنگلے کو چالو طرف سے گھیر لیا گیا اور ایان داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا اور شاہ نے سارے سیکورٹی کمرے ہیک کیے اور پچھلے دروازے سے اندر داخل ہو گیا اک ایک کر کے سارے گارڈز کو اور وہاں موجود ہر بندے کو مار دیا گیا شاہ کے منہ پر ماسک تھا کہ کیونکہ وہ گمنام تھا
رستم ہاشمی اپنے کمرے میں ہے فکری سے نیند کے مزے لے رہا تھا جب خاموشی سے شاہ اور ایان اندر داخل ہوئے انداز کمرے میں رہنے والی چھپکلی کی طرح کا تھا اس کے سر پر کھڑے و دونوں مسکرا دیے
اس کے غریباں سے پکڑ کر اسے اٹھا کر نیچے پھینکا گیا تو وہ اس افت کے لیا بلکل تیار نہیں تھا

Mirh@_Ch
 

کچھ دن وہ وہاں رہا تھا ایان تعبیر کو دیکھ کر بہت حیران ہوا تھا اس کی یہ چھوٹی سی بہن اسے بہت پیاری لگتی تھی وہ اور اسد ہمیشہ سے تعبیر کو بہت تنگ کرتے تھے شاہ ہمیشہ ان تینوں کی بکواس سن کے وہاں سے اٹھ جاتا تھا وہ و تینوں اسے مزید چڑاتے تو شاہ غصہ ہو جاتا تعبیر تو وہی رونے بیٹھ جاتی مگر ایان اور اسد تعبیر کے آس پاس بیٹھ کر اسے مزید چڑاتے تھے جس پر وہ وہاں سے چلا جاتا تھا اور تعبیر ہنس دیتی یہ چاروں دوست مکمل تھے خوش قسمت مگر ہر چیز کا اینڈ ہونا ہوتا ہے اور ان کی دوستی کا اینڈ بھی ہو گیا تھا
تعبیر کے گھر سے وہ دونوں پانچ دن بعد آ گے تھے کراچی می اپنے فلیٹ میں جہاں ایک الگ دنیا پستی تھی کمپیوٹر کی دنیا وہاں رستم ہاشمی کی موت کا سامان تیار کیا گیا تھا اس کی عبرت ناک موت کا سامان

Mirh@_Ch
 

وہ حیران ہوا کیا آج تک یہ۔۔۔نہیں ۔۔و اپنی سوچ کو خود ہی جھٹلانے لگا
میری زندگی ،،
جواب مختصر تھا مگر اگلے انسان کی زندگی میں طوفان مچا گیا
ما۔۔۔مطلب،،
میری بیوی ہے ،،
وہ آنکھیں پھاڑے بے یقینی سے دیکھ رہی تھی تو گویا خوشیاں اسے راس ہی نہیں اسے محبت نہیں مل سکتی تعبیر بعد کسمت ہے و ہنس دی اور آٹھ کر چلی گئی خاموشی سے شاہ کو و پاگل لگی تھی عجیب سی اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ اُس نے تعبیر کے ساتھ ہنس کے بھی بات کی ہو و تو ہمیشہ سے ہی خاموش رہتا تھا
اس دن رات کو ایان وہاں پہنچ گیا تھا وہ بہت خوش ہوا تھا عائشہ کے بارے میں سن کے شاہ کو بہت تکلیف ہوئی مگر امتحان ابھی باقی تھا اس کی موت البھی باقی تھی
________

Mirh@_Ch
 

پھر آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں ملا تو میں یہ اپنے گھر لے آئی مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تو یہاں کے کر آئی یہاں آپ محفوظ تھے اُن سب لوگوں کے کئی چکر ہسپتال لگے تھے شاید ان کو شک ہو گیا تھا اس لیے یہ سب کیا پھر اس دن سے آپ یہیں ہیں آپ کی موت کی خبر ہر طرف پھیلا دی گئی تھی کیونکہ اُن لوگوں کو لگا آپ زندہ نہیں ہیں میں بھی خاموش رہی کیونکہ آپ کا چھپا رہنا ہی صحیح تھا ،،
شاہ خاموشی سے اسے سن رہا تھا جیسے اس کی آواز میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا مگر ناکام رہا
شکریہ،،
بس یہی تھا شاہ کا پاس تعبیر نے جھٹکے سے اس کی طرف دیکھا جو سر جھکا گیا تھا وہ خاموش ہو گئی
کیا میں کچھ پوچھ سکتی ہوں!؟،،
شاہ نے سر ہاں میں ہلا دیا
آ۔۔۔عائشہ کون ہے؟؟،،
شاہ نے اس کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر صاف کھونے کا ڈر تھا

Mirh@_Ch
 

تعبیر کیا مجھے موبائل مل سکتا ہے،،
ایک منٹ یہ لیں،،
تھینک یو،،
شاہ نے ایان کو کال کی کافی زیادہ کی مگر نہیں اٹھایا گیا وہ خاموش ہو گیا
میں یہاں کہ سے ہوں،،
آپ یہاں پچھلے تین مہینوں سے ہیں ،،
شاہ کو حیرانگی ہوئی وہ پر سکون تھی
کیا ہوا تھا میرے ساتھ؟؟،،
اس دن جب دھماکا ہوا تھا تو آپ کو فوراً جس ہسپتال لگا گیا تھا وہ میرا ہی تھا آپ کو میرے انڈر ہی دیا گیا تھا آپ کی زماداری میں نے خود لی تھی مگر آپ کو ہسپتال رکھے ایک مہینہ ہوا تھا آپ کے سب زخم ٹھیک ہو چکے تھے مگر آپ کوما میں کا چکے تھے پھر وہاں رستم ہاشمی کے کچھ لوگ آپ کا پتہ کرنے آئے ہسپتال میں کافی توڑ پھوڑ بھی کی تھی انہوں نے آپ کا نام و نشان میں پہلے ہی مٹا چکی تھی سب کچھ انہوں نے چیک کیا مگر آپ نہیں ملی

Mirh@_Ch
 

وہ فکرمند تھی اس کے لہجے میں آج بھی وہی محبت تھی و یہاں کیسے آئی کیا وہ ٹھیک تھی اسے کسی نے کچھ کیا تو نے افف کیوں سوئچ رہا ہوں میں اس کے بارے میں وہ جھنجھلا گیا
زیبی آپ ٹھیک ہو،،
ہممم،،
بہت مختصر جواب تھا وہ خاموش ہو گئی وہ خاموشی سے اٹھ کر جانے لگی تو شاہ بولا
میں یہاں کیسے آیا تعبیر،،
وہ شاہ کی طرف دیکھنے لگی اور دیکھتی ہی ہے ہمیشہ کی طرح شاہ دوسری طرف دیکھنے لگا
تعبیر میں نے کچھ پوچھا ہے،،
ہاں!!! وہ ۔۔وہ میں لے کر آئی تھی آپ کو ،،
وہ اتنا ہی کہ کر چلی گئی شاہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا پھر آنکھیں بند کر لی اگلے دو دن آن کی بات نہیں ہوئی و خاموشی سے کھانا رکھ دیتی اور شاہ کی ہر ضرورت ہمیشہ کی طرح پوری کر دیتی شاہ خاموشی سے اس کی حرکتیں دیکھتا و بلکل نہیں بدلی تھی
Next kal

Mirh@_Ch
 

وہ جیسے ہی چیزیں لیے پلٹا اک زبردست دھماکے کی آواز آئی اور پھر سناٹا موت کے بعد کا سناٹا
یہ رستم ہاشمی کی موت سے ایک مہینہ پہلے کی بات ہے جب شاہ کو تین مہینوں بعد ہوش آیا تھا ہوش کی دنیا میں آتے ہی اس نے پہلا نام جو لیا وہ عائشہ کا تھا
اے۔۔۔آئش۔۔۔۔عائشہ،،
اور دھیرے سے اس نے آنکھیں کھول دی پاس کھڑی ہستی کو دیکھ کر اسے جھٹکا لگا تو گویا یہی قسمت کو منظور تھا ایک دفعہ پھر سے قسمت نے عجیب حالات پیدا کر دیے تھے
زیبی آپ آٹھ گے،،
اور شاہ کو کیا کیا یاد نہ آیا وہ خاموشی سے خالی نظروں سے اس عظیم لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو ایک محبت کی گڑیا تھی جیسے محبت ملنی چاہیے تھی مگر وہ آنکھیں بند کر گیا وہ عائشہ کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا تھا سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا
زیبی آپ کو کچھ چاہیے،،

Mirh@_Ch
 

طویل سفر کے بعد جب وہ کراچی پہنچا تو وہاں تباہی نے اپنا کام شروع کردیا تھا ہر طرف خون اور کسی کی بازو کسی کی ٹانگیں اور کسی کا سر افف اللہ کیا نہیں تھا جو شاہ نے نہیں دیکھا تھا اس کے جانے تک وہاں کے کئی ایریاز تباہی کی نظر ہو چکے تھے پانچ دھماکے ہو چکے تھے اور آگے مزید کا شور بھی سنائی دے رہا تھا شاہ گاڑی سے نکلتا بھاگتا ہوا اپنے آفس کی طرف گیا مگر یہاں تو کچھ بچا ہی نہیں تھا سب کچھ حاتم پڑا تھا جیسے یہاں کچھ تھا ہی نہیں بلڈنگ گرنے والی تھی اتنی دیر میں کہیں اس پاس سے آوازیں انے لگی
یہاں بمب ہے کوئی بچاؤ ،،
اور نہ جانے کیا کیا شاہ کا سر گھوم گیا وہ بھاگنا چاہتا تھا مگر وہ گاڑی میں سے بمب کو دیفیوز کرنے کے لیے چیزیں لئے گیا یہ جانے بغیر کے بمب اس کی گاڑی کے نیچے ہے

Mirh@_Ch
 

میری موت کی طرف قدم بڑھائے کے لیے اسی سوچ میں و کمرے میں داخل ہوا تو عائشہ کو سوتے دیکھ اطمینان ہوا وہ جلدی سے پیکنگ کرنے لگا پیکنگ کر کے جیسے ہی باہر نکلنے لگا پیچھے سے عائشہ کی آواز آئی
شاہ،،
شاہ ڈر گیا تھا وہ جانتا تھا عائشہ کا ہر خواب ہر خوشی ہر ارمان ٹوٹ جائے گا مگر اس وقت بات وطن کی تھی وہ کیسے اپنی اس محبت کو وطن کی محبت پر فوقیت دے دیتا شاہ نے پیچھے دیکھا تو عائشہ کی آنکھیں بند تھی مطلب وہ سوتے ہوئے اسے پکار رہی ہی شاہ کو اس پر ڈھیروں پیار آیا وہ چلتا ہوا اس کے پاس گیا اور بے اختیار اسے ہے حد پیار کرنے ڈالا وہ کیسے عائشہ کو بھول سکتا تھا کیسے اس معصوم سی لڑکی کے خواب نوچ سکتا تھا اس سے پہلے کے شاہ کو اور زیادہ خیالات اتے و خاموشی سے بیگ اٹھائے باہر نکل گیا وہ رات شاہ پر بہت بھاری گئی

Mirh@_Ch
 

ورنہ آج اپنی تباہی کی داستان کچھ دیر تک ٹی وی پر دیکھا لینا ،،
شاہ کے اوپر کسی نے بھاری پتھر پھینک دیا تھا جیسے مگر اسے یقین نہیں تھا ہو ہی نہیں سکتا تھا اگلے انسان کے لہجے میں کوئی لچک نہیں تھی جس سے اسے اُمید ہوتی کے و جھوٹ بول رہا ہے یہ ایسا کچھ بھی شاہ کے اندر باہر سناٹا چھا گیا مگر بے یقینی بہت تھی وہ بولا مگر کال نہ جانے کب کی کٹ چکی تھی اس نے اسی وقت کراچی کال کی اسے لگا سب مذاق تھا جھوٹ تھا مگر یہ اس کی غلط فہمی تھی ایسا کچھ نہیں تھا کال پے سننے والی خبر نے اس پر پہاڑ برابر تھی وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا حال میں کچھ خاص لوگ نہیں تھے عائشہ کو کمرے میں بیٹھا دیا گیا تھا وہ سوچتا گیا کے عائشہ کو کیا کہے گا کیا و اسے جانے دے گی کیا وہ ماں کے گی